Connect with us

اتر پردیش

2029میں مرکز میں ہوگی کانگریس کی سرکار:عمران مسعود

Published

on

(پی این این)
دیوبند:کانگریس پارٹی کے لیڈر اورممبر پارلیمینٹ عمران مسعود نے اپنے خطاب کے دوران یہ یاد دلایا کہ آنے والے اسمبلی الیکشن میںکانگریس پارٹی کی جانب سے ضلع کی ساتوں سیٹوں پراپنے امیدوار میدان میں اتار ے جائیں گے ۔
ناگل قصبہ میں حاجی عبداللطیف کی رہائشگاہ پرمنعقدہ ایک میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے عمران مسعود نے کہا کہ کمزور کو بے ساکھیوں کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ہم کمزور نہیں ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ عمران مسعود دوسرے لوگوں کو آگے بڑھنے نہیں دیتے وہ بتائیں کہ مسعود اختر ،نریش سینی ،مکیش چودھری اورمعاویہ علی کو ایم ایل اے کس نے بنوایا ۔انہوں نے کہا کہ ہماری خاص توجہ 2029کے پارلیمانی الیکشن پر ہے جب اس ملک میں کانگریس کی حکومت قائم ہوگی ۔عمران مسعود نے کہا کہ ایم ایل اے یا ایم پی کا کام نالی اور کھڑنجے بنوانا نہیں یہ کام مقامی میونسپل بورڈ کا ہوتا ہے۔
انہوں نے کارکنان سے کہا کہ ضلع پنچایت کا الیکشن مضبوطی سے ہی اسمبلیوں اور پارلیمینٹ کی نشستیں حاصل کی جاتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ تنظیم کو مضبوط کرنے کے لئے سنگھٹن سرجن پروگرام کے تحت یوتھ لیول تک اپنی پکڑ بنانی ہے ۔ودھان پریشد کے رکن شاہ نواز خان نے کہا کہ بھلے ہی کانگریس کی حکومت نہیں ہے لیکن اپنے لوگوں کا کام کرانے کے لئے ایم ایل اے اور ایم پی کو اپنی طاقت کے بارے میں معلوم ہونا چاہئے تبھی ان کے کام کرائے جاسکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ لکھنو ¿سے لے کر دہلی تک آپ کی آواز بلند کرنے والے آپ کے پاس ہیں اس موقع پر شاذان مسعود نے کہا کہ وہ ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو ناگل کے باشندوں کے مسائل سنا کریں گے اور ان مسائل کے حل کے لئے اقدامات بھی کریں گے ۔
اس موقع پر راغب انجم ،محمد اسلام پردھان ،محمد اکرام ،شمشاد ،سمے دین ،ماسٹرایوب ،رامپور منیہاران ،محمد اعظم ،کفیل ،ڈاکٹر عرفان اور بڑی تعداد میں پارٹی کارکنان موجود رہے ۔دریں اثنا سہارنپور میں منعقد ”سرجن سنگٹھن ورکشاپ “ میں مہمان خصوصی کے طور پر ممبرپارلیمینٹ عمران مسعود نے شرکت کی ،ورک شاپ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے تنظیم کا رول ،نوجوان کی شراکت اور سماج کی ترقی میں تعمیر ی سوچ وفکر کی اہمیت پر روشنی ڈالی ۔
کانگریسی لیڈر عمران مسعود نے کہا کہ ملک کو آگے لے جانے کے لئے تعمیری سوچ وفکر اور سماجی تنظیموں کا رول نہایت اہم ہے ،عمران مسعود نے کہا کہ موجود ہ نوجوان نسل صرف تبدیلی ہی نہیں چاہتی بلکہ وہ خود اس تبدیلی کا حصہ بننا چاہتے ہیں ۔اس پروگرام میں مختلف سماجی تنظیموں کے کارکنا ن ،اساتذہ اور طالب علموں نے بھی شرکت کی ،اس دوران منعقدہ ورک شاپ میں تنظیم کو مضبوط بنانے ،اتحاد اور باہمی تعاون قائم کرنے اور مستقبل کے لئے پالیسی مرتب کرنے پر بھی تبادلہ ¿ خیال کیا گیا ۔پروگرام کے اخیر میں سینئر کانگریسی لیڈر عمران مسعود نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ مضبوط اور طاقتور ہندوستان کی تعمیر میں اپنا سر گرم رول ادا کریں اور سماج کو بہتری کی طرف لے جائیں ۔

