Connect with us

بہار

ماب لنچنگ معاملہ:اطہر حسین کے ورثاکو انصاف دلانے کیلئے جمعیۃعلماء ہند نےتشکیل دیا لیگل پینل

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہارماب لنچنگ میں مارے گئے اطہر حسین کی بیوہ کی درخواست اور جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا ارشدمدنی کی ایماپر جمعیۃعلماء قانونی امدادکمیٹی اس مقدمہ میں قانونی امدادفراہم کرنے کے لئے تیارہوچکی ہے اس مقدمہ میں وہ ایک مداخلت کارکے طورپر پٹیشن داخل کریگی اس سلسلہ میں جمعیۃعلماء ہند کی لیگل ٹیم تجربہ کار،کریمنل وکلاء کا باقاعدہ طورپر ایک پینل تشکیل دینے جارہی ہے، تاکہ ورثاکو نہ صرف یہ کہ انصاف دلایاجاسکے بلکہ قاتلوں کو ان کے کیفرکردارتک پہنچایاجاسکے۔
قابل ذکرہے کہ 6 دسمبر 2025 کو مقتول کی اہلیہ نے ایف آئی آر درج کروائی تھی جس میں، دس لوگوں کو نامزد ملزم بنایا گیاتھا اور دس سے پندرہ نا معلوم افراد کے خلاف شکایت درج کرائی گئی تھی۔اس معاملہ اب تک 11 نامزد ملزمین کی گرفتاری ہو چکی ہے،جمعیۃ علماء بہار کی جانب سے جزوی مالی مددبھی پیش کی گئی ہے اور ہر ممکن مدد کا یقین بھی دلایا گیاہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روزبہارجمعیۃعلماء کاایک وفد نوادہ کے ضلع کلکٹر اور پولس کپتان ابھینو دھامی سے مل چکاہے اورمقامی ایس پی کواس سلسلہ میں ایک میمورنڈم بھی دے چکاہے۔ڈی ایم نوادہ روی پرکاش نے اس موقع پر وفد کویہ یقین دلایا کہ مقتول کے ساتھ انصاف ہوگا یہ انتہائی غیر انسانی فعل ہے اور میں خود اس کیس پر نظر رکھ رہا ہوں۔
اس وحشیانہ واقعہ پر اپنے سخت ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا ارشدمدنی سوال کیا کہ بہارکے نالندہ میں ایک غریب پھیری والے اطہرحسین کو نام اورمذہب پوچھ کر مارڈالاگیا تواب ملک کامتعصب میڈیاچپ کیوں ہے؟ کیا اس لئے کہ مرنے والا مسلمان ہے،یہ دوہراکردارکیوں؟ انہوں نے کہا کہ ظلم ظلم ہی ہوتاہے وہ ہندویا مسلمان نہیں ہوتا،ظلم کسی پر بھی ہواگر ہم انسان ہونے کا دعوی کرتے ہیں توہمیں ہر طرح کے ظلم کے خلاف آوازاٹھانی چاہئے مولانامدنی نے کہاکہ سپریم کورٹ کی سخت شرزنس کے بعد اس طرح کے واقعات کا ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ جو لوگ ایسا کر رہے ہیں ان کو سیاسی تحفظ اور پشت پناہی حاصل ہے اس لئے ان کے حوصلے بلند ہیں، انہوں نے اس بات پر بھی سخت افسوس کا اظہارکیا کہ اطہر حسین کے قاتلوں کے خلاف پولیس نے معمولی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا جبکہ اطہر حسین اسپتال میں اپنا بیان قلم بند کرواچکاہے۔
انہوں نے کہا کہ جمعیۃعلماء ہند کے ذمہ داروں کے دباؤپر اب 302کی دفعہ جڑگئی ہے، لیکن اس سے حکومت کا چہرہ اجاگرہوگیا اوریہ بات صاف ہوگئی کہ جن کی نظرمیں اقتدارہی سب کچھ ہوان کی نظرمیں انسانی زندگی کی اب کوئی قیمت نہیں رہ گئی ہے، انہوں نے آگے کہا کہ گزشتہ نوبرسوں کے دوران دوسوسے زیادہ ماب لنچنگ کے واقعات ہوچکے ہیں اورسپریم کورٹ کے سخت رویہ کے باوجود اس کولیکر ریاستی حکومتوں کا رویہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ رہاہے انہوں نے کہا کہ ماب لنچنگ فرقہ پرستوں کی نفرت کی اس سیاست کا نتیجہ ہے جو ملک میں کھلے عام ہورہی ہے،مولانا مدنی نے اخیرمیں کہاکہ ان حالات میں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے اگر عزم مضبوط ہو تو مایوسی کے اندھیروں سے امید کی نئی شمع روشن ہو سکتی ہے کیونکہ اس ملک کی مٹی میں محبت کا خمیر شامل ہے۔

