Connect with us

دلی این سی آر

کاکروچ جنتا پارٹی نے جنتر منتر پر کیا احتجاج ،دھرمیندر سے مانگا استعفیٰ

Published

on

نئی دہلی :کاکروچ جنتا پارٹی آج دہلی کے جنتر منتر پر ایک بڑا احتجاجکیا۔ CJP کے بانی ابھیجیت دیپک، جو امریکہ سے ہندوستان واپس آئے ہیں، بھی اپنے سینکڑوں حامیوں کے ساتھ احتجاج میں شریک ہیں۔ احتجاج کے پیش نظر جنتر منتر پر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ دہلی پولیس نے کاکروچ جنتا پارٹی” کو جنتر منتر پر صبح 10 بجے سے شام 5 بجے تک احتجاج کرنے کی اجازت دے دی ہے۔10-12 سالوں سے، ان لوگوں نے ہمیں ہندو مسلم سیاست میں پھنسا رکھا ہے، اس کا فائدہ کس کو ہوا؟ کیا ملک میں ہندو اور مسلمانوں کو تقسیم کرکے کسی کو نوکری ملی؟ لوگ پوچھتے ہیں، ‘احتجاج، مظاہروں اور جلوسوں کا کیا فائدہ؟’ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہم زندہ ہیں حکومت کے لیے کیڑے مکوڑے ہیں لیکن ہم زندہ ہیں اور اپنے حقوق کے لیے لڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ابھیجیت دیپک نے کہا، ’’ہمارا واحد ایجنڈا ہے کہ دھرمیندر پردھان کو ہندوستان کے تعلیمی نظام کو برباد کرنے کے لیے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔‘‘ انہوں نے احتجاجی مظاہرے میں جمع ہونے والوں پر زور دیا کہ وہ ہتھکنڈوں کا شکار نہ ہوں۔ واضح رہے کہ ابھیجیت دیپک نے اس ماہ کے شروع میں اپنے حامیوں اور طلباء سے دہلی کے احتجاج میں شامل ہونے کی اپیل کی تھی۔ کاکروچ پارٹی کے سربراہ ابھیجیت دیپک آج صبح 7:30 بجے برٹش ایئرویز کی پرواز سے دہلی ہوائی اڈے پر پہنچے۔ پولیس نے جنتر منتر کے دونوں طرف رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں اور ہزاروں پولیس اور نیم فوجی دستوں کو تعینات کیا گیا ہے۔ ہندوستان کے نامہ نگار امیت جھا، آشیش سنگھ، اور رمیش ترپاٹھی چیف جسٹس کے احتجاج کے بارے میں لمحہ بہ لمحہ اپڈیٹس فراہم کر رہے ہیں۔ابھیجیت نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے شام 5 بجے تک استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ وہ اگلے ہفتے کو دوبارہ جمع ہوں گے اور اپنے شہروں میں آواز بلند کریں گے۔
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے سونم وانگچک نے کہا کہ امتحانات کے ساتھ ساتھ تعلیمی نظام میں تبدیلی کی بات ہونی چاہیے۔ سیاستدانوں اور سرکاری ملازمین کے بچوں کے لیے سرکاری سکولوں میں پڑھنے کا بندوبست ہونا چاہیے، تب ہی نظام میں بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ صرف تعلیم کے خلاف ہی نہیں بلکہ ہر اس وزارت کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے جہاں بے ضابطگیاں ہو رہی ہوں۔
انہوں نے کہا کہ یہ احتجاج نہیں بلکہ حکومت سے درخواست ہے، امتحانات کا سوال مستقبل سے وابستہ ہے۔ “ہم ایمانداری مانگ رہے ہیں، چاند اور ستارے نہیں۔ یہ نوجوانوں کے لیے ضروری ہے۔ یہ نظام بدلنا چاہیے۔ ہمیں وزیر کے استعفیٰ کی نہیں، تبدیلی کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم امتحانات پر بات کرتے ہیں، لیکن اس ناقص عمل پر بھی بات ہونی چاہیے۔”

