Connect with us

بہار

محسن انسانیت ﷺ کی ذات اقدس پوری انسانیت کے لئے مثالی نمونہ : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی

Published

on

(پی این این)
پھلواری شریف:امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ کے ناظم مولانا مفتی محمد سعید الرحمن قا سمی نے ماہ ربیع الا ول کی مناسبت سے عام لوگوں بالخصوص مسلمانوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اسی بابرکت مہینہ میں محسن انسانیت امام الانبیاء نبی آخرالزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت ہوئی، منصب نبوت پرفائز نے کے بعد حضور ﷺ نے دنیا کو حق و صداقت اورعدل ومساوات کا پیغام دیا ،اس کو جہالت کی تاریکی سے نکال کر علم و معرفت کی روشنی عطاء کی جس سے قوموں کی تقدیر بدل گئی ،آنحضرت ﷺ نے اپنے ۲۳؍سالہ دورنبوت میںا نسانوں کو ان کی حقیقی قدر ومنزلت سےآگاہ کیا، اونچ نیچ کے فاصلوں کو ختم کیا اوروحدت و اجتماعیت کا پیغام دیا، ہزاروں رحمتیں اوردرود وسلام ہو اس نبی رحمت پر جنہوں نے انسانوں اور چوپایوں پر بھی رحم و کرم کی تعلیم دی اور ہر قسم کے جورو استبداء کا خاتمہ کیا ،اللہ کے رسول ﷺ نے روئے زمین پر بسنے والے ہر طبقہ کو اس کا واجبی حق دیا ،کمزوروں ،بےسہارا انسانوں،بے کسوں اور مظلوموں کی دست گری کوعبادت قرار دیا اور فرمایا کہ تم زمین والوں پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم کرے گا ، الفت و محبت کے پیکر بنی رحمت نے معاشرہ میں امن وامان قائم کرنے اور انسانوں کے ساتھ حسن سلوک کامعاملہ کرنےکو انسانیت کا زیور قرادیا ،اسلئے رب کائنات نے اپنے محبو ب پیغمبر حضور ﷺ کی ذات اقدس کو پوری انسانیت کے لئے ایک مثالی بنایا ۔
انہوں نے کہاکہ اس ماہ مبارک کو سیرت طیبہ کے پیغام کو عام کرنے کا ذریعہ بنائیں اور عہد کریں کہ ہم اپنی پوری زندگی حضور ﷺ کی پیروی و اتباع میں گذاریں گے ، حضور ﷺ کی ایک ایک سنت پر عمل کریں گے ، اپنے طریق زندگی کو حضور ﷺ کی سیرت پر ڈھال کر ساری دنیا کے انسانوں کے لئے نمونہ عمل اور پیغام عمل بنیں گے ،آج کا انسان جن المناک حالات وکیفیات سے دو چار ہے ان سے نجات پانے کا واحد اور مستند ترین راستہ یہ ہے کہ انسانیت کے محسن اعظم محمد ﷺ کے طریقے زندگی کا اثاثہ بنالے تو وہ حقیقی مسرت اورفلاح و کامرانی سے ہمکنار ہو جائے گا ، سیر ت رسول کا یہی پیغام ہے کہ حضور ﷺسے ہمارا وہی تعلق پھر سے قائم ہوجائے جس کے بغیر ہماری ساری اجتماعی کو ششیں بے روح، بے جان اور بے مقصد ہیں، اسی مقصد کے لئے سیرت رسول کے موضوع پر کوئی مستند کتاب کا مطالعہ کرتے ہیں ، ہم روزانہ ایک چھوٹی حدیث کو حفظ کرنے کی کوشش کریں ، اور اپنے گھر کی مستورات کے درمیان حضور ﷺ کی سیرت طیبہ کا کوئی واقعہ بیان کریں جن سے ہماری ماں اور بہنوں کے اندر بھی حب رسول ﷺ کاجذبہ ابھر سکے ، اس کے ساتھ روزانہ درود شریف پڑھنے کا بھی اہتمام کریں ، اگر ہم لوگوں نے ان باتوں پر عمل کرنے کا پختہ ارادہ کرلیا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے غیبی نصرت بھی حاصل ہوگی اور قیامت کے دن شفاعت نبوی سے بھی سرفراز ہوں گے ،’’ صلی اللہ علی النبی الکریم ‘‘ اگر ہم دنیا وآخرت میں کامیابی سے ہمکنار ہوناچاہتے ہیں تو صرف اور صر ف ایک ہی راستہ ہے، ایک اللہ سے تعلق کو مستحکم رکھنا اور حضور ﷺ کے بتائے ہوئےطریقوں پر زندگی کو استوار کریں اور دوسروں کو بھی اس کی دعوت دیں ۔

