محاسبہ
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا
آرایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے دنیا بھر میں مخالفت اور مظاہروں کے باوجود اپنا بیرونی دورہ منسوخ نہیں کیا۔ جبکہ نیویارک ، لندن ، کینڈا وغیرہ میں ان کی آمدکے خلاف مظاہروں کا سلسلہ دراز تھا ،خاص کر نیویارک میں تو کئی دنوں تک آر ایس ایس کی نفرت انگیز پالیسی خاص کر ہندوستان کے اقلیتوں پر بھگوا سیاست کے مظالم کے خلاف مظاہرہ ہوتے رہے، بھاگوت کو کھلے عام انسانیت کا دشمن قرار دیا گیا۔ ان کی آمد پر روک لگانے کے لئے میئر ہمدانی سے بھی اپیل کی گئی۔ لیکن امریکہ ایک عظیم جمہوری ملک ہے جہاں آزادی رائے کا اظہار سب پر مقدم ہے۔ میئر ممدانی نے آر ایس ایس کی مسلم دشمنی اور فسطائی فکر کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ میں ان کے خطاب کو روکنے سے قاصر ہوں لیکن اگر خطاب میں کوئی نفرت انگیز خیالات کا مظاہرہ کیا گیا تو یقینا ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ یہ بات درست ہے کہ نیویارک کے میئر زہران ممدانی آر ایس ایس چیف بھاگوت کا بھاشن نہیں روک پائے لیکن ممدانی کی وجہ سے بھاگوت کو ایک ڈیموکریٹک، سیکولر اور ایک توازن آمیز خطاب کرنا پڑا۔ لیکن یہ بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ ان کا یہ سیکولر بھاشن محض ایک مکھوٹا ہے۔ اصل آر ایس ایس وہ ہے جو ہندوستان کے مختلف شہروں میں اپنی شاخائوں اور شیو مندروں ، اسکولوں کے ذریعہ نفرت کی تجارت کرتا ہے۔
بھاگوت بھی امریکہ میں شدید عوامی مخالفت کی نبض پکڑ چکے تھے چنانچہ انھوں نے ایسی پلٹی ماری کہ اس سے نہ صرف امریکہ میں ان کے مخالفین بھی حیران رہ گئے۔ بلکہ ہندوستان کے بی جے پی اور آر ایس ایس خیمے میں بھی ہلچل مچ گئی،بی جے پی ، آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیمیں دن رات مسلمانوں سے نفرت کے تانے بانے میں لگی رہتی ہیں۔ بی جے پی اقتدار والی ریاستوں میںمسلم دشمنی کا کھلا منظرنامہ ہے۔ کب کوئی مدرسہ ، درگاہ ، رہائشی مکان بلڈوز کردیا جائے کب کسی کو این ایس اے میں بند کردیا جائے ، یکساں سول کوڈ نافذ کردیا جائے ، یہ دلسوز منظرنامہ بیرون ملک میں بھی لوگ دیکھ رہے ہیں۔ اور ہندوستان کی جمہوریت سیکولرازم کا بھگوا سیاست کے ہاتھوں سبوتاز ہوتا بھی دیکھ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لندن ، نیویارک ، کینڈا وغیرہ میں مسلسل بھگوا فاشزم کے خلاف مظاہرے ہوتے رہے ہیں۔ مگر موہن بھاگوت نے جس طرح خود کو گنگا جمنی تہذیب کا علمبردار ثابت کرتے ہوئے ہندوتوا کا اصلی چہرہ دکھایا کیا اسے ہندوستان کا آر ایس ایس، بی جے پی تسلیم کرسکے گا۔ المیہ تو یہ ہے کہ بیرون ملک میں وزیر اعظم مودی مسلم سربراہوں کو گلے لگاتے ہیں اور ہندوستانی مسلمانوں کو لباس سے پہچاننے کی بات کرتے ہیں۔ آر ایس ایس ہندوستان میں مسلم دشمنی کا کھلا مظاہرہ کرنے والوں کی سرپرستی کرتی ہے اور بیرون ملک میں اس سے بڑا کوئی مسلمانوں کا ہمدرد نہیں ہے اس کا مکھوٹا پیش کرتی ہے۔
غورطلب ہے کہ نیویارک میں ’دنیا ایک انسانیت کانفرنس‘ کا انعقاد کیا گیا تھا۔ جس میں 51سے زائد ممالک کے مذہبی قائد جمع ہوئے تھے۔ جہاں بھاگوت نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگر کوئی ہندو سوچتا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو نہیں ہونا چاہئے تو وہ ہندو ہی نہیں ہے۔ تنوع میں اتحاد ہندوستان کے ڈی این اے میں شامل ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہندوتوا کی پہلی شرط ہی یہ ماننا ہے کہ تمام راستے ایک ہی خدا تک جاتے ہیں۔ انسانوں میں کوئی تفریق نہیں۔ یہی انسانیت ہے۔
