تازہ ترین
’مہاتما گاندھی ہندوستان کی روح اور گنگا جمنی تہذیب کے روشن مینار‘ارریہ میں مضمون نویسی مقابلے کا انعقاد، ہندوستان کی علمی، سیاسی وملی شخصیات نے ملک ہندوستان کو بام عروج تک پہنچانے میں اداکیا اہم کردار: مقررینپریہار میں اقلیتی ووٹر ملن تقریب کاپروقار انعقاد، جے ڈی یو رہنماؤں اور تعلیم یافتہ ووٹروں نے کی ابھشیک جھا کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنانے کی اپیلیاترا پر پابندی اور قابل اعتراض نعرے لگانے والوں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ،مسلم سیوا سنگٹھن کے وفد نے ایس پی سے کی ملاقات،ظاہر کیافرقہ وارانہ کشیدگی کا خدشہ، کارروائی نہ ہونے پر دہرادون سے سہارنپور تک ’جمہوریت بچاؤ یاترا‘ نکالنے کی وارننگ’اردو اشعار سے ہم زبان کیساتھ ادب، سلیقہ اور تربیت بھی سیکھتے ہیں‘میرٹھ میں سہ روزہ جشن سر سید کا مقابلہ بیت بازی سے شاندار اختتاماسلامیہ انٹر کالج دیوبند کی طالبہ صوفیہ ایک دن کے لئے پرنسپل بنائی گئیںپتھروں کو دے رہے ہیں آئینے کھل کر جوابسی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے کو ضمانت، نیہا بورا بھی رہا،رات بھر حراست سے رہائی کے بعد نیہا نے قانون اور انتظامیہ پر اٹھائے سوال
دیش

ہندوستان اور ویتنام کے درمیان کئی معاہدوں پر ہوئے دستخط

(پی این این)
نئی دہلی:وزیر اعظم نریندر مودی نےاعلان کیا کہ ہندوستان اور ویتنام نے دو طرفہ تجارت کو 2030 تک 25 بلین امریکی ڈالر تک بڑھانے کے لئے ایک اسٹریٹجک روڈ میپ کو باضابطہ طور پر تیار کیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور سیکٹر سے متعلق تعاون میں نمایاں توسیع ہوگی۔ یہ اعلان اس وقت ہوا جب وزیر اعظم مودی اور ویتنام کے صدر ٹو لام نے دہلی کے حیدرآباد ہاؤس میں کئی مفاہمت کی یادداشتوں (ایم او یو) کے تبادلے کا مشاہدہ کیا۔
ایک مشترکہ پریس بیان دیتے ہوئے وزیراعظم نے مارکیٹ تک رسائی اور تجارتی حجم کو بڑھانے کے لیے اٹھائے گئے مخصوص اقدامات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہہم نے آج کئی اہم فیصلے لیے ہیں تاکہ 2030 تک اپنی باہمی تجارت کو 25 بلین ڈالر تک لے جایا جا سکے۔ ہمارے ڈرگ اتھارٹیز کے درمیان مفاہمت نامے سے اب ویتنام میں ہندوستانی ادویات تک رسائی بڑھے گی۔ ہندوستانی زرعی، ماہی گیری اور جانوروں کی مصنوعات کی ویتنام کو برآمد بھی آسان ہو رہی ہے۔
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ زرعی تبادلے سے دونوں ممالک کے صارفین کے لیے جلد ہی ٹھوس نتائج برآمد ہوں گے۔ بہت جلد، ویتنام ہندوستان کے انگوروں اور اناروں کا مزہ چکھے گا، اور ہم ویتنام کا مزہ چکھیں گے۔ صرف یہی نہیں، بلکہ ہم نے سال کے آخر تک ہندوستان-آسیان تجارتی معاہدے کو اپ ڈیٹ کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ اس سے ہندوستان اور تمام آسیان ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کو نئی تحریک ملے گی۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