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

دلی این سی آر

آسام کے کالج میں اے بی وی پی کا مسلم طالبات پر مبینہ حملہ ناقابل برداشت :مفتی مکرم

Published

on

 

 

(پی این این)
نئی دہلی :شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مفکر ملت مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد صاحب نے جمعہ کی نماز سے قبل خطاب میںمسلمانوں سے اپیل کی کہ پنج وقتہ نمازوں کی پابندی کریں اور نوجوانوں کو بھی اس کا پابند بنائیں چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔
انہوں نے مہاراشٹر میں نئے انسداد تبدیلی مذہب قانون کے نفاذ پر گہری تشویش کا اظہار کیا انہوں نے کہا کہ حکومت نے ریاست میں جبری یا دھوکے سے مذہب تبدیلی کے بڑے پیمانے پر ہونے کے دعوے کی تائید میں شواہد پیش نہیں کیے۔ مہاراشٹر حکومت نے یہ قانون بنانے میں آئینی حقوق کے تحفظ کاخیال نہیں رکھا انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس قانون کے ذریعے شہریوں کی نجی زندگی، مذہبی عقیدے اور ذاتی فیصلوں میں مداخلت کا دروازہ کھل سکتا ہے بظاہر یہ قانون آئین کی بعض دفعات کے خلاف ہے۔
مفتی مکرم احمد نے آسام کے ضلع سلچر میں واقع کچھار کالج میں مسلم طالبات کے خلاف قابل اعتراض اور نفرت انگیز مہم کی شدید مذمت کی۔ مسلم طالبات ہر مبینہ حملے کے بعد طلبہ کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی اے بی وی پی کے کچھ ارکان نے این ایس یو آئی کے کیمپ میں حجاب پہننے والی مسلم طالبات کی موجودگی پر اعتراض کیا اور طرح طرح کے الزامات لگائے ۔ مفتی مکرم نے کہا کہ اگر کچھ طالبات حجاب پہنتی ہیں تو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے یہ مذہب اور عقیدے سے جڑا ہوا مسئلہ ہے جس کا احترام ہونا چاہیے۔
آئین نے اس کی اجازت دی ہے۔ مفتی مکرم نے غزہ میں صہیونی اہلکاروں کی طرف سے مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزی پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کے متعدد مقامات پر اسرائیلی فوج کے حملے نہتے فلسطینیوں پر ہوتے رہتے ہیں یو این او اور عالمی برادری اسرائیل کو جنگ بندی قانون کا پابند بنائیں ورنہ اس کے خلاف ایکشن لیا جائے۔

 

Continue Reading

دلی این سی آر

راہل کا پدرشاہی کو ختم کرو کا نعرہ محض ایک کھوکھلی بات: بانسری

Published

on

نئی دہلی:بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) رکن پارلیمنٹ بانسری سوراج نے کونڈا سریکھا کو تلنگانہ کابینہ سے برطرف کیے جانے پر کانگریس لیڈر راہل گاندھی کو نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ مسٹر گاندھی کا پدرشاہی کو ختم کروکا نعرہ محض ایک کھوکھلی بات ہے۔ بانسری سوراج نے جمعہ کو یہاں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کے قائد راہل گاندھی کا پدرشاہی کو ختم کرو نعرہ صرف کھوکھلی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماچل پردیش اور کرناٹک میں، جہاں کانگریس کی حکومتیں ہیں، وہاں پر ایک بھی خاتون کو وزرات کا عہدہ نہیں دیا گیا ہے۔ اب تلنگانہ میں جمعرات کو کانگریس کی سینئر لیڈر کو وہاں کی حکومت نے مبینہ طور پر ذلیل کیا اور ریاستی کابینہ سے ہٹا دیا۔ محترمہ سریکھا نے تلنگانہ کی کانگریس حکومت اور وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی پر بہت سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے کہا، “میں پوچھنا چاہتی ہوں… ان کے لگائے گئے ناانصافی اور بلیک میلنگ کے الزامات پر مسٹر گاندھی ابھی بھی خاموش کیوں ہیں؟ شاید اس لیے کیونکہ ان کے لیے پدرشاہی کو ختم کرو انتخابی نعرے اور سیاسی بیان بازی سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔
اصل میں مسٹر گاندھی اور کانگریس کی سوچ یہ ہے کہ اگر خواتین ترقی پسند ہیں، تو ان کے امکانات کو ختم کر دو۔”

