Connect with us

Bihar

رجسٹری آفس ارریہ کا ڈی ایم نے کیا معائنہ

Published

on

(پی این این)
ارریہ:ضلع مجسٹریٹ ارریہ ونود دوہن نے جمعہ کے روز ضلع رجسٹری آفس، ارریہ کا تفصیلی معائنہ کیا اور دفتر کی مجموعی کارکردگی، ریکارڈ کی دیکھ بھال، عوامی خدمات اور ریونیو سے متعلق انتظامات کا جائزہ لیا۔ اس دوران انہوں نے رجسٹری کے عمل کو بہتر اور شفاف بنانے کے لیے متعدد اہم ہدایات جاری کیں۔
معائنے کے دوران ضلع مجسٹریٹ نے دفتر میں قائم مختلف کاؤنٹروں کا مشاہدہ کیا اور عام شہریوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات و خدمات کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے مختلف شعبوں اور کمروں کا دورہ کرتے ہوئے ملازمین کو سونپی گئی ذمہ داریوں اور ان کی انجام دہی کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا۔ اس موقع پر ضلع مجسٹریٹ نے حالیہ دنوں میں رجسٹری سے متعلق درج ایک ایف آئی آر کے بعد کی گئی کارروائیوں کی تفصیلی معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ تمام معاملات میں شفافیت اور جوابدہی کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے اور خاص طور پر زمینی جانچ کے عمل کو مکمل طور پر شفاف رکھا جائے۔ معائنے کے دوران انہوں نے نقدی رجسٹر، ملازمین کی سروس بک، خفیہ کردارنامہ، پاور آف اٹارنی رجسٹر سمیت دیگر اہم دستاویزات اور ریکارڈ کا بھی جائزہ لیا۔
انہوں نے تمام ملازمین کے فرائض اور ذمہ داریوں کا جائزہ لیتے ہوئے کام کاج میں مزید شفافیت لانے کے لیے ضروری ہدایات جاری کیں۔ ضلع مجسٹریٹ نے تلاشی اور نقل سے حاصل ہونے والی نقد رقم کو سرکاری خزانے میں جمع کرانے کے نظام کی بھی جانچ کی۔ انہوں نے واضح ہدایت دی کہ اس مد میں حاصل ہونے والی روزانہ کی رقم اگلے دن لازمی طور پر خزانے میں جمع کرائی جائے تاکہ مالیاتی نظم و ضبط برقرار رہے۔ ڈی ایم ونود دوہن نے افسران اور ملازمین کو ہدایت دی کہ تمام سرکاری امور کو وقت پر، شفاف اور عوام دوست انداز میں انجام دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو کسی بھی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے اور تمام ریکارڈ مقررہ اصولوں کے مطابق تازہ اور منظم حالت میں رکھا جائے۔ معائنے کے موقع پر سینئر ڈپٹی کلکٹر و خصوصی افسر ارریہ، ضلع سب رجسٹرار ارریہ سمیت دیگر متعلقہ افسران موجود تھے۔

Bihar

وفاق المدارس الاسلامیہ کا سہ روزہ تربیتی ورکشاپ اختتام پذیر، اجلاس میں مدارس کے تعلیمی و تربیتی نظام کو مزید مؤثر بنانے پردیا گیا زور

