Connect with us

Bihar

پروفیسر محمد زاہدالحق نے خدا بخش لائبریری کے ڈائرکٹر کاسنبھالاچارج،پہلی بار اردو زبان و ادب کی ماہر شخصیت کو حکومت ہند نے سونپی یہ ذمہ داری

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:پروفیسر محمد زاہدالحق، یونی ورسٹی آف حیدرآباد علمی و ادبی دنیا کی ایک معروف شخصیت اور مشہور اسکالر ہیں۔ انھوں نے تعلیم، ثقافت اور اردو زبان و ادب کے میدان میں قابل ذکر خدمات انجام دی ہیں۔
علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی اور جواہر لال نہرو یونی ورسٹی سے کسب فیض کرتے ہوئے انھوں نے اپنا تدریسی سفر شعبۂ اردو، دہلی یونی ورسٹی سے شروع کیا۔پھر کلکتہ یونی ورسٹی کے شِب پور دینو بندھو کالج سے مختصر سی مدت کے لیے وابستہ ہوئے اور اس کے بعدیونی ورسٹی آف حیدرآبادسے منسلک ہوئے جہاں ترقی کرتے ہوئے پروفیسر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ وہاں آپ نے اردو زبان و ادب اور درس و تدریس کے شعبے میں گوناگوں خدمات انجام دیں۔ اردو ادب کی دنیا میں آپ کی شناخت ایک صاحب طرز شاعر کے علاوہ ناقد و محقق کی بھی ہے۔’’ انعام اللہ خاں یقین: عہد اور شاعری‘‘،’’بساط نقد‘‘ اور ’’اٹھارویں صدی میں اردو غزل کا فکری نظام‘‘ آپ کی نگارشات ہیںجن کی پذیرائی پروفیسر محمد حسن، پروفیسر وہاب اشرفی، پروفیسر غضنفر علی، پروفیسر ارتضیٰ کریم اور پروفیسر صفدر امام قادری جیسے ماہرین ادب نے کی ہے۔آپ کے سو سے زائد تحقیقی مقالے معتبر رسائل و جرائد میں شائع ہو کر داد تحسین حاصل کر چکے ہیں۔ ان کی کثیرالجہات خدمات سے متاثر ہو کر مرکزی وزارت ثقافت نے خدا بخش لائبریری جیسے عالمی شہرت یافتہ ادارے کے ڈائرکٹر کی ذمے داری ان کے سپرد کی ہے۔ آج مورخہ 1؍جون 2026 کو انھوں نے اس عہدے کا چارج لیا۔ خدا بخش لائبریری اپنے نادر مخطوطات اور قدیم مطبوعات کے سبب پوری دنیا میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ مدت سے یہ لائبریری ایک بے لوث اور مخلص دانش ور کی تلاش میں تھی، آج یہ تلاش پوری ہوئی اور پروفیسر محمد زاہدالحق کی شکل میں یہ تلاش مکمل ہوئی۔
مستقل ڈائرکٹر کا چارج لینے کے بعد انھوں نے لائبریری کا معائنہ کیا اور ہر سیکشن کے ذمے داروں سے ان کے کام کی نوعیت کو جانا۔ چوں کہ وہ خود تحقیق، تدریس اور تصنیف و تالیف سے گہراشغف رکھتے ہیں ، لہٰذایہ امید کی جاتی ہے کہ ان کے دور میں لائبریری مزید ترقی کرے گی۔ خدا بخش لائبریری کے سابق انچارج ڈائرکٹر پروفیسر سدھارتھ سنگھ، وائس چانسلر، نو نالندہ مہاوہار نے چارج دیتے وقت موجودہ ڈائرکٹر کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
پروفیسر محمد زاہد الحق کی خدا بخش لائبریری کے سربراہ کی حیثیت سے عظیم آباد تشریف آوری کو ایک نیک فال قرار دیتے ہوئے اردو زبان سے تعلق رکھنے والے اساتذہ، طلبہ اور ماہرین نے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے پروفیسر محمد زاہد الحق کی فعال قیادت میں لائبریری کی ترقیات کی توقع کی ہے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Bihar

دربھنگہ قتل معاملہ: 24 گھنٹے میں پولیس کا بڑا انکشاف، 2 ملزمین گرفتار، غیر قانونی شراب کے کاروبار کا نکلا معاملہ، ایف آئی آر میں 9 افراد نامزد

