Bihar
المنصور ٹرسٹ کی ادبی نشست میں ’’کشمیر کا ادھورا سفر‘‘ کی رسمِ اجراء
دربھنگہ: المنصور ٹرسٹ، دربھنگہ کے زیرِ اہتمام ادبی و فکری نشست ’’گفتگو‘‘ کا کامیاب انعقاد حکیم دمڑی منزل، ڈاکٹر آفتاب حسین کمپلیکس، سبھاش چوک، دربھنگہ میں عمل میں آیا۔ نشست کا موضوع ’’ادیبوں کے عصری تقاضے‘‘ تھا، جبکہ معروف افسانہ نگار ڈاکٹر مجیر احمد آزاد کی تازہ تصنیف ’’کشمیر کا ادھورا سفر‘‘ کی باوقار رسمِ اجراء بھی انجام دی گئی۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی اور کلیدی مقرر پروفیسر آفتاب احمد آفاقی، صدر شعبۂ اردو، بنارس ہندو یونیورسٹی، وارانسی تھے، جبکہ صدارت پروفیسر محمد آفتاب اشرف، سابق صدر شعبۂ اردو، للت نارائن متھلا یونیورسٹی، دربھنگہ نے کی۔ نظامت کے فرائض معروف ادیب انور آفاقی نے انجام دیے۔
ابتدائی کلمات میں ڈاکٹر احسان عالم نے مصنف ڈاکٹر مجیر احمد آزاد کی ادبی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انہوں نے شاعری، افسانہ نگاری، تنقید اور تبصرہ نگاری کے ساتھ ساتھ سفرنامہ نگاری میں بھی اپنی منفرد شناخت قائم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے دونوں سفرناموں کو قارئین کی بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی، جو ان کی گہری مشاہداتی بصیرت کا مظہر ہیں۔ڈاکٹر ایوب راعین نے مصنف سے اپنی دیرینہ رفاقت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر مجیر احمد آزاد ہمیشہ سفر اور مشاہدے کے شوقین رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کے سفرناموں میں حقیقت نگاری اور دلکشی نمایاں نظر آتی ہے۔
صدرِ مجلس پروفیسر محمد آفتاب اشرف نے اردو سفرنامہ نگاری کی روایت اور اس کی ادبی اہمیت پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ’’کشمیر کا ادھورا سفر‘‘ ایک دلچسپ اور معیاری تصنیف ہے، جو قاری کو اپنے ساتھ سفر پر لے جاتی ہے۔
مہمانِ خصوصی پروفیسر آفتاب احمد آفاقی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ادب کو زمانے کے بدلتے ہوئے حالات اور سماجی تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اردو زبان کے تحفظ اور فروغ کے لیے انفرادی اور اجتماعی سطح پر سنجیدہ کوششیں ناگزیر ہیں، جبکہ نوجوان نسل میں مطالعے کا ذوق پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے دربھنگہ ٹائمز پبلی کیشنز کی اشاعتی خدمات کو سراہتے ہوئے دو سو سے زائد کتابوں کی اشاعت پر مبارک باد پیش کی اور کہا کہ معیاری کتابوں کی اشاعت خوش آئند ہے، تاہم قارئین کی کم ہوتی تعداد اہلِ قلم اور معاشرے دونوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے دربھنگہ کو بہار کی علمی و ادبی سرگرمیوں کا اہم مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں کی ادبی روایت ہمیشہ زندہ اور فعال رہی ہے۔
تقریب کے دوران ڈاکٹر منصور خوشتر، سکریٹری المنصور ٹرسٹ نے کتاب کی اشاعت کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر مجیر احمد آزاد کے سفرنامے محض سیاحتی روداد نہیں بلکہ معلومات، مشاہدات اور ادبی لطافت کا حسین امتزاج ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مصنف کا پہلا سفرنامہ ’’دارجلنگ کی سیر‘‘ قارئین میں بے حد مقبول ہوا، جبکہ تازہ تصنیف ’’کشمیر کا ادھورا سفر (سری نگر اور پہلگام کی سیر)‘‘ بھی اسی روایت کی کامیاب کڑی ہے، جسے دربھنگہ ٹائمز پبلی کیشنز نے شائع کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اڑتالیس صفحات پر مشتمل یہ مختصر مگر معلوماتی سفرنامہ قدرتی مناظر، تاریخی مقامات، سماجی مشاہدات اور ذاتی تاثرات کو نہایت سادہ، رواں اور مؤثر انداز میں پیش کرتا ہے، جس سے قاری خود کو اس سفر کا حصہ محسوس کرتا ہے۔
تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر منصور خوشتر نے مہمانان، مقررین اور شرکائے مجلس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ المنصور ٹرسٹ آئندہ بھی ایسی ادبی، فکری اور علمی نشستوں کے انعقاد کا سلسلہ جاری رکھے گا تاکہ ادب و ثقافت کے فروغ کے ساتھ نئی نسل میں مطالعے کا رجحان مضبوط ہو۔
Bihar
کانگریس کارکنوں نے راجیش رام اور سشیل پاسی کا بن کیا استقبال
چھپرہ :بہار پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر راجیش رام اور اے آئی سی سی کے سکریٹری انچارج سشیل پاسی کا سارن ضلع کانگریس کمیٹی نے میتھولیا چوک کے قریب شاندار استقبال کیا۔وہ چھپرہ کے راستے پٹنہ سے سیوان جا رہے تھے۔ضلع صدر ڈاکٹر شنکر چودھری کی قیادت میں درجنوں لیڈروں اور کارکنوں نے دونوں رہنماؤں کا پھولوں کے ہار پہنا کر استقبال کیا۔
استقبال کے دوران کانگریس کارکنوں نے کانگریس پارٹی زندہ باد، راہل گاندھی زندہ باد، اور قومی صدر ملیکارجن کھرگے زندہ باد جیسے نعرے لگائے۔استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر شنکر نے کہا کہ ریاستی کانگریس کی نئی قیادت نے تنظیم میں نئی توانائی اور ولولہ پیدا کیا ہے۔انہوں نے پارٹی کو بوتھ سطح پر مضبوط کرنے اور عوامی مسائل کو مضبوطی سے حل کرنے پر زور دیا۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ کانگریس نے غریبوں،کسانوں، مزدوروں، طلباء، نوجوانوں،خواتین اور کمزور طبقات کے حقوق اور وقار کے لیے مسلسل جدوجہد کی ہے۔کارکنوں کو جمہوری اور آئینی اقدار کے تحفظ کے لیے متحد ہو کر کام کرنا چاہیے ۔
اس موقع پر رام سوروپ رائے،سنیل سنگھ،عبدالقادر خان، کملیش کمار پاٹھک ،کنہیا کمار مشرا،ملک پرساد یادو،فیروز اقبال،ہریش یادو ، یاسین آزاد،تارکیشور رام،کمار وشال سنگھ ،اتل کمار،دھرمیندر کمار دھرم،گوتم پرساد،اجمل عالم،دلشیر،گولڈن خان اور نتیش کمار وغیرہ موجود تھے۔
Bihar
دن دہاڑے اسلحہ کے زور پر کریانہ تاجر سے 2.10 لاکھ کی لوٹ
موہن پور (گیا): گیا میں دن دہاڑے مسلح بدمعاشوں نے پولیس کی گشت اور حفاظتی انتظامات کو چیلنج کرتے ہوئے کریانہ تاجر سے 2 لاکھ 10 ہزار روپے لوٹ لئے۔ واردات موہن پور تھانہ علاقہ میں اِٹوا بازار اور گنیش چک کے درمیان پیش آئی۔ بریزا کار پر سوار چار پانچ بدمعاشوں نے پہلے تاجر کی پک اَپ گاڑی کا پیچھا کیا، پھر گنیش چک کے قریب اوورٹیک کر کے راستہ روک دیا۔ اس کے بعد اسلحہ کے زور پر تاجر اور ڈرائیور کو قابو میں کیا، مارپیٹ کی اور نقد رقم لوٹ کر فرار ہوگئے۔
معلومات کے مطابق کریانہ تاجر جے رام کیسری دکان کے سامان کی خریداری کے لئے پک اَپ گاڑی سے گیا جا رہے تھے۔ ان کے ساتھ ڈرائیور شنکر پاسوان بھی تھا۔ اِٹوا بازار سے نکلتے ہی ایک بریزا کار نے ان کی گاڑی کا تعاقب شروع کر دیا۔ کچھ دور تک پیچھا کرنے کے بعد گنیش چک کے قریب کار سوار بدمعاشوں نے پک اَپ کو اوورٹیک کیا اور گاڑی کے سامنے کار کھڑی کر کے راستہ روک دیا۔
گاڑی رکتے ہی چار پانچ بدمعاش بریزا سے اترے اور تاجر و ڈرائیور کو گھیر لیا۔ بتایا جاتا ہے کہ بدمعاشوں میں سے کچھ کے ہاتھوں میں ہتھیار تھے۔ اسلحہ کا خوف دکھا کر دونوں کے ساتھ مارپیٹ کی گئی اور ان کے پاس موجود 2 لاکھ 10 ہزار روپے نقد چھین لئے گئے۔ واردات کے بعد بدمعاش بریزا کار میں سوار ہوئے اور فرار ہوگئے۔
لوٹ کی اطلاع ملتے ہی موہن پور تھانہ انچارج اجیت کمار پولیس ٹیم کے ساتھ موقع پر پہنچے۔ پولیس نے تاجر اور ڈرائیور سے پوچھ گچھ کر بدمعاشوں کے حلیے، گاڑی اور فرار کی سمت کی معلومات حاصل کیں۔ اس کے بعد مشتبہ ٹھکانوں پر چھاپہ ماری شروع کر دی گئی۔ مختلف راستوں پر گاڑیوں کی چیکنگ بھی کرائی جا رہی ہے۔
