بہار
52 ویں بٹالین SSB کے زیرِ اہتمام “بارڈر یونٹی رن”پروگرام کاانعقاد
(پی این این )
ارریہ :52 ویں بٹالین SSB ارریہ نے سرحدی علاقوں میں عوامی تعاون، اتحاد اور صحت سے متعلق آگاہی کو فروغ دینے کے لئے آمباری، سکٹی، لیٹی، مجرکھ اور لیلو کھر میں ایک عظیم الشان “بارڈر یونٹی رن” کا انعقاد میگا ایونٹ BOP کواری میں ہوا۔ اس پروگرام کا انعقاد جناب نشیت کمار اجول، انڈین پولس سروس، انسپکٹر جنرل، بارڈر ہیڈ کوارٹر، SSB، پٹنہ کی رہنمائی میں کیا گیا۔ مذکورہ پروگرام میں کل 318 شرکاء نے حصہ لیا، جن میں 310 مرد اور 8 خواتین شامل تھیں۔ “بارڈر یونٹی رن” میں مقامی شہریوں کے ساتھ SSB اور پولس اہلکاروں نے بھی حصہ لیا۔ پروگرام کو صبح 7:30 بجے دہی پورہ سے جھنڈی دکھا کر روانہ کیا گیا۔
تمام شرکاء کواری تھانہ بارڈر روڈ ہوتے ہوئے BOP کواری پہنچے۔ BOP میں معزز ایم ایل اے سکٹی، شری وجے کمار منڈل، پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق مہمان خصوصی کے طور پر پر موجود تھے، جہاں کمانڈنٹ شری مہندر پرتاپ نے مہمان خصوصی اور دیگر مہمانوں کا گلدستے سے خیرمقدم کیا اور انہیں اعزاز سے نوازا۔ اس کے بعد مہمان خصوصی نے “ایک پیڑ ماں کے نام” مہم کے تحت ایک پودا لگایا۔ اس کے بعد، گولڈن کیرئیر اکیڈمی، کرساکانٹا کے فورس کے اہلکاروں اور طلباء نے منشیات سے دور رہنے کی اہمیت کو فروغ دینے، بچیوں کو “ایک بھارت شریشٹھہ بھارت” کی تعلیم دینے اور صفائی کو فروغ دینے کے لیے ثقافتی اور رنگا رنگ پروگراموں کا انعقاد ہواا۔ ڈاگ اسکواڈ نے ’’ڈاگ شو‘‘ کے ذریعے عوام میں حب الوطنی کا جذبہ پیدا کیا۔ پروگرام کے دوران فری ہیومن اینڈ ویٹرنری کیمپ کا بھی انعقاد کیا گیا۔
پروگرام کی دوسری نشست میں مختلف مقابلہ جاتی سرگرمیوں میں اول، دوم اور سوم پوزیشن حاصل کرنے والے ٹرافیاں، میڈلز اور اسناد سے نوازے گئے۔ مردوں کے زمرے میں روشن کمار نے پہلا، گنیش کمار نے دوسرا اور جنماجے پاٹھک نے تیسرا مقام حاصل کیا۔ خواتین کے زمرے میں رانی کماری نے پہلی، ویبھا کماری نے دوسری اور رانی کماری نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ اس کے علاوہ، ایس ایس بی نے تمام شرکاء میں بارڈر یونٹی رن ٹی شرٹس، کیپس، میڈلز اور سرٹیفکیٹس تقسیم کئے گئے۔
بارڈر یونٹی رن کے مقصد کی وضاحت کرتے ہوئے کمانڈنٹ نے کہا کہ یہ پروگرام سرحدی علاقے میں اعتماد، ہم آہنگی اور سلامتی کے شعور کو مضبوط کرنے کی ایک اہم کوشش ہے۔ یہ پروگرام نہ صرف کھیلوں کی حوصلہ افزائی کرے گا بلکہ سرحدی علاقے میں سیکورٹی فورسز اور عوام کے درمیان تعاون کو بھی مضبوط کرے گا۔ اس سے SSB اور سرحدی علاقے کی آبادی کے درمیان اتحاد اور اعتماد کو فروغ ملے گا۔ یہ مقامی آبادی میں صحت سے متعلق آگاہی اور فٹنیس کی اہمیت کو بھی فروغ دے گا۔ پروگرام کا اختتام قومی گیت وندے ماترم کے اجتماعی گانا اور شرکاء کے لئے ریفریشمنٹ کے ساتھ ہوا۔
اس موقع پر 52ویں بٹالین SAB کمانڈنٹ شری مہیندر پرتاپ، شری پی نوپاجاو سنگھ سیکنڈ کمانڈ آفیسر، شری ادے کمار ڈپٹی کمانڈنٹ، شری جوشی ساگر پردیپ ڈپٹی کمانڈنٹ، شری سشیل کمار ایس ڈی پی او ارریہ، شری وجے مشرا، چیف کونسلر سنگت ارریہ، ڈاکٹر سنگت ارریہ چیف کونسلر، شری ادے کمار ڈپٹی کمانڈنٹ۔ کماری آیوش میڈیکل آفیسر، ڈاکٹر سندیپ کمار ٹی وی او، شری سنجے پردھان ڈائریکٹر موہنی دیوی میموریل اسکول، شری وویک کمار ایس بی آئی ارریہ کے ساتھ دیگر فورس کے اہلکار اور گاؤں کے لوگ موجود تھے۔
Bihar
تیج پرتاپ یادو جیل سے رہا
پٹنہ:(پی این این) بہار کے سابق وزیر اور جن شکتی جنتا دل (جے جے ڈی) کے قومی صدر تیج پرتاپ یادو پٹنہ کی بیور جیل سے باہر آ گئے ہیں۔ انہیں نیٹ پیپر لیک معاملے سے متعلق طلبہ تحریک کے ایک کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔بہار بند کے دوران ان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے طلبہ کو پولیس پر حملے کے لیے اکسایا۔ عدالت نے انہیں عدالتی حراست میں بھیج دیا تھا۔ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سربراہ لالو پرساد یادو کے بڑے بیٹے تیج پرتاپ نے اپنی گرفتاری کو سیاسی سازش قرار دیا تھا۔
