تازہ ترین
ایم ایل سی انتخابی نتائج پر جے ڈی یو میں کشمکش، منعقدہ جائزہ میٹنگ میں جے ڈی یوکی تمام ناراض لیڈران کو منانے اوراسے مطمئن کرکے معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوششانکاؤنٹر کلچر کو فروغ دے کر آئین کی خلاف ورزی کر رہی ہے سمراٹ حکومت، منیر انکاؤنٹر پر میسا بھارتی کے بعد روہنی آچاریہ بھی سرگرم، بہار سرکارکو بنایا نشانہیونانی طب کے فروغ کے لیے جدید تحقیق اور قدیم طبی روایات کا امتزاج ضروری’کوئی بھی اہل شہری ووٹر لسٹ میں نام درج کرانے سے نہ رہے محروم‘، ارریہ میں خصوصی سمری ریویژن پروگرام کے حوالے سے تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ میٹنگ منعقدپریاگ راج میں 250 کروڑ روپے کا زیورات کا کاروباراے ایم یو کے عبداللہ اسکول میں تقسیم انعامات تقریب کا انعقاددہلی فسادات: کرکرڈوما کورٹ سے چھ مسلمان باعزت بریکرایہ دار ہیں سب گھر بدلتے رہتے ہیں
دلی این سی آر

کلاس روم گھوٹالہ: سسودیا سے 3 گھنٹے سے زائداے سی بی کی پوچھ گچھ

(پی این این)
نئی دہلی :دہلی کے سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا سے جمعہ کے روز انسدادِ بدعنوانی شاخ نے دہلی کے سرکاری اسکولوں میں کلاس رومز کی تعمیر سے متعلق مبینہ بدعنوانی کے معاملے میں تین گھنٹے سے زائد وقت تک پوچھ گچھ کی۔ یہ معلومات حکام نے فراہم کیں۔ انسدادِ بدعنوانی شاخ نے دہلی کے سرکاری اسکولوں میں کلاس رومز کی تعمیر میں مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے میں عام آدمی پارٹی کے لیڈران منیش سسودیا اور ستیندر جین کو طلب کیا تھا۔
ستیندر جین 6 جون کو ایجنسی کے سامنے پیش ہوئے۔دہلی کے سرکاری اسکولوں میں 12,000 سے زیادہ کلاس رومز یا نیم مستقل ڈھانچے کی تعمیر میں 2,000 کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کی بنیاد پر 30 اپریل کو اے سی بی کی جانب سے ایف آئی آر درج کرنے کے بعد یہ سمن جاری کیا گیا تھا۔اے سی بی دفتر جانے سے پہلے نامہ نگاروں سے بات چیت میں سسودیا نے بی جے پی پر سیاسی محرکات کی وجہ سے تحقیقاتی ایجنسیوں کا غلط استعمال کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کی بی جے پی حکومت ہر معاملے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا، “دہلی میں عظیم اسکول بنائے گئے اور اچھی تعلیم دی گئی۔ دہلی میں تعلیم کے میدان میں بہت اچھا کام کیا گیا، جسے پورا ملک جانتا ہے، لیکن بی جے پی نے سیاست سے متاثر ہوکر اپنی ایجنسی کا غلط استعمال کیا اور اس معاملے میں ایف آئی آر درج کروائی اور پھر آج اے سی بی نے مجھے بلایا، میں اس معاملے کو اے سی بی کے سامنے رکھوں گا، لیکن میں کہنا چاہتا ہوں کہ یہ مکمل طور پر سیاسی محرک ہے۔”
انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے تمام ایجنسیوں کا غلط استعمال کیا اور پچھلے 10 سالوں میں ہمارے ہر لیڈر کی پوری زندگی تلاش کی، لیکن انہیں کچھ نہیں ملا۔ ایجنسیاں صرف اور صرف جعلی ایف آئی آر درج کرتی ہیں بعد میں کچھ نہیں نکلتا۔ اس معاملے میں بھی ایسا ہی ہونے جا رہا ہے۔اے اے پی لیڈر نے کہا کہ میں آپ کے نوٹس میں لانا چاہتا ہوں کہ بی جے پی ایم پی منوج تیواری نے ان پر یہ الزام لگایا تھا اور جب میں نے ان کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا تو وہ ابھی تک ضمانت پر آزاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے اس طرح کے مقدمات درج کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جب سے دہلی میں بی جے پی کی حکومت آئی ہے، بار بار بجلی کی کٹوتی ہورہی ہے، پرائیویٹ اسکول من مانی فیسیں وصول کررہے ہیں، سڑکوں کی حالت خراب ہے اور ایک دن کی بارش میں راجدھانی میں پانی جمع ہوگیا ہے۔
دریں اثنا، دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے جمعہ کو کہا کہ ‘آپ’ لیڈروں کو اپنے کیے کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ ریکھا گپتا نے پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو بھی نشانہ بنایا جب ‘آپ’ لیڈر منیش سسودیا کو کلاس روم اسکام معاملے میں دہلی اے سی بی کی طرف سے پوچھ گچھ کے لیے بلایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا، “جلد ہی ان سب کو عدالت میں پیش ہونا پڑے گا۔ اب اروند کیجریوال کو بھی پنجاب سے دہلی واپس آنا پڑے گا۔”‘آپ’ لیڈروں کو بھگوڑا بتاتے ہوئے، انہوں نے کہا، “دہلی کے لوگوں کو ایسے لیڈروں کی ضرورت نہیں ہے۔ جو کچھ انہوں نے کیا ہے اس کی قیمت انہیں بھگتنی پڑے گی۔”منیش سسودیا نے چوری کی ہے: پرویش ورمااے سی بی کے آپ لیڈر منیش سسودیا کو طلب کرنے پر دہلی کے وزیر پرویش ورما نے کہا، “منیش سسودیا نے چوری کی ہے، اس نے تعلیم کے نام پر بہت بڑا گھوٹالہ کیا ہے سچ جلد سامنے آجائے گا۔ دیکھتے ہیں منیش سسودیا کتنے کیسوں میں جیل جاتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