دلی این سی آر
آسام کے کالج میں اے بی وی پی کا مسلم طالبات پر مبینہ حملہ ناقابل برداشت :مفتی مکرم
(پی این این)
نئی دہلی :شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مفکر ملت مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد صاحب نے جمعہ کی نماز سے قبل خطاب میںمسلمانوں سے اپیل کی کہ پنج وقتہ نمازوں کی پابندی کریں اور نوجوانوں کو بھی اس کا پابند بنائیں چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔
انہوں نے مہاراشٹر میں نئے انسداد تبدیلی مذہب قانون کے نفاذ پر گہری تشویش کا اظہار کیا انہوں نے کہا کہ حکومت نے ریاست میں جبری یا دھوکے سے مذہب تبدیلی کے بڑے پیمانے پر ہونے کے دعوے کی تائید میں شواہد پیش نہیں کیے۔ مہاراشٹر حکومت نے یہ قانون بنانے میں آئینی حقوق کے تحفظ کاخیال نہیں رکھا انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس قانون کے ذریعے شہریوں کی نجی زندگی، مذہبی عقیدے اور ذاتی فیصلوں میں مداخلت کا دروازہ کھل سکتا ہے بظاہر یہ قانون آئین کی بعض دفعات کے خلاف ہے۔
مفتی مکرم احمد نے آسام کے ضلع سلچر میں واقع کچھار کالج میں مسلم طالبات کے خلاف قابل اعتراض اور نفرت انگیز مہم کی شدید مذمت کی۔ مسلم طالبات ہر مبینہ حملے کے بعد طلبہ کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی اے بی وی پی کے کچھ ارکان نے این ایس یو آئی کے کیمپ میں حجاب پہننے والی مسلم طالبات کی موجودگی پر اعتراض کیا اور طرح طرح کے الزامات لگائے ۔ مفتی مکرم نے کہا کہ اگر کچھ طالبات حجاب پہنتی ہیں تو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے یہ مذہب اور عقیدے سے جڑا ہوا مسئلہ ہے جس کا احترام ہونا چاہیے۔
آئین نے اس کی اجازت دی ہے۔ مفتی مکرم نے غزہ میں صہیونی اہلکاروں کی طرف سے مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزی پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کے متعدد مقامات پر اسرائیلی فوج کے حملے نہتے فلسطینیوں پر ہوتے رہتے ہیں یو این او اور عالمی برادری اسرائیل کو جنگ بندی قانون کا پابند بنائیں ورنہ اس کے خلاف ایکشن لیا جائے۔
دلی این سی آر
راہل کا پدرشاہی کو ختم کرو کا نعرہ محض ایک کھوکھلی بات: بانسری
نئی دہلی:بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) رکن پارلیمنٹ بانسری سوراج نے کونڈا سریکھا کو تلنگانہ کابینہ سے برطرف کیے جانے پر کانگریس لیڈر راہل گاندھی کو نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ مسٹر گاندھی کا پدرشاہی کو ختم کروکا نعرہ محض ایک کھوکھلی بات ہے۔ بانسری سوراج نے جمعہ کو یہاں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کے قائد راہل گاندھی کا پدرشاہی کو ختم کرو نعرہ صرف کھوکھلی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماچل پردیش اور کرناٹک میں، جہاں کانگریس کی حکومتیں ہیں، وہاں پر ایک بھی خاتون کو وزرات کا عہدہ نہیں دیا گیا ہے۔ اب تلنگانہ میں جمعرات کو کانگریس کی سینئر لیڈر کو وہاں کی حکومت نے مبینہ طور پر ذلیل کیا اور ریاستی کابینہ سے ہٹا دیا۔ محترمہ سریکھا نے تلنگانہ کی کانگریس حکومت اور وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی پر بہت سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے کہا، “میں پوچھنا چاہتی ہوں… ان کے لگائے گئے ناانصافی اور بلیک میلنگ کے الزامات پر مسٹر گاندھی ابھی بھی خاموش کیوں ہیں؟ شاید اس لیے کیونکہ ان کے لیے پدرشاہی کو ختم کرو انتخابی نعرے اور سیاسی بیان بازی سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔
اصل میں مسٹر گاندھی اور کانگریس کی سوچ یہ ہے کہ اگر خواتین ترقی پسند ہیں، تو ان کے امکانات کو ختم کر دو۔”
دلی این سی آر
خاتون صحافیوں پر مبینہ حملہ پریس کی آزادی پر سنگین حملہ: شائستہ اختر
سری نگر:جموں و کشمیر میں نیشنل لوک تانترک پارٹی (NLP) کی مہیلا مورچہ کی ریاستی صدر، شائستہ اختر نے نئی دہلی کے ساکیت پولیس اسٹیشن میں دو مسلم خاتون صحافیوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور ہراسانی کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے اس واقعے کو انتہائی تشویشناک اور جمہوری معاشرے میں ناقابلِ قبول قرار دیا۔شائستہ اختر نے ان اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا جن کے مطابق دہلی پولیس کے اہلکاروں نے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھانے والی دو خاتون صحافیوں پر مبینہ طور پر تشدد کیا اور ان کے ساتھ بدسلوکی کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کا ایسا رویہ ہرگز برداشت نہیں کیا جا سکتا اور اس معاملے کی غیر جانبدارانہ اور مقررہ مدت میں تحقیقات ہونی چاہئیں۔شائستہ اختر نے کہا، “پولیس کی ذمہ داری شہریوں کا تحفظ کرنا ہے، نہ کہ انہیں ڈرانا دھمکانا یا ان پر حملہ کرنا۔ صحافیوں کو بغیر کسی خوف، دباؤ، دھمکی یا امتیازی سلوک کے اپنے فرائض کی انجام دہی کی اجازت ہونی چاہیے۔ اگر پولیس اسٹیشن کے اندر دو خاتون صحافیوں کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، تو یہ انتہائی تشویشناک معاملہ ہے جس میں احتساب ناگزیر ہے۔”انہوں نے مزید زور دیا کہ کسی صحافی کی شناخت یا مذہب کبھی بھی امتیازی سلوک کی بنیاد نہیں بننا چاہیے۔ پریس کی آزادی جمہوریت کا بنیادی ستون ہے، اور صحافیوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ انتقامی کارروائی کے خوف کے بغیر سوالات پوچھیں اور حقائق کی رپورٹنگ کریں۔شائستہ اختر نے دہلی پولیس کے حکام اور متعلقہ اعلیٰ افسران پر زور دیا کہ وہ ان الزامات کی فوری طور پر آزادانہ تحقیقات کریں، اگر بدسلوکی ثابت ہو تو ذمہ داروں کی نشاندہی کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ متاثرہ صحافیوں کو انصاف ملے۔انہوں نے صحافتی برادری اور سول سوسائٹی سے بھی اپیل کی کہ وہ پریس کی آزادی، خواتین کے وقار اور قانون کی حکمرانی کے تحفظ کے لیے متحد رہیں۔
انہوں نے کہا، “ایک جمہوری حکومت کو سوالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ایک جمہوری پولیس فورس کو صحافیوں کا احترام کرنا چاہیے۔ اور ہر شہری—قطع نظر اس کے مذہب، جنس یا پیشے کے—قانون کے تحت وقار اور تحفظ کا حقدار ہے۔”شائستہ اختر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ نیشنل لوک تانترک پارٹی (NLP) آئینی اقدار، اظہارِ رائے کی آزادی، خواتین کے وقار اور آزاد میڈیا کے تحفظ کے لیے مضبوطی سے کھڑی ہے
دلی این سی آر
ساکیت پولیس اسٹیشن میں خواتین صحافیوں پر مبینہ تشدد کی شدید مذمت
(پی این این)
نئی دہلی: ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے قومی خواتین ونگ نے نئی دہلی کے ساکیت پولیس اسٹیشن میں دو آزاد خواتین صحافیوں، شاہین خان اور نفیسہ خان کے ساتھ مبینہ تشدد، غیر قانونی حراست اور مذہبی شناخت کی بنیاد پر امتیازی سلوک کی سخت مذمت کی ہے۔ یہ واقعہ 3 ستمبر 2026 کو پیش آیا۔قومی خواتین ونگ کی کنوینر اور پارٹی کی نیشنل جنرل سکریٹری محترمہ شیما محسن نے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں صحافی ایک عوامی پروگرام میں سوالات کرنے کے بعد اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کر رہی تھیں کہ انہیں مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں کی جانب سے زبانی ہراسانی اور جسمانی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ الزامات درست ہیں تو یہ محض پولیس کی بدسلوکی کا معاملہ نہیں بلکہ آزادیٔ صحافت، آزادیٔ اظہار اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ خاص طور پر یہ بات انتہائی تشویش ناک ہے کہ مبینہ طور پر ان کی مذہبی شناخت معلوم ہونے کے بعد پولیس اہلکاروں کا رویہ مزید جارحانہ ہوگیا۔ مذہبی شناخت کی بنیاد پر کسی شہری کو نشانہ بنانا آئین کے بنیادی اصولوں اور قانون کی حکمرانی کے منافی ہے۔
شیما محسن نے کہا کہ ملک میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت اور عدم برداشت پہلے ہی ایک سنگین تشویش کا باعث ہے۔ جب سیاسی رہنماؤں کی نفرت انگیز تقاریر اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مبینہ خاموشی یا چشم پوشی ایسے رویوں کو تقویت دیتی ہے تو اس کے نتائج جمہوریت اور سماجی ہم آہنگی کے لیے انتہائی خطرناک ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ صحافیوں کو اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران ہراساں یا تشدد کا نشانہ بنانا جمہوریت پر براہِ راست حملہ ہے۔ اور اگر خواتین صحافیوں کو پولیس اسٹیشن جیسی جگہ پر بھی تحفظ حاصل نہ ہو تو یہ اس امر کا سنگین سوال ہے کہ سوال پوچھنے اور اختلاف کی آواز بلند کرنے والی خواتین کے لیے ملک میں عوامی مقامات کس قدر محفوظ رہ گئے ہیں۔ معزز سپریم کورٹ اس واقعے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے بنیادی حقوق اور آزادیٔ صحافت کی اس مبینہ خلاف ورزی کا جائزہ لے۔2. واقعے کی فوری، شفاف اور غیر جانب دار عدالتی تحقیقات کرائی جائیں اور قصوروار پائے جانے والے اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
3. مبینہ تشدد اور بدسلوکی میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف فوری طور پر ایف آئی آر درج کی جائے اور تحقیقات کو متاثر ہونے سے بچانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔4. دہلی پولیس کمشنر اور وزارتِ داخلہ واقعے کی جواب دہی یقینی بنائیں اور صحافیوں، بالخصوص خواتین صحافیوں، کے لیے ایسا محفوظ اور امتیاز سے پاک ماحول یقینی بنائیں جہاں وہ بلاخوف اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دے سکیں، خواہ ان کا تعلق کسی بھی جنس، مذہب یا سماجی پس منظر سے ہو۔ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کا قومی خواتین ونگ شاہین خان اور نفیسہ خان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور ان تمام آزاد صحافیوں کے ساتھ کھڑا ہے جو دباؤ اور خوف کے باوجود سچائی، آزادیٔ اظہار اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
بہار9 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
