Connect with us

Bihar

بہار میں عوام کو مہنگائی کا ایک اور جھٹکا،سرکاری بسوں کے بعد پرائیویٹ بسوں کے کرایوں میں بھی 10 سے 15 فیصد اضافہ کا امکان، مال برداری بھی ہوگی مزید مہنگی

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار میں سفر کرنے والے عام مسافروں پر مہنگائی کا ایک اور بڑا بوجھ پڑنے والا ہے۔ ریاست میں سرکاری بسوں کے کرایوں میں اضافے کے بعد اب نجی بسوں کے کرایوں میں بھی 10 سے 15 فیصد تک اضافہ کرنے کی مکمل تیاری کر لی گئی ہے۔بہار موٹر ٹرانسپورٹ فیڈریشن نے پیر کے روز اس سلسلے میں ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔
فیڈریشن کے اس اقدام کے بعد طویل اور مختصر فاصلے کا سفر کرنے والے مسافروں کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ کرایہ ادا کرنا پڑے گا، جس سے ان کے سفری اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوگا۔اس کے ساتھ ہی مال بردار گاڑیوں کے کرایوں میں اضافے کی راہ بھی ہموار ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے ضروریہ اور دیگر سامان کی نقل و حمل مہنگی ہونے کا امکان ہے اور اس کا اثر عام لوگوں پر مزید مہنگائی کی صورت میں پڑ سکتا ہے۔
بہار موٹر ٹرانسپورٹ فیڈریشن کے صدر اُدے شنکر پرساد سنگھ کی صدارت میں کل بیریا بس اسٹینڈ پر ایک اہم ریاستی سطح کی میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں کئی سخت اور اہم فیصلے کیے گئے۔ میٹنگ کے بعد فیڈریشن نے اعلان کیا کہ آئندہ 10 جون تک تمام ضلعی کمیٹیاں اپنی اپنی عاملہ کی میٹنگیں مکمل کر لیں گی۔ ان اجلاسوں میں حکومت کے سابقہ فیصلے کو بنیاد بنا کر فاصلے کے لحاظ سے نجی بسوں کے کرایوں میں اضافے کی حتمی شرح طے کی جائے گی۔
قابلِ ذکرہے کہ بہار اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن (بی ایس آر ٹی سی) کی سرکاری بسوں کے بڑھائے گئے کرایے یکم جون سے ہی پوری ریاست میں نافذ ہو چکے ہیں۔ بہار موٹر ٹرانسپورٹ فیڈریشن نے پٹرول، ڈیزل اور سی این جی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے ریاستی ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی بسوں کے کرایوں میں 15 فیصد تک اضافے کے حکومتی فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔
فیڈریشن کا کہنا ہے کہ حکومت کے اسی فیصلے کے مطابق مال بردار گاڑیوں، آٹو رکشہ، ای- رکشہ اور موٹر کیب یونینوں کی ضلعی کمیٹیوں کو بھی ضروری ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ان تمام کمیٹیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں اجلاس منعقد کر کے کرایوں میں مجوزہ اضافے کے بارے میں تفصیلی رپورٹ تیار کریں اور اسے مرکزی فیڈریشن کے حوالے کریں، تاکہ آئندہ کرایوں میں اضافے کے بارے میں حتمی فیصلہ کیا جا سکے۔
کیرایہ بڑھانے کے ساتھ ہی فیڈریشن نے بہار حکومت کے سامنے ایک اہم مطالبہ بھی رکھا ہے۔ فیڈریشن کے صدر نے مطالبہ کیا ہے کہ جن تجارتی گاڑیوں کا روڈ ٹیکس، فٹنس یا پرمٹ کسی بھی نجی یا دیگر وجوہات کی بنا پر فیل ہو گیا ہے، ان پر عائد تاخیر جرمانہ (لیٹ فائن) مکمل طور پر معاف کر دیا جائے۔فیڈریشن کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے سے غریب گاڑی مالکان اور ڈرائیوروں کو دوبارہ مین اسٹریم میں آنے اور باعزت روزگار حاصل کرنے کا ایک اور سنہری موقع مل سکے گا۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Bihar

نتیش کمار کی پارٹی جے ڈی یو کا نام بدلنے کی تیاری،سنجے جھا نے رہنماؤں سے کی بڑی اپیل،پارٹی کا نام ’جنتا دل نتیش‘ رکھنے کی پیش کی تجویز