Published

on

(پی این این)
دربھنگہ: محمد رفیع ساگر /کمتول تھانہ کے رتن پور گاؤں میں نوجوان آدتیہ مادھو بھاردواج عرف سَتیم کا گولی مار کر قتل کیے جانے کے معاملے میں کمتول پولیس نے 2 نامزد ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔ گرفتار ملزمان کی شناخت رتن پور سکھرام پور ٹولہ کے رام ناتھ مہتو اور مدھوبنی ضلع کے بسفی تھانہ علاقہ کے دودھیل گاؤں کے رہنے والے سَتیم جھا کے طور پر ہوئی ہے۔ دونوں کو عدالتی تحویل میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔
صدر-2 کمتول کے ایس ڈی پی او شوبھندر کمار سمن نے جمعرات کو تھانہ احاطے میں منعقدہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس معاملے میں کمتول تھانہ کیس نمبر 218/26 درج کرکے تفتیش کی جارہی ہے۔ تفتیش کے دوران حاصل شواہد کی بنیاد پر دونوں ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ پولیس کے مطابق، پوچھ گچھ کے دوران دونوں نے واردات میں اپنے ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔
پولیس کی ابتدائی تفتیش میں قتل کے پس پشت غیر قانونی شراب کے کاروبار اور رقم کے لین دین سے متعلق تنازع سامنے آیا ہے۔ پولیس نے واردات میں استعمال موٹر سائیکل اور خون آلود شرٹ بھی برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
مقتول کے والد سنجیو کمار ٹھاکر نے ایف آئی آر میں بتایا ہے کہ 18 اگست کی شام رام ناتھ مہتو ان کے گھر آیا اور سَتیم کو کدم چوک جانے کی بات کہہ کر موٹر سائیکل پر اپنے ساتھ لے گیا۔ رات میں فون کرنے پر سَتیم نے بتایا کہ وہ رام ناتھ کے ساتھ ملک پور آیا ہوا ہے۔ تقریباً 9 بج کر 45 منٹ پر گاؤں کے چوکیدار نے فون کرکے اطلاع دی کہ رتن پور-کلواڑہ سڑک پر سَتیم کو گولی مار دی گئی ہے۔ اہل خانہ موقع پر پہنچے تو سَتیم مردہ حالت میں پڑا تھا۔
مقتول کے والد نے ایف آئی آر میں یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ اس سے قبل بھی ان کے بیٹے کا اغوا، جان سے مارنے کی کوشش اور دھمکی دینے کے واقعات پیش آچکے تھے۔ اس معاملے میں مجموعی طور پر 9 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ایس ڈی پی او نے بتایا کہ معاملے میں ملوث دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس کی کارروائی مسلسل جاری ہے۔ پولیس تفتیش کے دوران سامنے آنے والے دیگر حقائق کی بنیاد پر مزید کارروائی کرے گی۔

 

 

Continue Reading

Bihar

ضلع مجسٹریٹ ارریہ نے کسان رجسٹری اور کسانوں سے متعلق اسکیموں اور سرحدی علاقوں میں واچ ٹاور کی تعمیر کالیا جائزہ

Published

on

(پی این این)
ارریہ:ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ارریہ شری ونود دہان کی صدارت میں فارمر رجسٹری، سرحدی علاقوں میں واچ ٹاور کا قیام، کسانوں کو دودھ کی پیداوار کمیٹیوں سے جوڑنے اور مویشی پالنے کے لئے کسانوں کو قرض فراہم کرنے سمیت اہم موضوعات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ تمام بلاک ڈیولپمنٹ افسران ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے میٹنگ سے منسلک تھے۔ اس دوران ضلع مجسٹریٹ نے تمام متعلقہ افسران سے مختلف موضوعات پر جانکاری لی اور ضروری ہدایات دیں۔
کسان رجسٹری کا جائزہ لیتے ہوئے ضلع مجسٹریٹ نے کسان رجسٹری میں نئے کاشتکاروں کو شامل کرنے کے لئےضروری کارروائی کرنے کی ہدایت دی تاکہ وہ محکمہ زراعت کی مختلف اسکیموں اور سرکاری سہولیات سے بآسانی استفادہ کر سکیں۔
میٹنگ میں ضلع مجسٹریٹ نے سرحدی علاقے میں نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے کے مقصد سے مجوزہ واچ ٹاور کے قیام کے لئے ضروری کارروائی کرنے کی ہدایت دی۔ زراعت اور مویشی پالنے سے متعلق مسائل کا جائزہ لیتے ہوئے ضلع مجسٹریٹ نے زیادہ سے زیادہ کسانوں کو دودھ کی پیداوار کمیٹیوں سے جوڑنے اور بینکوں کے ذریعے اہل کسانوں کو مویشی پالنے کیلئے قرض فراہم کرنے کے لئے ضروری کارروائی کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔ میٹنگ میں بارڈر سیکورٹی فورس کے افسران، ایڈیشنل کلکٹر ارریہ، ڈسٹرکٹ ایگریکلچر آفیسر، ڈسٹرکٹ ڈیری ڈیولپمنٹ آفیسر اور دیگر متعلقہ افسران موجود تھے۔

