Connect with us

Bihar

منوج کمار ٹھاکر قتل کیس کا 6 گھنٹے میں انکشاف، ملزم گرفتار

Published

on

دربھنگہ : دربھنگہ پولیس نے قتل کے ایک سنسنی خیز مقدمے کا صرف چھ گھنٹے کے اندر کامیاب انکشاف کرتے ہوئے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا۔ دیہی پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) ساکشی کماری نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ قتل کی واردات رقم کے لین دین کے تنازع کے باعث انجام دی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ 14 جولائی کی صبح تقریباً 7:35 بجے اطلاع ملی کہ سکت پور تھانہ علاقے کے اُجیان کنک پور باشندہ منوج کمار ٹھاکر عرف لادین (38) کی اُجیان کالی مندر کے قریب رات کے وقت نامعلوم شخص نے قتل کر دیا ہے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی، لاش کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے دربھنگہ میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل (ڈی ایم سی ایچ) روانہ کیا، جبکہ فارنسک سائنس لیبارٹری (ایف ایس ایل) کی ٹیم نے جائے وقوع سے اہم شواہد اکٹھا کیے۔
متوفی کے بھائی سنتوش کمار کی تحریری شکایت پر سکت پور تھانہ کاند نمبر 93/26 درج کرتے ہوئے بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعہ 103(1) کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا اور فوری طور پر تفتیش شروع کر دی گئی۔
تحقیقات کے دوران پولیس نے جائے وقوع اور اس کے اطراف نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ 13 جولائی کی رات تقریباً 10:45 بجے منوج کمار ٹھاکر اور کشن کامتی (50) کے درمیان جھگڑا ہوا تھا، جسے وہاں موجود لوگوں نے وقتی طور پر ختم کرا دیا تھا۔
بعد ازاں سی سی ٹی وی فوٹیج میں کشن کامتی رات تقریباً 11:51 بجے ہاتھ میں لکڑی کا ڈنڈا لیے جائے وقوع کی طرف جاتا اور رات 12:15 بجے خالی ہاتھ واپس آتا دکھائی دیا۔ اس بنیاد پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی، جس کے دوران اس نے قتل میں اپنی ملوث ہونے کا اعتراف کر لیا۔پولیس کے مطابق ملزم نے انکشاف کیا کہ رقم کے لین دین کو لے کر ہونے والے تنازع کے بعد اس نے منوج کمار ٹھاکر کے سر پر لکڑی کے ڈنڈے سے وار کیا، جس سے اس کی موت واقع ہو گئی۔
گرفتار ملزم کی شناخت کشن کامتی (50)، ولد کُئیرا کامتی، ساکن اُجیان گڑھ ٹولہ، تھانہ سکت پور، ضلع دربھنگہ کے طور پر ہوئی ہے۔
اسے عدالتی تحویل میں بھیجنے کی کارروائی کی جا رہی ہے، جبکہ مقدمے کے دیگر پہلوؤں کی بھی تفتیش جاری ہے۔
اس کامیاب کارروائی میں تھانہ صدر اروِند کمار، سب انسپکٹر چارلی کماری، سپاہی ہری شنکر کمار، خاتون سپاہی شیوانی کماری، چوکیدار شبھم کمار اور چوکیدار پرتوش کمار نے اہم کردار ادا کیا۔

دیہی ایس پی ساکشی کماری نے کہا کہ قتل جیسے سنگین مقدمات کا فوری انکشاف اور ملزمان کی گرفتاری دربھنگہ پولیس کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ سائنسی شواہد، جدید تفتیشی طریقوں اور فوری کارروائی کی بدولت پولیس نے مختصر وقت میں اس مقدمے کو کامیابی سے حل کیا، جبکہ دیگر پہلوؤں کی بھی باریک بینی سے تفتیش جاری ہے۔

Bihar

بانکی پور میں بی جے پی کا قلعہ منہدم،نتن نوین کے مضبوط گڑھ میں بی جے پی کے نیرج کودی بری طرح سے شکست،پرشانت کشور کی این ڈی اے کی اعلیٰ قیادت سے بہار کے لیے’اہل اور ایماندار‘ وزیر اعلیٰ منتخب کرنے کی اپیل

