تازہ ترین
مظفرپور میں مفت طبی کیمپ کا انعقاد،ماہر ڈاکٹروں نے دی صحت سے متعلق رہنمائی،سیوا ٹرسٹ کی پہل، بچوں اور خواتین سمیت مختلف امراض کے مریضوں کو ملی طبی سہولت، مفت ادویات بھی تقسیمسپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں کیا جائیگا اردو ٹی ای ٹی امیدواروں کا مقدمہ دائرارریہ: سدبھاونا منچ کے اراکین نے مختلف درگا پوجا پنڈالوں کاکیا دورہ، باہمی محبت اور بھائی چارے کا دیا پیغام،وسرجن میں شامل ہونے والے افراد کا استقبال اور کیا جائے گا اعزازسرسید احمد خاں نے قوم کو تعلیم کی اہمیت سے کرایاروشناس ،اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے زیرِ اہتمام یومِ سرسید کی پر تقریب کا انعقادوائس چانسلر نعیمہ خاتون کے ہاتھوں دس کتابوں کا اجرا ،یوم سر سید پر سر سید اکیڈمی کی جانب سےتقریب رسم اجرا کا انعقاددھام پور میں جشنِ سرسید تقریب کا انعقاد، عصری علوم کے حصول پرزور،سرسید احمد خاں کی خدمات کوپروقار اور شاندار انداز میںپیش کیاگیا خراجِ عقیدت5 افراد کی موت کے معاملے میں بہن، بہنوئی سمیت تین گرفتاردہلی حکومت جمنا کو صاف کرنے کے لیےکر رہی ہے کام : سی ایم ریکھا
بہار

AISA کابہار میں ڈومیسائل پالیسی نافذ کرنے کامطالبہ

(پی این این)
چھپرہ :۔AISA کے لیڈروں نے کہا ہے کہ بہار میں ڈومیسائل پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے دوسری ریاستوں کے طلباء بہار کی نوکریوں میں شامل ہو کر بہار کے طلباء کو محروم کر دیتے ہیں۔جس کی وجہ سے بہار کے طلباء نوکریوں سے محروم ہوتے نظر آرہے ہیں۔بہار میں اساتذہ کی بھرتی میں ڈومیسائل نہ ہونے کی وجہ سے لاکھوں طلباء دوسری ریاستوں سے آکر بہار میں کام کر رہے ہیں۔جب کہ بہار کے طلباء جب دوسری ریاستوں میں جاتے ہیں تو وہاں کی ڈومیسائل پالیسی کی وجہ سے محروم رہ جاتے ہیں۔مثال کے طور پر جھارکھنڈ،اتر پردیش،گجرات،تلنگانہ،مغربی بنگال جیسی ریاستوں میں ڈومیسائل پالیسی لاگو ہے۔جس کی وجہ سے مقامی طلبہ کو زیادہ سے زیادہ مواقع ملتے ہیں۔اس لیے طلبہ تنظیم AISA احتجاجی مارچ کے ذریعے مطالبہ کرتی ہے کہ بہار میں 90 فیصد ڈومیسائل پالیسی نافذ کی جائے۔
اس کے ساتھ ہی بہار میں الیکشن کمیشن کی طرف سے ووٹر لسٹ کی دوبارہ نظر ثانی کرائی جا رہی ہے۔الیکشن کے عین قبل ایسا کرنا ناگزیر معلوم ہوتا ہے۔الیکشن کمیشن نے اس سنگین مسئلے پر پہلے غور کیوں نہیں کیا۔الیکشن کے وقت ووٹرز کا معائنہ کیوں۔سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا اتنی بڑی آبادی والے ملک میں انتخابات کے قبل صرف تین ماہ کے اندر تمام ووٹرز کی شناخت کو یقینی بنانا ممکن ہو سکے گا۔وہ بھی مکمل شفافیت کے ساتھ اور اگر تمام ووٹرز کو ووٹر لسٹ میں شامل نہیں کیا گیا تو ملک کے عوام اپنے سب سے بڑے جمہوری حق یعنی ووٹ ڈالنے سے محروم ہو جائیں گے۔اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ ووٹرز کو محروم کرنے کی سازش ہے۔اس کے خلاف 7 جولائی کو چھپرہ میں ایک احتجاجی مارچ نکالا جائے گا۔جس میں ہم چھپرہ کے تمام انصاف پسند،جمہوریت پر یقین رکھنے والے ساتھیوں سے اپیل کریں گے کہ وہ ان پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے آگے آئیں اور بہار کو ترقی یافتہ بنانے کا عہد کریں۔اس احتجاجی مارچ کی قیادت وکاس پاسوان،ہمانشو،ابھے رانی،پریانشو ضلع صدر کنال کوشک اور آئیسا کے ضلع سکریٹری دیپانکر مشرا کریں گے۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