غورطلب ہے کہ بھاگوت تین ملکوں امریکہ، کینڈا اور برطانیہ کے گلوبل آئوٹ رینج کے دورے پر ہیں۔ آر ایس ایس یہ پروگرام اپنے صد سالہ جشن کے تحت غیر ملکی تنظیموں کے زیر اہتمام منعقد کررہا ہے۔ بھاگوت کے نیویارک خطاب کی کئی ملی ومذہبی تنظیموں نے ستائش کی ہے۔ جبکہ آر ایس ایس کی دورخی پالیسی جگ ظاہر ہے۔ مولانا ارشد مدنی کہتے ہیں کہ بھاگوت کے پیغام کو امریکہ سے زیادہ ہندوستان میں ضرورت ہے۔ اگر وہ نیک نیتی سے اپنی بات کہہ رہے ہیں تو انھیں سب سے پہلے مسلمانوں کو ہندوستان سے نکالنے کی بات کرنے والوں کو پارٹی سے نکال دینا چاہئے۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ ملک میں بڑھتے ہوئے ہجومی تشدد ، مدراس پر حملے ، مسلمانوں کا سماجی ومعاشی بائیکاٹ کی فتنہ انگیز اپیل اقلیتوں کے شہری حقوق پر سوال اٹھانے والوں پربھاگوت خاموش کیوں رہتے ہیں۔ ان کی مسلم نوازی اور ہندوتوا کی نئی تشریح کی گونج ہر سمت سنائی دے رہی ہے۔ واہ واہی مچی ہوئی ہے۔لیکن ہم اس پر یقین نہیں کرسکتے۔
گری راج سنگھ ، کپل مشرا، وغیرہ وغیرہ جانے کتنے فرقہ پرست سپولئے کھولے عام مسلمانوں کو گالیاں دیتے ہیں۔ انھیں ملک سے نکالنے کی بات کرتے ہیں مگر ایسے لوگ وزارت کی کرسی کا جلوہ کیوں بنے ہوئے ہیں۔ بھاگوت جی کو یاد ہوگا کہ چند برسوں پہلے جب ایک کانسٹبیل نے مودی ، یوگی کا نام لے کر ٹرین میں تین مسلمانوں کو گولیوں سے بھون دیا تھا۔ تو وہ خاموش کیوں تھے۔ ایوان اقتدار میں سناٹا کیوں تھا؟ بلاشبہ بھاگوت کا تمام مذاہب کا احترام قابل ستائش پیغام ہے۔ لیکن آج جو ملک کی صورت ہے وہ انتہائی زخمی ہے۔ اب تو مسلم افسران بھی نشانے پر لیے جانے لگے ہیں۔ ٹی ایم سی ممبر پارلیمنٹ مہوا موئترا نے اپنے ایکس پلیٹ فارم پر بڑا تلخ تبصرہ کیا ہے،انھوں نے لکھا ہے کہ بنگال میں امت شاہ کی موجودگی میں مسلم افسران کو روک دیا گیا ،سلی گوڑی کے سی پی وقار رضا کو استقبالیہ لائن سے ہٹا دیا گیا۔ ڈائریکٹر جنرل ایس ٹی ایف جاوید شمیم کو کہیں نہیں بلایا گیا۔ اور آئی اے ایس خلیل احمد کو مٹنگ سے باہر جانے کو کہا، کیا اس بیمارذہنیت اور فرقہ پرست بکواس پر احتجاج نہیں کیا جائے گا۔
ملک کی جونفرتی سیاست ہے ،اب وہ عروج پر ہے۔اب تو حکومت وقت سے سوال پوچھنے کی پاداش میں صحافی بھی حراست میں لئے جارہے ہیں، دہلی کی وزیر اعلیٰ کے پروگرام میں دو خاتون صحافی شاہین خان ، نفیسہ خان کو سوال پوچھنے کی پاداش میں ساکیت پولیس اسٹیشن لے جایا گیا اور جب ان کے نام سے مسلمان ہونا ظاہر ہوا تو ان کی پٹائی بھی کی گئی۔ اس واقعہ سے پورا ملک شرمسار ہے۔ پریس کلب آف انڈیا میں مذمتی میٹنگ بھی ہوئی ہے اور ہر سمت نفرت کے اس کھیل کی مذمت ہورہی ہے۔ہزاروں وکلا نفرت کے اس کھیل خلاف میدان میں اترچکے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اب مودی کے ہندوتوا کا اقبال زوال پذیر ہورہا ہے۔ چندہ چوری معاملے میں ایودھیا کے سادھو سنت خلاف ہوگئے ہیں۔ مہنگائی بے روزگاری پر ہندوتوا کو ترجیح دیئے جانے کولیکر نئی نسل سڑکوں پر اتر چکی ہے۔ جین زی اور جین الفا آج حکومت وقت کے گلے کی ہڈی بن گئے ہیں۔ سرکاری اسکولوں کی خستہ حالی کولیکر پچاس سے زائد شہروں میں بچوں کا احتجاج جاری ہے۔ ملک کی ایک بڑی آبادی بھی ہندوستانی مسلمانوں پر مظالم کو لیکر صدائیں بلند کررہی ہے۔جین زی نے ملک کے ضمیر میں حرارت بھر دی ہے۔خوف اور دبائو کے ماحول سے عدالتیں بھی آزاد ہورہی ہیں۔ راہل گاندھی کا چھاتروں کی گونج ایک سوال بن کر برسراقتدار جماعت کو چیلنج کررہا ہے۔ بقول شاعر
ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا
محاسبہ
پتھروں کو دے رہے ہیں آئینے کھل کر جواب
جین زی کے بعد اب جین الفا نے بھی طوفان کھڑا کردیا ہے۔ سرکاری اسکولوں کی خستہ حالی کو ٹھیک کرنے کی صدا بلند کررہا ہے۔ ملک کے تقریبا تمام صوبوں میں یہ چھوٹے بچے سڑکوں پر ہیں تو کالج کے طلبا بھی تعلیمی درسگاہوں کو درست کرنے کیلئے میدان میں اترے ہوئے ہیں، نتیجہ یہ ہے کہ بی جے پی کی ہندوتوا کی ساری ہوا نکلتی جارہی ہے۔ مودی اور شاہ کی تشہیری مقبولیت اب پس پشت ہورہی ہے۔ جنتر منتر کی تحریک اور وزیر تعلیم کا استعفیٰ لینے کے بعد بلاشبہ ملک میں ایک نیا منظرنامہ ابھررہا ہے۔ عوام میں زبردست بیداری آئی ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچوں سے لیکر بوڑھوں تک دس سالہ مودی سرکار کی نااہلی کی کارکردگی کو جان چکے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ اب ہندوتوا ، ہندو راشٹر ، لو جہاد ، بیف وغیرہ وغیرہ کی فتنہ سازی سے لوگ بیزار ہوچکے ہیں۔ اور ملک میں تعلیمی ترقی ،اقتصادی خوشحالی کے لئے آواز اٹھنے لگی ہیں۔ اب سی جے پی کی پکار پر ملک کے ہر گوشے میں’ اسکول ٹھیک کرو‘مہم چل رہی ہے۔
مہاراشٹر کے اسکولوں کو سنوارنے کے لئے خود سی جے پی کے قائد ابھیجیت دیپکے کمان سنبھالے ہوئے ہیں۔ تو سوربھ داس راجستھان اور رنکا دہلی کے اسکولوں کو چست درست کرنے کی بات کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ بہار، بنگال سے لیکر ہر ریاست میں ’اسکول ٹھیک کرو‘ کے تحت اندولن چل رہا ہے۔ اور سونے پر سہاگا یہ ہے کہ راہل گاندھی کی قیادت میں چھاتروں کی گونج نے کوٹہ سے لیکر پونے تک نئی نسل میں ایک نیا جوش بھر دیا ہے۔
غورطلب ہے کہ جنتر منتر میں پولیس کی بربریت اور پٹنہ میں طلبا پر پولیس کا لاٹھی چارج ایسا منظرنامہ ہے جس سے نئی نسل سڑکوں پر اتر چکی ہے۔ طلبا میں شدید اشتعال ہے۔ اور اب ایسا لگتا ہے کہ پولیس بھی چاہتی ہے کہ طلبا میں اشتعال برقرار رہے اور مودی حکومت کی ایمیج خراب ہو۔ ویسے بھی ملک میں مودی کی شبیہ آر ایس ایس کے جعلی بھاشنوں کو طلسم ٹوٹ چکا ہے۔ملک سے لیکر بیرون ملک تک ہندوستان کی حالت پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔ امریکہ تک میں موہن بھاگوت کی آمد کو لیکر شدید مخالفت اور مظاہرے کا منظرنامہ ہے۔ بہار میں بی پی ایس سی میں گھوٹالے کولیکر طلبا سڑکوں پر ہیں۔ اور مزے کی بات تو یہ ہے کہ اس مظاہرے میں چھ سال کا بچہ بھی شامل تھا،حالانکہ پولیس اسے پکڑ کرلے گئی، چھ گھنٹے تک تھانے میں بٹھا کر رکھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کے ماں باپ کی پٹائی بھی کی گئی اور انھیں تلقین کی گئی کہ اگر یہ بچہ اندولن میں گیا تو تم لوگوں کی خیر نہیں، جیل میں سڑا دیئے جائوگے۔ ان تمام باتوں کا ویڈیو وائرل ہورہا ہے اور یہ چھوٹا بچہ اب اندولن کا ہیرو بن چکا ہے۔
