دلی این سی آر
دہلی میں گرمی کی لہر! بجلی کی مانگ نے توڑا تمام ریکارڈ
(پی این این)
نئی دہلی :جیسے جیسے دہلی میں گرمی کی شدت بڑھ رہی ہے، بجلی کی مانگ بھی تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہے۔ دہلی میں بجلی کی مانگ نے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔ شہر کی سب سے زیادہ بجلی کی طلب 8748 میگاواٹ تک پہنچ گئی۔اسٹیٹ لوڈ ڈسپیچ سینٹر (SLDC) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق دہلی میں بجلی کی سب سے زیادہ مانگ 8,748 میگاواٹ ریکارڈ کی گئی۔ یہ دہلی کی تاریخ میں بجلی کی سب سے زیادہ مانگ ہے۔ اس سے پہلے دہلی میں سب سے زیادہ مانگ 19 جون 2024 کو ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس وقت ریاستی لوڈ ڈسپیچ سینٹر نے 8,665 میگاواٹ ریکارڈ کیا تھا۔دہلی کے لوگ اس وقت 40 ڈگری سیلسیس سے زیادہ گرمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ ہفتہ کو پارہ 41 ڈگری کے آس پاس رہا لیکن گیلے بلب کے درجہ حرارت کی وجہ سے لوگوں نے 51 ڈگری سیلسیس تک گرمی محسوس کی۔ گرمی اس قدر شدید ہے کہ گھروں اور دفاتر میں ایئر کنڈیشنر اور کولرز کا استعمال بڑھ گیا ہے۔ جسم کو ٹھنڈا کرنے کے لیے استعمال ہونے والے بجلی کے آلات مسلسل استعمال کیے جا رہے ہیں جس سے بجلی کے نیٹ ورک پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
دہلی اکثر جون میں بجلی کی مانگ میں نمایاں اضافہ دیکھتا ہے۔ تاہم، اس سال اپریل کے اوائل میں ہی بجلی کی طلب میں مسلسل اضافے کے آثار نظر آ رہے تھے۔ دہلی کی چوٹی کے اوقات میں بجلی کی طلب 7,078 میگاواٹ تک پہنچ گئی۔ گرمیوں کے آغاز سے قبل ہی بجلی کمپنیوں نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے اضافی بجلی کے انتظامات کر لیے ہیں۔
دہلی میں نمی کی سطح بڑھ گئی ہے، جس کی وجہ سے لوگ درجہ حرارت سے زیادہ گرمی محسوس کر رہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ مانسون کی تاخیر ہے۔ ہندوستان کے محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) کے مطابق، مانسون عام طور پر 27 جون تک دہلی پہنچ جاتا ہے، لیکن اس بار یہ جولائی کے پہلے ہفتے میں پہنچ رہا ہے۔ دہلی میں شدید بارش شروع ہونے کے بعد ہی ہم بجلی کی مانگ میں کمی دیکھ سکیں گے۔آج صبح دارالحکومت میں گرمی کا سلسلہ جاری رہا، کم از کم درجہ حرارت 31.1 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا، جو اتوار کے کم از کم درجہ حرارت کے برابر تھا۔ یہ پچھلے دو سالوں میں ریکارڈ کیا گیا سب سے زیادہ کم سے کم درجہ حرارت ہے۔
دلی این سی آر
تازہ ترین ووٹر لسٹ ایک مضبوط جمہوریت کی بنیاد: ریکھا
(پی این این)
نئی دہلی :دہلی SIRجیسے ہی دہلی میں ووٹر لسٹ پر خصوصی نظرثانی شروع ہوئی، وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے اپنا گنتی فارم بھرا اور لوگوں سے جمہوریت کو مضبوط کرنے کے عمل میں حصہ لینے کی اپیل کی۔عہدیداروں نے بتایا کہ ایک ماہ تک جاری رہنے والی ایس آئی آر مہم کے دوران 13,000 سے زیادہ بوتھ لیول آفیسر راجدھانی کے تمام 70 اسمبلی حلقوں میں ووٹروں کو گنتی کے فارم تقسیم کریں گے۔
وزیر اعلیٰ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ انہوں نے اپنی اور اپنے خاندان کے افراد کی تفصیلات کے ساتھ گنتی فارم جمع کرایا ہے۔ گپتا نے ووٹروں سے بھی اپیل کی کہ وہ اس “اہم” مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، یہ کہتے ہوئے کہ اس سے جمہوریت مضبوط ہوگی۔ اس نے کہا، “اپنا گنتی فارم وقت پر پُر کریں اور اپنے BLO کو جمع کروائیں۔”
ایک درست اور تازہ ترین ووٹر لسٹ ایک مضبوط جمہوریت کی بنیاد ہے۔ آئیے ہم باشعور شہریوں کے طور پر اپنا فرض پورا کریں اور جمہوریت کے اس عظیم یگیہ میں اپنی شرکت کو یقینی بنائیں۔