Bihar

بنکروں کی ترقی کیلئے ریاستی حکومت پُرعزم ،نالندہ کی باون بوٹی دستکاری ملک کی میراث، اسے بچانا اور بڑھانا ہم سب کی ذمہ داری: وزیر شراون کمار

Published

on

(پی این این)
نالندہ:جے ڈی یو قانون ساز پارٹی کے رہنما، بہار حکومت کے دیہی ترقی اور اطلاعات و عام رابطہ محکمہ کے وزیر شراون کمارنے آج بہار شریف کے بَسوان بگہا میں باون بوٹی کی آرائشی اشیاء بنانے میں مصروف بنکروں سے ملاقات کی۔
انہوں نے کہا کہ یہ جی آئی ٹیگ نالندہ کی پہچان اور بنکروں کی محنت کا اعزاز ہے۔ اب نالندہ کی باون بوٹی ساڑی ملک و دنیا میں اپنی خاص شناخت کے ساتھ فروخت ہوگی۔ جِیوِکا کے ذریعے تمام سرکاری پروگراموں میں انگوتر کے طور پر استعمال کر کے اس کا پرچار و نشر کر کے ترقی دی جائے گی۔ گرام شری میلوں میں دیہی ترقی کے ذریعے اسٹال لگا کر باون بوٹی کے فن کو وسعت دی جائے گی۔
باون بوٹی کی کاریگری صدیوں پرانی ہے۔ ہر ایک ساڑی میں بنکروں کی کلا اور روایت نظر آتی ہے۔ جی آئی ٹیگ ملنے سے نقل پر روک لگے گی اور بنکروں کو ان کے مصنوعات کی مناسب قیمت ملے گی۔ انہوں نے بنکروں کو یقین دلایا کہ ریاستی حکومت ان کی ترقی کے لیے پُرعزم ہے۔ مارکیٹنگ، ڈیزائن کی ترقی اور تربیت میں ہر مدد دی جائے گی۔ ای-کامرس پلیٹ فارم سے جوڑ کر ان ساڑیوں کی فروخت بڑھائی جائے گی تاکہ بنکروں کی آمدنی دوگنی ہو سکے۔
بہار کی دستکاری ہماری دھروہر(میراث، ثقافتی سرمایہ، قومی ورثہ) ہے۔ اسے بچانا اور بڑھانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ بَسوان بگہا اور نیپورہ گاؤں کے بنکر بہار کا فخر ہیں۔ حکومت ان کے ہنر کو نئی بلندیوں تک لے جائے گی۔ سابق وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار نے اس کلا کو بڑھانے اور سنوارنے کا کام کیا ہے۔ بہار کی حکومت ہر ممکن مدد کرتی رہی ہے اور آگے بھی کرتی رہے گی۔ دھروہر کو بچانے اور سنوارنے کے لیے ہماری حکومت پُرعزم ہے۔قومی سطح پر باون بوٹی کی آرائشی اشیاء کی وجہ سے ہی بَسوان بگہا کو پہچان اور عزت ملی، جس میں پدم شری مرحوم کپل دیو کامت کی سخت محنت اور لگن کا نتیجہ ہے۔
رکنِ پارلیمنٹ کوشلندر کمار نے کہا کہ یہاں کے بنکر خود کفیل بن رہے ہیں۔ حکومت کے ذریعے ہر ممکن مدد پہنچا کر بنکروں کی معاشی حالت کو مضبوط اور مستحکم کیا جائے گا۔ پارلیمنٹ میں باون بوٹی کی ترقی کی بات مضبوطی سے اٹھاؤں گا۔لاکھوں دیوی نے کہا کہ باون بوٹی کی کلا کا آغاز مرحوم کپل بابو نے کیا تھا، جس کی وجہ سے انہیں محترم صدرِ جمہوریہ کے ہاتھوں پدم شری اعزاز سے نوازا گیا۔ اب باون بوٹی کے فن کو جی آئی ٹیگ دیا گیا ہے، جس سے بنکروں کے دن پھریں گے اور ان کا خواب ساکار ہوتا نظر آ رہا ہے۔اس موقع پر بڑی تعداد میں بنکر، خواتین خود امدادی گروہ کی رکنیں، گلریز انصاری، ضلع ترجمان، ڈاکٹر دھننجے کمار، دیو کمار منگلم، رِکی کمار، پشپ راج پانڈے، سچیدانند پرساد وغیرہ موجود تھے۔

