Connect with us

uttar pradesh

دارالعلوم دیوبند کا علاقہ چھاؤنی میں تبدیل، ہر طرف پولیس تعینات،سٹی مجسٹریٹ کے حکم کو برقرار رکھنے کے بعد انتظامیہ نے کی مسجد کو منہدم کرنے کی کارروائی

Published

on

(پی این این)
دیوبند: انتظامیہ کی جانب سے سہارنپور کلکٹریٹ کمپلیکس میں واقع مسجد کو بلڈوز کرنے کے بعد ضلع دن بھر ہائی الرٹ پر رہا۔ مذہبی شہر دیوبند میں خاص طور پر دارالعلوم کا علاقہ چھاؤنی میں تبدیل ہو گیا۔ دن بھر بحث و مباحثہ جاری رہا، ہر کونے پر پولیس تعینات تھی۔
ہفتہ کی صبح ڈسٹرکٹ جج نے سٹی مجسٹریٹ کے حکم کو برقرار رکھنے کے بعد انتظامیہ نے مسجد کو منہدم کرنے کی کارروائی کی۔ اس کے ساتھ مسجد کیس میں عائد 6 کروڑ 42 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی برقرار رکھا گیا ہے۔ جس کے بعد انتظامیہ اور پولیس نے پورے ضلع میں حفاظتی انتظامات سخت کر دیئے۔ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ جیسی صورتحال تھی۔
مذہبی شہر دیوبند میں سیکورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کر دیا گیا اور خاص طور پر دارالعلوم علاقہ سمیت شہر کے حساس علاقوں میں پولیس کی تعیناتی بڑھا دی گئی۔ اہم سڑکوں، چوراہوں اور حساس مقامات پر پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ مسلم رہنماؤں کو گھروں میں نظر بند کر دیا گیا۔ جس کی وجہ سے دن بھر بحث و مباحثہ کا بازار گرم رہا۔
دیوبندکے سابق ایم ایل اے معاویہ علی کو گھر میں نظر بند کرنے کے لیے مقامی اہلکار پولیس کے ساتھ ہفتہ کی صبح تقریباً 5 بجے محلہ دیوان میں واقع ان کی رہائش گاہ پر پہنچے اور گھر کو اطراف سے گھیر لیا۔ گھر کے اندر موجود خواتین نے جب انہیں بتایا کہ معاویہ علی گھر پر نہیں ہیں تو پولیس نے ان کے گھر کے باہر ڈیرے ڈال لیے۔ سابق ایم ایل اے کے گھر کے باہر پولیس دن بھر تعینات رہی۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