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار کے دارالحکومت پٹنہ کی بانکی پور اسمبلی نشست پر ہونے والے ضمنی انتخاب کے نتائج کی گونج پورے ملک میں سنائی دے رہی ہے۔ اس نشست سے انتخابی حکمتِ عملی ساز اور جن سوراج پارٹی کے بانی پرشانت کشور نے شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے مضبوط گڑھ سمجھی جانے والی اس نشست پر بی جے پی امیدوار نیرج کمار کو شکست دے دی۔
الیکشن کمیشن کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، پرشانت کشور نے بی جے پی امیدوار نیرج کمار کو 19,324 ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔ کمیشن کے مطابق 32وں مرحلوں کی ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد پرشانت کشور کو 64,151 ووٹ حاصل ہوئے، جبکہ بی جے پی کے نیرج کمار کو 44,827 ووٹ ملے۔ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کی امیدوار ریکھا کماری 14,273 ووٹوں کے ساتھ تیسرے مقام پر رہیں۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر نتن نوین کے مضبوط سیاسی گڑھ بانکی پور میں جن سوراج پارٹی کے بانی پرشانت کشور نے بی جے پی امیدوار نیرج سنہا کو بھاری فرق سے شکست دے دی۔ ووٹوں کی گنتی کے آغاز ہی سے پرشانت کشور مسلسل سبقت بنائے رکھے، جو آخر تک برقرار رہی۔واضح رہے کہ بانکی پور اسمبلی ضمنی انتخاب کے لیے 30 جولائی کو ووٹنگ ہوئی تھی، جس میں تقریباً 35 فیصد رائے دہندگان نے اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کیا تھا۔
اسی دوران، اپنی تاریخی کامیابی کے بعد پرشانت کشور کے ایک بیان پر بھی خاصی توجہ دی جا رہی ہے۔ پیر کے روز انہوں نے کہا کہ’’بانکی پور ایک رات میں بنگلورو نہیں بن سکتا، تاہم میری جیت کے بعد اس اسمبلی حلقے میں واضح اور مثبت تبدیلی ضرور نظر آئے گی۔‘‘وہیں پرشانت کشور نے آج بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی اعلیٰ قیادت سے بہار کے لیے ایک “اہل، ایماندار اور ترقی پسند” شخص کو وزیر اعلیٰ مقرر کرنے کی اپیل کی۔ مسٹر کشور نے دعویٰ کیا کہ بانکی پور اسمبلی ضمنی انتخاب کے نتائج نے ریاست کی قیادت میں تبدیلی کے لیے عوام کی خواہش کو واضح کر دیا ہے۔
انہوں نے بانکی پور ضمنی انتخاب میں جیت کی طرف بڑھتے ہوئے گنتی مرکز کے باہر نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کو 202 ایم ایل ایز کا مینڈیٹ دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اب بی جے پی کی ذمہ داری ہے کہ وہ بہار کی قیادت کسی ایسے شخص کے سپرد کرے جس کا عکس بے داغ ہو اور جو تعلیم، روزگار اور گڈ گورننس کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ہجرت (مائگریشن) کو روک سکے۔
مسٹر کشور نے کہا کہ بہار کو ایک ایسے اچھے اور اہل وزیر اعلیٰ کی ضرورت ہے جو معیاری تعلیم فراہم کرے، روزگار کے مواقع پیدا کرے اور بہاریوں کے وقار کو بحال کرے۔انہوں نے کسی متبادل لیڈر کا نام لیے بغیر کہا کہ ان کی مخالفت کسی فرد یا پارٹی سے نہیں بلکہ’’کمزور قیادت‘‘سے ہے۔ وزیر اعلیٰ مسٹر چودھری کا نام لیے بغیر ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ ان سے لوگ اچھی طرح واقف ہیں اور اگر ایسی ہی قیادت برقرار رہی تو بہار کی ترقی پر برا اثر پڑے گا۔