واردات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے بودھ گیا ایس ڈی پی او مدھو کماری بھی موقع پر پہنچیں۔ انہوں نے تاجر اور ڈرائیور سے واقعہ کی تفصیلات حاصل کیں اور پولیس افسران کو بدمعاشوں کی گرفتاری کے لئے ضروری ہدایات دیں۔ پولیس بریزا کار اور اس میں سوار بدمعاشوں کی شناخت میں مصروف ہے۔
موہن پور تھانہ انچارج اجیت کمار نے بتایا کہ تاجر سے لوٹ کی واردات ہوئی ہے۔ پولیس مختلف پہلوؤں سے معاملے کی چھان بین کر رہی ہے۔ جلد ہی واردات کا انکشاف کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
جس انداز میں بدمعاشوں نے پہلے تاجر کی گاڑی کا پیچھا کیا، پھر گنیش چک کے قریب اوورٹیک کر کے راستہ روکا اور اسلحہ کے زور پر نقد رقم لوٹ لی، اس سے پولیس کو ریکی کے بعد واردات کئے جانے کا شبہ ہے۔ تاجر کی نقل و حرکت اور اس کے پاس نقد رقم ہونے کی اطلاع بدمعاشوں تک کیسے پہنچی، پولیس اس پہلو کی بھی چھان بین کر رہی ہے۔
Bihar
ٹرین کے اے سی کوچ سے نوجوان لڑکی 15.8 کلو گاگانجے کے ساتھ گرفتار
(پی این این)
گیا جی: ٹرین میں سفر، اے سی-2 کوچ اور بیگ میں 15 کلو 800 گرام گانجا! گیا جنکشن پر پیر کی رات منشیات کی اسمگلنگ کے ایک ایسے معاملے نے ریلوے پولیس کو چونکا دیا، جس میں ایک نوجوان لڑکی کو مبینہ طور پر گانجے کی بڑی کھیپ کے ساتھ گرفتار کیا گیا۔ برآمد گانجے کی قیمت تقریباً سات لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔ بھونیشور تیجس راجدھانی ایکسپریس کے اے سی-2 ٹائر کوچ میں مشتبہ انداز میں سفر کر رہی لڑکی پر خفیہ اطلاع کے بعد آر پی ایف، سی آئی بی اور جی آر پی کی مشترکہ ٹیم کی نظر پڑی۔ تلاشی کے دوران اس کے بیگ سے گانجے کی بھاری مقدار برآمد ہوتے ہی ٹرین میں ہلچل مچ گئی۔ پولیس نے گانجا ضبط کرکے لڑکی کو گرفتار کرلیا۔
آر پی ایف انسپکٹر بنارسی یادو کے مطابق گرفتار لڑکی جھاج پور سے نئی دہلی جا رہی تھی اور وہ گیا کی رہنے والی بتائی گئی ہے۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ 15.8 کلو گانجا کہاں سے آیا؟ کس نے دیا؟ دہلی میں کس کے حوالے ہونا تھا؟ اور اس پوری کھیپ کے پیچھے کون ہے؟ریلوے پولیس ان سوالات کے جواب تلاش کرنے میں مصروف ہے۔ گرفتار لڑکی سے پوچھ گچھ کے دوران ملنے والی معلومات کی بنیاد پر اسمگلنگ کے پورے نیٹ ورک تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس گرفتاری نے منشیات اسمگلنگ کے بدلتے انداز پر بڑا سوال کھڑا کردیا ہے۔ کیا اسمگلر اب عام کوچوں کے بجائے اے سی کوچ کو محفوظ راستہ سمجھنے لگے ہیں؟ کیا خواتین اور لڑکیوں کو پولیس کی نظروں سے بچنے کے لیے کوریئر کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے؟ گیا کی اس کارروائی نے ان سوالات کو مزید گہرا کردیا ہے۔حالیہ دنوں میں پٹنہ اور سمستی پور میں خواتین کے ذریعے شراب کی اسمگلنگ کے معاملات سامنے آ چکے ہیں۔ سمستی پور میں اے سی فرسٹ کلاس سے غیر ملکی شراب کے ساتھ ایک لڑکی اور اس کے بہنوئی کی گرفتاری، جبکہ پٹنہ جنکشن پر ایک طالبہ کے شراب کے ساتھ پکڑے جانے کے بعد اب گیا میں لڑکی کے ذریعے گانجے کی اتنی بڑی کھیپ پکڑے جانے سے خواتین کو ’کوریئر‘ بنانے کے ممکنہ رجحان پر تفتیشی ایجنسیوں کی نظر ٹک گئی ہے۔
15.8 کلو گانجا برآمد ہونا محض ایک گرفتاری نہیں، بلکہ اس کے پیچھے موجود سپلائی چین کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ ریلوے پولیس اب یہ جاننے میں مصروف ہے کہ اس کھیپ کا اصل سپلائر کون تھا، اسے کس نے لڑکی کے حوالے کیا اور دہلی میں اسے کس کے حوالے کیا جانا تھا۔گیا جنکشن پر سات لاکھ روپے کی گانجے کی کھیپ کے ساتھ لڑکی کی گرفتاری نے ریلوے میں منشیات کی اسمگلنگ کے نئے راستوں، اے سی کوچ کے ممکنہ استعمال اور خواتین کو کوریئر بنائے جانے کے خدشے پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
-
بہار10 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