uttar pradesh

طلبہ یونین سے اے ایم یو کورٹ تک کے انتخابات کا مطالبہ، اموٹا کا دھرنا

Published

on

(پی این این)
علی گڑھ:ملک بھر میں یومِ اساتذہ منائے جانے کے دوران علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ٹیچرس ایسوسی ایشن (اموٹا) نے یونیورسٹی میں مختلف جمہوری اداروں کے انتخابات کرانے اور اساتذہ کے دیگر مطالبات کو لے کر ایک روزہ دھرنا دیا۔ اساتذہ نے یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ایگزیکٹو کونسل، اکیڈمک کونسل، اے ایم یو کورٹ اور طلبہ یونین کے انتخابات جلد از جلد کرائے جائیں۔
اموٹا کی جانب سے اسٹاف کلب میں منعقد ایک روزہ دھرنے میں اساتذہ نے یونیورسٹی کے اندر جمہوری عمل کی بحالی پر زور دیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ طویل عرصے سے مختلف جمہوری اداروں کے انتخابات نہ ہونے کی وجہ سے اساتذہ اور طلبہ کی جمہوری شمولیت متاثر ہو رہی ہے۔اموٹا کے صدر پروفیسر طفیل احمد نے کہا کہ یونیورسٹی میں جمہوری عمل کو مضبوط کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کا انعقاد یونیورسٹی کے مختلف طبقات کو نمائندگی فراہم کرنے اور ادارہ جاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے۔
اموٹا کے سکریٹری ڈاکٹر اشرف متین نے کہا کہ ان کی تمام مانگیں قانون کے دائرے میں ہیں اور وہ کسی غیر قانونی مطالبے کے لیے دھرنا نہیں دے رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ یونیورسٹی میں جمہوری عمل کمزور ہو رہا ہے اور مختلف اداروں کے انتخابات مسلسل ملتوی کیے جا رہے ہیں۔
اساتذہ نے کہا کہ یونیورسٹی میں ایگزیکٹو کونسل، اکیڈمک کونسل اور کورٹ جیسے اہم اداروں کے انتخابات طویل عرصے سے زیر التوا ہیں۔ ان کے مطابق اے ایم یو میں طلبہ یونین کے انتخابات بھی 2018 سے نہیں ہوئے ہیں۔ اسی طرح اکیڈمک کونسل کے انتخابات 2020 سے اور اے ایم یو کورٹ کے انتخابات بھی 2018 سے زیر التوا ہیں، جبکہ کورٹ کی متعدد نشستیں خالی ہیں۔مظاہرین نے کہا کہ جمہوری اداروں کو فعال کیے بغیر یونیورسٹی کے مسائل کا مؤثر حل ممکن نہیں ہے۔
انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ اساتذہ اور طلبہ کی جائز آواز کو سنا جائے اور تمام زیر التوا انتخابات کا جلد اعلان کیا جائے۔اموٹا کے جوائنٹ سکریٹری ڈاکٹر جمیل احمد نے کہا کہ اگر انتظامیہ نے ان کی بات سنی ہوتی تو آج دھرنا دینے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ اساتذہ اور دیگر متعلقہ مسائل کا جلد از جلد حل نکالا جائے۔
دھرنے میں سابق ایگزیکٹو کونسل رکن پروفیسر شمیم احمد، پروفیسر معین الدین، پروفیسر عبید صدیقی، مصور علی اور مراد خان سمیت کئی سینئر اساتذہ موجود رہے۔
اس کے علاوہ سابق اموٹا سکریٹری پروفیسر آفتاب عالم، ڈاکٹر نسیم احمد، ڈاکٹر عسکر حسین، ڈاکٹر محمد طارق، ڈاکٹر عشات محمد خان، ڈاکٹر افتخار احمد، ڈاکٹر دیوان اسرار خان، ڈاکٹر محمد ارشد باری، ڈاکٹر عابد ہادی، ڈاکٹر عبدالرحمن، ڈاکٹر صبیحہ تبسم، ڈاکٹر مدثر علی شاہ، ڈاکٹر طارق عثمانی، ڈاکٹر نفیس احمد، ڈاکٹر محمد شارق، ڈاکٹر شفیق اللہ، ڈاکٹر اسلم خان، ڈاکٹر محمد عاصم اور ڈاکٹر بلال تفسیر سمیت دیگر اساتذہ بھی دھرنے میں شریک ہوئے۔
دھرنے میں شریک اساتذہ نے کہا کہ اگر یونیورسٹی انتظامیہ نے جلد ہی ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا تو اموٹا دوبارہ اجلاس منعقد کرکے آئندہ کی حکمت عملی طے کرے گی۔ واضح رہے کہ ایک روز قبل بھی اے ایم یو کے طلبہ نے یونین ہال میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے طلبہ یونین کے انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔ نئے تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ ہی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طلبہ یونین کے علاوہ ایگزیکٹو کونسل، اکیڈمک کونسل اور کورٹ کے انتخابات کرانے کا مطالبہ ایک بار پھر زور پکڑنے لگا ہے۔

 

 

Continue Reading

uttar pradesh

پبلک گرلز انٹر کالج میں یوم اساتذہ پر شاندار پروگرام منعقد ,’طالب علموں کی شخصیت سازی اور کامیابیوں میں اساتذہ ادا کرتے ہیںاہم کردار‘

