Bihar
گیا جی کے ہارڈویئر دکاندار کے بیٹے شبھم کمار نے کیا کمال
پی این این)
گیا جی : بہار کے ضلع گیا کے نادرہ گنج برہمنی گھاٹ محلے سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم نے ملک کے سب سے مشکل انجینئرنگ داخلہ امتحان میں ایسی کامیابی حاصل کی ہے جس پر پورا بہار فخر کر رہا ہے۔ JEE ایڈوانسڈ 2026 کے اعلان شدہ نتائج میں گیا کے شبھم کمار نے آل انڈیا رینک-1 حاصل کرکے تاریخ رقم کر دی ہے۔ انہوں نے 360 میں سے 330 نمبر حاصل کرتے ہوئے ملک بھر کے لاکھوں امیدواروں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اس غیر معمولی کامیابی کے بعد خاندان، محلے اور پورے ضلع میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
شبھم کمار نے JEE ایڈوانسڈ سے قبل JEE مینز 2026 میں بھی اپنی غیر معمولی صلاحیت کا ثبوت دیا تھا۔ جنوری اور اپریل، دونوں سیشن میں انہوں نے 100 پرسنٹائل حاصل کیے تھے۔ ان کے والد شیو کمار کے مطابق پہلے سیشن میں پورے ملک کے صرف 12 طلبہ کو 100 پرسنٹائل حاصل ہوئے تھے، جبکہ دوسرے سیشن میں یہ تعداد 26 تھی اور شبھم دونوں فہرستوں میں شامل تھے۔ ان کی اس کارکردگی نے پہلے ہی اشارہ دے دیا تھا کہ وہ JEE ایڈوانسڈ میں بھی بڑا مقام حاصل کر سکتے ہیں۔
شبھم کا کہنا ہے کہ انہوں نے دسویں جماعت تک کسی بھی قسم کی ٹیوشن نہیں لی۔ پانچویں جماعت تک والدہ نے پڑھائی میں رہنمائی کی، لیکن اس کے بعد انہوں نے خود مطالعہ کی عادت اپنائی۔ ان کے مطابق سیلف اسٹڈی نے انہیں مضامین کو گہرائی سے سمجھنے میں مدد دی۔انہوں نے بتایا کہ خود پڑھنے کی عادت کی وجہ سے وہ فارمولے رٹنے کے بجائے انہیں سمجھنے پر توجہ دیتے تھے، جس کا فائدہ انہیں بعد میں مسابقتی امتحانات کی تیاری کے دوران ملا۔شبھم کے مطابق دسویں جماعت کی تیاری کے دوران ہی انہوں نے روزانہ تقریباً 10 گھنٹے مطالعہ کرنے کی عادت ڈال لی تھی۔
بارہویں جماعت میں یہ وقت 12 گھنٹے سے بھی زیادہ ہو گیا، جبکہ JEE کی تیاری کے دوران بعض اوقات وہ 15 گھنٹے تک مسلسل پڑھائی کرتے تھے۔تاہم وہ صرف کتابوں تک محدود نہیں رہتے تھے۔ ذہنی دباؤ سے بچنے کے لیے دوستوں سے گفتگو اور ہلکے پھلکے تفریحی سرگرمیوں کا بھی سہارا لیتے تھے۔ ان کا ماننا ہے کہ طویل مدتی کامیابی کے لیے ذہنی توازن برقرار رکھنا نہایت ضروری ہے۔دسویں جماعت کے بعد شبھم نے آن لائن طریقے سے JEE کی تیاری شروع کی۔ تقریباً ایک سال تک انہوں نے مختلف اداروں کی آن لائن کلاسوں میں حصہ لیا۔ بارہویں بورڈ امتحان میں بھی شاندار کامیابیمسابقتی امتحانات کے ساتھ ساتھ شبھم نے بورڈ امتحان میں بھی نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ CBSE بارہویں بورڈ امتحان میں انہوں نے سائنس فیکلٹی سے 96.8 فیصد نمبر حاصل کیے۔
خاندان کے مطابق ان کی دوسری بہن بھی انجینئرنگ کی تعلیم سے وابستہ ہیں۔پریا کماری کا کہنا ہے کہ شبھم ہمیشہ اپنی بہترین کارکردگی پیش کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ اسکول کے دنوں سے لے کر مسابقتی امتحانات تک انہوں نے مسلسل اول آنے کی روایت برقرار رکھی۔