واضح رہے کہ دہلی میں مظاہرین کے ساتھ مرکزی حکومت کی رضامندی کے بعد بہار حکومت نے بھی نیٹ پیپر لیک تحریک سے متعلق درج مقدمات واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔تیج پرتاپ یادو کو منگل کی شام بیور جیل سے رہا کر دیا گیا۔ جیل سے باہر آتے ہی ان کے حامیوں میں جوش و خروش بڑھ گیا۔ بیور جیل کے باہر بڑی تعداد میں موجود جے جے ڈی کارکنوں نے ان کا استقبال کیا۔ اس کے بعد تیج پرتاپ یادو گاڑی میں سوار ہو کر وہاں سے روانہ ہوگئے۔تیج پرتاپ یادو کو پٹنہ پولیس نے 25 جولائی کو حراست میں لیا تھا۔ ان کے خلاف گاندھی میدان تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ گزشتہ ہفتہ کو بہار بند کے دوران انہوں نے رام غلام چوک پر احتجاج کر رہے طلبہ و طالبات کے درمیان مظاہرہ کیا تھا۔
ان پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے مظاہرین کو پولیس پر حملے کے لیے اکسایا۔
Bihar
ہم بہارکونہیں بننے دیں گے ’پولیس گردی‘ کی ریاست،آپ کو بچانے نہیں آئیں گےسمراٹ چودھری،تمام پروٹوکول کی پابندی کریں پولیس افسران ، تیجسوی یادو کاقانونی نظام اور پولیس کارروائی پر سخت برہمی کا اظہار
(پی این این)
پٹنہ: بہار کی سمراٹ چودھری حکومت نے نیٹ امتحان کے مظاہرین کے خلاف درج مقدمات واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔ اس پر ریاستی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف تیجسوی یادو نے کہا کہ حکومت نے ان کی تنبیہ اور دباؤ کے بعد ہی یہ قدم اٹھایا ہے۔
اسی کے ساتھ تیجسوی یادو نے ان افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا، جن کے حکم پر اے کے-47 سے فائرنگ کی اجازت دی گئی تھی۔ پٹنہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران افسران پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ ’’سمراٹ چودھری آپ کو بچانے نہیں آئیں گے۔‘‘
تیجسوی یادو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیوان میں طلبہ کے احتجاج کے دوران مبینہ طور پر اے کے-47 استعمال کرنے والے کانسٹیبل کو محض معطل کر دینا کافی نہیں ہے۔ اس پورے واقعے کی عدالتی نگرانی میں غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ معلوم کیا جائے کہ اے کے-47 کے استعمال کا حکم کس نے دیا تھا اور اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب مظاہرین کے خلاف مبینہ طور پر اے کے-47 کا استعمال کیا گیا ہے۔ تیجسوی یادو نے مطالبہ کیا کہ وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری واضح کریں کہ طلبہ مظاہرین کے خلاف اے کے-47 استعمال کرنے کا حکم کس نے دیا تھا، نیز پولیس نے متعدد طلبہ کے خلاف اقدامِ قتل کے مقدمات کس بنیاد پر درج کیے۔
تیجسوی یادو نے کہا، “جب ہم نے آپ کو الٹی میٹم دیا تو آپ (وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری) نے گرفتار طلبہ کی رہائی کا حکم جاری کیا۔ جب ہم نے آپ کو خبردار کیا تو آپ نے مقدمات واپس لینے کا اعلان بھی کر دیا، لیکن وہ افسران جو قصوروار ہیں، جن کی وجہ سے گولیاں چلیں اور جن کے حکم پر فائرنگ ہوئی، ان کے خلاف کیا کارروائی ہوئی؟ آپ نے گرفتاریاں تو کیں، مگر اس معاملے کی تحقیقات کا کیا نتیجہ نکلا؟”تیجسوی یادو نے مزید کہا کہ وہ آج بھی سمراٹ چودھری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعے کے ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ کسی ایک سپاہی کو قربانی کا بکرا نہ بنایا جائے، کیونکہ ایک سپاہی اتنا بااختیار نہیں ہوتا کہ وہ اپنی مرضی سے اے کے-47 سے کسی 15 سالہ بچے کے سینے پر گولی چلا دے۔ آخر یہ سب کس کے حکم پر ہوا؟ اس معاملے کی عدالتی نگرانی میں غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی، وہ خاموش نہیں بیٹھیں گے۔