Published

on

(پی این این)
مونگیر:امیرِ شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب دامت برکاتہم سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر و صدر وفاق المدارس الاسلامیہ نے اپنے پر مغز صدارتی خطاب و پریزینٹیشن میں فرمایا کہ موجودہ دور میں دینی مدارس کو محض تحفظ کی فکر تک محدود رہنے کے بجائے ترقی، معیار اور مؤثریت کی جانب سنجیدگی سے قدم بڑھانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مدارس امت کی عظیم علمی امانت ہیں، لیکن آج مسلم بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد مدارس کے نظامِ تعلیم سے باہر ہے، جس کے نتیجے میں وہ مختلف فکری اور تہذیبی چیلنجوں سے متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے اساتذۂ کرام اور ذمہ دارانِ مدارس پر زور دیا کہ وہ طلبہ میں مطلوبہ مہارتیں پیدا کرنے، تدریسی نظام کو منظم بنانے، اساتذہ کی مسلسل تربیت اور تعلیمی معیار کو بلند کرنے پر خصوصی توجہ دیں۔ حضرت امیرِ شریعت نے کہا کہ مدارس کے انفراسٹرکچر، انتظامی شفافیت، قانونی تقاضوں، طلبہ کے تحفظ اور عصری قوانین سے آگہی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ موجودہ حالات میں ان امور کی رعایت اداروں کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر مدارس منصوبہ بندی، باہمی تعاون، معیاری تعلیم اور مسلسل تربیت کو اپنا شعار بنائیں تو وہ مستقبل میں بھی ملت کی دینی، علمی اور فکری قیادت کا فریضہ کامیابی کے ساتھ انجام دیتے رہیں گے۔
حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ صاحب رحمانی، سجادہ نشیں خانقاہ رحمانیہ مالیگاؤں مہاراشٹرا و خلیفۂ و مجاز حضرت مولانا محمد ولی رحمانی رحمۃ اللہ علیہ، نے اساتذۂ کرام کی تعلیمی و تربیتی ذمہ داریوں پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ نسلوں کی تعمیر اور قوموں کی تشکیل میں معلم کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اساتذہ کو مطالعہ، تحقیق، احساسِ ذمہ داری اور مسلسل خودسازی اختیار کرنے کی تلقین کی اور طلبہ کے اندر علم دوستی، وقت کی قدر اور اعلیٰ مقاصد کے حصول کا جذبہ پیدا کرنے پر زور دیا۔نائب امیرِ شریعت حضرت مولانا محمد شمشاد رحمانی صاحب قاسمی، استاذِ حدیث و فقہ دارالعلوم وقف دیوبند نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مدارسِ اسلامیہ کی تاریخی خدمات اور وفاق المدارس کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے فرمایا کہ مدارس دینِ اسلام کے تحفظ اور ملت کی علمی و فکری رہنمائی کے عظیم مراکز ہیں۔ انہوں نے وفاق کے نظام کو مزید مضبوط بنانے، مدارس کے درمیان اتحاد و ہم آہنگی پیدا کرنے اور نصاب و نظامِ تعلیم میں یکسانیت کو فروغ دینے پر زور دیا۔جناب مولانا مفتی محمد سعید الرحمٰن صاحب قاسمی نے فرمایا کہ تنظیمی ذمہ داریاں ایک عظیم امانت ہیں، اس لیے انتخاب میں اہلیت، دیانت اور احساسِ ذمہ داری کو بنیادی معیار بنایا جانا چاہیے۔
انہوں نے وفاق المدارس کے استحکام، تعلیمی معیار کی بلندی اور مشترکہ تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ذمہ داران کو اتحاد و باہمی اشتراک کی تلقین کی۔ انہوں نے دستورِ وفاق اور انتخابی ضوابط کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ کورم مکمل نہ ہونے کی وجہ سے انتخاب مؤخر کیا گیا ہے، اور آئندہ انتخاب حضرت امیرِ شریعت کی ہدایت کے مطابق منعقد ہوگا۔جناب مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ صاحب قاسمی، نائب ناظم امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال و ناظم وفاق نے اپنے خطاب میں وفاق کے اجتماعی نظام کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ اطلاع، رابطہ اور تعاون ہی وفاق کی مضبوطی کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے مدارس سے اپیل کی کہ وہ وفاق کے ساتھ مضبوط تعلق قائم رکھیں تاکہ تعلیمی و تربیتی نظام مزید مؤثر اور منظم بن سکے۔جناب مولانا و مفتی اختر امام عادل صاحب قاسمی سرپرست جامعہ ربانی منروا شریف نے علماء اور معلمین کے مقام و مرتبہ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک عالم اور معلم کی اصل ذمہ داری علمِ دین کو عام کرنا اور معاشرے کی فکری و اخلاقی رہنمائی کرنا ہے۔ انہوں نے وفاق المدارس کے پلیٹ فارم کو خدمتِ دین اور اجتماعی اصلاح کا مؤثر ذریعہ قرار دیا۔
جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے ناظمِ تعلیمات جناب مولانا جمیل احمد صاحب مظاہری نے اساتذۂ کرام کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ مدرسے کا تعلیمی و تربیتی نظام اساتذہ کے اخلاص، محنت اور کردار پر قائم ہوتا ہے۔ انہوں نے اساتذہ کو طلبہ کی دینی، اخلاقی اور فکری تربیت پر خصوصی توجہ دینے کی تلقین کی۔جناب مولانا مفتی و قاضی انظار عالم صاحب قاسمی، قاضی القضاء امارتِ شرعیہ، نے اساتذۂ کرام کی تربیت اور تعلیمی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ تدریس کو محض ملازمت نہیں بلکہ دینی خدمت سمجھ کر انجام دینا چاہیے۔ انہوں نے مدارس کے درمیان مضبوط رابطہ، باہمی مشاورت اور مسلسل تربیت کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔مولانا مفتی قاضی وصی احمد صاحب قاسمی، نائب قاضی امارتِ شرعیہ، نے وفاق المدارس کے مقاصد اور افادیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاق کا مقصد دینی مدارس کے درمیان علمی و تعلیمی ہم آہنگی پیدا کرنا اور نصاب و نظامِ تعلیم کو مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے تمام مدارس کو وفاق کے ساتھ مضبوطی سے وابستہ رہنے کی تلقین کی۔”وسائل، تجربات اور صلاحیتوں کا مشترکہ استعمال” کے عنوان پر مولانا و مفتی محمد سہراب صاحب قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ نے باہمی تعاون، اشتراک اور اجتماعی جدوجہد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں مدارس کی ترقی اور استحکام کے لیے وسائل اور تجربات کا تبادلہ ناگزیر ہے۔
مولانا و مفتی ارشد صاحب نے وفاق المدارس کی حالیہ سرگرمیوں کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امیرِ شریعت کی سرپرستی میں وفاق کے کاموں میں نمایاں استحکام اور فعالیت پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے مدارس کے درمیان مضبوط رابطے، تنظیمی استحکام اور اجتماعی تعاون کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔اپنے مختصر خطاب میں مولانا نور الہدیٰ صاحب، دربھنگہ، نے فرمایا کہ کسی بھی نظام کی اصلاح کے لیے اس کی کمزوریوں اور خامیوں کی درست نشاندہی ضروری ہے، کیونکہ صحیح تشخیص ہی کامیاب اصلاح کی بنیاد بنتی ہے۔جامعہ رحمانی میں اس سہ روزہ ورکشاپ کے انتظٓام و انصرام میں جامعہ رحمانی کے ناظم الحاج مولانا محمد عارف رحمانی صاحب،مولانا رضی احمد رحمانی صاحب،مولانا مفتی احمد صاحب مظاہری، مولانا سیف الرحمٰن صاحب ندوی، مولانا جوہر نیازی صاحب رحمانی، مولانا نہال صاحب رحمانی، جناب فضل رحمٰں رحمانی صاحب، مولانا عبدالاحد رحمانی ازہری، مولانا عبدالعلیم رحمانی ازہری، مفتی قیام الدین قاسمی اور جامعہ رحمانی کے جملہ اساتذہ کرام و کارکنان نے سرگرم رول ادا کیا۔ وہیں اس پورے پروگرام کی نشر و اشاعت میں فکر و نظر ٹی وی کا اہم کردار رہا۔
پروگرام کا آغاز جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے شعبۂ حفظ کے استاذ جناب مولانا قاری وسیم اختر صاحب قاسمی کی پُرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ مولانا منظر صاحب قاسمی اور عزیزی مولوی محمد اظہار سلمہ متعلم جامعہ رحمانی مونگیر نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کرکے سامعین کو محظوظ کیا۔ نظامت کے فرائض مولانا و مفتی ثناء الہدیٰ صاحب قاسمی نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیے۔دوران نظامت انہوں نے تمام شرکاء، محاضرین اور معاونین کا شکریہ ادا کیا، جبکہ حضرت امیرِ شریعت کی دعاء کے ساتھ سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔

