بہار
گاندھی میدان میں کامیاب تاریخی اجتماع پر امیر شریعت کا پُرخلوص اظہار تشکر اور اوقاف و آئینی حقوق کے تحفظ کی جدوجہد کو جاری رکھنے کی اپیل
(پی این این)
پٹنہ: امارت شرعیہ، بہار، اڈیشہ ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال کے زیر اہتمام، امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کی قیادت میں ’’وقف بچاؤ، دستور بچاؤ‘‘ کے تاریخی اور پُرامن عوامی اجتماع میں 10 لاکھ سے زائد وقف و دستور کے بہادر محافظین نے شرکت کرکے یہ ثابت کر دیا کہ امتِ مسلمہ اپنے دین، اوقاف، اور آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے بیدار اور پُرعزم ہے۔
یہ اجتماع صرف احتجاج نہیں بلکہ ایک اجتماعی بیداری کا مظہر تھا، جس میں دیہی و شہری علاقوں سے دس لاکھ سے زائد انسانوں کا سمندر امن و وقار کے ساتھ پٹنہ پہنچا۔امیر شریعت نے تمام شرکاء، منتظمین، ملی تنظیمیں، علماء ، قائدین، نوجوان رضاکاروں، ڈاکٹروں، میزبان شہریوں، اور انتظامیہ کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہوئے فرمایا:امارت شرعیہ کے تمام ذمہ داران قضاۃ مفتیان مبلغین و کارکنان ، امارت شرعیہ کے تمام ٹرسٹیز مجلس عاملہ مجلس شوری ،ارباب حل و عقد، نقباء ، امارت شرعیہ کی تنظیموں کے ذمہ داران و ممبران ،تحفظ اوقاف و کانفرنس کی کمیٹیوں، مساجد کے ائمہ، صدور و سیکریٹریز، متعدد تعلیمی اداروں کے ذمہ داران اور رضاکاروں کا خصوصی شکریہ جنہوں نے گاؤں گاؤں، کوچہ کوچہ عوام کو بیدار کیا،رات دن محنت کی اور مثالی نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا۔
تمام ملی تنظیمات کی قیادت و کارکنان ، خانقاہوں اور تعلیمی اداروں کا شکریہ جنہوں نے متحد ہو کر اتحادِ ملت کا مظاہرہ کیا، جن میں خصوصاً:آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ،جمعیت علماء( الف )، جمعیت علماء (م)،جماعتِ اسلامی ، جمعیت اہل حدیث ، مجلس علماء خطباء امامیہ اہل تشیع ، آل انڈیا مومن کانفرنس ، مسلم مجلس مشاورت ، خانقاہ رحمانی مونگیر ، خانقاہ فردوسیہ منیر شریف ، خانقاہ دیوان شاہ ارزانی پٹنہ ،خانقاہ درویشیہ اشرفیہ گیا ، خانقاہ چشتیہ نظامیہ دانا پور پٹنہ ، خانقاہ سرکاہی شریف مظفر پور ، خانقہ عالیہ سمر قندیہ دربھنگہ ، خانقاہ نقشبندیہ مصراولیاء اورائی مظفر پور ، خانقاہ کریمیہ نقشبندیہ مجددیہ گڑہول شریف سیتامڑھی ، خانقاہ عرفانیہ ، خانقاہ پیر ڈومریا شاہ بھاگلپور ، خانقاہ شمسیہ ویشالی ، خانقاہ اخلاقیہ مظفر پور ، درگاہ حضرت منہاج الدین راستی پٹنہ ، خانقاہ ریاضیہ پٹنہ ، خانقاہ مداری اشرفی سہسرام ، خانقاہ مخدوم احمد بہار شریف ، خانقاہ تیغیہ مظفر پور ، درگاہ کا کو جہاں آباد ، خانقاہ کبیریہ شہسرام ، آستانہ حضرت بجلی شہید سہسرام ، المعہد العالی امارت شرعیہ ، دارا العلوم الاسلامیہ،مولانا منت اللہ رحمانی انسٹی ٹیوٹ ، امارت ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ ،مولانا سجاد میموریل اسپتال ، پارہ مڈیکل انسٹی ٹیوٹ ، جامعہ رحمانی مونگیر اور دیگر تمام تنظیمات، خانقاہیں و مدارس شامل ہیں۔
