Connect with us

دلی این سی آر

برکس سمیٹ کیلئے دہلی میں زمین سے آسمان تک سخت سیکورٹی

Published

on

نئی دہلی: دہلی پولیس، محکمہ ٹریفک کے ساتھ مل کر، نئی دہلی میں ہونے والی برکس سربراہی کانفرنس سے قبل ایک گھڑ سوار کی مشق کر رہی ہے۔برکس سربراہی اجلاس 2026 کے لیے دارالحکومت کی سیکیورٹی کو مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی ایجنسیوں نے اس کے لیے تقریباً تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔عالمی رہنماؤں اور سربراہان مملکت کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے، اس بار ایجنسیاں پانچ پرتوں والی تکنیکی حفاظتی شیلڈ استعمال کر رہی ہیں۔ زمینی، فضائی اور نادیدہ خطرات سے نمٹنے کے لیے دہلی پولیس، نیشنل سیکیورٹی گارڈ، اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے جدید ٹیکنالوجی کو تعینات کیا ہے۔ حفاظتی مقاصد کے لیے پانچ ٹیکنالوجیز استعمال کی جا رہی ہیں، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ کسی بھی سطح پر غلطی کا کوئی مارجن نہ ہو۔1. 3D ایئر سیکیورٹی: اینٹی ڈرون سسٹم، راڈار، اور الیکٹرانک جیمرز بھارت منڈپم اور پورے لوٹینز زون میں تعینات کیے جائیں گے۔ یہ سسٹم کئی کلومیٹر دور سے غیر مجاز ڈرونز کی شناخت کر سکیں گے اور ان کے سگنلز کو غیر فعال کر سکیں گے۔2. VIP قافلوں کی GPS ٹریکنگ: غیر ملکی معززین اور سربراہان مملکت کے قافلوں میں سیکیورٹی گاڑیاں ریئل ٹائم GPS سے لیس ہیں۔ کنٹرول روم سے گاڑیوں کے مقام، رفتار اور روٹ کی نگرانی کی جائے گی۔3. CBRN سیکیورٹی شیلڈ: NDRF اور فوج کی خصوصی ٹیمیں HAZMAT گاڑیوں اور جدید ترین آلات کے ساتھ کیمیکل، حیاتیاتی، ریڈیولاجیکل اور جوہری خطرات سے نمٹنے کے لیے تعینات کی جائیں گی۔4. 24 گھنٹے اے آئی سرویلنس: ایئرپورٹ، ہوٹلوں، مقامات اور پورے راستے پر ہزاروں ہائی ڈیفینیشن کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔ اے آئی کیمرے مشکوک سرگرمی، ہجوم اور غیر حاضر اشیاء کا پتہ لگائیں گے اور فوری الرٹ جاری کریں گے۔5. بایومیٹرک-چہرے کی شناخت: پنڈال کے تمام داخلی مقامات پر چہرے کی شناخت اور بائیو میٹرک سسٹم نصب کیے گئے ہیں۔ صرف پہلے سے تصدیق شدہ اہلکاروں، عملے اور مجاز اہلکاروں کو داخلے کی اجازت ہوگی۔قابل ذکر ہے کہ ہندوستان اس سال 18ویں برکس چوٹی کانفرنس کی صدارت اور میزبانی کرے گا۔ 11 سے 13 ستمبر تک ہونے والی چوٹی کانفرنس کا مرکزی پروگرام بھارت منڈپم میں منعقد ہوگا، جہاں کئی دو طرفہ ملاقاتیں بھی ہوں گی۔ اس سال برکس کا تھیم ہے “تعمیر برائے لچک، اختراع، تعاون، اور پائیداری”۔ وزارت خارجہ کے مطابق سربراہی اجلاس میں برکس کے رکن اور شراکت دار ممالک کے رہنماوں کے علاوہ مدعو ممالک کے نمائندے بھی شرکت کریں گے۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گٹیرس بھی برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ہندوستان کا دورہ کر سکتے ہیں۔ہندوستان برکس کے بانی ارکان میں سے ایک ہے اور اس سے قبل 2012، 2016 اور 2021 میں اس کی صدارت کر چکا ہے۔ ہندوستان نے 1 جنوری 2026 کو چوتھی بار برکس کی صدارت سنبھالی۔ اس سال، برکس اپنی 20 ویں سالگرہ بھی منا رہا ہے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