 

Continue Reading

Bihar

ملی وسماجی رہنما تھے سابق ایم ایل سی انور احمد ،ان کے سانحہ ارتحال پر امیر شریعت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی نےگہرے دکھ اور صدمے کاکیا اظہار

Published

on

(پی این این)
پھلواری شریف:بہار کے قدر آور ممتاز ملی وسیاسی شخصیت جناب انور احمد صاحب سابق ایم ایل سی کے سانحہ ارتحال پر امیر شریعت مفکر ملت حضرت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی صاحب سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر نےگہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم ایک نیک دل ،خوش اخلاق اور خد مت خلق کا جذبہ رکھنے والے ہمدرد انسان تھے ، اللہ تعالی مرحوم کی بال بال مغفرت فرمائے اور ان کے صاحبزادگان اسفر احمد و ارشد احمد وغیرھم کو صبر جمیل کی توفیق مرحمت فرمائے۔
ان کے انتقال پر ناظم امارت شرعیہ بہار ،اڈیشہ ،جھارکھنڈ ومغربی بنگال مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی نے دلی رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے ،ہر ایک کے خوشی وغم میں شریک ہوتے تھے ،وہ اپنی شرافت کے باعث ہر مکتب فکر میں عزت واحترام کی نگاہوں سے دیکھے جاتے تھے ،ان کی ہر دل عزیز ی کا منظر ان کی نمازجنازہ میں شرکت کے موقع پر دیکھاکہ بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور مرحوم کےلئے ایصال ثواب اور دعاء مغفرت کی۔
ناظم صاحب نے کہاکہ مرحوم 1978ء سے 1990 تک وارڈ کونسل کی حیثیت سے بڑی عوامی خدمت انجام دی اس کے بعد 1993ء سے 1995ء تک 15 نکاتی پروگرام کے نائب چیرمین اور1995 سے 2004 ء تک قانون ساز کونسل کے رکن کی حیثیت سے بڑے بڑے فلاحی ورفاہی کاموں کو انجام دیا۔
انہوں نے کہا کہ مرحوم کا امارت شرعیہ اور یہاں کے بزرگان دین سے بڑا گہرا اور عقیدت مندانہ تعلق تھاان کے صاحبزادے جناب ارشد احمدڈائریکٹر مدرس انٹر نیشنل اسکول اور اسفر احمد وارڈ کونسلروالد محترم کے مشن کو آگے بڑھارہے ہیں اور امارت شرعیہ کی ملی تحریکات کو قوت بخش رہے ہیں دعاء ہے کہ اللہ تعالی ان کے تما م پسمندگان کو صبر وثبات کی توفیق بخشے اور مرحوم کوجنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے ۔
حضرت امیرشریعت صاحب مدظلہ العالی کی ہدایت پر ناظم امارت شرعیہ مفتی محمد سعیدالرحمن قاسمی صاحب کی قیادت میں مولانامنہاج عالم ندوی اور مولانا محمد صابر حسین قاسمی نے نماز جنازہ میں شرکت کی،ارکان وفد نے مرحوم کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا اور تعزیتی کلمات کے ساتھ مرحوم کےلئے دعاء مغفرت کی ،قارئین سے بھی دعاء مغفرت کی درخواست ہے ۔