 

Bihar

تیج پرتاپ یادو جیل سے رہا

Published

on

پٹنہ:(پی این این) بہار کے سابق وزیر اور جن شکتی جنتا دل (جے جے ڈی) کے قومی صدر تیج پرتاپ یادو پٹنہ کی بیور جیل سے باہر آ گئے ہیں۔ انہیں نیٹ پیپر لیک معاملے سے متعلق طلبہ تحریک کے ایک کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔بہار بند کے دوران ان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے طلبہ کو پولیس پر حملے کے لیے اکسایا۔ عدالت نے انہیں عدالتی حراست میں بھیج دیا تھا۔ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سربراہ لالو پرساد یادو کے بڑے بیٹے تیج پرتاپ نے اپنی گرفتاری کو سیاسی سازش قرار دیا تھا۔
واضح رہے کہ دہلی میں مظاہرین کے ساتھ مرکزی حکومت کی رضامندی کے بعد بہار حکومت نے بھی نیٹ پیپر لیک تحریک سے متعلق درج مقدمات واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔تیج پرتاپ یادو کو منگل کی شام بیور جیل سے رہا کر دیا گیا۔ جیل سے باہر آتے ہی ان کے حامیوں میں جوش و خروش بڑھ گیا۔ بیور جیل کے باہر بڑی تعداد میں موجود جے جے ڈی کارکنوں نے ان کا استقبال کیا۔ اس کے بعد تیج پرتاپ یادو گاڑی میں سوار ہو کر وہاں سے روانہ ہوگئے۔تیج پرتاپ یادو کو پٹنہ پولیس نے 25 جولائی کو حراست میں لیا تھا۔ ان کے خلاف گاندھی میدان تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ گزشتہ ہفتہ کو بہار بند کے دوران انہوں نے رام غلام چوک پر احتجاج کر رہے طلبہ و طالبات کے درمیان مظاہرہ کیا تھا۔
ان پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے مظاہرین کو پولیس پر حملے کے لیے اکسایا۔

Continue Reading

Bihar

ہم بہارکونہیں بننے دیں گے ’پولیس گردی‘ کی ریاست،آپ کو بچانے نہیں آئیں گےسمراٹ چودھری،تمام پروٹوکول کی پابندی کریں پولیس افسران ، تیجسوی یادو کاقانونی نظام اور پولیس کارروائی پر سخت برہمی کا اظہار

Published

on

(پی این این)
پٹنہ: بہار کی سمراٹ چودھری حکومت نے نیٹ امتحان کے مظاہرین کے خلاف درج مقدمات واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔ اس پر ریاستی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف تیجسوی یادو نے کہا کہ حکومت نے ان کی تنبیہ اور دباؤ کے بعد ہی یہ قدم اٹھایا ہے۔
اسی کے ساتھ تیجسوی یادو نے ان افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا، جن کے حکم پر اے کے-47 سے فائرنگ کی اجازت دی گئی تھی۔ پٹنہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران افسران پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ ’’سمراٹ چودھری آپ کو بچانے نہیں آئیں گے۔‘‘
تیجسوی یادو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیوان میں طلبہ کے احتجاج کے دوران مبینہ طور پر اے کے-47 استعمال کرنے والے کانسٹیبل کو محض معطل کر دینا کافی نہیں ہے۔ اس پورے واقعے کی عدالتی نگرانی میں غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ معلوم کیا جائے کہ اے کے-47 کے استعمال کا حکم کس نے دیا تھا اور اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب مظاہرین کے خلاف مبینہ طور پر اے کے-47 کا استعمال کیا گیا ہے۔ تیجسوی یادو نے مطالبہ کیا کہ وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری واضح کریں کہ طلبہ مظاہرین کے خلاف اے کے-47 استعمال کرنے کا حکم کس نے دیا تھا، نیز پولیس نے متعدد طلبہ کے خلاف اقدامِ قتل کے مقدمات کس بنیاد پر درج کیے۔
تیجسوی یادو نے کہا، “جب ہم نے آپ کو الٹی میٹم دیا تو آپ (وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری) نے گرفتار طلبہ کی رہائی کا حکم جاری کیا۔ جب ہم نے آپ کو خبردار کیا تو آپ نے مقدمات واپس لینے کا اعلان بھی کر دیا، لیکن وہ افسران جو قصوروار ہیں، جن کی وجہ سے گولیاں چلیں اور جن کے حکم پر فائرنگ ہوئی، ان کے خلاف کیا کارروائی ہوئی؟ آپ نے گرفتاریاں تو کیں، مگر اس معاملے کی تحقیقات کا کیا نتیجہ نکلا؟”تیجسوی یادو نے مزید کہا کہ وہ آج بھی سمراٹ چودھری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعے کے ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ کسی ایک سپاہی کو قربانی کا بکرا نہ بنایا جائے، کیونکہ ایک سپاہی اتنا بااختیار نہیں ہوتا کہ وہ اپنی مرضی سے اے کے-47 سے کسی 15 سالہ بچے کے سینے پر گولی چلا دے۔ آخر یہ سب کس کے حکم پر ہوا؟ اس معاملے کی عدالتی نگرانی میں غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی، وہ خاموش نہیں بیٹھیں گے۔
اس کے بعد تیجسوی یادو نے کہا کہ وہ متعلقہ افسران کو بھی خبردار کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا، “سمراٹ چودھری کب آئیں گے اور کب چلے جائیں گے، کسی کو معلوم نہیں، لیکن وہ ان افسران کو بچانے نہیں آئیں گے۔ بہتر یہی ہے کہ افسران آئین، قواعد و ضوابط اور اپنے سرکاری پروٹوکول کی پابندی کریں۔”تیجسوی یادو نے مزید کہا کہ اب بہار میں مجرموں اور بدعنوان عناصر کو سرپرستی دینے کا سلسلہ نہیں چلے گا۔ انہوں نے کہا، “بہار جے پرکاش نارائن، کرپوری ٹھاکر اور لالو پرساد یادو کی سرزمین ہے۔ ہم اس دھرتی کو پولیس گردی کی ریاست نہیں بننے دیں گے۔‘‘
قابلِ ذکر ہے کہ ضلع سیوان میں طلبہ کے احتجاج کے دوران ابھیشیک کمار نامی ایک پولیس اہلکار اے کے-47 سے فائرنگ کرتے ہوئے نظر آیا تھا۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد شدید ہنگامہ برپا ہو گیا تھا، جس کے بعد کارروائی کرتے ہوئے ابھیشیک کمار کو معطل کر دیا گیا تھا۔