دلی این سی آر

آسام کے کالج میں اے بی وی پی کا مسلم طالبات پر مبینہ حملہ ناقابل برداشت :مفتی مکرم

Published

on

 

 

(پی این این)
نئی دہلی :شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مفکر ملت مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد صاحب نے جمعہ کی نماز سے قبل خطاب میںمسلمانوں سے اپیل کی کہ پنج وقتہ نمازوں کی پابندی کریں اور نوجوانوں کو بھی اس کا پابند بنائیں چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔
انہوں نے مہاراشٹر میں نئے انسداد تبدیلی مذہب قانون کے نفاذ پر گہری تشویش کا اظہار کیا انہوں نے کہا کہ حکومت نے ریاست میں جبری یا دھوکے سے مذہب تبدیلی کے بڑے پیمانے پر ہونے کے دعوے کی تائید میں شواہد پیش نہیں کیے۔ مہاراشٹر حکومت نے یہ قانون بنانے میں آئینی حقوق کے تحفظ کاخیال نہیں رکھا انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس قانون کے ذریعے شہریوں کی نجی زندگی، مذہبی عقیدے اور ذاتی فیصلوں میں مداخلت کا دروازہ کھل سکتا ہے بظاہر یہ قانون آئین کی بعض دفعات کے خلاف ہے۔
مفتی مکرم احمد نے آسام کے ضلع سلچر میں واقع کچھار کالج میں مسلم طالبات کے خلاف قابل اعتراض اور نفرت انگیز مہم کی شدید مذمت کی۔ مسلم طالبات ہر مبینہ حملے کے بعد طلبہ کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی اے بی وی پی کے کچھ ارکان نے این ایس یو آئی کے کیمپ میں حجاب پہننے والی مسلم طالبات کی موجودگی پر اعتراض کیا اور طرح طرح کے الزامات لگائے ۔ مفتی مکرم نے کہا کہ اگر کچھ طالبات حجاب پہنتی ہیں تو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے یہ مذہب اور عقیدے سے جڑا ہوا مسئلہ ہے جس کا احترام ہونا چاہیے۔
آئین نے اس کی اجازت دی ہے۔ مفتی مکرم نے غزہ میں صہیونی اہلکاروں کی طرف سے مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزی پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کے متعدد مقامات پر اسرائیلی فوج کے حملے نہتے فلسطینیوں پر ہوتے رہتے ہیں یو این او اور عالمی برادری اسرائیل کو جنگ بندی قانون کا پابند بنائیں ورنہ اس کے خلاف ایکشن لیا جائے۔

 

Continue Reading

دلی این سی آر

راہل کا پدرشاہی کو ختم کرو کا نعرہ محض ایک کھوکھلی بات: بانسری

Published

on

نئی دہلی:بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) رکن پارلیمنٹ بانسری سوراج نے کونڈا سریکھا کو تلنگانہ کابینہ سے برطرف کیے جانے پر کانگریس لیڈر راہل گاندھی کو نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ مسٹر گاندھی کا پدرشاہی کو ختم کروکا نعرہ محض ایک کھوکھلی بات ہے۔ بانسری سوراج نے جمعہ کو یہاں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کے قائد راہل گاندھی کا پدرشاہی کو ختم کرو نعرہ صرف کھوکھلی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماچل پردیش اور کرناٹک میں، جہاں کانگریس کی حکومتیں ہیں، وہاں پر ایک بھی خاتون کو وزرات کا عہدہ نہیں دیا گیا ہے۔ اب تلنگانہ میں جمعرات کو کانگریس کی سینئر لیڈر کو وہاں کی حکومت نے مبینہ طور پر ذلیل کیا اور ریاستی کابینہ سے ہٹا دیا۔ محترمہ سریکھا نے تلنگانہ کی کانگریس حکومت اور وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی پر بہت سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے کہا، “میں پوچھنا چاہتی ہوں… ان کے لگائے گئے ناانصافی اور بلیک میلنگ کے الزامات پر مسٹر گاندھی ابھی بھی خاموش کیوں ہیں؟ شاید اس لیے کیونکہ ان کے لیے پدرشاہی کو ختم کرو انتخابی نعرے اور سیاسی بیان بازی سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔
اصل میں مسٹر گاندھی اور کانگریس کی سوچ یہ ہے کہ اگر خواتین ترقی پسند ہیں، تو ان کے امکانات کو ختم کر دو۔”