uttar pradesh

نہنگ سکھ بھائیوں پر حملہ کرنے والے 3ملزمان گرفتار

Published

on

دیوبند:دس یوم قبل تلہڑی بزرگ میں نہنگ سکھ سماج کے دو حقیقی بھائیوں کے ساتھ ہونے والی مارپیٹ کے معاملہ میں تین ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے ۔حراست میں لئے گئے تینوں ملزمان کو قتل کرنے کی کوشش کی جرم میں جیل بھیج دیا گیا ہے ۔واضح ہوکہ گزشتہ 7جون کو نکوڑ کے باشندہ دو حقیقی بھائی ہرکریت سنگھ اور پرم جوت سنگھ تلہیڑی بزرگ دوالینے کے لئے آئے تھے اس دوران بائک ٹکرا جانے کے تنازعہ میں ان کی کئی نوجوانوں سے تلخ کلامی ہوگئی تھی جس کے بعد تقریباً 20؍نوجوانوں نے دونوں بھائیوں کو کرکٹ کے بیٹ اور اسٹمپ سے ان پر حملہ کردیا تھا ۔جس کے نتیجہ میں دونوں بھائی بری طرح زخمی ہوگئے تھے ۔
دونوں زخمیوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ مارپیٹ کے دوران ان کی پگڑیاں اتاری گئیں اور ان کی تلواروکرپان چھیننے کی کوشش کی گئی ۔پولیس نے پرم جوت سنگھ کی تحریر پر حملہ آوروں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا تھا ،ملزمان کی گرفتاری نہ ہونے سے ناراض سکھ سماج کے لوگوں نے احتجاج بھی کئے ۔سکھ سماج کی زبردست ناراضگی اور احتجاج کے بعد ایس ایس پی سہارنپور نے اس معاملہ کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری کے لئے احکامات جاری کئے تھے ۔جس کے بعد ایس پی دیہات مینک پاٹھک ،دیو بند کے سی او ابھیتیش سنگھ اور کوتوالی انچارج کپل دیو کی مشترکہ کو ششوں سے مخبر کی اطلاع پر دیوبند پولیس کی ٹیم نے تین ملزمان مہیندر عرف منیش عرف کاکا ولد شیو کمار ،روہت ولد پون کمار اور نتن ولد روندر باشندگان تلہیڑی بزرگ ساکھن نہر کے قریب سے گرفتار کرلیا ۔پولیس کا کہنا ہیکہ ملزمان کی نشاندہی پر مارپیٹ میں استعمال ہونے والے دو کرکٹ بیٹ اور دو اسٹمپ برآمد کرلئے گئے ہیں ۔گرفتار ملزمان کے خلاف ضروری قانونی کارروائی کرنے کے بعد انہیں عدالت میں پیش کیا گیا بعد ازاں عدالتی حکم پر انہیں جیل بھیج دیا گیا ۔پولیس کا کہنا ہے کہ دیگر ملزمان کو بھی جلد گرفتار کرلیا جائے گا ۔گرفتار کرنے والے پولیس ٹیم ایس آئی لوکیش سنگھ رانا ،ایس آئی روندر کما ر ،ہیڈ کانسٹبل روندر ،وویک ،یوگیندر اور نریندر پرمشتمل تھی ۔