Continue Reading

دلی این سی آر

خاتون صحافیوں پر مبینہ حملہ پریس کی آزادی پر سنگین حملہ: شائستہ اختر

Published

on

سری نگر:جموں و کشمیر میں نیشنل لوک تانترک پارٹی (NLP) کی مہیلا مورچہ کی ریاستی صدر، شائستہ اختر نے نئی دہلی کے ساکیت پولیس اسٹیشن میں دو مسلم خاتون صحافیوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور ہراسانی کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے اس واقعے کو انتہائی تشویشناک اور جمہوری معاشرے میں ناقابلِ قبول قرار دیا۔شائستہ اختر نے ان اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا جن کے مطابق دہلی پولیس کے اہلکاروں نے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھانے والی دو خاتون صحافیوں پر مبینہ طور پر تشدد کیا اور ان کے ساتھ بدسلوکی کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کا ایسا رویہ ہرگز برداشت نہیں کیا جا سکتا اور اس معاملے کی غیر جانبدارانہ اور مقررہ مدت میں تحقیقات ہونی چاہئیں۔شائستہ اختر نے کہا، “پولیس کی ذمہ داری شہریوں کا تحفظ کرنا ہے، نہ کہ انہیں ڈرانا دھمکانا یا ان پر حملہ کرنا۔ صحافیوں کو بغیر کسی خوف، دباؤ، دھمکی یا امتیازی سلوک کے اپنے فرائض کی انجام دہی کی اجازت ہونی چاہیے۔ اگر پولیس اسٹیشن کے اندر دو خاتون صحافیوں کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، تو یہ انتہائی تشویشناک معاملہ ہے جس میں احتساب ناگزیر ہے۔”انہوں نے مزید زور دیا کہ کسی صحافی کی شناخت یا مذہب کبھی بھی امتیازی سلوک کی بنیاد نہیں بننا چاہیے۔ پریس کی آزادی جمہوریت کا بنیادی ستون ہے، اور صحافیوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ انتقامی کارروائی کے خوف کے بغیر سوالات پوچھیں اور حقائق کی رپورٹنگ کریں۔شائستہ اختر نے دہلی پولیس کے حکام اور متعلقہ اعلیٰ افسران پر زور دیا کہ وہ ان الزامات کی فوری طور پر آزادانہ تحقیقات کریں، اگر بدسلوکی ثابت ہو تو ذمہ داروں کی نشاندہی کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ متاثرہ صحافیوں کو انصاف ملے۔انہوں نے صحافتی برادری اور سول سوسائٹی سے بھی اپیل کی کہ وہ پریس کی آزادی، خواتین کے وقار اور قانون کی حکمرانی کے تحفظ کے لیے متحد رہیں۔
انہوں نے کہا، “ایک جمہوری حکومت کو سوالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ایک جمہوری پولیس فورس کو صحافیوں کا احترام کرنا چاہیے۔ اور ہر شہری—قطع نظر اس کے مذہب، جنس یا پیشے کے—قانون کے تحت وقار اور تحفظ کا حقدار ہے۔”شائستہ اختر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ نیشنل لوک تانترک پارٹی (NLP) آئینی اقدار، اظہارِ رائے کی آزادی، خواتین کے وقار اور آزاد میڈیا کے تحفظ کے لیے مضبوطی سے کھڑی ہے

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network