Bihar
بابائے قوم عبدالقیوم انصاری کی جدوجہد آج بھی قومی یکجہتی کے لیے مشعلِ راہ : قاری صہیب
پٹنہ:مجاہدِ آزادی، بابائے قوم، عظیم قومی رہنما اور دو قومی نظریے کے بے باک مخالف مرحو م عبدالقیوم انصاری کی یومِ پیدائش (یکم جولائی 1905ء) کے موقع پر بہار قانون ساز کونسل کے رکن اور راشٹریہ جنتادل کے سینئر رہنما قاری محمد صہیب نے انہیں زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ عبدالقیوم انصاری کی پوری زندگی حب الوطنی، قومی یکجہتی، سماجی انصاف، جمہوری اقدار اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی درخشاں مثال ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے عہد ساز رہنما صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں، جنہوں نے نہ صرف آزادیِ وطن کے لیے اپنی جوانی قربان کی بلکہ آزادی کے بعد بھی محروم، پسماندہ اور کمزور طبقات کی عزت، تعلیم اور ترقی کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کردی۔ایم ایل سی قاری محمد صہیب نے کہا کہ عبدالقیوم انصاری کا تعلق بہار کے ڈہری آن سون سے تھا، لیکن ان کی شخصیت کسی ایک خطے تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ غیر منقسم پورے ہندوستان کے ان قومی رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے ہر قسم کی مذہبی تفریق اور فرقہ وارانہ سیاست کو مسترد کرتے ہوئے متحدہ ہندوستان کے نظریے کو مضبوطی سے پیش کیا۔
انہوں نے اس وقت مسلم لیگ کے دو قومی نظریے کی جرات مندانہ مخالفت کی جب بہت سے لوگ خاموشی اختیار کیے ہوئے تھے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ ہندوستان کی آزادی اور اس کی مشترکہ تہذیب ہی تمام باشندوں کی اصل طاقت ہے۔انہوں نے کہا کہ عبدالقیوم انصاری کی قومی بیداری کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف سولہ برس کی عمر میں انہوں نے انگریز حکومت کے زیر انتظام اسکول کا بائیکاٹ کیا، قومی تعلیمی ادارہ قائم کیا اور تحریکِ عدم تعاون میں سرگرم کردار ادا کرنے کی پاداش میں جیل بھی گئے۔
اس کم عمری میں ان کا جذبۂ آزادی اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ وہ پیدائشی طور پر آزادی، خودداری اور قومی غیرت کے علمبردار تھے۔قاری محمد صہیب نے کہا کہ انگریز حکومت نے ہندوستان کی معیشت کو کمزور کرنے کے لیے سب سے پہلے مقامی صنعتوں، خصوصاً کپڑا صنعت کو نشانہ بنایا، جس کا سب سے زیادہ نقصان مسلم بنکر برادری اور دستکار طبقے کو اٹھانا پڑا۔
عبدالقیوم انصاری نے آزادی کی تحریک کو صرف سیاسی جدوجہد تک محدود نہیں رکھا بلکہ معاشی انصاف، سماجی برابری اور کمزور طبقات کے حقوق کی مضبوط آواز بھی بنے۔ انہوں نے پسماندہ مسلمانوں، بنکروں، دستکاروں اور دیگر محروم طبقات میں خود اعتمادی پیدا کی اور انہیں قومی دھارے میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ عبدالقیوم انصاری نے ہمیشہ یہ پیغام دیا کہ مذہب، ذات اور برادری کی بنیاد پر نفرت پھیلانے کے بجائے محبت، بھائی چارہ اور آئینی مساوات کو فروغ دینا ہی ملک کی حقیقی خدمت ہے۔ ان کی پوری زندگی اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ مضبوط قومیں تعصب سے نہیں بلکہ اتحاد، انصاف اور باہمی اعتماد سے تعمیر ہوتی ہیں۔قاری محمد صہیب نے کہا کہ آج جب سماج میں نفرت، تقسیم اور فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، ایسے وقت میں عبدالقیوم انصاری کی فکر پہلے سے کہیں زیادہ اہم اور قابلِ عمل محسوس ہوتی ہے۔ ان کی تعلیمات نوجوان نسل کو یہ سبق دیتی ہیں کہ وطن سے محبت، آئین پر یقین، سماجی انصاف کے لیے جدوجہد اور قومی اتحاد ہی ترقی یافتہ ہندوستان کی بنیاد ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ آزادی کی جدوجہد میں غیر معمولی کردار ادا کرنے والے کئی عظیم مجاہدین کو وہ مقام نہیں مل سکا جس کے وہ حقیقی حقدار تھے۔ بابائے قوم عبدالقیوم انصاری بھی انہی شخصیات میں شامل ہیں جن کی قومی خدمات کو نئی نسل تک پہنچانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کی حیات و خدمات کو نصاب، تحقیقی اداروں اور عوامی مباحث کا حصہ بنایا جانا چاہیے تاکہ نوجوان اپنے حقیقی قومی ہیروز سے واقف ہو سکیں۔آخر میں قاری محمد صہیب نے کہا کہ بابائے قوم عبدالقیوم انصاری کی یومِ پیدائش پر ہم سب کو یہ عہد کرنا چاہیے کہ ان کے اتحاد، اخوت، سماجی انصاف، جمہوریت، سیکولر اقدار اور قومی یکجہتی کے پیغام کو عام کریں گے اور ایک ایسے ہندوستان کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں گے جہاں ہر شہری کو برابری، عزت اور انصاف کے ساتھ جینے کا حق حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ عبدالقیوم انصاری کی جدوجہد اور قربانیاں ہمیشہ قوم کے لیے مشعلِ راہ رہیں گی اور آنے والی نسلیں ان کی خدمات کو ہمیشہ احترام کے ساتھ یاد کرتی رہیں گی۔
Bihar
وارڈ 14 کی شیعہ ٹولی میں عوامی راستے پر قبضے سے پریشانی، میونسپل کمشنر سے کارروائی کا مطالبہ
بھاگلپور: آشا نندپور محلہ کے وارڈ 14 واقع شیعہ ٹولی میں عوامی راستے اور سرکاری زمین پر تجاوزات کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ مرحوم سید نقی حسین عرف ہیرو، والد مرحوم سید ناظم حسین اور ان کے بیٹوں کی جانب سے طویل عرصے سے سرکاری زمین اور راستے کی جگہ پر قبضہ کر رکھا گیا ہے۔
تجاوزات کے باعث مقامی لوگوں کو آمدورفت میں پریشانی ہو رہی ہے۔ معاملے کو لے کر مقامی باشندے، سماجی کارکن اور جے ڈی یو جنرل سکریٹری (اقلیتی) سید ارشد علی نے میونسپل کمشنر کو تحریری درخواست دے کر تجاوزات ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ درخواست پر محلے کے کئی لوگوں کے دستخط بھی ہیں۔
درخواست میں بتایا گیا ہے کہ علاقے میں پانی کی سنگین قلت کو دیکھتے ہوئے مقامی لوگوں نے کئی دہائیوں سے مبینہ طور پر قبضے میں رہی مذکورہ سرکاری زمین کو پانی کے پیاؤ کی تعمیر کے لیے نشان زد کیا ہے۔ وارڈ 14 کے کونسلر انیل پاسوان کی جانب سے بھی میونسپل کارپوریشن کو تحریری طور پر مذکورہ زمین کو سرکاری بتاتے ہوئے یہاں پیاؤ تعمیر کیے جانے کی ضرورت سے آگاہ کیے جانے کی بات درخواست میں کہی گئی ہے۔درخواست گزار کا الزام ہے کہ مذکورہ زمین پر قبضہ کرنے والے افراد کے پاس زمین سے متعلق کوئی قانونی دستاویز موجود نہیں ہے اور مبینہ طور پر دبنگئی کے زور پر زمین پر قبضہ برقرار رکھا گیا ہے۔ معاملے کی جانچ کے لیے میونسپل کارپوریشن کے تجاوزات شعبہ کے انچارج جے پرکاش یادو بھی موقع پر پہنچے تھے۔ درخواست کے مطابق، موقع پر جانچ کے بعد انہوں نے زمین کو سرکاری قرار دیا اور متعلقہ فریق کو جگہ خالی کرنے کا الٹی میٹم بھی دیا تھا۔ اس کے باوجود اب تک زمین کو تجاوزات سے آزاد نہیں کرایا جا سکا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف علاقے میں پینے کے پانی کا سنگین مسئلہ ہے اور دوسری جانب جس مقام پر پیاؤ کی تعمیر کی پہل ہو سکتی ہے، وہ مبینہ تجاوزات کی وجہ سے استعمال میں نہیں آ پا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی راستے کی زمین پر مبینہ قبضے کے باعث گلی بھی تنگ ہو گئی ہے، جس سے لوگوں کی آمدورفت میں پریشانی ہو رہی ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر میونسپل کارپوریشن کی جانچ میں زمین سرکاری پائی گئی اور متعلقہ فریق کو مقام خالی کرنے کی ہدایت بھی دی گئی تھی، تو اب تک تجاوزات کیوں نہیں ہٹائی گئیں؟ مقامی لوگوں نے میونسپل کارپوریشن انتظامیہ سے پورے معاملے کی دوبارہ موقع پر جانچ کرا کر سرکاری زمین اور عوامی راستے کو تجاوزات سے آزاد کرانے اور پیاؤ کی تعمیر کا عمل آگے بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ عوامی راستہ اور سرکاری زمین کسی ایک شخص کے ذاتی استعمال کے لیے نہیں ہو سکتی۔ انتظامیہ کی جانب سے بروقت کارروائی نہیں کی گئی تو آنے والے دنوں میں مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔
Bihar
ضلع مجسٹریٹ نے گیاری پنچایت میں جیویکا سودھا سیلز سنٹر کا کیا افتتاح
ارریہ: گیاری پنچایت میں جیویکا دیدی آشکارہ بیگم کے ذریعہ چلائے جانے والے جیویکا سودھا سیلز سنٹر کا افتتاح ضلع مجسٹریٹ ارریہ مسٹر ونود دوہن اور جیویکا دیدی نے فیتا کاٹ کر کیا۔ اس موقع پر ضلع مجسٹریٹ مسٹر ونود دوہن نے کہا کہ جیویکا دیہی خواتین کو خود امداد گروپوں سے جوڑ کر معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لئے مسلسل کام کر رہی ہے۔
انہیں مختلف سرکاری اسکیموں کے تحت قرضے اور فوائد فراہم کرکے خود روزگار کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چیف منسٹر ویمن ایمپلائمنٹ سکیم خواتین کو اپنے کاروبار شروع کرنے اور بڑھانے میں مدد فراہم کر رہی ہے۔ جیویکا سودھا سیلز سینٹر مقامی مصنوعات کی فروخت کو بھی فروغ دے گا اور خواتین کاروباریوں کو اپنے کاروبار کو بڑھانے کے لئے بہتر مواقع فراہم کرے گا۔ ضلع منیجر، جیویکا ارریہ نے بتایا کہ آشکارہ بیگم نے 2019 میں سی آر پی دیدی کے ذریعے جیویکا کے سیلف ہیلپ گروپ (ایس ایچ جی) احسان میں شمولیت اختیار کی۔ اس کے بعد اس نے گروپ سرگرمیوں میں باقاعدگی سے حصہ لیا، بچت، قرضوں اور مالیاتی انتظام کے بارے میں سیکھا۔
اس کی گاؤں کی تنظیم موسم ہے اور اس کی کلسٹر ایسوسی ایشن ڈیپ جیویکا مہیلا وکاس سواولمبی سہکاری سمیتی لمیٹڈ ہے۔ جیویکا میں شامل ہونے کے بعد، آشکارا بیگم نے گروپ سے حاصل کردہ قرض کو اپنے کاروبار کو بڑھانے کے لیے استعمال کیا۔ ان کے کاروباری کاموں اور مسلسل پیش رفت کو دیکھتے ہوئے، آشکارہ بیگم کو جیویکا سودھا سیلز سینٹر کے لئے منتخب کیا گیا ہے۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ ڈیری ڈیولپمنٹ آفیسر ارریہ، ڈسٹرکٹ منیجر جیویکا ارریہ، کومفیڈ کے افسران اور مقامی عوامی نمائندے موجود تھے۔
Bihar
نتیش کی سیاسی وراثت پر این ڈی اے میں خانہ جنگی،پہلے خوداپنا گھر سنبھالیںاپیندر کشواہا ، جے ڈی یو کے ریاستی صدرامیش سنگھ کشواہا کی نصیحت
(پی این این)
پٹنہ:بہار کے سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی سیاسی وراثت کو لے کر این ڈی اے میں گھمسان شروع ہوگیا ہے۔ راشٹریہ لوک مورچہ (آر ایل ایم) کے قومی صدر اپیندر کشواہا نے نتیش کمار کی سیاسی وراثت کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری سنبھالنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
وہیں اب نتیش کمار کی پارٹی جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے رہنما ان کے خلاف سخت برہم ہوگئے ہیں۔ جے ڈی یو کے ریاستی صدر امیش سنگھ کشواہا نے راشٹریہ لوک مورچہ کے سربراہ اپیندر کشواہا کو اپنا گھر سنبھالنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ دن میں خواب نہ دیکھیں۔