Continue Reading

Bihar

گیا جی:بجلی محکمہ میں بدعنوانی کا بڑا انکشاف

Published

on

(پی این این)
گیاجی: ضلع گیا کے امام گنج بلاک کے منجھولی گاؤں کے رہائشی اور آئس فیکٹری کے مالک اُمیش ساؤ کی شکایت پر کی گئی جانچ میں بجلی محکمہ کے افسران اور ملازمین کا کردار مشتبہ پائے جانے کے بعد ضلع انتظامیہ نے سخت رویہ اختیار کیا ہے۔ جانچ رپورٹ کی بنیاد پر ضلع مجسٹریٹ ششانک شبھنکر نے جونیئر انجینئر (جے ای) سمیت پانچ افراد کے خلاف محکمانہ کارروائی کا حکم دیا ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق اُمیش ساؤ نے ضلع مجسٹریٹ سے شکایت کی تھی کہ ان کی آئس فیکٹری میں بجلی محکمہ کی ٹیم نے جانچ کے دوران ’’ٹوکا‘‘ لگا کر مشین چلانے کا الزام عائد کیا تھا۔ شکایت کنندہ نے اس الزام کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ جونیئر انجینئر سچن کمار نے معاملہ رفع دفع کرنے کے عوض رقم کا مطالبہ کیا تھا۔معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ضلع مجسٹریٹ نے جانچ کی ذمہ داری شیرگھاٹی کے سب ڈویژنل افسر (ایس ڈی او) کو سونپی۔ جانچ کے دوران بجلی محکمہ کی جانب سے فیکٹری میں ’’ٹوکا‘‘ لگا کر مشین چلانے سے متعلق کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا۔ مزید یہ کہ جانچ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ جونیئر انجینئر سچن کمار نے اپنے محکمہ کے اکاؤنٹنٹ رنجیت کمار کے بینک کھاتے میں یو پی آئی کے ذریعے 20 ہزار روپے منگوائے تھے۔ شکایت کنندہ کا یہ بھی الزام تھا کہ 50 ہزار روپے نقد بھی غیر قانونی طور پر وصول کیے گئے تھے۔
سب ڈویژنل افسر کی جانچ رپورٹ کی بنیاد پر ضلع مجسٹریٹ نے جونیئر انجینئر سچن کمار، اسسٹنٹ انجینئر راجیو جھا، اکاؤنٹنٹ رنجیت کمار، انسانی وسائل کے ملازم سنجے پاسوان اور سپروائزر وکرم سنگھ کے خلاف محکمانہ اور تادیبی کارروائی کرنے کی ہدایت سپرنٹنڈنگ انجینئر کو دی ہے۔
ساتھ ہی جونیئر انجینئر کی معطلی کے لیے محکمہ کو تجویز بھیجنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔جانچ کے دوران ایک لائن مین کا کردار بھی مشتبہ پایا گیا۔ ضلع انتظامیہ نے اس کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے قانونی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس کارروائی کو بجلی محکمہ میں بدعنوانی کے خلاف انتظامیہ کی ایک بڑی اور اہم کارروائی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