لیکن تمام تر مظاہروں اور عوامی بیداری کے باوجود حکومت کو اب بھی یقین ہے کہ وہ ہندوتوا کے ہتھیار سے عوامی ذہن کو موڑنے میں کامیاب رہے گی۔ اور شاید یہی حکمت عملی ہے کہ ہندتوا کے پٹارے سے اب وندے ماترم کا شگوفہ نکالا گیا ہے۔ پارلیمنٹ میں اس بل کے پاس ہونے کے بعد راشٹر بھکتی کی بات چل رہی ہے، حالانکہ سونیا گاندھی ، کھڑگے سے لیکر فلم اداکارہ شرمیلا ٹیگور تک نے وندے ماترم کے کچھ حصوں پر اعتراض کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے ایک خاص فرقہ کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ سوال تو یہ ہے کہ وندے ماترم کو اتنی جلد بازی میں کیوں لایا گیا، جبکہ آج ہر طبقہ خیال اس بات پر اعتراض کررہا ہے کہ جب راشٹریہ گان موجود ہے تو پھر وندے ماترم کی کیا ضرورت پڑگئی۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس جو آزادی سے قبل اور آزادی کے 52سال بعد تک اپنے ہیڈ کوارٹر پر ترنگا نہیں لہرایا ، وندے ماترم کی گان نہیں کی آج وہی راشٹر بھکتی کے علمبردار بنے ہوئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ وندے ماترم مودی سرکار کے لئے سنجیونی بوٹی بنی ہوئی ہے۔ جس میں عوام کے ذریعہ پوچھے جانے والے ہر سوال کا جواب پنہاں ہے۔ معروف صحافی دیبانگ کا کہنا ہے کہ آج حکومت کے مودی سرکار میں ہر مسئلے کا حل وندے ماترم بن گیا ہے۔ ملک میں چینی کا بحران ہے ،لیکن زبان پر وندے ماترم ہے۔ مہنگائی کا بم پھوٹ چکا ہے لیکن وندے ماترم کا ورد جاری ہے۔ اتھنول سے انجن تھم گیا ہے مگر جوش کی رفتار میں کمی نہیں ہے۔ مڈڈے میل میں پانی زیادہ سبزی کم ہے مگر بچوں سے وندے ماترم گوایا جارہا ہے۔ طلبا پر پلیٹ گن چل رہا ہے ،مگر ملک میں وندے ماترم کا گردان ہے، بدعنوانی ، تعلیمی خستہ حالی، بے روزگاری کا بول بالا ہے مگر سب پر وندے ماترم کو ترجیح دی جارہی ہے۔
سپریم کورٹ کے سابق جج مارکنڈے کاٹجو نے بھی وندے ماترم پر بڑھتے ہوئے سیاسی فوکس پر کئی سوالات اٹھائے ہیں سوشل میڈیا پر انھوں نے پوچھا ہے کہ کیا راشٹر گیت کو بڑا مدعا بنانے سے بے روزگاری، مہنگائی ، عدم تغذیہ ، خستہ صحت خدمات یا تعلیم جیسے اہم مسائل حل ہوجائیں گے۔ ان کا یہ تلخ تبصرہ اس دور میں آیا ہے جب حکومت نے وندے ماترم کو سخت قانونی پیرہن سے نواز دیا ہے۔نئے قانون کے تحت اسے گانے سے جان بوجھ کر روکنے یا وندے ماترم کے گان میں رخنہ اندازی کرنے پر تین سال تک کی سزا ہوسکتی ہے۔ علاوہ جرمانہ بھی ہوسکتا ہے۔ نوعیت کے حساب سے جرمانہ اور دونوں کی سزا ہوسکتی ہے۔ کاٹجو کی دلیل یہ ہے کہ حب الوطنی اور سیاست کا اصلی اثر لوگوں کی زندگی کی سطح کو سدھارنے میں دکھائی دینا چاہئے۔ انھوں نے سوال کیا ہے کہ کیا قومی علامتوں پر بحث کرنے سے غریبی کم ہوگی، روزگار ملے گا اور ضروری اشیا سستی ہوں گی۔ مگر حکومت کو ان سب باتوں سے کیا لینا دینا اس کے لیے تو وندے ماترم ،راشٹر بھکتی ، قوم پرستی کی ایک ایسی علامت ہے جس کے آگے تمام مظاہرے ، اندولن ، احتجاج دم توڑ دیں گے۔ مگر سوال تو یہ ہے کہ آج سڑکوں پر بچے ہیں۔کیا وہ وندے ماترم سے متاثر ہوجائیں گے؟
سی جے پی کے بانی دیپکے نے اعلان کیا ہے کہ حکومت نے جو وعدہ کیا تھا ، طلبا پر بربریت کرنے والے افسروں پر کارروائی کی بات کہی تھی ، بے قصور طلبا پر مقدمات واپس لینے کا وعدہ کیا تھا مگر مقدمات واپس نہیں ہوئے بلکہ آج ملک کے کئی حصوں میں طلبا پر مقدمہ قائم کیا جارہا ہے اور جن پولیس والوں نے دہلی میں طالبات کے ساتھ بدسلوکی کی تھی ان پر آج تک کارروائی نہیں ہوئی چنانچہ یوم اساتذہ پر یعنی پانچ ستمبر کو دہلی کے پولیس ہیڈکوارٹر کے گھیرائو کا اعلان کیا گیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ طلبا کا یہ گھیرائو کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔بقول شاعر
انقلاب صبح کی کچھ کم نہیں یہ بھی دلیل
پتھروں کو دے رہے ہیں آئینے کھل کر جواب
محاسبہ
اب تو مظلوم بغاوت پر اتر آئے ہیں
محسابہ:سید فیصل علی
آخر کا رملک کے طلبا جیت گئے ہیں۔ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہی نہیں مقابلہ جاتی امتحانات کو کرانے والی نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی(این ٹی اے ) کے تمام افسران ہٹا دیئے گئے ہیں۔ وزارت تعلیم کا سکریٹری بھی تبدیل کردیا گیا ہے۔ یہ طلبا کی ایسی جیت ہے جس سے ملک کے کرپٹ تعلیمی نظام میں تبدیلی آئے گی جو دو دہائی سے بدترین بدعنوانی کا شکار تھا۔ دس برسوں میں پیپر لیک کے 152 معاملات ہوئے ، اس پیپر لیک کی وجہ سے جانے کتنے منا بھائی میڈیکل خطے میں پہنچ کر انسانی جانوں کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔ کون جانتا ہے کہ پیپر لیک سے لاکھوں اہل طلبا اپنی منزل نہیں پاسکے۔ طلبا کی جیت ایک ایسی تاریخی جیت ہے جس سے ہندوستان کی بے بس جمہوریت کی رگوں میں حوصلے کی کرن پیدا ہوئی ہے۔ ملک میں نفرت کے شکاریوں کے بجائے اب محبت کے پجاریوں کا پرچم بلند ہواہے۔ طلبا نے ہندوستان کی جمہوریت کو آزاد کرکے عوام کے دلوں سے خوف نکال دیا ہے اور انھیں زبان دے دی ہے ۔دس برسوں بعد احساس ہوا ہے کہ ہمارے سنسکار واقدار کے اندر ابھی جان باقی ہے۔ ابھی ہندوستان زندہ ہے۔
آج بھی اپنے مستقبل کولیکر ہزاروں طلبا روزانہ دہلی آرہے ہیں ، ملک کے گوشوں گوشوں میں طلبا کا مظاہرہ ہورہا ہے۔ جنتر منتر کی آگ نے دنیا بھر کی نظریں ہندوستانی تعلیمی نظام پر مبذول کردی ہیں۔ آسٹریلیا۔ لندن ، کینڈا سمیت کئی بیرونی شہروں میں جنتر منتر کے طلبا کی حمایت میں مظاہرے ہوئے ہیں۔ اور آج بھی ملک کے کئی شہروں میں طلبا سڑکوں پر ہیں۔ خاص کر بہار کے طلبا میں جنتر منتر پر ہوئے پولیس بربریت کے خلاف اتنا غم وغصہ ہے کہ کٹیہار ، جہان آباد، پٹنہ ، دربھنگہ، مدھوبنی، نالندہ میں پرتشدد مظاہرے ہوئے ہیں۔ جو افسوسناک ہیں۔ لیکن یہ مظاہرے ظاہر کرتے ہیں کہ صبر کا پیمانہ چھلک چکا ہے ، اقتدار کا نشہ اور بے قصوروں پر ظلم وستم اور ایک خاص طبقہ کے خلا ف نفرت کی آگ میں تمام ترقیاتی منصوبے جو پس پشت کردیئے گئے ہیں اب ان پر نظر ثانی ضروری ہے۔ زین زی کایہ مظاہرہ ہندوستان کی سیاست کا نیا منظرنامہ ہے۔ جو ایک نئے انقلاب کی آمد کا پتہ دے رہا ہے۔
مجھے بے حد مسرت ہے کہ جنتر منتر پر برسوں بعد اصلی ہندوستان دیکھنے کو ملاجہاں تمام تر رکاوٹوں ، بڑی تعداد میں فورس کی تعیناتی ، 18میٹرو اسٹیشنوں کے بند ہونے کے باوجود ملک کے گوشے گوشے سے طلبا جنتر منتر پر پہنچ رہے تھے۔ جن میں بڑی تعداد طالبات کی تھی ، جو اپنے والدین کو بھی ساتھ لیکر جنتر منتر پہنچ رہی تھیں۔ پہلی بار والدین کا بھی غم وغصہ دیکھنے کو ملا۔ جنتر منتر سچ مچ ایک ایسا ہندوستان نظر آیا جس کی دنیا میں آج بھی مثل دی جاتی ہے۔یہ بچوں کے جوش کا منظرنامہ تھا کہ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود طلبا کو جہاں جگہ ملی وہیں سے وہ صدائے احتجاج بلند کررہے تھے۔ بلاشبہ برسوں بعد ہندوستان کی جمہوری رگوں میں ایک نئی قوت دوڑ رہی ہے۔ خوف کا ماحول زائل ہورہا ہے ۔ جنتر منتر پر قومی یکجہتی اور ہم آہنگی ، آپسی بھائی چارہ کا ایسا منظرنامہ دیکھنے کو ملا جسے دیکھے مدت گزر گئی تھی۔ گرمی میں بیٹھے طلبا ایک دوسرے کو پنکھا جھل رہے تھے۔ ملک کے گوشے گوشے سے فوڈ پیکٹ آرہے تھے۔ دبئی اورریاض سے لیکر کئی ملکوں سے زومیٹو کے ذریعہ طلبا کو فوڈ پیکٹ فراہم کیا جارہا تھا۔ 20جون کو دہلی کے جنید نے جس حوصلے کے ساتھ جنتر منتر پر بھوکے پیاسے طلبا کے لئے کھانے کے لئے نظم کیا ،وہ انسان دوستی دنیا دیکھ رہی تھی اور اسی کی تقلید میں جنتر منتر پر طرح طرح کے کھانوں کا انبار لگا ہوا تھا، کہ سی جے پی کے لیڈروں کو اعلان کرنا پڑا، باہر سے کھانا نہ بھیجا جائے برباد ہورہا ہے۔ اسی جنتر منتر پر گودی میڈیا کی جتنی تذلیل ہوئی وہ اس بات کا غماز ہے کہ آج کی نسل قومی میڈیا سے کتنی نفرت کرتی ہے۔ آج کے دور میں جب عدلیہ ودیگر خودمختار اداروں پر سے اعتماد ختم ہورہا ہے تو اسی دور میں اب جنتر منتر سے جو آواز ابھری ہے وہ یقینا ایک ایسا عندیہ ہے جو نئے ہندوستان کی تعمیر کا خو ش آئند منظرنامہ بھی کہا جاسکتا ہے۔ جنتر منتر پر شبانہ اعظمی ،ہما قریشی ، نصیر الدین شاہ، پرکاش راج سمیت فلمی دنیا کی مشہور ہستیاں طلبا کی حوصلہ افزائی کے لئے موجود تھیں، وہیں سماج پارٹی کے قائد اکھلیش یادو کی اہلیہ ڈمپل یادو کے ذریعہ زخمی بچوں کی جس طرح دیکھ بھال کی جارہی تھی وہ بھی دنیا نے دیکھا۔ یہ پہلا منظرنامہ ہے کہ سپریم کورٹ کے سیکڑوںبڑے وکیل جنتر منتر پر طلبا کی حمایت میں کھڑے ہوگئے۔ دنیا نے یہ بھی دیکھا کہ دہلی کے بڑے بڑے ڈاکٹروں نے زخمی طلبا کے لئے کیمپ لگالیا۔دنیا نے دیکھا کہ پریشان حال طلبا کے لئے دہلی کے گرودواروں اور مسجدوں کے دروازے کھول دیئے گئے۔ اہل دہلی کی انسان دوستی کا منظرنامہ بھی سب نے دیکھا، جہاں تمام تر مسلم دشمنی کے باوجود شاہین باغ ، سیلم پور، پرانی دہلی کے مردو خواتین پانی کے بوتلوں اور کھانے کی اشیا لیکر طلبا کے پاس پہنچ رہے تھے۔
وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے آگے راہل گاندھی کے حوصلے کو بھی ساری دنیا نے دیکھا کہ ناک سے بہتے خون کے باوجود انھوں نے کہا کہ جب تک پردھان کا استعفیٰ نہیں ہوگا ہم اسپتال نہیں جائیں گے۔
بلاشبہ جنتر منتر سے اٹھی آواز نے جہاں عام لوگوں میں خوف کا ماحول نکال دیا وہیں جنتر منترکی آواز نے اپوزیشن کے بھی حوصلے کی تجدید کردی ہے۔ بلاشبہ یہ جنتر منترپر طلبا کی آواز کا ہی اثر تھا کہ دو دن سے وزیر اعظم انسٹا گرام اور سوشل میڈیا پر رات کے بارہ بجے آکر طلبا کے زخموں پر مرہم رکھنے کی سعی کررہے ہیں لیکن طلبا جنھوں نے پردھان کو مستعفی ہونے پر مجبور کردیاکیا وہ ہندوتوا کے چہرے کو بدلنے میں کامیاب ہوں گے؟ ،کیونکہ موجودہ سرکار نفرت کی سیاست کی بنیاد پر اپنا اقتدار قائم کئے ہوئے ہے۔کیا نئی نسل نفرت کے اس کھیل کو ناکام کرے گی۔ کیونکہ جس طرح جنتر منتر کے بعد ملک بھر میں احتجاج کا دائرہ بڑھ رہا ہے وہ تشویش کا موضوع بھی ہے اور امید کا مرکز بھی ہے۔کہ طلبانے ہندوستان کی تعمیر کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں لیکن کیا ہندوتوا کی سیاست کا مقابلہ کرسکیں گے؟ انھوں نے نظام کی تبدیلی کا جو بیڑہ اٹھایا ہے اس میں کامیاب ہوں گے،یہ ایک بڑا سوال ہے۔ بقول شاعر
اپنے بھارت کی حفاظت میں اتر آئے
ایک دیوانے شہادت پر اترا ٓئے ہیں
اب تو ظالم تجھے ہر حال میں جھکنا ہوگا
اب تو مظلوم بغاوت پر اتر آئے ہیں
محاسبہ
پتھروں کو دے رہے ہیں آئینے کھل کر جواب
محاسبہ:سید فیصل علی