شبھم کا خواب ابتدا ہی سے IIT بمبئی میں داخلہ لینا تھا۔ JEE ایڈوانسڈ میں آل انڈیا رینک-1 حاصل کرنے کے بعد اب ان کا یہ خواب تقریباً حقیقت بن چکا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ وہ صرف انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہتے بلکہ دورانِ تعلیم کوئی بڑا اختراع اور نئی ٹیکنالوجی تیار کرنا چاہتے ہیں جو ملک اور معاشرے کے لیے مفید ثابت ہو۔ناکام طلبہ کے لیے خصوصی پیغاماپنی کامیابی کے بعد شبھم نے ان طلبہ کے لیے بھی پیغام دیا جو اس بار مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکے۔انہوں نے کہا کہ ناکامی سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ اگر کوئی طالب علم گیپ ایئر لے کر تیاری کر رہا ہے تو اسے پوری لگن اور یکسوئی کے ساتھ محنت کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق ہر شخص کو اپنے میدان میں بہترین کارکردگی پیش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، کامیابی دیر سے سہی مگر ضرور ملتی ہے۔
شبھم کمار کی کامیابی صرف ایک طالب علم کی ذاتی کامیابی نہیں بلکہ بہار کے لاکھوں نوجوانوں کے لیے ایک تحریک ہے۔ برہمنی گھاٹ کی گلیوں سے نکل کر ملک کے سب سے باوقار امتحان میں اول مقام حاصل کرنے والے شبھم نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ بڑے خواب پورے کرنے کے لیے کسی بڑے شہر میں پیدا ہونا ضروری نہیں، بلکہ مقصد کے تئیں عزم، مسلسل محنت اور خود اعتمادی زیادہ اہم ہیں۔آج گیا کا یہ ہونہار فرزند صرف JEE ایڈوانسڈ کا ٹاپر نہیں بلکہ بہار کی نئی تعلیمی شناخت بن چکا ہے۔
Bihar
اوپیندر کشواہا کے بیٹے دیپک کی وزارت خطرے میں؟، آخر وہ کس بنیاد پر وزیر بنے ہوئے ہیں وزیر؟سپریم کورٹ نے سمراٹ حکومت سے طلب کیا جواب
پٹنہ؍نئی دہلی:(پی این این)سمراٹ چودھری کابینہ کے وزیر اور نیشنل لوک مورچہ کے سربراہ، سابق وزیر اوپیندر کشواہا کے بیٹے دیپک پرکاش کی وزارت قانونی پیچیدگی میں پھنس گئی ہے۔ ان کی بطور وزیر تقرری کو چیلنج کرنے والی عرضی پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے بہار حکومت سے سوال کیا کہ آخر دیپک پرکاش اب تک کس بنیاد پر وزیر کے عہدے پر برقرار ہیں، جبکہ حلف لینے کے چھ ماہ گزر جانے کے باوجود وہ نہ تو بہار اسمبلی کے رکن بن سکے ہیں اور نہ ہی قانون ساز کونسل کے۔سپریم کورٹ کے اس سخت موقف کے بعد دیپک پرکاش کی وزارت پر خطرے کے بادل منڈلاتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس عرضی کی سماعت چیف جسٹس سوریا کانت کی سربراہی والی بنچ نے کی۔چیف جسٹس جسٹس سوریا کانت نے ریمارکس دیے کہ یہ مکمل طور پر قانون کا معاملہ ہے۔ ریاستی حکومت کو عدالت کو یہ بتانا ہوگا کہ آخر کوئی شخص منتخب ہوئے بغیر چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک وزیر کے عہدے پر کیسے برقرار رہ سکتا ہے۔اس پر ریاستی حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے کی آئندہ سماعت 27 اگست کو مقرر ہے۔
عدالت جو بھی حکم صادر کرے گی، ریاستی حکومت اس پر مکمل طور پر عمل کرے گی۔2025 کے اسمبلی انتخابات کے بعد نتیش کمار کی کابینہ میں دیپک پرکاش کو پہلی مرتبہ پنچایتی راج محکمہ کا وزیر بنایا گیا تھا۔ اس وقت وہ بہار مقننہ کے کسی بھی ایوان کے رکن نہیں تھے اور نہ ہی انہوں نے اسمبلی کا انتخاب لڑا تھا۔اگرچہ نیشنل لوک مورچہ (رالومو) کے چار ارکانِ اسمبلی موجود تھے، اس کے باوجود اوپیندر کشواہا نے وزارت کیلئے اپنے بیٹے دیپک پرکاش کا نام آگے بڑھایا۔ بعد میں جب سمراٹ چودھری وزیرِ اعلیٰ بنے تو انہیں دوبارہ اسی محکمے کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔دو مرتبہ وزیر کے عہدے کا حلف لینے کے باوجود دیپک پرکاش اب تک بہار مقننہ کے کسی بھی ایوان کے رکن نہیں بن سکے ہیں۔
