بہار
عید الفطر رمضان کی برکتوں کو سنبھالنے اور امت کی ذمہ داریوں کو یاد رکھنے کا وقت:امیرشریعت
(پی این این)
پٹنہ:عید الفطر کی آمد کے موقع پر امیرِ شریعت بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی نے ملک اور دنیا بھر کے مسلمانوں اور تمام اہلِ خیر کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ رمضان کا بابرکت مہینہ دراصل اپنے اندر تقوی، پرہیزگاری، ایمان کی مضبوطی ، صبر و اخوت اور ہمدردی جیسی اعلیٰ صفات پیدا کرنے کا موقع تھا؛ لہذا اس بابرکت مہینہ میں صوم و صلوٰۃ ، اذکار و عبادات، تلاوت،تقوی و پرہیزگاری اور نوافل کی جو عادتیں ہمارے اندر پیدا ہوئی ہیں، انہیں عید کے بعد بھی اپنی زندگی کا حصہ بنائے رکھنا چاہیے۔
آپ نے اپنے پیغام میں یہ بھی کہا کہ صدقہ فطر کا نکالنا بھی ایک اہم دینی فریضہ ہے لہذا عید سے قبل ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ہم صدقۂ فطر ادا کردیں تاکہ ہمارے ضرورت مند بھائی بہن بھی اس خوشی میں برابر کے شریک ہو سکیں۔ انہوں نے تاکید کی کہ مسلمان ایمان، صبر، حکمت اور اتحاد کے ساتھ حالات کا مقابلہ کریں، اپنی صفوں میں ہم آہنگی پیدا کریں اور اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر امت کے اجتماعی مفاد کو ترجیح دیں۔
اس موقع پر انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ عید کے دن نظم و ضبط، امن و امان اور قانون کی پاسداری کا مکمل خیال رکھیں، ہر ایسی سرگرمی سے اجتناب کریں جو دوسروں کے لیے تکلیف یا پریشانی کا سبب بنے، سڑکوں کو بلا وجہ بند نہ کریں، اگر عیدگاہ میں جگہ کم ہو تو اضافی جماعتوں کا اہتمام کریں، اور اپنی خوشیوں میں برادرانِ وطن کو بھی شریک کریں۔انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی، نعرہ بازی یا بدامنی سے دور رہیں اور ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کریں۔ اگر کہیں کوئی مشکوک صورتحال ہو تو فوراً امارت شرعیہ اور پولیس انتظامیہ کو اطلاع دیں۔
انہوں نے خاص طور پر نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ لغویات سے پرہیز کریں ، شریعت کے دائرے میں رہ کر عید کی خوشی منائیں،دینِ اسلام کی تعلیمات سے مضبوطی کے ساتھ وابستہ رہیں، اپنے اخلاق و کردار کو سنواریں اور سوشل میڈیا کا مثبت اور ذمہ دارانہ استعمال کریں، تاکہ وہ خود بھی معاشرے کے لیے مفید ثابت ہوں اور امت کا سرمایہ بن سکیں۔انہوں نے خواتین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ گھروں میں دینی ماحول کو فروغ دیں اور نئی نسل کی اسلامی تربیت کا فریضہ انجام دیں، کیونکہ ایک صالح معاشرے کی بنیاد ایک باکردار اور باشعور خاندان سے ہی مضبوط ہوتی ہے۔
انہوں نے امتِ مسلمہ کو درپیش عالمی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے بالخصوص مظلوم مسلمانوں کے لیے دعا کی اپیل کی اور کہا کہ ہمیں عید کے موقع پر بھی اپنے ان بھائیوں اور بہنوں کو یاد رکھنا چاہیے جو مختلف خطوں میں ظلم و ستم کا شکار ہیں، اور ان کے لیے خصوصیت کے ساتھ دعا اور یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عید کی خوشیوں کے موقع پر صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھا جائے، عیدگاہوں، مساجد اور عوامی مقامات کو صاف ستھرا رکھا جائے اور ماحول کو آلودہ کرنے والی سرگرمیوں سے گریز کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں چاہیے کہ اس عید کو سادگی، شکرگزاری اور باہمی محبت کے ساتھ منائیں اور اپنے معاشرے میں خیر و بھلائی کو فروغ دینے کا عزم کریں۔آخر میں انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس عید کو امتِ مسلمہ کے لیے خیر و برکت، اتحاد و اتفاق اور امن و سلامتی کا ذریعہ بنائے، اور پوری انسانیت کو حقیقی خوشیوں سے نوازے۔
Bihar
ذات دیکھ کر انکاؤنٹر کرا رہے ہیں سمراٹ چودھری، تیجسوی یادو کا بہار حکومت پرالزام،عصمت دری کے مجرموں کا کب ہوگاانکاؤنٹر؟وزیراعلیٰ سے آرجے ڈی لیڈر کا سوال
(پی این این)