اس دور منافق میں جب ممتا بنرجی کے اقبال کا جادو اترتے ہی ان کے چہیتے لیڈران بی جے پی کا دامن پکڑنے لگے ہوں اور جو ممتا بنرجی کے ساتھ کھڑے ہیں ان پر انڈے پھینکے جارہے ہوں،وہ کرب ناک منظرنامہ ہے۔ بنگال جو کبھی سونار بنگلہ کہلاتا تھا جہاں ٹیگور نے ہندوستانی تکثیر کی اپنی نظموں میں گلفشانی کی تھی جہاں ہندو مسلم دوستی اور تہذیبی ثقافت کی دنیا میں دھوم تھی ،آج وہی بنگال نفرت کے کھیل میں شامل ہے۔ بنگال میں جنگل راج کا تصور نہیں تھا اب جنگل راج حقیقت بن چکا ہے۔ اس دور میں جب جمہوری اقدار عدل وقانون سب بے معنیٰ ہوچکے ہیں ،اور ایک ہی پارٹی کا ڈنکا بج رہا ہے۔اس دور میں انصاف کی آواز بلند کرنا اک بہلاوا کچھ نہیں۔
المیہ تو یہ ہے کہ جس سیاسی پارٹی کے زناکار اب سنسکاری قرار دیئے جارہے ہیں۔ ان کا پھول مالائوں سے استقبال ہورہا ہے۔ جس دور میں محض ووٹوں کے لئے قتل اور عصمت دری کے ایک سزا یافتہ بابا کو بار بار پیرول پر رہائی مل رہی ہے۔ بلقیس اور نربھیا کے واقعات کو روند کر زناکاروں کو ضمانتیں دی جارہی ہیں۔ جس دور میں احتجاج اور مظاہروں کی پاداش میں چھ سال سے تہاڑ جیل میں عمر خالد ، شرجیل امام کی ضمانتیں سیاسی انتقام کا شکار ہورہی ہیں۔جس ملک میں ایک پولیس اہلکار مسلمانوں کو سڑک پر نماز نہیں پڑھنے کی دھمکیاں دے رہا ہے، پاسپورٹ منسوخ کرنے کی بات کررہا ہے۔انھیں نماز پڑھنے کی پاداش میں جیل بھیجنے کی باتیں کررہا ہے۔ایسے لاقانونیت بھرے ماحول میں جب عدل وقانون بھی ابروئے حکومت کے تابعدار ہوجائے تو ملک کا دیرینہ سنسکار شرمسار ہوتا ہے۔ایسے ملک میں جہاں احتجاج، مظاہرہ ملک سے غداری سے تعبیر کی جارہی ہو، حکومت سے سوال پوچھنا جرم سمجھا جاتا ہو، عدالتیں بھی اس دلسوز روایت پر مہر پر مہر لگاتی جارہی ہوں،ایسے میں کسی جج کا حکومت وقت کو آئینہ دکھانا اور ایک مسلمان کو انصاف دینا واقعی ہمت وحوصلے کی عظیم مثال ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک میں جب معمولی سی بات پر مسلمانوں کے گھر بلڈوز کئے جارہے ہوں ، مسجدیں ، درگاہوں ، قبرستانوں کو ناجائز قرار دے کر انھیں منہدم کیا جارہا ہوں اسی ہندوستان میں ناجائز قبضہ والے منادر کی عرضی پر سماعت سے عدالت انکار کررہی ہو، جس ملک میں سب سے بڑی عدالت کے چیف جسٹس کو بھرے کورٹ میں گالیاں دی جارہی ہوں۔ جج صاحبان بھی ابروئے حکومت کے اشارے پر فیصلے صادر کرنے لگے ہوں ،ایسے دور کشاکش میں جب کوئی جج ایک مسلمان کو انصاف دینے کی بات کرتا ہے تو اس کی جرأت پر حیرت ہوتی ہے۔
غورطلب ہے کہ گزشتہ دنوں بامبے ہائی کورٹ نے اپنے ایک تاریخی فیصلے میں حکومت وقت کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہا کہ سرکار پر تنقید جمہوریت کا حصہ ہے۔ اسے جرم نہیں قرار دیا جاسکتا ہے۔جمہوری نظام میں ہر شہری کو حکومت کی پالیسیوں سے اختلاف کرنے ، اپنے خیالات کا اظہار کرنے اور پرامن احتجاج کرنے کا آئینی حق حاصل ہے۔ صرف حکومت مخالف نعرے لگانے یا احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرنے کی بنیاد پر کسی شہری کو اس کے اپنے شہر سے بے دخل نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت نے اسی بنیاد پر مہاراشٹر پولیس کی جانب سے جاری ایک سالہ ایکسٹرنمنٹ(شہربدری) کا حکم منسوخ کردیا۔ عدالت نے یہ فیصلہ سابق لوک سبھا امیدوار سمیع احمد کی درخواست پر سنایا۔ سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کی کارروائی اور اس کے جواز پر بھی کئی سوالات کھڑے کئے۔ عدالت نے سوال کیا کہ محض بی جے پی حکومت مردہ باد یامودی، امت شاہ مردہ باد جیسے نعرے کسی شخص کے خلاف جرم کیسے بن سکتے ہیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ جمہوریت میں اختلاف رائے کو دبانے کے بجائے اسے برداشت کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ بامبے ہائی کورٹ کے جسٹس مادھو جمدار نے گزشتہ برسوں میں مختلف مسابقتی امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے واقعات کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر عوام ایسے معاملات پر احتجاج کریں تو ان پر مقدمات کیوں درج کئے جارہے ہیں یہ آئین جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔ پولیس عوام کی خدمت کے لئے ہے وہ کسی حکومت کی ملازم نہیں ہے۔ جسٹس نے یہ بھی کہا کہ اس دور میں عوام کو حکومت کا غلام بنایا جارہا ہے۔
غورطلب ہے کہ سعید احمد ، عبدالواحد چودھری شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے ) اور این آر سی ، بابری مسجد تنازعہ ، گیان واپی مسجد معاملہ ، وقف بورڈ کے معاملات اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کولیکر احتجاج مظاہرہ کرتے رہے ہیں۔ 2019سے 2024کے درمیان ان پر کئی مقدمات قائم کئے گئے ۔ 2025میں انھیں مہاراشٹر پولیس کے حکم سے ایک سال کے لئے ممبئی سے بے دخل کردیا گیا تھا۔ پولیس کا موقف تھا کہ سعید کی سرگرمیوں سے عوام میں خوف وہراس پیدا ہوتاہے، اور امن وامان کو متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ پولیس کی اس کارروائی کو ڈویزنل کمشنر نے بھی برقرار رکھا۔ نتیجتاً چودھری نے بامبے ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ عدالت نے بھی پولیس کے اختیارات کے غلط استعمال کو تسلیم کیا اور اسے غیر جمہوری اور غیر آئینی قرار دیا۔ اپنے تحریری فیصلے میں بامبے ہائی کورٹ نے کہا کہ حکومت کے بعض فیصلوں کی مخالفت کرنا کسی شخص کو اس کے رہائشی علاقوں سے بے دخل کرنے کی قانونی بنیاد نہیں بن سکتا ، عدالت کے مطابق ایسی کارروائی اظہار رائے کی آزادی اور اپنے ملک میں وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ شہر بدری کی اصل وجہ احتجاجی پروگراموں کا انعقاد اور ان میں شرکت تھی، صرف اسی بنیاد پر کسی شہری کے خلاف اتنی سخت انتظامی کارروائی نہیں کی جاسکتی۔
سپریم کورٹ کے کئی وکیلوں نے بامبے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کی ستائش کی ہے اور کہا ہے کہ یہ فیصلہ اس بات کا غماز ہے کہ عدلیہ میں بھی ایسے جج موجود ہیں جو شہریوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کے لئے حکومت سے سوال کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ بلاشبہ بامبے ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ آئین اور جمہوری اقدار کی ایک بڑی فتح کہی جارہی ہے۔ لیکن سوال تو یہ ہے کہ جس دور میں حکومت مخالف فیصلہ دینے پر راتوں رات جج کا تبادلہ ہوجاتا ہے ، حکومت کی سرزنش کرنے کی پاداش میں روسٹر تبدیل کئے جاتے ہوں ایسے دور میں بامبے ہائی کورٹ کا فیصلہ بلاشبہ امید کی ایک کرن توضرور ہے۔ لیکن کیا یہ فیصلہ ملک کے اقدار وسنسکار کو تحفظ دینے میں مددگار ثابت ہوگا یا ایوان عدل وانصاف واقداروسیاست میں محض طوطی کی آوازبن کر رہ جائیگا۔ بقول شاعر
انقلاب صبح کی کچھ کم نہیں یہ بھی دلیل
پتھروں کو دے رہے ہیں آئینے کھل کر جواب
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
بہار9 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