حکام نے بتایا کہ بی ایل اوز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ صبح اور شام کے وقت گھر گھر جا کر تصدیق کریں، جب لوگ گھر پر ہوں۔ یہ مہم ہفتہ اور اتوار کو بھی چلائی جائے گی۔دہلی میں چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر کے حکام کے مطابق، ایک ماہ تک گھر گھر جا کر ووٹروں کی تصدیق کی مہم کے لیے 13,000 سے زیادہ بی ایل اوز کو تعینات کیا گیا ہے۔ مہم 29 جولائی کو اختتام پذیر ہوگی۔
دہلی میں تسلیم شدہ سیاسی جماعتیں بھی اپنے بوتھ لیول ایجنٹس (BLAs) کے ذریعے اس گھر گھر سروے میں حصہ لے رہی ہیں تاکہ فارم بھرنے اور جمع کرانے میں لوگوں کی مدد کی جا سکے۔ قومی دارالحکومت میں 13,033 پولنگ اسٹیشن ہیں، جو سات لوک سبھا حلقوں اور 70 اسمبلی حلقوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ایس آئی آر کے دوران، بی ایل او ہر ووٹر کو گنتی فارم کی دو کاپیاں دیں گے، جو 2002 میں کیے گئے سابقہ ایس آئی آر کی بنیاد پر اپنی معلومات پُر کریں گے۔ ایک کاپی ووٹر کے پاس رسید کے طور پر رہے گا، جبکہ دوسری کاپی بی ایل او کو واپس کر دی جائے گی۔ گنتی کے فارم کے ساتھ کوئی دستاویزات جمع کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
7 اکتوبر کو جاری ہونے والی حتمی ووٹر لسٹ میں شامل ہونے کے لیے ہر ووٹر کو یہ گنتی فارم پُر کرنا ہوگا۔ سی ای او کے دفتر کے مطابق، جو لوگ گنتی فارم نہیں پُر کریں گے انہیں 5 اگست کو جاری ہونے والی ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے نکال دیا جائے گا۔اگر گھر گھر سروے کے دوران کوئی گھر بند پایا جاتا ہے تو متعلقہ BLO کم از کم تین بار گھر کا دورہ کرے گا۔ دہلی میں کل 14.5 ملین ووٹر ہیں جن میں 77.11 لاکھ مرد اور 67.98 لاکھ خواتین ووٹر شامل ہیں۔تیسری جنس کے ووٹرز کی تعداد 1,024 ہے جب کہ معذور ووٹرز کی تعداد 76,155 ہے۔
اگر کوئی ووٹر 2002 کے بعد دہلی میں آباد ہوا ہے، تو انہیں اپنی آبائی ریاست میں کرائے گئے سابقہ SIR سے معلومات کے ساتھ فارم بھی پُر کرنا ہوگا، جہاں وہ پہلے ووٹر کے طور پر رجسٹرڈ تھے۔
دلی این سی آر
سلمان حسینی ندویؒ کی رحلت ملتِ اسلامیہ کا عظیم علمی سانحہ
(پی این این)
نئی دہلی: معروف دینی و سماجی شخصیت مفتی محمد شاداب ندوی دہلوی اور حضرت مولانا نائب الحق قاسمی صاحب نے برصغیر کے ممتاز عالمِ دین، مفسرِ قرآن، محقق، مفکرِ اسلام اور استاذ العلماء حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندویؒ کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حضرت کی وفات صرف ایک فرد کا انتقال نہیں بلکہ علم و تحقیق، دعوت و اصلاح اور فکری رہنمائی کے ایک درخشاں باب کا اختتام ہے۔
ان کی رحلت سے علمی و دینی دنیا ایک ایسی عظیم شخصیت سے محروم ہوگئی ہے، جس کی تلافی آسان نہیں۔انہوں نے اپنے مشترکہ تعزیتی بیان میں کہا کہ حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندویؒ نے اپنی پوری حیاتِ مبارکہ قرآن و سنت کی خدمت، تدریس، تحقیق، تصنیف، دعوتِ دین، فکری رہنمائی اور امتِ مسلمہ کی دینی و تعلیمی بیداری کے لیے وقف کر دی۔ آپ کے دروس، علمی تحقیقات، تصنیفات اور بصیرت افروز خطابات نے دنیا بھر میں علماء، طلبہ، دانشوروں اور اہلِ علم کی ایک بڑی تعداد کو متاثر کیا، جبکہ آپ کی علمی خدمات ہمیشہ تاریخ کے سنہرے اوراق میں محفوظ رہیں گی۔مفتی محمد شاداب ندوی دہلوی نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ الحمد للہ راقم کو حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندویؒ کی خدمت میں زانوئے تلمذ اختیار کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ حضرت سے براہِ راست حجۃ اللہ البالغہ جیسی شہرۂ آفاق اور گراں قدر کتاب پڑھنے کا شرف نصیب ہوا، نیز تفسیر کی متعدد اہم کتب بھی حضرت سے پڑھنے اور ان کے علمی فیوض و برکات سے استفادہ کرنے کا موقع ملا۔ حضرت کا عمیق علم، وسیع مطالعہ، تحقیقی ذوق، مدلل اندازِ بیان، شاگردوں پر شفقت اور علمی تربیت ہمیشہ راقم کے لیے سرمایۂ افتخار اور مشعلِ راہ رہے گی۔بیان میں مزید کہا گیا کہ حضرت مولانا کی شخصیت علم، عمل، اخلاص، اعتدال، حکمت، بصیرت اور حسنِ اخلاق کا حسین امتزاج تھی۔ آپ نے اپنی علمی مجالس، تدریس اور تربیت کے ذریعے ہزاروں علماء، ائمہ، خطباء اور طلبہ کی فکری و علمی آبیاری کی۔ آپ کے افکار، تصنیفات اور علمی ورثہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی رہنمائی کا مضبوط ذریعہ رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ اس غم کی گھڑی میں ہم حضرت مولانا کے اہلِ خانہ، رفقاء، متعلقین، تلامذہ اور دنیا بھر کے محبین و عقیدت مندوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