Bihar
میاں بیوی کے تنازع پرپٹنہ ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ
(پی این این)
پٹنہ: پٹنہ ہائی کورٹ نے میاں بیوی کے باہمی تنازع میں گھرے ایک معصوم بچے کی دیکھ بھال سے متعلق اہم عبوری فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے عبوری حکم جاری کرتے ہوئے بچے کے والدین کو ضروری ہدایات دی ہیں۔ہائی کورٹ نے ایسا انتظام کیا ہے کہ نہ تو بچے کو ماں کی شفقت سے محروم ہونا پڑے اور نہ ہی باپ کی رفاقت سے۔ عدالت کے حکم کے مطابق چھ سالہ معصوم بیٹا فی الحال اپنی والدہ کے ساتھ رہے گا، تاہم اس کی روزمرہ کی زندگی اور پرورش میں والد کا کردار بھی برابر برقرار رہے گا۔
یہ معاملہ پٹنہ کا ہے، جہاں میاں بیوی دونوں پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں اور ان کے درمیان ازدواجی تنازع کا مقدمہ فیملی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔اس جوڑے کے دو بیٹے ہیں، جن میں بڑا بیٹا 12 سال جبکہ چھوٹا بیٹا 6 سال کا ہے۔ والدہ نے اپنے چھوٹے بیٹے کی تحویل (کسٹڈی) حاصل کرنے کے لیے پٹنہ ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی تھی۔پٹنہ ہائی کورٹ کے جسٹس راجیو رنجن پرساد اور جسٹس آلوک کمار سنہا پر مشتمل دو رکنی بنچ نے والدہ کی عرضی پر سماعت کی۔ عدالت نے دونوں فریقین، ان کے اہلِ خانہ اور دونوں بچوں سے اپنے چیمبر میں طویل گفتگو کے بعد یہ عبوری انتظام طے کیا۔
پٹنہ ہائی کورٹ نے اپنے عبوری حکم میں کہا ہے کہ چھوٹا بیٹا اپنی والدہ کے ساتھ رہے گا۔ اسکول کے دنوں میں والد ہر صبح بچے کو والدہ کے گھر سے لے کر اسکول چھوڑنے جائیں گے۔ اسکول کی چھٹی کے بعد بھی والد ہی بچے کو واپس لے کر والدہ کے گھر پہنچائیں گے۔عدالت نے مزید ہدایت دی ہے کہ شام کے وقت والد اور دادا دادی کو بچے سے ملاقات کی اجازت ہوگی، اور اس سلسلے میں والدہ کسی بھی قسم کی رکاوٹ پیدا نہیں کریں گی۔
عدالت نے اپنے عبوری حکم میں کہا کہ والد اور والدہ دونوں پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں اور بچے کی مناسب دیکھ بھال کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ فی الحال معصوم بچہ اپنی والدہ کے ساتھ رہے گا، تاہم اسکول کی فیس، تعلیم سے متعلق تمام اخراجات اور آمدورفت (گاڑی) کے خرچ دونوں والدین مشترکہ طور پر برابر برابر برداشت کریں گے۔پٹنہ ہائی کورٹ نے اپنے عبوری حکم میں کہا ہے کہ ہر ہفتے ہفتہ کی صبح 10 بجے سے اتوار کی صبح 10 بجے تک بچہ اپنے والد کے ساتھ رہے گا۔ طویل تعطیلات کے دوران والدہ اور والد دونوں بچے کو برابر برابر مدت تک اپنے پاس رکھ سکیں گے۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ تعطیلات کے دوران والد اپنے بیٹے کو ملک کے کسی بھی حصے کی سیر کے لیے لے جا سکتے ہیں، تاہم اسکول کھلنے سے پہلے بچے کو والدہ کے حوالے کرنا لازمی ہوگا۔ نیز پٹنہ سے باہر لے جانے سے قبل فیملی کورٹ کو پیشگی اطلاع دینا ضروری ہوگا۔پٹنہ ہائی کورٹ نے میاں بیوی دونوں کو ایک دوسرے کے خلاف کوئی نیا فوجداری مقدمہ درج نہ کرانے کی ہدایت بھی دی۔ ساتھ ہی عدالت نے فیملی کورٹ کو حکم دیا کہ وہ اس مقدمے کا فیصلہ چھ ماہ کے اندر مکمل کرے۔
Bihar