Continue Reading

Bihar

ضلع مجسٹریٹ سے سیمانچل یوا سنگٹھن جوکی ہاٹ کی ملاقات

Published

on

ارریہ:سوموار کو سیمانچل یوتھ آرگنائزیشن، جوکی ہاٹ کے ایک وفد نے ضلع مجسٹریٹ، ارریہ سے ملاقات کرکے +2 سرکاری امداد یافتہ ہائی اسکول، جوکی ہاٹ کے احاطے میں تعمیر شدہ اقلیتی طلبہ ہاسٹل کو فوری طور پر فعال کرنے اور ہائی اسکول کے میدان نیز اس سے متصل عوامی سڑک پر برسوں سے قائم غیر قانونی تجاوزات اور سبزی منڈی کے مسئلے سے متعلق ایک تفصیلی عرضداشت پیش کی۔ وفد نے ضلع مجسٹریٹ کو بتایا کہ اقلیتی طلبہ ہاسٹل کی عمارت مکمل ہونے کے باوجود آج تک اسے طلبہ کے لیے نہیں کھولا گیا، جس کے باعث سیمانچل کے غریب اور اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والے طلبہ اس بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔
اس سلسلے میں مختلف محکموں اور متعلقہ حکام کو پہلے بھی متعدد بار درخواستیں دی جا چکی ہیں، جن کی تفصیلات بھی ضلع مجسٹریٹ کے سامنے پیش کی گئیں۔ اس موقع پر وفد نے جوکی ہاٹ ہائی اسکول کے میدان اور اس سے گزرنے والی عوامی سڑک پر قائم غیر قانونی سبزی منڈی اور تجاوزات کا معاملہ بھی اٹھایا۔ وفد نے کہا کہ اس تجاوز کی وجہ سے روزانہ ہزاروں طلبہ، اساتذہ اور سرپرستوں کو اسکول آنے جانے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سڑک پر ہر وقت ٹریفک جام رہتا ہے، حادثات کا خدشہ برقرار رہتا ہے، جبکہ اسکول کا واحد کھیل کا میدان بھی بری طرح متاثر ہو چکا ہے، جس سے طلبہ کی کھیل، ثقافتی اور دیگر تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
ضلع مجسٹریٹ نے دونوں معاملات کو سنجیدگی سے سنتے ہوئے وفد کو یقین دلایا کہ اقلیتی طلبہ ہاسٹل کو جلد از جلد فعال بنانے کے لیے متعلقہ محکموں اور ذمہ دار افسران کو ضروری ہدایات جاری کی جائیں گی۔ ساتھ ہی اسکول مینجمنٹ کمیٹی سے بھی وضاحت طلب کی جائے گی کہ اب تک ہاسٹل کے آغاز میں تاخیر کیوں ہوئی۔ مزید برآں ضلع مجسٹریٹ نے ہائی اسکول میدان اور عوامی سڑک پر قائم تجاوزات کی فوری جانچ کرا کر ضروری کارروائی کرنے اور متعلقہ محکموں کو تجاوزات ہٹانے کے لیے مناسب ہدایات جاری کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی۔
، تاکہ طلبہ اور عام شہریوں کو محفوظ اور آسان آمد و رفت کی سہولت میسر آ سکے۔
سیمانچل یوتھ آرگنائزیشن نے ضلع مجسٹریٹ کے مثبت اور سنجیدہ رویے کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ انتظامیہ کی مؤثر کارروائی سے اقلیتی طلبہ ہاسٹل جلد فعال ہوگا اور ہائی اسکول کا میدان اور عوامی سڑک تجاوزات سے پاک ہو کر دوبارہ طلبہ اور عوام کے لیے مفید ثابت ہوں گے۔
تنظیم نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ وہ تعلیم، طلبہ کے حقوق اور عوامی مفاد سے وابستہ مسائل کو آئندہ بھی آئینی، جمہوری اور پرامن طریقے سے انتظامیہ کے سامنے اٹھاتی رہے گی۔

Continue Reading

Bihar

کربلا کی قربانی آج بھی انسانیت کیلئے مشعل راہ: مولانا ناصر حسین

Published

on

بھاگلپور:شہادتِ کربلا کی عظیم یاد میں 19 چہلم کے موقع پر پیر کے روز میر امام بخش وقف اسٹیٹ، قصبہ گولاغاٹ نیا بازار واقع تاریخی امام باڑے میں عقیدت، احترام اور رنج و غم کے ماحول میں مجلس کا انعقاد کیا گیا۔ مجلس میں شہدائے کربلا کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، جبکہ شہر کی مختلف انجمنوں نے درد بھری نوحہ خوانی اور سینہ زنی کے ذریعے حضرت امام حسینؓ اور ان کے وفادار ساتھیوں کی بے مثال قربانی کو یاد کیا۔مجلس سے خطاب کرتے ہوئے عالی جناب مولانا ناصر حسین صاحب نے فرمایا کہ کربلا محض تاریخ کا ایک باب نہیں، بلکہ انسانیت، انصاف، صبر اور حق کی حفاظت کا ایسا پیغام ہے جو قیامت تک ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کے حوصلوں کو تقویت دیتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسینؓ نے اپنے اہلِ بیت اور جاں نثار ساتھیوں کے ساتھ کربلا کے تپتے ہوئے ریگستان میں اپنا سر تو قربان کر دیا، مگر ظلم و جبر کی علامت یزید کی بیعت قبول نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ کربلا کی شہادت آج بھی سچائی، انصاف اور خودداری کی بلند ترین مثال سمجھی جاتی ہے۔

مجلس کے دوران امام باڑا ماتمی نوحوں، “یا حسینؑ” کی صداؤں اور اشک بار فضا سے گونج اٹھا۔ عزاداروں نے نم آنکھوں کے ساتھ امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کی بتائی ہوئی سچائی، انصاف اور انسانیت کی راہ پر چلنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

اس موقع پر امام باڑے کے متولی سید مہدی علی، سید امبر علی، سید محمد علی، جامین علی، نزاکت علی، دانش، اظہر، افروز، وکٹر، بابر، ارشد علی، اظہر سمیت بڑی تعداد میں عقیدت مند موجود تھے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network