Continue Reading

Bihar

عوام کی امیدوں کو کچل رہی ہے حکومت: رام نریش پانڈے

Published

on

(پی این این)
چھپرہ :سی پی آئی بہار کے ریاستی سکریٹری رام نریش پانڈے نے بی جے پی حکومت پر کسانوں اور مزدوروں کے خلاف کام کرنے کا الزام لگایا ہے۔مسٹر پانڈے پیر کو سی پی آئی کے سارن ضلع کونسل کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ سیٹلائٹ ٹاؤن شپ کے نام پر غریب کسانوں کی زمین چھین کر کارپوریٹ گھرانوں کو دینے کی سازش رچی جارہی ہے۔
بہار میں امن و امان تباہ ہو رہا ہے اور تعلیم اور صحت کا نظام تباہ ہو رہا ہے۔گھپلے اور کرپشن عروج پر ہے۔بیوروکریٹس،ٹھیکیداروں اور سفید پوش حکمران سیاست دانوں کا ایک ٹولہ بہار کے خزانے کو لوٹ رہا ہے۔انہوں نے بہار کی مختلف عوامی تنظیموں کی کال پر 15 جولائی کو قانون ساز اسمبلی کے کامیاب محاصرے کی اپیل کی۔میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے سی پی آئی کے ریاستی سکریٹریٹ رکن اور سارن ضلع انچارج سریندر سوربھ نے کہا کہ بہار میں سمراٹ چودھری کی حکومت غریب بے زمین لوگوں اور سڑک پر دکانداروں کو زبردستی بے دخل کررہی ہے۔متبادل انتظام کے بغیر غریبوں کے خلاف بلڈوزر استعمال کیا جا رہا ہے۔ایک ملزم کو بہار کا وزیر تعلیم بنا کر تعلیمی ماحول کو خراب کیا جا رہا ہے۔اجلاس میں سیٹلائٹ ٹاؤن شپ پلان کو واپس لینے،کٹاؤ متاثرین کے مسائل کے حل اور ضلع کے مختلف راستوں کے سفری کرایوں کے تعین کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک قرارداد منظور کی گئی۔
شیو جی داس نے میٹنگ کی صدارت کی جبکہ ضلع سکریٹری رام بابو سنگھ،چولہن سنگھ اور ٹیچر لیڈر ودیا ساگر ودیارتھی نے اجتماع سے خطاب کیا۔ہری بلم سنگھ،سریندر ناتھ ترپاٹھی،رزاق حسین،مہندر پربھاکر،سوگریو گپتا،نریندر رائے، سریش ورما،بھوپیش بھیم،محمد شہاب الدین،سنجے کمار سنگھ،گوتم شاہ،سنگھاسن رائے، ندیم احمد،جے نارائن سنگھ،ڈاکٹر وریندر سنگھ اور بھرت رائے موجود تھے۔موقع پر ایک نئی 11 رکنی ڈسٹرکٹ ایگزیکٹو کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network