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے قومی کارگزار صدر اور راجیہ سبھا کے رکن سنجے جھا نے پارٹی کے رہنماؤں سے پارٹی کا نام تبدیل کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے جے ڈی یو کا نام تبدیل کرکے جنتا دل نتیش رکھنے کی تجویز پیش کی ہے۔کھگڑیا میں منعقدہ نتیش سنواد پروگرام کے دوران اپنی تقریر میں انہوں نے یہ بات کہی۔
انہوں نے کہا کہ بہار کی ترقی اور پارٹی کے فروغ کے لیے انہوں نے پوری طاقت اور خلوص کے ساتھ کام کیا ہے۔ ان کے کام اور خدمات کے اعتراف اور احترام میں پارٹی کا نام ان کے نام پر رکھا جانا چاہیے۔کھگڑیا میں پارٹی کے ریاستی صدر امیش کشواہا سے خطاب کرتے ہوئے سنجے جھا نے کہا کہ اب جے ڈی یو کو جنتا دل نتیش کے نام سے جانا جانا چاہیے۔دراصل سنجے جھا ان دنوں بنگلہ دیش کے ساتھ فرکا پانی معاہدے کو لے کر مختلف اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے نتیش سنواد پروگرام منعقد کر رہے ہیں۔ وہ گنگا ندی کے کنارے واقع 12 اضلاع کا دورہ کر رہے ہیں، جس کا آغاز بکسر سے کیا گیا ہے اور اختتام کٹیہار میں ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ بہار کے ساتھ ناانصافی ہے، کیونکہ ہمیں اپنے حصے کا پانی دوسرے ملک کو دینا پڑتا ہے۔ وہ فرکا پانی معاہدے کی تجدید کے حق میں نہیں ہیں۔اسی سلسلے میں بدھ کے روز سنجے جھا کھگڑیا میں موجود تھے۔
پروگرام کے دوران انہوں نے نتیش کمار کے کاموں کا ذکر کیا۔ سنجے جھا نے یہ اپیل ایسے وقت میں کی ہے جب نتیش کمار کی جائے پیدائش بختیارپور کا نام بدل کر نتیش پور رکھنے کا مطالبہ بھی زور پکڑ رہا ہے۔ بدھ کے روز ہندوستانی عوام مورچہ کے صدر سنتوش کمار سمن نے کہا کہ بختیارپور کا نام تبدیل کرکے نتیش پورم کیا جانا چاہیے۔
سنجے جھا نے کہا کہ جب بھی بہار کی ترقی کی بات ہوتی ہے تو نتیش کمار کا نام سامنے آتا ہے۔ فرکا پانی معاہدے کو آگے نہ بڑھانے کی آواز بھی نتیش کمار نے ہی اٹھائی تھی۔ جمعرات کو جے ڈی یو کے ریاستی دفتر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کے ساتھ پانی کے معاہدے میں بہار کے مفادات کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔جھا نے کہا کہ فرکا بیراج کی وجہ سے بہار میں سیلاب کی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ گنگا میں گاد جمع ہونے کے سبب پانی کے بہاؤ اور ذخیرہ کرنے کی صلاحیت مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں پانی پھیل رہا ہے اور سیلاب کی صورتحال سنگین ہوتی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بہار کے حصے کا تعین کرنے کے بعد ہی بنگلہ دیش کے ساتھ گنگا کے پانی کی تقسیم کا معاہدہ کیا جائے۔ بہار کو سال 2050 تک پانی کی کتنی ضرورت ہوگی، اس کا اندازہ لگاتے ہوئے پانی میں ریاست کی حصہ داری طے کی جانی چاہیے۔
سنجے جھا نے کہا کہ گزشتہ 30 برسوں سے بہار کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بہار گزشتہ 30 برس سے جاری اس ناانصافی کو اب مزید برداشت نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی بھی اس ناانصافی کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔انہوں نے اس معاملے کو لے کر عوام کے درمیان جانے کا بھی اعلان کیا۔

Continue Reading

Bihar

دہلی میں 4 اکتوبر کو ہوگا ’بِہاری سَوامِیمان سمیلن‘ کا دوسرا باب،بیرونِ ریاست مقیم بہاریوں کو ایک پلیٹ فارم پر لاکر بہار کی ترقی پر کیا جائے گا تبادلۂ خیال، وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری کی بھی شرکت متوقع