Continue Reading

Bihar

بہار کے طلبہ و طالبات کو وزیر اعلیٰ کا تحفہ،سمراٹ چودھری نے طلبہ کے مسائل کا مقررہ وقت کے اندر حل یقینی بنانے کیلئے کیا پورٹل کاآغاز، ہر ماہ تعاون کیمپ لگانے کا اعلان

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار کے تعلیمی اداروں میں ہر ماہ کے چوتھے منگل کو تعاون کیمپ منعقد کیے جائیں گے، جہاں طلبہ براہِ راست اپنی شکایات، مسائل اور تجاویز پیش کر سکیں گے۔ اس سلسلے کا آغاز 25 اگست سے بہار کے تمام اسکولوں اور طلبہ کے ہاسٹلوں میں ہوگا۔ وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری نے کل جے ڈی ویمنز کالج کے آڈیٹوریم میں منعقدہ ایک پروگرام کے دوران اس کا اعلان کیا۔اس موقع پر وزیرِ اعلیٰ نے ’ودیارتی تعاون پورٹل‘ کا افتتاح کیا۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ طلبہ کے مسائل کا مقررہ وقت کے اندر حل یقینی بنانے کے لیے یہ پورٹل شروع کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد طلبہ و طالبات کے تعلیمی، ہاسٹل سے متعلق اور دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ ان کی تجاویز کا بھی فوری ازالہ کرنا ہے۔ یہ سہولت مکمل طور پر مفت ہوگی اور اس کے ذریعے طلبہ کی شناخت کو خفیہ رکھا جائے گا۔
تعاون کیمپ سے متعلق معلومات کے لیے ہیلپ لائن نمبر 1100 دستیاب ہوگا۔ طلبہ کی شکایات پر 10 دن کے اندر کارروائی شروع نہ ہونے کی صورت میں 11ویں دن وزیرِ اعلیٰ کے دفتر کی جانب سے ازخود نوٹس جاری کیا جائے گا اور زیادہ سے زیادہ 30 دن کے اندر ہر حال میں مسئلے کا حل یقینی بنایا جائے گا۔
وزیرِ اعلیٰ نے پٹنہ کے جے ڈی ویمنز کالج میں موجود طالبات سے بات چیت کی اور تعلیمی سرگرمیوں اور ان کے مسائل کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ بہار میں تعلیمی نظام کو مزید جدید، شفاف، جواب دہ اور طلبہ مرکوز بنانے کی سمت میں مسلسل کام کیا جا رہا ہے۔
سمراٹ چودھری نے 15 اگست کو گاندھی میدان میں پرچم کشائی کے بعد اپنی تقریر میں اس کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے حکومت طلبہ و طالبات سے براہِ راست بات چیت کرے گی۔ ان کی باتیں سننے اور ان کے مسائل کو سمجھنے کے لیے ہر ماہ تعاون کیمپ کا انعقاد کیا جائے گا۔اس کے علاوہ ’ودیارتی تعاون پورٹل‘ قائم کیا جائے گا، جس کے ذریعے طلبہ اپنے مسائل سے حکومت کو آگاہ کر سکیں گے۔ تعاون پورٹل پر درج کی جانے والی شکایات کا ازالہ ایک ماہ کے اندر یقینی بنایا جائے گا۔
وزیرِ اعلیٰ کی اس پہل سے طلبہ و طالبات میں خاصا جوش و خروش پایا جا رہا ہے۔ کئی مرتبہ محکمہ کی سست روی کے باعث میٹرک اور انٹر کے امتحانات میں ہونے والی غلطیوں کی اصلاح کرانے کے لیے طلبہ کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ طالبات نے حکومت کے اس فیصلے کا بھی خیرمقدم کیا ہے، جس کے تحت ان کے اسکول اور کالج کے قریب ’پولیس دیدی‘ تعینات کی جائیں گی۔
وزیرِ اعلیٰ کی ہدایت پر ایسا نظام وضع کیا جا رہا ہے، جس کے تحت خواتین پولیس اہلکار اور افسران سادہ لباس میں حساس مقامات پر نظر رکھیں گے۔ اس کی شروعات رکشا بندھن کے دن سے کی جائے گی۔ تمام اضلاع میں اس سلسلے میں ضروری تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

 

 

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network