سمراٹ حکومت کا ٹرانس جینڈر برادری کے حق میں بڑافیصلہ،سرکاری ملازمتوں میں ہر 500 آسامیوں پر ایک عہدہ خواجہ سراؤں کے لیے محفوظ
(پی این این)
پٹنہ:سمراٹ چودھری حکومت نے بہار میں ٹرانس جینڈر برادری کے لیے ایک بڑا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت ریاستی حکومت کے مختلف محکموں میں ہونے والی بھرتیوں میں ہر 500 آسامیوں میں سے ایک آسامی ٹرانس جینڈر (خواجہ سرا) افراد کے لیے محفوظ رکھی جائے گی۔ ٹرانس جینڈر زمرے کے لیے مختص آسامیوں کی تعداد بھرتی کے اشتہار میں علیحدہ طور پر درج کی جائے گی۔
بہار حکومت نے تمام متعلقہ محکموں اور تقرری کرنے والی امتحانی ایجنسیوں کو اس فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔اس فیصلے کے بعد محکمۂ تعلیم، بہار پولیس، محکمۂ محصولات و اراضی اصلاحات اور محکمۂ صحت سمیت مختلف محکموں میں آئندہ ہونے والی تقرریوں میں خواجہ سرا برادری کے لیے مناسب تعداد میں ملازمتوں کے مواقع دستیاب ہوں گے۔محکمۂ عمومی انتظامیہ نے اس سلسلے میں ریاست کے تمام محکموں کے سیکریٹریوں، محکمہ جاتی سربراہان، ڈویژنل کمشنروں، ضلع مجسٹریٹوں کے علاوہ تقرری کرنے والی ایجنسیوں، یعنی بی پی ایس سی، بی ایس ایس سی، بی پی ایس ایس سی، بی ٹی ایس سی، بی سی ای سی ای اور سی ایس بی سی کو ہدایت نامہ جاری کر دیا ہے۔
یہ فیصلہ پٹنہ ہائی کورٹ کے حکم کی تعمیل میں چیف سیکریٹری کی صدارت میں منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں لیا گیا۔ اجلاس میں محکمۂ عمومی انتظامیہ اور محکمۂ سماجی بہبود کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری، محکمۂ تعلیم کے سیکریٹری، نیز محکمۂ صحت اور محکمۂ داخلہ کے خصوصی سیکریٹری نے اس فیصلے سے اتفاق کیا۔حکومت نے خواجہ سرا، کوتھی اور ٹرانس جینڈر افراد کو تھرڈ جینڈر (تیسری جنس) کے زمرے میں شامل کیا ہے۔امتحانی و تقرری ایجنسیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ مختلف محکموں کی آسامیوں کو ہر 500 عہدوں کے ایک گروپ میں تقسیم کرتے ہوئے ہر گروپ میں ایک عہدہ ٹرانس جینڈر امیدواروں کے لیے مخصوص رکھا جائے۔اگر کسی 500 آسامیوں کے گروپ میں ٹرانس جینڈر امیدوار اپنی عمومی میرٹ پر منتخب نہیں ہو پاتے، تو پسماندہ طبقہ (او بی سی) کے آخری روسٹر پوائنٹ پر ایک ٹرانس جینڈر امیدوار کی تقرری کی جائے گی۔
البتہ اگر کسی گروپ میں اہل ٹرانس جینڈر امیدوار دستیاب نہ ہوں، تو اس مخصوص آسامی کو آئندہ بھرتیوں کے لیے محفوظ (کیری فارورڈ) نہیں رکھا جائے گا، بلکہ اسے پسماندہ طبقہ کے عمومی زمرے کے اہل امیدوار سے پُر کیا جائے گا۔مزید یہ کہ خواجہ سرا (ٹرانس جینڈر) امیدواروں کو زیادہ سے زیادہ عمر کی حد میں درج فہرست ذات (ایس سی) اور درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کے امیدواروں کے مساوی عمر میں رعایت فراہم کی جائے گی۔
بہار پولیس میں سپاہی اور پولیس سب انسپکٹر کے عہدوں پر ٹرانس جینڈر امیدواروں کی تقرری کے لیے بھی یہی ضوابط نافذ ہوں گے۔ بہار پولیس میں ٹرانس جینڈر امیدواروں کے جسمانی پیمانوں اور جسمانی اہلیت (فزیکل ایفیشنسی) کے امتحان کے معیار متعلقہ شعبے کی خواتین امیدواروں کے لیے مقررہ معیار کے مطابق ہوں گے۔
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
دلی این سی آر11 months agoاردو اکادمی دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے میں کثیر تعداد میں اسکولی بچوں نےلیا حصہ