Published

on

(پی این این)
دیوبند:دیوبند کے قدیم عصری تعلیم کے ادارہ پبلک گرلز انٹر کالج میں یوم اساتذہ کے موقع پر ایک شاندار پروگرام کا انعقاد کیا گیا ۔اس پروگرام میں کالج کی طالبات نے نہایت جوش وخروش کے ساتھ شرکت کی اوراپنی ٹیچرز کے تئیں عزت واحترام پیش کیا ۔طالبات نے نغمات ،گیتوں نظموں ،غزلوں تقاریر اور دیگر دلچسپ پروگرام پیش کرکے اساتذہ کی خدمت اور ان کی محنت وجدوجہد کی تعریف کی ۔
عیدگاہ روڑ پر واقع انٹر کالج کے احاطہ میں منعقد ہ پروگرام میں طالبات نے ترانہ کے ساتھ کیا ۔بعدازاں رحمت ،زویا ،لائبہ ،سائرہ اور نبیہ نے مختلف دلکش پروگرام پیش کئے ۔پروگرام کے دوران طالبات نے اپنی ٹیچرز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی رہنمائی اورتعلیمی خدمات کے لئے شکریہ ادا کیا ۔اس موقع پر کالج پرنسپل صباء حسیب صدیقی نے طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سماج میں ٹیچرز کی بڑی اہمیت اور وقار وعظمت ہے طالب علموں کی شخصیت سازی اور ان کی کامیابیوں میں اساتذہ کا بنیادی کردار ہوتا ہے ،انہوں نے کہا کہ استاذ محض اپنے شاگردوں کو تعلیم ہی سے آراستہ نہیں کرتا بلکہ طالب علموں کو صحیح رہنمائی کے لئے بھی اہم کردار ادا کرتا ہے ۔
انہوں نے طالبات کو شاندار پروگرام پیش کرنے پر مبارکباد دی اور اپنی زندگی میں بہترین کامیابی حاصل کرنے کے لئے ٹپس بھی بتائے ۔کالج کی ایجوکیشن انچارج شبانہ صفوان نے بھی طالبات سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کے کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی ۔انہوں نے طالبات سے کہا کہ وہ اپنی ٹیچرز کے عزت واحترام کا ہمیشہ خیال رکھیں ۔اس کے علاوہ انہوں نے یوم اساتذہ کی تاریخ اور اہمیت بھی بیان کی ۔
علاوہ ازیں شبانہ ذکی ،شاکرہ ،روبینہ شہزاد ،روبی ،عرشی ،فیبینا ،ندا ،شاہانہ ،زیبا ناز اور شاہین نے بھی طالبات سے خطاب کیا اور طالبات کو اچھے اخلاق اپنانے کا مشورہ دیا ۔پروگرام کی نظامت زیبا ناہید نے کیا ۔اس دوران ادارہ کی طالبات اور اسٹاف موجود رہا ۔

 

Continue Reading

uttar pradesh

ہاشمی کالج آف لاء، امروہہ میں طلبہ کے لیے الوداعی تقریب کا اہتمام، طلبہ و طالبات نے اپنی رنگا رنگ ثقافتی اور ادبی پرکارکردگی سے جیت لئے عوام کے دل