Continue Reading

Bihar

گیا جی:11سالہ اُجّول کی موت سے ایمرجنسی خدمات کی حقیقت بے نقاب

Published

on

(پی این این)
گیاجی: گیا ضلع کے شیرگھاٹی سب ڈویژن علاقے میں ایمرجنسی صحت خدمات کی بدحالی ایک معصوم بچے کی موت کے بعد سخت سوالوں کے گھیرے میں آ گئی ہے۔
سڑک حادثے میں شدید طور پر زخمی 11 سالہ طالبِ علم اُجّول کمار کو اسپتال پہنچانے کے لیے بھیجی گئی ایمبولینس راستے میں ہی خراب ہو گئی، جس کے سبب علاج میں تاخیر ہوئی اور بالآخر بچے کی جان نہ بچ سکی۔مرحوم اُجّول کمار پلامو ضلع کے نوڈیہا تھانہ علاقے کے تریدیہ گاؤں کے رہنے والے دامودر مہتا کا بیٹا تھا۔ وہ امام گنج تھانہ علاقے کے پاکرڈیہ گاؤں میں اپنی خالہ کے یہاں رہ کر تعلیم حاصل کر رہا تھا۔
بتایا جاتا ہے کہ بدھ کے روز وہ کرکٹ کھیل کر گھر واپس لوٹ رہا تھا کہ اسی دوران مٹی سے لدا ایک ٹریکٹر اس کی بائیک سے ٹکرا گیا۔ حادثے میں وہ بری طرح زخمی ہو گیا۔واقعے کے فوراً بعد مقامی لوگوں نے مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اُسے ایمبولینس کے ذریعے شیرگھاٹی سب ڈویژنل اسپتال روانہ کیا، لیکن بانکے بازار کے قریب پہنچتے ہی ایمبولینس اچانک خراب ہو گئی۔ گاڑی بند پڑ جانے کی وجہ سے اسپتال پہنچنے میں کافی تاخیر ہو گئی اور زخمی بچے کی حالت مسلسل بگڑتی چلی گئی۔ بعد ازاں جب اُسے اسپتال پہنچایا گیا تو ڈاکٹروں نے مردہ قرار دے دیا۔
اہلِ خانہ کا الزام ہے کہ ایمبولینس کی فنی خرابی ہی ان کے بیٹے کی موت کا سبب بنی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر گاڑی وقت پر اسپتال پہنچ جاتی تو علاج فوراً شروع ہو سکتا تھا اور شاید اُجّول کی جان بچائی جا سکتی تھی۔
اس افسوسناک واقعے کے بعد مقامی لوگوں میں بھی شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت ایمرجنسی صحت خدمات پر کروڑوں روپے خرچ کر رہی ہے، لیکن زمینی سطح پر ایمبولینسوں کی حالت نہایت تشویش ناک ہے۔ اس حادثے نے محکمۂ صحت کی تیاریوں، ایمبولینسوں کی باقاعدہ دیکھ بھال اور ایمرجنسی خدمات کے معیار پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔اہلِ خانہ اور مقامی باشندوں نے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات، ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی اور ایمبولینس نظام میں فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ آئندہ کسی دوسرے خاندان کو ایسی دردناک سانحے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network