تازہ ترین
سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں کیا جائیگا اردو ٹی ای ٹی امیدواروں کا مقدمہ دائرارریہ: سدبھاونا منچ کے اراکین نے مختلف درگا پوجا پنڈالوں کاکیا دورہ، باہمی محبت اور بھائی چارے کا دیا پیغام،وسرجن میں شامل ہونے والے افراد کا استقبال اور کیا جائے گا اعزازسرسید احمد خاں نے قوم کو تعلیم کی اہمیت سے کرایاروشناس ،اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے زیرِ اہتمام یومِ سرسید کی پر تقریب کا انعقادوائس چانسلر نعیمہ خاتون کے ہاتھوں دس کتابوں کا اجرا ،یوم سر سید پر سر سید اکیڈمی کی جانب سےتقریب رسم اجرا کا انعقاددھام پور میں جشنِ سرسید تقریب کا انعقاد، عصری علوم کے حصول پرزور،سرسید احمد خاں کی خدمات کوپروقار اور شاندار انداز میںپیش کیاگیا خراجِ عقیدت5 افراد کی موت کے معاملے میں بہن، بہنوئی سمیت تین گرفتاردہلی حکومت جمنا کو صاف کرنے کے لیےکر رہی ہے کام : سی ایم ریکھاای رکشا کو محدود کرنے کے بارے میں حکومت کا غور
بہار

عاشورہ کے روز ے کااہتمام کریں اورامن وامان برقرار رکھیں :مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی

(پی این این)
پھلواری شریف :امارت شرعیہ بہار،اڈیشہ و جھارکھنڈ کے قائم مقام ناظم مولانا مفتی محمد سعیدالرحمن قاسمی نے اپنے اخباری بیان میں کہا کہ عربی سال کا پہلا مہینہ محرم الحرام بڑی عظمتوں کا حامل مہینہ ہے ،اس مہینہ کی دسویںتاریخ کو روزہ رکھنے کی بڑی فضیلت آئی ہے ،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عاشورہ محرم کا روزہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے ،اس لئے مسلمانوں کو دسویں محرم کو روزہ رکھنا چاہیے ؛البتہ یہودیوں کی مشابہت سے بچنے کے لئے دس محرم کے روزہ کے ساتھ ایک روزہ قبل یا بعد یعنی نویں یا گیارہویں کا روزہ ملا کر رکھیں ،بعض روایتوں میں آتا ہے جو شخص عاشورہ کے دن اپنے اہل خانہ پر نفقہ کی وسعت کرے گا تو اللہ تعالیٰ پورے سال اس کے یہاں رزق میں فراخی عطا فرمائیں گے ،اس لئے ہر مسلمان کو ان ایام کے روزوں کا اہتمام کرنا چاہیے اور غیر ضروری خرافات سے گریز کرنا چاہیے ،اس ماہ کی ہی دس تاریخ تھی جس میں معرکہ کربلا پیش آیا ،حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ،یہ شہادت ہمیں پیغام دیتی ہے کہ باطل طاقتوں کے سائے میں سرنگوں نہیں ہونا ہے ،حالات چاہے جس قدر بدل جائیں ؛لیکن سچائی اور انسانیت کا جھنڈا سرنگوں نہ ہونے دیں۔
قائم مقام ناظم صاحب نے کہا کہ دسویں محرم کو ذکر و عبادت میں گذاریں ،بھائی چارگی اور محبت کا پیغام سنائیں اور اپنے معاشرہ کو امن و سکون کا گہوارہ بنا کر رکھیں ،ہر حال میں امن کو بحال رکھیںاور اشتعال انگیزی سے پرہیز کریں ،ریاستی حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ شرپسند عناصر کی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھے،ایسے مقامات جہاں میلے ٹھیلے لگتے ہیں وہاں چوکسی کو بڑھائیں تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ رو نما نہ ہو،ساتھ ہی ہم امن پسند شہریوں سے بھی درخواست کرتے ہیں کہ وہ فرقہ پرست عناصر کو ان کے ناپاک منصوبوں میں کامیاب نہ ہونے دیں ،جو لوگ اشتعال انگیز نعرے لگا کرخراب کرتے ہیں ،ان پر پہلے سے لگام لگائیں اورامن وامان قائم رکھنے میں انتظامیہ کی مدد کریں۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