جے ڈی یو رہنما امیش سنگھ کشواہا نے اس سلسلے میں ہفتے کے روز سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کی۔ اس میں اپیندر کشواہا کا نام لیے بغیر انہوں نے کہا، ’’جتنی چادر ہو، پاؤں بھی اتنے ہی پھیلانے چاہئیں۔ لیکن کچھ حد سے زیادہ بلند عزائم رکھنے والے لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ خالی بیٹھے بیٹھے خیالی پلاؤ پکاتے رہیں اور کبھی پورے نہ ہونے والے خوابِ غفلت دیکھتے رہیں۔ ایسے لوگ کو ہمارا مشورہ ہے کہ جے ڈی یو کی فکر چھوڑ کر پہلے اپنے گھر کی فکر کریں۔ کیونکہ آپ کاخود اپنا کنبہ تو پنکچر گاڑی کی طرح وقتاً فوقتاً اپنا توازن کھوتا رہتا ہے۔‘‘
جے ڈی یو کے ریاستی صدر نے راشٹریہ لوک مورچہ کے سربراہ پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اصل بے چینی کی وجہ کچھ اور ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نتیش کمار کے بیٹے نِشانت کمار بہار کا مستقبل ہیں۔ ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور عوامی قبولیت کچھ لوگوں کو ہضم نہیں ہو رہی ہے۔نالندہ ضلع کے راج گیر میں منعقدہ راشٹریہ لوک مورچہ کے فکری اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے قومی صدر اپیندر کشواہا نے کہا تھا کہ نتیش کمار نے بہار کی سیاست سے سبکدوشی اختیار کرلی ہے۔ انہوں نے بہار کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے بہتر خدمات انجام دی ہیں۔ بہار اور ملک کے ایک بڑے طبقے میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ نتیش کمار کی سیاسی وراثت کو آگے کیسے بڑھایا جائے گا۔
کشواہا نے کہا کہ نتیش کمار کی سیاسی وراثت کو آگے بڑھانے کا دعویٰ بہت سے لوگ کریں گے، لیکن موجودہ وقت میں راشٹریہ لوک مورچہ کا دعویٰ ہے کہ یہ ذمہ داری اسے سنبھالنی چاہیے۔ بہار کا ایک بڑا طبقہ بھی یہی چاہتا ہے۔ راشٹریہ لوک مورچہ کے سربراہ نے یہ بھی کہا کہ وہ اس ذمہ داری کو نبھانے میں کس حد تک کامیاب ہوں گے، یہ وہ نہیں جانتے، لیکن نتیش کمار کی سیاسی وراثت کو آگے بڑھانے کے لیے وہ پوری طرح تیار ہیں۔
راجیہ سبھا کے رکن اپیندر کشواہا بہار کے سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے قریبی ساتھی رہ چکے ہیں۔ تاہم، دونوں کے درمیان کئی سیاسی اتار چڑھاؤ، اختلافات، علیحدگی اور پھر مفاہمت کے دور بھی دیکھنے کو ملے۔ نتیش کمار نے 90 کی دہائی میں بہار میں ’لو-کش‘ سیاسی مساوات کو مضبوط بناتے ہوئے سمتا پارٹی کی بنیاد رکھی تھی، اس وقت اپیندر کشواہا مضبوطی کے ساتھ ان کے ساتھ کھڑے تھے۔ نتیش کمار خود ’لو‘ یعنی کُرمی اور کشواہا ’کش‘ یعنی کوئری برادری کے بااثر رہنما کے طور پر ابھرے۔تاہم، سیاسی اختلافات کے باعث اپیندر کشواہا نے جے ڈی یو سے علیحدگی اختیار کرکے راشٹریہ لوک سمتا پارٹی (آر ایل ایس پی) تشکیل دی۔
2014 میں بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرکے اپیندر کشواہا آر ایل ایس پی کی جانب سے نریندر مودی کی کابینہ میں وزیر بھی بنے۔ سال 2021 میں نتیش کمار اور کشواہا کے درمیان تعلقات ایک بار پھر بہتر ہوئے اور آر ایل ایس پی کا جے ڈی یو میں انضمام کر دیا گیا۔ اس کے بعد اپیندر کشواہا کو جے ڈی یو کے پارلیمانی بورڈ کا چیئرمین مقرر کیا گیا۔
تاہم، 2023 میں دونوں کے تعلقات میں ایک بار پھر تلخی آگئی۔ اپیندر کشواہا نے جے ڈی یو سے علیحدگی اختیار کرکے نئی سیاسی جماعت راشٹریہ لوک مورچہ تشکیل دی۔ فی الحال جے ڈی یو اور راشٹریہ لوک مورچہ، دونوں ہی این ڈی اے کا حصہ ہیں۔ نتیش کمار کی سیاسی وراثت کو لے کر دونوں جماعتوں کے درمیان گھمسان چھڑنے کے بعد سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر بحث شروع ہوگئی ہے۔
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
بہار9 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