پٹنہ:بہار اسمبلی میں حزبِ اختلاف کے لیڈر اور آر جے ڈی کے سربراہ تیجسوی یادو نے الزام عائد کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری ذات پات کی بنیاد پر انکاؤنٹر کرا رہے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سے سوال کیا کہ خواتین کے ساتھ عصمت دری کرنے والے درندہ صفت مجرموں کا انکاؤنٹر آخر کب ہوگا؟راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے کارگزار صدر تیجسوی یادو نے کہا کہ سمراٹ چودھری کی قیادت میں این ڈی اے کی نئی حکومت بننے کے بعد بہار میں جرائم میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ روزانہ خواتین اور بچیوں کے ساتھ عصمت دری اور قتل کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران پیش آنے والے متعدد واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
تیجسوی یادو نے منگل کو پٹنہ واقع آر جے ڈی دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بہار میں خواتین کی سلامتی پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ سمراٹ چودھری کی حکومت بنے ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے اور محکمۂ داخلہ خود وزیر اعلیٰ کے پاس ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ حکومت خواتین کو بااختیار بنانے کے بڑے دعوے کرتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ سمراٹ حکومت کے دور میں خواتین کے خلاف جرائم میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ مجرم خواتین پر قہر بن کر ٹوٹ رہے ہیں اور سمراٹ حکومت پوری طرح ناکام ثابت ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرائم کے اعداد و شمار انتہائی تشویشناک ہیں اور شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہو جب ماؤں، بہنوں اور بچیوں کے خلاف جرم کا کوئی واقعہ سامنے نہ آتا ہو۔تیجسوی یادو نے کہا کہ اجتماعی عصمت دری اور ریپ کے معاملات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ آر جے ڈی لیڈر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ حکومت میں شامل کئی وزراء ایسے ہیں جن کے خلاف فوجداری مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔
تیجسوی یادو نے سمراٹ چودھری کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لینے کے بعد ایک ماہ کے دوران، یعنی 15 اپریل سے 15 مئی کے درمیان، بہار کے مختلف اضلاع میں خواتین اور بچیوں کے ساتھ پیش آئے عصمت دری، اغوا اور قتل کے واقعات کا ذکر کیا۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاست میں قانون و انتظام کی صورتحال پوری طرح تباہ ہو چکی ہے۔ تیجسوی نے کہا کہ انہوں نے صرف خواتین کے خلاف پیش آنے والے جرائم کا ہی تذکرہ کیا ہے، جبکہ اس کے علاوہ بھی قتل، لوٹ مار اور اغوا کی متعدد وارداتیں ہو چکی ہیں۔
قائدِ حزبِ اختلاف نے الزام عائد کیا کہ بہار میں ذات پات دیکھ کر انکاؤنٹر کیے جا رہے ہیں۔ تیجسوی یادو نے وزیر اعلیٰ سے سوال کرتے ہوئے کہا،“کیا سمراٹ چودھری مخصوص ذات کو دیکھ کر انکاؤنٹر کرا رہے ہیں؟ جن واقعات کا ہم نے ذکر کیا ہے، ان کے مجرموں کا انکاؤنٹر کب ہوگا؟ بالیکا گرہ کانڈ کے ملزم جنہیں یہ لوگ اپنا رہنما بنائے ہوئے ہیں، ان کا انکاؤنٹر کب کیا جائے گا؟ آپ دُشکرم کرنے والوں کی ذات بھی دیکھیے اور جن کے ساتھ ظلم ہوا اُن کی ذات بھی دیکھیے۔ آخر خواتین کو انصاف کب ملے گا؟”
تیجسوی یادو نے کہا کہ بہار کی 65 فیصد خواتین خون کی کمی کا شکار ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ’’جیویکا دیدی‘‘ کو رسوئی گیس سلنڈر ملنا بند ہو گیا ہے اور خواتین کو مناسب غذائیت بھی فراہم نہیں کی جا رہی۔انہوں نے کہا کہ این ڈی اے حکومت نے بہار اسمبلی انتخابات سے قبل دو کروڑ خواتین کو 10-10 ہزار روپے دینے کا وعدہ کیا تھا۔ تیجسوی نے سوال اٹھایا کہ آخر اس اسکیم کی دوسری قسط کب جاری کی جائے گی؟
آر جے ڈی لیڈر نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ بہار میں این ڈی اے حکومت بنے چھ ماہ گزر چکے ہیں، لیکن مرکزی حکومت کی جانب سے ریاست کو کوئی خاطر خواہ تعاون نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ بہار حکومت 71 ہزار کروڑ روپے کا قرض لینے کی تیاری کر رہی ہے۔تیجسوی یادو نے طنزیہ انداز میں کہا کہ موجودہ حکومت صرف ریل بنانے اور فوٹو شوٹ کرانے میں مصروف ہے۔
Bihar
تمام سرکاری ملازمین ایمانداری سے کریں کام،نائب وزیراعلیٰ وجے کمار چودھری نومنتخب افسران کو لگن اور پختہ عزم کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں اداکرنے کی دیں ہدایات
(پی این این)