اس کے بعد تیجسوی یادو نے کہا کہ وہ متعلقہ افسران کو بھی خبردار کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا، “سمراٹ چودھری کب آئیں گے اور کب چلے جائیں گے، کسی کو معلوم نہیں، لیکن وہ ان افسران کو بچانے نہیں آئیں گے۔ بہتر یہی ہے کہ افسران آئین، قواعد و ضوابط اور اپنے سرکاری پروٹوکول کی پابندی کریں۔”تیجسوی یادو نے مزید کہا کہ اب بہار میں مجرموں اور بدعنوان عناصر کو سرپرستی دینے کا سلسلہ نہیں چلے گا۔ انہوں نے کہا، “بہار جے پرکاش نارائن، کرپوری ٹھاکر اور لالو پرساد یادو کی سرزمین ہے۔ ہم اس دھرتی کو پولیس گردی کی ریاست نہیں بننے دیں گے۔‘‘
قابلِ ذکر ہے کہ ضلع سیوان میں طلبہ کے احتجاج کے دوران ابھیشیک کمار نامی ایک پولیس اہلکار اے کے-47 سے فائرنگ کرتے ہوئے نظر آیا تھا۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد شدید ہنگامہ برپا ہو گیا تھا، جس کے بعد کارروائی کرتے ہوئے ابھیشیک کمار کو معطل کر دیا گیا تھا۔
Bihar
بہار کے تمام بلاکوں میں کھولے جائیں گے ڈگری کالج، اب ریاست کے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے نہیں جانا پڑے گاباہر :سمراٹ چودھری
پٹنہ:(پی این این)بہار کے تمام اسکولوں میں اب ہفتہ کے روز نصف دن کی تعلیم ہوگی۔ اسکولوں میں ہفتہ کے دن پورے وقت پڑھائی نہیں ہوگی بلکہ صرف نصف دن تک ہی تعلیمی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔
وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری نے یہ اعلان کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ طویل عرصے سے لوگ اس کا مطالبہ کر رہے تھے۔ بہار قانون ساز اسمبلی کے مانسون اجلاس میں بھی یہ معاملہ اٹھایا گیا تھا۔ اس کے بعد وزیرِ اعلیٰ نے محکمۂ تعلیم کے افسران کو اس سلسلے میں ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت دے دی ہے۔وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ یہ فیصلہ مرکزی حکومت کی قومی تعلیمی پالیسی-2020 کے تحت کیا گیا ہے۔وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری نے منگل کے روز مونگیر ضلع کے اثر گنج میں سرکاری ڈگری کالج کا افتتاح کیا۔ اس کے بعد جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بہار کے تمام اسکولوں میں ہفتہ کے روز نصف دن کی تعلیم کا اعلان کیا۔اب ریاست کے تمام اسکول ہفتہ کے دن صرف نصف دن تک ہی چلیں گے۔ ٹفن بریک کے بعد بچوں کو چھٹی دے دی جائے گی۔ وزیرِ اعلیٰ کے اس اعلان کے بعد پروگرام میں موجود لوگوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے تالیاں بجا کر ان کا استقبال کیا۔
سمراٹ چودھری نے کہا کہ ان کی حکومت نے بہار کے تمام پرکھنڈوں (بلاکوں) میں ڈگری کالج کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاست میں اب تک 211 ڈگری کالج کھولے جا چکے ہیں۔ آج اثر گنج میں 212واں ڈگری کالج قائم کیا گیا ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ اب بہار کے تمام بی ایڈ کالجوں میں بھی ڈگری کالج کھولے جائیں گے۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ اب بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے باہر نہیں جانا پڑے گا۔ حکومت نے ماڈل اسکول کے تصور کو عملی جامہ پہنایا ہے۔ سرسوتی ودیا نکیتن قائم کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 551 مقامات پر ان اسکولوں کا آغاز ہو چکا ہے۔ آج مزید 10 مقامات پر ایسے اسکول کھولے گئے ہیں، جس کے بعد ان کی تعداد بڑھ کر 561 ہو گئی ہے۔ یہ تعداد ابھی مزید بڑھے گی۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