آخر میں مفتی محمد شاداب ندوی دہلوی اور حضرت مولانا نائب الحق قاسمی صاحب نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندویؒ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے، ان کی دینی، علمی اور دعوتی خدمات کو تا قیامت صدقۂ جاریہ بنائے، اور تمام پسماندگان، متعلقین، تلامذہ اور محبین کو صبرِ جمیل، اجرِ عظیم اور بہترین نعم البدل عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
دلی این سی آر
کئی چندہ چور خود ہیںحکومت کا حصہ ، اسی لیے حکومت انہیں بچانے میںہے مصروف:کجریوال
(پی این این)
نئی دہلی:عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کی جانب سے بھگوان شری رام مندر کے چندے کی چوری میں ملوث افراد کے سماجی بائیکاٹ کی اپیل کا اثر اب نظر آنے لگا ہے۔
رام بھکتوں نے چندہ چوروں کا سماجی بائیکاٹ شروع کر دیا ہے اور اس کی شروعات خود ایودھیا سے ہوئی ہے۔ ایودھیا بار ایسوسی ایشن نے نہ صرف چندہ چوروں کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے بلکہ یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ ان افراد کے مقدمات بھی نہیں لڑے گی۔اروند کیجریوال نے ایودھیا بار ایسوسی ایشن کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ بار ایسوسی ایشن نے چندہ چوروں کا بائیکاٹ کیا ہے۔ میں نے چند دن پہلے ہی کہا تھا کہ حکومت بے شرمی کے ساتھ رام مندر کے چندہ چوروں کے ساتھ کھڑی ہے۔ کئی چندہ چور تو خود حکومت کا حصہ ہیں اور حکومت انہیں بچانے میں مصروف ہے۔ اب پورے ملک کو چاہیے کہ چندہ چوروں اور ان کے معاونین کا سماجی بائیکاٹ کرے۔قابلِ ذکر ہے کہ رام مندر سے چندے کی مبینہ چوری سے دلبرداشتہ اروند کیجریوال گزشتہ جمعہ کو ایودھیا گئے تھے، جہاں انہوں نے بھگوان شری رام کے درشن کیے اور دعا کی کہ چندہ چوری کرنے والے گناہ گاروں کو ان کے کیے کی سزا ملے۔ اس موقع پر انہوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران ملک کے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ چندہ چوروں کا سماجی بائیکاٹ کریں۔انہوں نے کہا تھا کہ یہ لوگ چندہ چوروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کریں گے، کیونکہ اوپر سے لے کر نیچے تک سب آپس میں ملے ہوئے ہیں۔ اگر وزیر اعظم نریندر مودی جی چمپت رائے کے سامنے اتنے بے بس ہیں تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کون کس حد تک اس معاملے میں شامل ہے۔ تاہم میری سماج سے گزارش ہے کہ قانون اپنا کام کرے یا نہ کرے، ہم سب مل کر قانون سے اس کا کام کرائیں گے۔
بھگوان رام بھی ان لوگوں کو ان کے اعمال کی سزا دیں گے۔ اب پورے سماج کی ذمہ داری ہے کہ جتنے بھی چندہ چور، ان کے معاون یا حامی ہیں، ان سب کا سماجی بائیکاٹ شروع کیا جائے، ورنہ آپ بھی اس گناہ میں برابر کے شریک سمجھے جائیں گے۔ اروند کیجریوال نے مزید کہا تھا کہ جو لوگ رام کے نہ ہوئے، جنہوں نے بھگوان رام ہی کو لوٹ لیا، وہ آپ کے کیسے ہو سکتے ہیں؟ جنہوں نے رام کو نہیں چھوڑا، وہ ملک کو کیسے چھوڑیں گے؟ میں پورے ملک سے اپیل کرتا ہوں کہ یہ ایک دھرم یدھ ہے، جس کے لیے ہر شخص کو اٹھ کر کھڑا ہونا ہوگا اور اس جدوجہد میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار7 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
دلی این سی آر10 months agoاردو اکادمی دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے میں کثیر تعداد میں اسکولی بچوں نےلیا حصہ