کانفرنس کے کنوینر مولانا احمد حسین اور ان کے تمام رفقاء کار کا شکریہ جنہوں نے لگاتار محنت کرکے پروگرام کا بہترین انتظام کیا ۔ ڈاکٹروں اور طبی عملے کی خدمات کا شکریہ جنہوں نے میڈیکل کیمپ لگا کر حاضرین کی خدمت کی اور انسانیت نوازی کی روشن مثال قائم کی۔ علماء و مشائخ، مفکرین، اور تعلیمی و سماجی قائدین کا شکریہ جنہوں نے اپنی علمی رہنمائی، فکری بصیرت اور عملی تعاون سے تحریک کو معنوی قوت عطا کی۔سیاسی و سماجی رہنما کا شکریہ جنہوں نے حق کی آواز پر لبیک کہا اور دستورِ ہند کے دفاع میں مظلوموں کا ساتھ دیا۔ پٹنہ کے مسلمان و غیر مسلم عوام کا شکریہ جنہوں نے مہمان نوازی، حسنِ اخلاق اور بھائی چارے کا شاندار مظاہرہ کیا اور شہر کو مثالی میزبان بنایا۔
امیر شریعت نےمزید کہا کہ یہ اجتماع کسی مہم کا اختتام نہیں بلکہ ایک عظیم تحریک کا نقطۂ آغاز ہے۔ اوقاف، ملت کی امانت اور ربِّ کائنات کی عطا کردہ نعمت ہیں۔ ان کا تحفظ ایک دینی و آئینی فریضہ ہے۔ آئیں! ہم سب عزم کریں کہ اپنے اپنے علاقوں میں اس شعور کو عام کریں اور پُرامن، منظم جدوجہد کو آگے بڑھائیں۔ یہ پرامن اور تاریخی اجتماع، ملک کی جمہوری روح اور مسلمانوں کے وقار کا مظہر تھا۔ حکومتِ ہند سے پرزور اپیل کی جاتی ہے کہ وہ وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کو واپس لے اور آئینی دفعات (آرٹیکل13، 14، 25، 26 اور 300-A) کا احترام کرتے ہوئے ملتِ اسلامیہ کے جائز خدشات کو سنجیدگی سے سنے۔
Bihar
کسانوں کی زرخیز زمین زبردستی چھین رہی ہے حکومت،روہنی اچاریہ نے سیٹلائٹ ٹاؤن شپ پراٹھائے سوال، سمراٹ حکومت کو گھیرا
(پی این این)
پٹنہ:راشٹریہ جنتا دل کے سربراہ لالو پرساد یادو کی بیٹی روہنی آچاریہ نے بہار کی سمراٹ چودھری کی حکومت کو کسان مخالف اور کارپوریٹ گھرانوں کی حامی قرار دیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا ہے کہ حکومت سیٹلائٹ ٹاؤن شپ منصوبے کے نام پر کسانوں کی قابلِ کاشت اور زرخیز زمین زبردستی لے رہی ہے۔ اس سے سبز علاقوں کو نقصان پہنچے گا اور نجی کمپنیوں و بلڈروں کو فائدہ پہنچے گا۔ حکومت کے اس اقدام سے ماحولیات کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
سارن لوک سبھا کی سابق امیدوار ڈاکٹر روہنی اچاریہ نے ریاستی حکومت پر بہار میں مجوزہ سیٹلائٹ ٹاؤن شپ پروجیکٹ کے سلسلے میں کسانوں کے مفادات کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا ہے۔انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں کی کثیر فصلی اور زرخیز زرعی اراضی کا ٹاؤن شپ کے نام پر حصول انتہائی تشویشناک ہے۔یہ کسانوں کے لیے سماجی اور معاشی بحران کا باعث بن سکتا ہے۔
روہنی آچاریہ نے جمعرات کو سوشل میڈیا کے ذریعے سنگاپور سے بہار حکومت کو نشانہ بنایا۔ اپنے ایکس ہینڈل پر جاری ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ بہار میں سیٹلائٹ ٹاؤن شپ منصوبے کے تحت کسانوں کی قابلِ کاشت زمین کے حصول سے کاشت کاروں کو متعدد سماجی اور معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بہار جیسے زرعی ریاست میں سیٹلائٹ ٹاؤن شپ کے نام پر کثیر فصل والی اور زرخیز زمین زبردستی حاصل کی جا رہی ہے۔ اس سے ریاست کی غذائی سلامتی اور زراعت پر مبنی معیشت پر منفی اثر پڑنے والا ہے۔روہنی آچاریہ کے مطابق، زمین ایک کسان خاندان کے لیے نسل در نسل روزگار اور آمدنی کا ذریعہ ہوتی ہے۔ سمراٹ حکومت کی جانب سے کسانوں کو اپنی زمین دینے پر مجبور کرنا براہِ راست ان کے لیے روزگار اور معاش کا بحران پیدا کرنے کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ چھوٹے اور معمولی کسانوں کے پاس آمدنی کا واحد ذریعہ ان کی زمین ہوتی ہے۔ زمین چھن جانے سے وہ اپنی آبائی روزی روٹی سے محروم ہو جاتے ہیں اور انہیں مزدوری کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔
وہیںآر جے ڈی کے سابق ترجمان ہرے لال یادو نے روہنی کے حوالے سے کہا کہ بہار ایک زرعی ریاست ہے،جہاں ایک بڑی آبادی اپنی روزی روٹی کے لیے زراعت پر منحصر ہے۔لہٰذا زرخیز زرعی زمین کا حصول ریاست کی غذائی تحفظ کے ساتھ ساتھ زراعت پر مبنی معیشت پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔آچاریہ نے کہا کہ کسانوں کے لیے زمین صرف جائیداد نہیں ہے بلکہ نسلوں کی روزی روٹی اور آمدنی کا بنیادی ذریعہ ہے۔چھوٹے اور معمولی کسانوں کے پاس آمدنی کا ایک پائیدار ذریعہ نہیں ہے۔ان کی زمین کھونے سے ان کے روزگار اور خاندان کے ذریعہ معاش کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھاتے ہوئے کسانوں کی رضامندی،ان کے مفادات اور مناسب بحالی اور معاوضے کے انتظامات کو ترجیح دینی چاہیے۔کوئی بھی ترقیاتی منصوبہ جو کسانوں کو ان کی آبائی زمین سے محروم کرتا ہے ان کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔انہوں نے ریاستی حکومت پر زور دیا کہ وہ کسانوں کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے سیٹلائٹ ٹاؤن شپ پروجیکٹ کے لیے زمین کے حصول کے عمل پر دوبارہ غور کرے۔
Bihar
سیتامڑھی: اساتذہ کے اہل خانہ کو ملاسیلری پیکیج کا فائدہ،اسکیم کے تعلق سے سرکاری ٹیچروں میں خوشی کا ماحول
(پی این این)
سیتامڑھی:اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی مرکزی برانچ ڈمرا میں چیف برانچ منیجر نیرج کمار نے پرائمری ٹیچرس ویلفیئر ایسوسی ایشن کے ریاستی صدر ششی رنجن سمن کی موجودگی میں ایک متوفی معزز استاد کے بیٹے پریتم جیت کمار کو مالی امداد فراہم کی۔
یہ رقم ایس بی آئی لائف کی ٹرم انشورنس کے تحت ریاستی حکومت کی تنخواہ پیکیج اسکیم کے تحت متوفی استاد ونود راوت کی بیوی پونم دیوی کے اکاؤنٹ میں 10 لاکھ روپے منتقل کیے گئے تھے۔معلوم ہوا ہے کہ ونود راوت نان پور بلاک کے کوئلی پرائمری اسکول میں ایک ممتاز استاد کے طور پر کام کرتے تھے۔ ان کا 12 جون 2026 کو اچانک انتقال ہوگیا۔
برانچ منیجر نیرج کمار نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی اسٹیٹ گورنمنٹ سیلری پیکج اسکیم خاص طور پر سرکاری ملازمین کے لیے ہے۔ اس اسکیم کے تحت اساتذہ کے قدرتی موت پر ان کے زیر کفالت خاندان کو 10 لاکھ روپے فراہم کیے جاتے ہیں۔