Continue Reading

uttar pradesh

مسجد یکمنارہ اکبری گیٹ میں جلسہ استقبال سال نو ہجری کا انعقاد

Published

on

لکھنؤ:شہر کی تاریخی ایکمنارہ مسجد اکبری گیٹ میں مرکزی جمعۃالحفّاظ کی جانب سے سالہائے گزشتہ کی طرح اس سال بھی جلسہ استقبال سال نو ھجری 1448 استاذ الحفّاظ حافظ عبدالرّشید صدر مرکزی جمعۃالحفّاظ کی سر پر ستی وقاری محمد حزقیل امام مسجد یکمنارہ کی نگرانی وسیّد محمّد اقبال کے زیر انتظام منعقد ہوا جس کا آغاز مدرسہ عالیہ فرقانیہ کے قاری محمّد ابراہیم وقاری ابوذر کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا جلسے کو خطاب کرتے ہوئے ادارۂ دارالمبلّغین کے سینئر استاذ قاری محمّد صدّیق نے کہا کہ اسلامی سال نو ھجری امام الانبیاء حضرت محمّد مصطفٰی ﷺ کی ہجرت سے مقرّر ہوا ۔
اسی لیے اس کو ہجری لکھا جاتا ہے رسول اللہؐ کی وفات کے بعد خلیفۂ دوم امیرالمؤمنین سیّدنا عمر ابن الخطّابؓ کے دور خلافت میں اسلامی سال کے سلسلہ میں حضرات صحابۂ کرامؓ کا باہم مشورہ ہوا اور رسول پاکؐ کی ھجرت سے اس کو شروع کیا گیا سیّدنا حضرت عمر فاروقؓ کے کارناموں میں سے سنّ ہجری کے تقرّر کا کارنامہ بھی شمار کیا جاتا ہے۔
قاری محمّد صدّیق نے کہا کہ مسلمانوں کو اسلامی سال یاد رکھنا چاہیے اور اپنی تحریروں میں ھجری تاریخ لکھنا چاہئے عیسوی سن اسلامی سن نہیں ھے اور ماہ محرم اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہےجو انتہائی بابرکت اور محترم ھے۔
قاری موصوف نے کہا کہ اس مبارک مہینے میں خلاف شریعت امور کو اختیار کرنا انتہائی بے دینی ہے اور حسینی کردار اختیار کر نے میں ہی فلاح ھے۔ قاری محمد طہ، وقاری محمد وصفی، نے نعت ومدح صحابہ کا منظوم نذرانۂ عقیدت پیش کیا، جلسے میں محمد معروف خاں گہنہ پیلس ،قاری،ابوبکر، ،سیّد آفاق، ارشد خان، حاجی حسین، جمّو میاں، بابو بھائی ،وغیرہ موجود تھے ، جلسے کا اختتام قاری محمّد صدّیق کی دعا پر ھوا ۔

Continue Reading

uttar pradesh

رضا لائبریری رام پور 43 ایکڑمیں ہوگی تعمیر،بنےگا عالمی معیار کا تعلیمی مرکز

Published

on

رام پور:رضا لائبریری اور میوزیم جو 1774 میں قائم کی گئ تھی وہ اب جلد ہی عالمی معیار کا تعلیمی مرکز بن جائے گا۔ یہاں دنیا بھر کی زبانیں پڑھائی جائیں گی۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے رضا لائبریری جو اس وقت رام پور قلعہ کے پانچ ایکڑ پر محیط ہےکو وسیع کیا جائے گا تاکہ قلعہ کے پورے 43 ایکڑ پر محیط ہو جائے۔مخطوطات کے علاوہ لائبریری میں پینٹنگز، خطاطی اور بہت سے دوسرے نادر خزانے بھی محفوظ ہیں۔لائبریری فن، تعلیم اور ثقافتی ورثہ کے تحفظ کے لیے ایک بین الاقوامی مرکز کے طور پر ترقی کرنے کے لیے تیار ہے۔
علم اور ثقافت کی ان متحرک روایات کو عالمی سطح پر پھیلانے اور فروغ دینے کے لئےاس سلسلے میں سینٹرل پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ (سی پی ڈبلیو ڈی) اور آئی آئی ٹی روڑکی نے لائبریری کی عمارتوں کا سیکورٹی آڈٹ کرایا ہے اور لائبریری ڈائریکٹر ڈاکٹر پشکر مشرا اور ضلع انتظامیہ کو رپورٹ پیش کی ہے۔ دو سرکاری اسکولوں کو کیمپس سے منتقل کر دیا گیا ہے۔محکمہ تعمیرات عامہ، محکمہ بجلی، محکمہ باغ بانی، اور ایل آئی یو کے دفاتر کی منتقلی کے نوٹس بھی حال ہی میں جاری کیے گئے ہیں۔محکمہ ریونیو سے نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کا عمل شروع ہو گیا ہے۔رضا لائبریری کو مرکزی وزارت ثقافت سے مالی امداد ملتی ہے۔کابینہ کی منظوری کے بعد لائبریری میں توسیع کی جائے گی۔ لائبریری کی نئی شکل اور افعال کا تفصیلی مسودہ ایک یادو دن میں جاری ہونے کی امید ہے۔
واضح رہےکہ رضا لائبریری میں 17000 مخطوطات موجود ہیں۔ 7ویں سے 19ویں صدی تک کے قرآن کے 500 سے زائد نسخے سونے سے کندہ اور مزین ہیں۔ 7ویں صدی میں اونٹ کی کھال پر ابتدائی کوفی رسم الخط میں لکھا گیا ایک منفرد قرآن، یہاں کے اہم ترین خزانوں میں سے ایک ہے۔آپ کو یاد ہوگا قرآنِ کریم کے دو ہی نسخے دنیامیں موجود ہیں۔ ایک رضا لائبریری اور دوسرا عراق میں ہے۔ رامائن کا ایک بہت ہی نایاب فارسی ترجمہ مثال کے طور پرموجود ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network