تازہ ترین
ایم ایل سی انتخابی نتائج پر جے ڈی یو میں کشمکش، منعقدہ جائزہ میٹنگ میں جے ڈی یوکی تمام ناراض لیڈران کو منانے اوراسے مطمئن کرکے معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوششانکاؤنٹر کلچر کو فروغ دے کر آئین کی خلاف ورزی کر رہی ہے سمراٹ حکومت، منیر انکاؤنٹر پر میسا بھارتی کے بعد روہنی آچاریہ بھی سرگرم، بہار سرکارکو بنایا نشانہیونانی طب کے فروغ کے لیے جدید تحقیق اور قدیم طبی روایات کا امتزاج ضروری’کوئی بھی اہل شہری ووٹر لسٹ میں نام درج کرانے سے نہ رہے محروم‘، ارریہ میں خصوصی سمری ریویژن پروگرام کے حوالے سے تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ میٹنگ منعقدپریاگ راج میں 250 کروڑ روپے کا زیورات کا کاروباراے ایم یو کے عبداللہ اسکول میں تقسیم انعامات تقریب کا انعقاددہلی فسادات: کرکرڈوما کورٹ سے چھ مسلمان باعزت بریکرایہ دار ہیں سب گھر بدلتے رہتے ہیں
بہار

AISA کابہار میں ڈومیسائل پالیسی نافذ کرنے کامطالبہ

(پی این این)
چھپرہ :۔AISA کے لیڈروں نے کہا ہے کہ بہار میں ڈومیسائل پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے دوسری ریاستوں کے طلباء بہار کی نوکریوں میں شامل ہو کر بہار کے طلباء کو محروم کر دیتے ہیں۔جس کی وجہ سے بہار کے طلباء نوکریوں سے محروم ہوتے نظر آرہے ہیں۔بہار میں اساتذہ کی بھرتی میں ڈومیسائل نہ ہونے کی وجہ سے لاکھوں طلباء دوسری ریاستوں سے آکر بہار میں کام کر رہے ہیں۔جب کہ بہار کے طلباء جب دوسری ریاستوں میں جاتے ہیں تو وہاں کی ڈومیسائل پالیسی کی وجہ سے محروم رہ جاتے ہیں۔مثال کے طور پر جھارکھنڈ،اتر پردیش،گجرات،تلنگانہ،مغربی بنگال جیسی ریاستوں میں ڈومیسائل پالیسی لاگو ہے۔جس کی وجہ سے مقامی طلبہ کو زیادہ سے زیادہ مواقع ملتے ہیں۔اس لیے طلبہ تنظیم AISA احتجاجی مارچ کے ذریعے مطالبہ کرتی ہے کہ بہار میں 90 فیصد ڈومیسائل پالیسی نافذ کی جائے۔
اس کے ساتھ ہی بہار میں الیکشن کمیشن کی طرف سے ووٹر لسٹ کی دوبارہ نظر ثانی کرائی جا رہی ہے۔الیکشن کے عین قبل ایسا کرنا ناگزیر معلوم ہوتا ہے۔الیکشن کمیشن نے اس سنگین مسئلے پر پہلے غور کیوں نہیں کیا۔الیکشن کے وقت ووٹرز کا معائنہ کیوں۔سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا اتنی بڑی آبادی والے ملک میں انتخابات کے قبل صرف تین ماہ کے اندر تمام ووٹرز کی شناخت کو یقینی بنانا ممکن ہو سکے گا۔وہ بھی مکمل شفافیت کے ساتھ اور اگر تمام ووٹرز کو ووٹر لسٹ میں شامل نہیں کیا گیا تو ملک کے عوام اپنے سب سے بڑے جمہوری حق یعنی ووٹ ڈالنے سے محروم ہو جائیں گے۔اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ ووٹرز کو محروم کرنے کی سازش ہے۔اس کے خلاف 7 جولائی کو چھپرہ میں ایک احتجاجی مارچ نکالا جائے گا۔جس میں ہم چھپرہ کے تمام انصاف پسند،جمہوریت پر یقین رکھنے والے ساتھیوں سے اپیل کریں گے کہ وہ ان پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے آگے آئیں اور بہار کو ترقی یافتہ بنانے کا عہد کریں۔اس احتجاجی مارچ کی قیادت وکاس پاسوان،ہمانشو،ابھے رانی،پریانشو ضلع صدر کنال کوشک اور آئیسا کے ضلع سکریٹری دیپانکر مشرا کریں گے۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