ریاستی صدر مسٹر سمن نے کہا کہ ایس بی آئی کے تنخواہ پیکیج کے تحت آنے والے اساتذہ کو 2025 سے ٹرم انسورنش کے تحت حادثاتی موت پر ایک کروڑ اور قدرتی موت پر 10 لاکھ کی رقم اس گورنمنٹ اساتذہ کے زیر کفالت اہل خانہ کو مذکورہ رقم دینے کا پروویژن ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2020 میں میری پہل پر موجودہ ممبر پارلیمنٹ اور اس وقت کے قانون سازکونسل کے رکن جناب دیویش چندر ٹھاکر کی کوشش سے اس وقت کے ڈائریکٹر پرائمری ایجوکیشن رنجیت کمار سنگھ سے بات کر سیتامڑھی، شیوہر، ویشالی سمیت 20 اضلاع میں گورنمنٹ اساتذہ کی تنخواہ کی ادائیگی ایس بی آئی بینک سے کرایا۔ جس اسکیم سے اساتذہ اور ان کے زیر کفالت اہل خانہ بڑی تعداد میں مستفید ہو رہے ہیں۔
Bihar
ارریہ:ڈی ایم کی ماڈل اسکولوں کے ہیڈ ماسٹروںکے ساتھ میٹنگ،ضلع مجسٹریٹ نے اسکولوں میں پڑھائی کے ساتھ ساتھ بچوں کی ہمہ جہت ترقی کے حوالے سے دیں ضروری ہدایات
(پی این این)
ارریہ:ضلع مجسٹریٹ ارریہ مسٹر ونود دوہن کی صدارت میں ضلع کے ماڈل اسکولوں کے پرنسپلوں اور اساتذہ کے ساتھ ایک میٹنگ منعقد ہوئی۔ میٹنگ میں اسکولوں میں تعلیمی معیار، طلباء کی ہمہ جہت ترقی اور تدریسی نظام کے مؤثر نفاذ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کو ہدایت کی گئی کہ وہ ماڈل اسکولوں میں معیاری تعلیم کو یقینی بنائیں اور 100 فیصد بچے کی کامیابی کے حصول کے لئے کام کریں۔ ہر استاد کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے مضمون کے لئے سبق کے منصوبے تیار کریں، نصاب کو وقت پر مکمل کریں، اور طلباء کی سیکھنے کی پیش رفت کا باقاعدگی سے جائزہ لیں۔
انہوں نے اسکولوں کو ہفتہ وار امتحانات منعقد کرنے، نتائج کا جائزہ لینے اور کمزور طلبہ کو ضروری اضافی تعلیمی مدد فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے طلباء اور والدین کے درمیان بہتر رابطے کو فروغ دینے کے لیے باقاعدگی سے والدین اور اساتذہ کے اجلاس منعقد کرنے کی خصوصی ہدایات بھی جاری کیں۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے اسکولوں میں لیبارٹریوں کے موثر اور باقاعدہ استعمال پر زور دیا، تاکہ طلباء ہینڈ آن سرگرمیوں کے ذریعے مضامین کو بہتر طریقے سے سمجھ سکیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں کی نشوونما صرف ماہرین تعلیم تک محدود نہیں ہے۔ ان کی ذہنی و جسمانی نشوونما کے لیے سکولوں میں کھیلوں اور دیگر مقابلوں کا باقاعدگی سے انعقاد کیا جائے۔ اس میٹنگ میں اساتذہ کے کام کی مؤثر نگرانی کے لیے مضمون اور کلاس کی بنیاد پر اساتذہ کی رینکنگ تیار کرنے کی بھی ہدایات دی گئیں۔ جس کے ذریعے طلباء کی تعلیمی کارکردگی، امتحان کے نتائج اور تدریسی کام کے معیار کا جائزہ لیا جائے گا۔
ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کو واضح ہدایات دی گئیں کہ اگر کوئی استاداسکول کے اوقات میں کوچنگ چلاتے ہوئے یا کوچنگ انسٹی ٹیوٹ سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث پائے گئےتو ان کے خلاف قواعد کے مطابق کارروائی کی جائے۔ انہوں نے تمام ہیڈ ماسٹرز اور اساتذہ کو ہدایت کی کہ وہ اسکول میں نظم و ضبط، باقاعدگی اور معیاری تدریسی نظام کو یقینی بنائیں۔
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
بہار9 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