 

Continue Reading

Bihar

بہار کے تمام بلاکوں میں کھولے جائیں گے ڈگری کالج، اب ریاست کے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے نہیں جانا پڑے گاباہر :سمراٹ چودھری

Published

on

پٹنہ:(پی این این)بہار کے تمام اسکولوں میں اب ہفتہ کے روز نصف دن کی تعلیم ہوگی۔ اسکولوں میں ہفتہ کے دن پورے وقت پڑھائی نہیں ہوگی بلکہ صرف نصف دن تک ہی تعلیمی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔
وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری نے یہ اعلان کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ طویل عرصے سے لوگ اس کا مطالبہ کر رہے تھے۔ بہار قانون ساز اسمبلی کے مانسون اجلاس میں بھی یہ معاملہ اٹھایا گیا تھا۔ اس کے بعد وزیرِ اعلیٰ نے محکمۂ تعلیم کے افسران کو اس سلسلے میں ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت دے دی ہے۔وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ یہ فیصلہ مرکزی حکومت کی قومی تعلیمی پالیسی-2020 کے تحت کیا گیا ہے۔وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری نے منگل کے روز مونگیر ضلع کے اثر گنج میں سرکاری ڈگری کالج کا افتتاح کیا۔ اس کے بعد جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بہار کے تمام اسکولوں میں ہفتہ کے روز نصف دن کی تعلیم کا اعلان کیا۔اب ریاست کے تمام اسکول ہفتہ کے دن صرف نصف دن تک ہی چلیں گے۔ ٹفن بریک کے بعد بچوں کو چھٹی دے دی جائے گی۔ وزیرِ اعلیٰ کے اس اعلان کے بعد پروگرام میں موجود لوگوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے تالیاں بجا کر ان کا استقبال کیا۔
سمراٹ چودھری نے کہا کہ ان کی حکومت نے بہار کے تمام پرکھنڈوں (بلاکوں) میں ڈگری کالج کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاست میں اب تک 211 ڈگری کالج کھولے جا چکے ہیں۔ آج اثر گنج میں 212واں ڈگری کالج قائم کیا گیا ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ اب بہار کے تمام بی ایڈ کالجوں میں بھی ڈگری کالج کھولے جائیں گے۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ اب بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے باہر نہیں جانا پڑے گا۔ حکومت نے ماڈل اسکول کے تصور کو عملی جامہ پہنایا ہے۔ سرسوتی ودیا نکیتن قائم کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 551 مقامات پر ان اسکولوں کا آغاز ہو چکا ہے۔ آج مزید 10 مقامات پر ایسے اسکول کھولے گئے ہیں، جس کے بعد ان کی تعداد بڑھ کر 561 ہو گئی ہے۔ یہ تعداد ابھی مزید بڑھے گی۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network