Published

on

(پی این این)
پٹنہ؍نئی دہلی:ملک کے مختلف حصوں میں مقیم بہاریوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے اور بہار کی ترقی کے لیے اجتماعی طور پر غور و فکر کرنے کے مقصد سے ’بِہاری سَوامِیمان سمیلن‘ کا دوسرا باب 4 اکتوبر کو دہلی میں منعقد کیا جائے گا۔ اس کی اطلاع دینے کے لیے پٹنہ کے ہوٹل پاٹلی پتر ایگزوٹیکا میں ایک پریس کانفرنس منعقد کی گئی، جس میں شبھ سیتا فاؤنڈیشن کی بانی و ڈائریکٹر، سماجی کارکن اور ’بِہاری سَوامِیمان سمیلن‘ کی بانی کارکن منورما جھا نے بتایا کہ یہ پروگرام کیدار ناتھ ساہنی آڈیٹوریم، اجمیری گیٹ، دہلی میں منعقد ہوگا۔
پریس کانفرنس میں بہار کیڈر کے سینئر ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر وجے پرکاش، اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے ریٹائرڈ اسسٹنٹ جنرل منیجر امیش مشرا، ادیب و سماجی کارکن صدف اقبال اور سیاسی تجزیہ کار (Psephologist) رام بندھو وتس موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اس کانفرنس کا پہلا ایڈیشن گزشتہ سال 14 جون کو ممبئی میں منعقد کیا گیا تھا۔
منورما جھا نے بتایا کہ دہلی میں ہونے والے کانفرنس میں بہار کے مختلف شعبوں سے وابستہ اہم شخصیات کو مدعو کیا گیا ہے۔ بہار کے وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری، ڈاکٹر دھرم شیلا گپتا، رکنِ راجیہ سبھا، محترمہ انّ پورنا دیوی، وزیرِ برائے خواتین و اطفال ترقیات، جناب رِتُ راج سنہا، نیشنل سیکریٹری بی جے پی، پرشانت کشور، انیل اگروال، ویدانتا گروپ، سنجے کمار جھا، ایگزیکٹو چیئرمین جے ڈی یو، اداکار پنکج ترپاٹھی، شرییسی سنگھ، متھیلیش تیواری، وزیرِ تعلیم، پروین جھا، پی ایچ آئی ییل گروپ، اداکار شیکھر سمن، سندیپ جھا، سندیپ گروپ آف انسٹی ٹیوٹس، نتیش مشرا، وزیر، پربھات رنجن، وائی ایس پی ایل فیوژن، اکھلیش پرساد سنگھ، رکنِ راجیہ سبھا، نتیا پاٹھک، ادے سنگھ، نیشنل پریسیڈنٹ جن سوراج، ستیش کمار سنگھ، جگدیپ نارائن سنگھ، ریٹائرڈ آئی اے ایس، سیما سنگھ، بزنس وومن، اور اکشرہ سنگھ، اداکارہ، کو پروگرام میں شرکت کے لیے دعوت نامہ بھیجا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بہار سے باہر رہ کر مختلف شعبوں میں کام کرنے والے صنعت کاروں اور دیگر ماہرین کو بھی کانفرنس میں مدعو کیا گیا ہے۔
منورما جھا نے کہا کہ ملک کے مختلف شہروں اور ریاستوں میں رہنے والے بہاریوں کو ایک پلیٹ فارم پر لاکر بہار سے متعلق مسائل پر کھل کر تبادلۂ خیال کرنا اس کانفرنس کا بنیادی مقصد ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بہار کئی چیلنجز سے گزر رہا ہے، اس لیے سیاسی نظریات سے بالاتر ہوکر غیر جانب دارانہ اور بامعنی گفتگو ضروری ہے۔ تبادلۂ خیال کے بعد بہار کی بہتری کے لیے عملی تجاویز اور ایک قابلِ عمل منصوبۂ عمل کی سمت آگے بڑھنے کی کوشش کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ آئندہ اس کانفرنس کو ملک کے مختلف حصوں میں منعقد کرنے کا منصوبہ ہے۔ منتظمین کا ماننا ہے کہ بہار سے دور رہنے والے لوگ بھی ریاست کی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ یہ کانفرنس اسی جذبے کو مضبوط بنانے کی ایک کوشش ہے۔

Continue Reading

Bihar

ضلع مجسٹریٹ ارریہ نے پرائمری ہیلتھ سینٹرکا کیا معائنہ،ڈی ایم ونود دوہن نے فوری طور پر پی ایچ سی کو متبادل عمارت میں چلانے کی دی ہدایت

Published

on

(پی این این)
ارریہ:ضلع مجسٹریٹ ارریہ مسٹر ونود دوہن نے گزشتہ کل پرائمری ہیلتھ سنٹر، کرسا کانٹا کا معائنہ کیا۔ معائنہ کے دوران ضلع مجسٹریٹ نے صحت سینٹر میں دستیاب صحت کی سہولیات، ضروری انتظامات اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کے بارے میں معلومات لی۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے ہیلتھ سینٹر کے مختلف کمروں اور احاطے کا جائزہ لیا اور ڈاکٹروں اور ہیلتھ ورکرز کی موجودگی، مریضوں کے لئے دستیاب سہولیات، ادویات کی دستیابی اور دیگر ضروری انتظامات کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔
انہوں نے متعلقہ حکام کو صحت کی خدمات کو ہموار اور مؤثر طریقے سے برقرار رکھنے کے لئے ضروری ہدایات دیں۔
معائنہ کے دوران ضلع مجسٹریٹ نے پرائمری ہیلتھ سنٹر کی موجودہ عمارت کی حالت اور دستیاب وسائل کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر ایک اور مناسب عمارت کی نشاندہی کرنے اور وہاں سے پرائمری ہیلتھ سنٹر کے کام کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے کہا کہ وہ متبادل عمارت میں ضروری انتظامات مکمل کریں اور صحت کی خدمات کے بلا تعطل( بغیر کسی دیری کے ) آپریشن کو یقینی بنائیں۔ ضلع مجسٹریٹ نے واضح کیا کہ عام لوگوں کو صحت کی بہتر اور قابل رسائی سہولیات فراہم کرنا ضلع انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے۔ تمام ضروری انتظامات کو بروقت یقینی بنایا جائے تاکہ مرکز صحت میں آنے والے مریضوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا کرنا نہ پڑے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network