Published

on

(پی این این)
امروہہ:حکیم مہتاب الدین ہاشمی کالج آف لاء، امروہہ میں ایل ایل بی اور بی اے ایل ایل بی کے آخری سال کے طلبہ کے لیے ایک الوداعی پارٹی کا اہتمام کیا گیا۔ طلباء نے اپنی رنگا رنگ ثقافتی اور ادبی پرفارمنس سے سب کے دل موہ لیے۔ الوداعی تقریب نے جہاں اپنے ہم جماعتوں اور اساتذہ سے جذباتی جدائی کا اظہار کیا، وہیں ان کے چہروں سے مستقبل میں نئی راہوں پر آگے بڑھنےکا جوش بھی جھلک رہا تھا۔
تقریب کے مہمان خصوصی کپل کمار چکارا ایڈوکیٹ صدر بار ایسوسی ایشن امروہہ تھے جبکہ ارشد بھارتی ایڈوکیٹ سیکرٹری بار ایسوسی ایشن امروہہ نے بطور مہمان زی وقار شرکت کی۔ سراج الدین ہاشمی، منیجر، ہاشمی لاء کالج، امروہہ، اور برہان الدین ہاشمی، منیجنگ ڈائریکٹر، ہاشمی لاء کالج، امروہہ بھی موجود تھے طالب علم معصوم سیفی نے خوبصورت نظم پیش کی جبکہ لوینہ نے شاعری کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ زویا کی غزل کو بھی سامعین نے خوب پسند کیا اور ان کی شاندار پرفارمنس نے پروگرام کی رونق میں اضافہ کیا۔ طلباء کی پرفارمنس کو آڈیٹوریم میں موجود اساتذہ، مہمانوں اور ساتھی طلباء نے خوب سراہا۔
الوداعی تقریب میں طلبہ نے ’’یادوں کے دریچے سے‘‘ کے موضوع پر جذباتی تقریر کی۔ اس نے اپنے کالج کے سالوں کی یادیں، اپنے اساتذہ کی رہنمائی، اور اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ گزارے لمحات شیئر کیے۔ اس کی جذباتی کارکردگی نے ایک گہرا جذباتی ماحول لایا، اور بہت سے طلباء اپنے کالج کے دنوں کی یادوں میں ڈوبے ہوئے تھے۔
پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے مہمان ذی وقارارشد بھارتی ایڈوکیٹ سکریٹری،ضلع بار ایسوسی ایشن، امروہہ نے آخری سال کے طلباء کے روشن مستقبل کی خواہش کی۔ انہوں نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ مسلسل محنت، لگن اور ایمانداری کے ساتھ اپنے کیریئر کو آگے بڑھائیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون کا شعبہ ذمہ داری اورسماجی خدمت سےوابستہ ہےاس لیے طلباء اپنے علم اور ہنر کو معاشرے اور نظام عدل کو مضبوط بنانےکےلیےاستعمال کریں۔
مہمان خصوصی کپل کمار چکارا ایڈوکیٹ صدر ضلع بار ایسوسی ایشن امروہہ نے بھی طلباء سے خطاب کیا اور ان کے روشن مستقبل کی خواہش کی۔ انہوں نے کہا کہ قانون کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد طلباء کے پاس بہت سے مواقع ہوتے ہیں لیکن کامیابی کے لیے مسلسل مطالعہ،محنت، نظم و ضبط اور اپنےمقاصدکےلیےلگن کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نےطلباء کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں ایمانداری اور محنت کو ترجیح دیں۔
ہاشمی لاء کالج امروہہ کے منیجر ڈاکٹر سراج الدین ہاشمی نے پروگرام کے کامیاب انعقاد پر تمام مہمانوں، اساتذہ اور طلباء کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے خصوصی طور پر مہمان خصوصی کپل کمار چکارا ایڈوکیٹ اور مہمان ذی وقار ارشد بھارتی ایڈوکیٹ کا شکریہ ادا کیا اور طلباء کے مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ کالج کے لیے فخر کی بات ہے کہ یہاں پر تعلیم حاصل کرنے والے طلباء قانون کے میدان میں بہترین کارکردگی دکھانے کی تیاری کر رہے ہیں مجھےامید ہےکہ یہ طلبا ہمیشہ حق اورانصاف کےلیےکوشاں رہکرہمیں بھی سرخرو کریں گیں انہوں نےطلباء کواس بات کی ترغیب دی کہ وہ اپنےاساتذہ سےسیکھےگئےعلم اوراقدارکواپنائیں اوراپنےادارےکی شان میں اضافہ کریں۔
الوداعی پارٹی کے دوران آخری سال کے طلباء نے اپنے تجربات اور کالج میں اپنے وقت کی یادیں شیئر کیں۔ بہت سے طلباء نے کہا کہ کالج میں ان کا وقت ان کی زندگی کا ایک اہم حصہ رہے گا۔ ان کے اساتذہ کی رہنمائی، دوستوں کے ساتھ گزارے گئے لمحات اور مختلف علمی و ثقافتی سرگرمیوں کی یادیں ہمیشہ ان کےساتھ رہیں گی۔تقریب میں طلباء کی پیشکش اور جذباتی تقاریرنےواضح کیا کہ یہ تقریب محض الوداعی نہیں بلکہ طلباء کے لیے ایک نئی زندگی اور پیشہ ورانہ سفر کے آغاز کی علامت بھی ہے۔کالج کی فیکلٹی اور سٹاف نے تقریب کے انعقاد میں نمایاں کردار ادا کیا۔ برہان چڈھا اور نبیہہ نے تقریب کی نظامت کی۔ دانش، زید، واریشہ، ہرشیتا، بلوا اور منتاشا نے بھی ایونٹ کی کامیابی میں اہم کردارادا کیا۔ کالج کے استاد شہزاد صدیقی نے اس پورے پروگرام کےلیےسرپرست کے طور پر خدمات انجام دیں اوراس کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا برہان الدین ہاشمی، منیجنگ ڈائریکٹر،ہاشمی لاء کالج، امروہہ نے سبھی کا شکریہ ادا کیا اس موقع پرکالج کی پرنسپل ڈاکٹررانا پروین،اساتذہ ڈاکٹرمحمد طارق، محمد افتخار علی، ڈاکٹر محمد ہارون، فرحت منصوری اورڈاکٹرمحمد طارق خان سمیت کالج کےدیگراساتذہ اورعملہ موجود رہا ۔

 

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network