Continue Reading

دلی این سی آر

خاتون صحافیوں پر مبینہ حملہ پریس کی آزادی پر سنگین حملہ: شائستہ اختر

Published

on

سری نگر:جموں و کشمیر میں نیشنل لوک تانترک پارٹی (NLP) کی مہیلا مورچہ کی ریاستی صدر، شائستہ اختر نے نئی دہلی کے ساکیت پولیس اسٹیشن میں دو مسلم خاتون صحافیوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور ہراسانی کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے اس واقعے کو انتہائی تشویشناک اور جمہوری معاشرے میں ناقابلِ قبول قرار دیا۔شائستہ اختر نے ان اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا جن کے مطابق دہلی پولیس کے اہلکاروں نے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھانے والی دو خاتون صحافیوں پر مبینہ طور پر تشدد کیا اور ان کے ساتھ بدسلوکی کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کا ایسا رویہ ہرگز برداشت نہیں کیا جا سکتا اور اس معاملے کی غیر جانبدارانہ اور مقررہ مدت میں تحقیقات ہونی چاہئیں۔شائستہ اختر نے کہا، “پولیس کی ذمہ داری شہریوں کا تحفظ کرنا ہے، نہ کہ انہیں ڈرانا دھمکانا یا ان پر حملہ کرنا۔ صحافیوں کو بغیر کسی خوف، دباؤ، دھمکی یا امتیازی سلوک کے اپنے فرائض کی انجام دہی کی اجازت ہونی چاہیے۔ اگر پولیس اسٹیشن کے اندر دو خاتون صحافیوں کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، تو یہ انتہائی تشویشناک معاملہ ہے جس میں احتساب ناگزیر ہے۔”انہوں نے مزید زور دیا کہ کسی صحافی کی شناخت یا مذہب کبھی بھی امتیازی سلوک کی بنیاد نہیں بننا چاہیے۔ پریس کی آزادی جمہوریت کا بنیادی ستون ہے، اور صحافیوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ انتقامی کارروائی کے خوف کے بغیر سوالات پوچھیں اور حقائق کی رپورٹنگ کریں۔شائستہ اختر نے دہلی پولیس کے حکام اور متعلقہ اعلیٰ افسران پر زور دیا کہ وہ ان الزامات کی فوری طور پر آزادانہ تحقیقات کریں، اگر بدسلوکی ثابت ہو تو ذمہ داروں کی نشاندہی کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ متاثرہ صحافیوں کو انصاف ملے۔انہوں نے صحافتی برادری اور سول سوسائٹی سے بھی اپیل کی کہ وہ پریس کی آزادی، خواتین کے وقار اور قانون کی حکمرانی کے تحفظ کے لیے متحد رہیں۔
انہوں نے کہا، “ایک جمہوری حکومت کو سوالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ایک جمہوری پولیس فورس کو صحافیوں کا احترام کرنا چاہیے۔ اور ہر شہری—قطع نظر اس کے مذہب، جنس یا پیشے کے—قانون کے تحت وقار اور تحفظ کا حقدار ہے۔”شائستہ اختر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ نیشنل لوک تانترک پارٹی (NLP) آئینی اقدار، اظہارِ رائے کی آزادی، خواتین کے وقار اور آزاد میڈیا کے تحفظ کے لیے مضبوطی سے کھڑی ہے

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network