نئی دہلی :آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) کی صدر نیہا بورا نے دہلی پولیس کے نوٹس کے خلاف دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ نیہا بورا کا دعویٰ ہے کہ نئی دہلی ڈسٹرکٹ پولیس کی طرف سے جاری کردہ نوٹس میں انہیں 19 اکتوبر کو خصوصی ایگزیکٹو مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہونے اور تفتیش کے دوران امن برقرار رکھنے کے کیلے 10, 000 کے ذاتی بانڈ پر دستخط کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ نیہا بورا کا یہ اقدام ایسے وقت میں آیا ہے جب سی ای سی کے خلاف احتجاج جاری رکھنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔پی ٹی آئی کی ایک رپورٹ کے مطابق، نیہا بورا نے پیس بانڈ (امن برقرار رکھنے کے لیے ایک بانڈ) سے متعلق دہلی پولیس کے نوٹس کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ نیہا بورا کا دعویٰ ہے کہ دہلی پولیس نے ان سے پیس بانڈ (امن برقرار رکھنے کے لیے ایک بانڈ) جمع کرانے کو کہا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ نیہا بورا اس معاملے میں فوری سماعت کی درخواست کر سکتی ہیں۔دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ نوٹس 17 اکتوبر کا ہے۔ یہ نوٹس نئی دہلی ڈسٹرکٹ پولیس نے 18 اکتوبر کو جاری کیا تھا۔ اس میں نیہا بورا کو پیر 19 اکتوبر کو اسپیشل ایگزیکٹو مجسٹریٹ (SEM) کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی تھی۔ اس نوٹس کے مطابق اسے تفتیش کے دوران امن برقرار رکھنے کے لیے ضمانت فراہم کرنا ہوگی۔ نیہا بورا اور AISA کا کہنا ہے کہ نوٹس پہلی نظر میں مبہم ہے۔ یہ آئین کے آرٹیکل 19 اور 21 کی خلاف ورزی کرتا ہے، جو آزادی اظہار، زندگی کے حق اور شخصی آزادی کی ضمانت دیتے ہیں۔ نیہا بورا نے دلیل دی کہ نوٹس حقیقت میں غلط ہے۔ نیہا بورا اور AISA کی قانونی ٹیم دہلی ہائی کورٹ میں فوری سماعت کا ارادہ رکھتی ہے۔
