تازہ ترین
ہائی کورٹ نے بہار کی خواتین کودی بڑی راحت، ذات سرٹیفکیٹ میں شوہر کا نام درج ہونے کے باوجودبھی ملے گا ریزرویشن کا فائدہگیاجی:بھروسہ مندڈرائیور ہی نکلا5 لاکھ کی لوٹ کا ماسٹر مائنڈ،3 گرفتار، چوتھا فرارگیاجی کے خطیب احمد بہار فٹ بال ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری منتخبحاجی پور: ہدفی مداخلتی پروگرام کے تحت 3 روزہ ریفریشر ٹریننگ کا آغاز، تکنیکی پہلوؤں کو مزید مضبوط بنانے پر زور، بہار اسٹیٹ ایڈز کنٹرول کمیٹی اور بی وی ایچ اے کے زیر اہتمام تربیتی ورکشاپ کا انعقادسیتامڑھی:2758 ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری، 440 مکمل، 543 کروڑ روپے کی تخمینہ سے زیر تعمیر ماں سیتا میڈیکل کالج، کاياکلپ مہم کے تحت اسکولوں، اسپتالوں اور آنگن باڑی مراکز کی حالت بہتر بنانے کا کام جاریزمین پرناجائزقبضہ کرنے والوں کوبھیجو جیل، جنتادربار میں اراضی پر قبضے کی شکایت پر وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا حکماتر پردیش میں ہولناک سڑک حادثہ، تلک کی تقریب سے لوٹ رہی کارکی ٹریلر سے ٹکر،6 افراد ہلاک،2 بچے شدید زخمیمالیگاؤں کی ڈاکٹر ثانیہ خان کی تاریخی کامیابی پرکی گئی حوصلہ افزائی
Bihar

بابائے قوم عبدالقیوم انصاری کی جدوجہد آج بھی قومی یکجہتی کے لیے مشعلِ راہ : قاری صہیب

پٹنہ:مجاہدِ آزادی، بابائے قوم، عظیم قومی رہنما اور دو قومی نظریے کے بے باک مخالف مرحو م عبدالقیوم انصاری کی یومِ پیدائش (یکم جولائی 1905ء) کے موقع پر بہار قانون ساز کونسل کے رکن اور راشٹریہ جنتادل کے سینئر رہنما قاری محمد صہیب نے انہیں زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ عبدالقیوم انصاری کی پوری زندگی حب الوطنی، قومی یکجہتی، سماجی انصاف، جمہوری اقدار اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی درخشاں مثال ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے عہد ساز رہنما صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں، جنہوں نے نہ صرف آزادیِ وطن کے لیے اپنی جوانی قربان کی بلکہ آزادی کے بعد بھی محروم، پسماندہ اور کمزور طبقات کی عزت، تعلیم اور ترقی کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کردی۔ایم ایل سی قاری محمد صہیب نے کہا کہ عبدالقیوم انصاری کا تعلق بہار کے ڈہری آن سون سے تھا، لیکن ان کی شخصیت کسی ایک خطے تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ غیر منقسم پورے ہندوستان کے ان قومی رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے ہر قسم کی مذہبی تفریق اور فرقہ وارانہ سیاست کو مسترد کرتے ہوئے متحدہ ہندوستان کے نظریے کو مضبوطی سے پیش کیا۔
انہوں نے اس وقت مسلم لیگ کے دو قومی نظریے کی جرات مندانہ مخالفت کی جب بہت سے لوگ خاموشی اختیار کیے ہوئے تھے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ ہندوستان کی آزادی اور اس کی مشترکہ تہذیب ہی تمام باشندوں کی اصل طاقت ہے۔انہوں نے کہا کہ عبدالقیوم انصاری کی قومی بیداری کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف سولہ برس کی عمر میں انہوں نے انگریز حکومت کے زیر انتظام اسکول کا بائیکاٹ کیا، قومی تعلیمی ادارہ قائم کیا اور تحریکِ عدم تعاون میں سرگرم کردار ادا کرنے کی پاداش میں جیل بھی گئے۔
اس کم عمری میں ان کا جذبۂ آزادی اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ وہ پیدائشی طور پر آزادی، خودداری اور قومی غیرت کے علمبردار تھے۔قاری محمد صہیب نے کہا کہ انگریز حکومت نے ہندوستان کی معیشت کو کمزور کرنے کے لیے سب سے پہلے مقامی صنعتوں، خصوصاً کپڑا صنعت کو نشانہ بنایا، جس کا سب سے زیادہ نقصان مسلم بنکر برادری اور دستکار طبقے کو اٹھانا پڑا۔
عبدالقیوم انصاری نے آزادی کی تحریک کو صرف سیاسی جدوجہد تک محدود نہیں رکھا بلکہ معاشی انصاف، سماجی برابری اور کمزور طبقات کے حقوق کی مضبوط آواز بھی بنے۔ انہوں نے پسماندہ مسلمانوں، بنکروں، دستکاروں اور دیگر محروم طبقات میں خود اعتمادی پیدا کی اور انہیں قومی دھارے میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ عبدالقیوم انصاری نے ہمیشہ یہ پیغام دیا کہ مذہب، ذات اور برادری کی بنیاد پر نفرت پھیلانے کے بجائے محبت، بھائی چارہ اور آئینی مساوات کو فروغ دینا ہی ملک کی حقیقی خدمت ہے۔ ان کی پوری زندگی اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ مضبوط قومیں تعصب سے نہیں بلکہ اتحاد، انصاف اور باہمی اعتماد سے تعمیر ہوتی ہیں۔قاری محمد صہیب نے کہا کہ آج جب سماج میں نفرت، تقسیم اور فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، ایسے وقت میں عبدالقیوم انصاری کی فکر پہلے سے کہیں زیادہ اہم اور قابلِ عمل محسوس ہوتی ہے۔ ان کی تعلیمات نوجوان نسل کو یہ سبق دیتی ہیں کہ وطن سے محبت، آئین پر یقین، سماجی انصاف کے لیے جدوجہد اور قومی اتحاد ہی ترقی یافتہ ہندوستان کی بنیاد ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ آزادی کی جدوجہد میں غیر معمولی کردار ادا کرنے والے کئی عظیم مجاہدین کو وہ مقام نہیں مل سکا جس کے وہ حقیقی حقدار تھے۔ بابائے قوم عبدالقیوم انصاری بھی انہی شخصیات میں شامل ہیں جن کی قومی خدمات کو نئی نسل تک پہنچانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کی حیات و خدمات کو نصاب، تحقیقی اداروں اور عوامی مباحث کا حصہ بنایا جانا چاہیے تاکہ نوجوان اپنے حقیقی قومی ہیروز سے واقف ہو سکیں۔آخر میں قاری محمد صہیب نے کہا کہ بابائے قوم عبدالقیوم انصاری کی یومِ پیدائش پر ہم سب کو یہ عہد کرنا چاہیے کہ ان کے اتحاد، اخوت، سماجی انصاف، جمہوریت، سیکولر اقدار اور قومی یکجہتی کے پیغام کو عام کریں گے اور ایک ایسے ہندوستان کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں گے جہاں ہر شہری کو برابری، عزت اور انصاف کے ساتھ جینے کا حق حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ عبدالقیوم انصاری کی جدوجہد اور قربانیاں ہمیشہ قوم کے لیے مشعلِ راہ رہیں گی اور آنے والی نسلیں ان کی خدمات کو ہمیشہ احترام کے ساتھ یاد کرتی رہیں گی۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