پٹنہ:بہار حکومت کے نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر وسائل آب وجے کمار چودھری نے کہا کہ محکمہ وسائل آب کسانوں اور عام لوگوں سے براہ راست جڑا ہوا محکمہ ہے، اس لیے تمام نومنتخب ملازمین کو پوری ایمانداری، لگن اور عزم کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو نبھانا چاہیے۔
نائب وزیراعلیٰ مسٹر چودھری نے آج سنچائی بھون میں واقع محکمہ وسائل آب کے آڈیٹوریم میں منعقدہ تقریب میں 15 امیدواروں کو تقرری خطوط سونپے۔ ان میں چھ نومنتخب اسسٹنٹ انجینئر، ہمدردی کی بنیاد پر چھ لوئر ڈویژن کلرک (ایل ڈی سی) اور تین آفس اٹینڈنٹ شامل ہیں۔
مسٹر چودھری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تمام نومنتخب ملازمین کو مبارکباد دی اور کہا کہ اب وہ محکمہ وسائل آب کے خاندان کا اٹوٹ حصہ بن گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ بنیادی طور پر دیہی علاقوں میں کام کرتا ہے اور کسانوں اور عام لوگوں کو آبپاشی اور سیلاب سے تحفظ جیسی اہم خدمات فراہم کرتا ہے۔ ایسے میں تمام ملازمین کو پوری ایمانداری، لگن اور عزم کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھانی چاہئیں۔
نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ علاقے میں کام کرنے والے افسران اور ملازمین کی سرگرمی اور کارکردگی سے ہی محکمے کا امیج مضبوط ہوتا ہے۔ انہوں نے نومنتخب اسسٹنٹ انجینئروں سے باقاعدگی سے جائے وقوع کا معائنہ کرنے اور منصوبوں کے مؤثر نفاذ میں سرگرم رول ادا کرنے کی اپیل کی۔
Bihar
سیتامڑھی:ضلع سطحی تقریری مقابلہ آج، طلبہ و طالبات کریں گے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ
(پی این این)
سیتامڑھی:ضلع اردو زبان سیل سیتامڑھی کے زیرِ اہتمام اردو بولنے والے طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی کے لیے ریاستی منصوبہ 2025-26 کے تحت آج 21 مئی 2026 بروز جمعرات ضلع سطحی تقریر و مباحثہ مقابلے کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ یہ پروگرام کلکٹریٹ سیتامڑھی کے پریچرچا بھون میں صبح 10:30 بجے سے شروع ہوگا۔
ضلع اردو زبان سیل کے انچارج شفی احمد نے بتایا کہ پروگرام کا افتتاح ضلع مجسٹریٹ سیتامڑھی کریں گے۔ اس موقع پر ڈپٹی ڈیولپمنٹ کمشنر، ایڈیشنل کلکٹر، ڈیزاسٹر مینجمنٹ افسر، ضلع رابطہ عامہ افسر سمیت کئی اعلیٰ انتظامی اور سماجی شخصیات موجود رہیں گی۔ پروگرام کی صدارت کملا بالیکا ہائر سیکنڈری اسکول سیتامڑھی کے پرنسپل ڈاکٹر محمد قمرالہدیٰ کریں گے۔
پروگرام کا آغاز ابتدائی خطاب اور نظامت سے ہوگا، جس کے بعد مہمانوں کا استقبال، شمع روشن کرنے کی تقریب، استقبالیہ نغمہ، تعارفی خطاب اور غزل پیش کی جائے گی۔ اس کے بعد مختلف زمروں میں طلبہ و طالبات کے درمیان تقریری مقابلے منعقد ہوں گے۔ میٹرک اور اس کے مساوی درجے کے طلبہ کیلئے “تعلیم کی اہمیت” اور “کتابیں ہماری بہترین دوست ہیں” جیسے موضوعات مقرر کیے گئے ہیں۔ انٹرمیڈیٹ سطح کے لیے “خواتین کی تعلیم اور خودمختاری” اور “آزادی کی جدوجہد میں اردو صحافت کا کردار” جبکہ گریجویشن سطح کے لیے “اردو ادب میں خواتین کا حصہ” اور “اردو اور ہندی کا دوستانہ رشتہ” جیسے اہم موضوعات شامل کیے گئے ہیں۔
مقابلے میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ و طالبات کو میڈل اور تعریفی اسناد دے کر اعزاز سے نوازا جائے گا۔ پروگرام شام 5 بجے شکریہ کے کلمات کے ساتھ اختتام پذیر ہوگا۔ ضلع اردو زبان سیل نے ضلع بھر کے اردو بولنے والے طلبہ و طالبات سے زیادہ سے زیادہ تعداد میں شرکت کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ وہ اپنی ادبی اور لسانی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کر سکیں۔ یہ پروگرام نہ صرف طلبہ کی تقریری اور فکری صلاحیتوں کو فروغ دے گا بلکہ اردو زبان و ادب کے تئیں نئی نسل میں دلچسپی اور بیداری پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
بہار6 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار12 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
دلی این سی آر9 months agoاردو اکادمی دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے میں کثیر تعداد میں اسکولی بچوں نےلیا حصہ
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
