Connect with us

دیش

عام آدمی کو ایک اوربڑا جھٹکا،ڈیزل 25روپے اور پٹرول 7.41 روپے ہوا مہنگا

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی :ایل پی جی کے بعد پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھی اضافہ کردیاگیاہے ۔شیل انڈیا نے یکم اپریل سے پٹرول اور ڈیزل دونوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ اس سے قبل نیارا انرجی نے بھی قیمتوں میں اضافہ کیا تھا۔ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہنے کی وجہ سے انہیں نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے اور اس کو کم کرنے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔
بنگلورو میں پٹرول کی قیمت میں 7.41 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے ساتھ ہی ریگولر پیٹرول کی قیمت 119.85 روپے اور پریمیم پیٹرول کی قیمت 129.85 روپے فی لیٹر ہوگئی ہے۔ تاہم، مختلف ریاستوں میں ٹیکسوں کی وجہ سے قیمتوں میں معمولی تبدیلیاں ہو سکتی ہیں۔ اس اضافے کا براہ راست اثر عام لوگوں کی جیبوں پر پڑے گا، خاص طور پر وہ لوگ جو روزانہ گاڑیاں استعمال کرتے ہیں۔
ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ مزید چونکا دینے والا ہے۔ ڈیزل کی قیمت میں ایک بار میں 25.01 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے۔ ریگولر ڈیزل اب 123.52 روپےاور پریمیم ڈیزل 133.52 روپےفی لیٹر میں فروخت ہو رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اگر بین الاقوامی مارکیٹ کی صورتحال یہی رہی تو مستقبل میں ڈیزل کی قیمت 148 سے 165 روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتی ہے، حالانکہ ابھی تک کوئی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
اس قیمت میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے بھارت کو خام تیل کی سپلائی کی جاتی ہے لیکن ایران کے ساتھ بڑھتے ہوئے تنازعے نے اس راستے پر غیر یقینی صورتحال بڑھا دی ہے۔ ایران کے ساتھ جاری جنگ جیسی صورتحال نے تیل کی عالمی منڈی کو ہلا کر رکھ دیا ہے جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ 28 فروری سے جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے شروع کیے ہیں، برینٹ کروڈ کی قیمتوں میں تقریباً 60 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس کا براہ راست اثر ہندوستان جیسے ممالک پر پڑ رہا ہے، جو اپنی خام تیل کی ضروریات کا تقریباً 88 فیصد درآمد کرتے ہیں۔ نتیجتاً، سپلائی میں معمولی سی رکاوٹ بھی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ کر رہی ہے۔
پرائیویٹ کمپنیوں پر دباؤ اس لیے بھی زیادہ ہے کیونکہ سرکاری تیل کی کمپنیوں نے خوردہ قیمتوں میں ابھی تک کوئی خاص تبدیلی نہیں کی ہے۔ اگرچہ سرکاری کمپنیوں کو نقصان کو پورا کرنے کے لیے کچھ مدد ملتی ہے، لیکن نجی کمپنیوں کو ایسی کوئی مدد نہیں ملتی۔ نتیجتاً، انہیں بڑھتی ہوئی لاگت کو براہ راست صارفین تک پہنچانا پڑتا ہے۔ اگر آنے والے دنوں میں خام تیل کی قیمتیں بلند رہیں تو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مزید مہنگی ہونے کا خدشہ ہے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

انٹر نیشنل

امریکہ کے بعدبرطانیہ میں بھی بھاگوت کی پرزور مخالفت

Published

on

لندن:امریکہ کے بعد برطانیہ کی راجدھانی لندن کے میئر صادق خان کو سول سوسائٹی کے 20 تنظیموں نے مکتوب بھیج کر آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے پروگرام کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے۔
مکتوب میں آر ایس ایس کو ایک تانا شاہ اور ملٹری فکر والی تنظیم بتایا گیا ہے۔ اور ایسا ہی ایک خط برطانیہ کے وزارت خارجہ کو بھی بھیجا گیا ہے۔ غورطلب ہے کہ گزشتہ ہفتہ امریکہ میں کئی ہندو تنظیموں نے آر ایس ایس سربراہ کے ’یونیورسل ون نیس سیلیبریشن ‘پروگرام کی مخالفت کی تھی ، مظاہرہ کیا تھا۔
موہن بھاگوت کا یہ پروگرام نیویارک شہر کے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں منعقد ہوا تھا۔ لندن کی سوسائٹی کے تنظیموں نے مکتوب میں میئر کو گریٹر لندن اتھارٹی سے اپیل کرنے کو کہا کہ وہ موہن بھاگوت کو برطانیہ دورے کے درمیان آر ایس ایس کے ذریعہ منعقد پروگراموں کا بائیکاٹ کرے۔ موہن بھاگوت ہفتہ کے اختتام میں برطانیہ میں ہندنژاد طبقات کے لئے منعقد ایک پروگرام کو خطاب کریں گے۔
ان تنظیموں نے میئر صادق خان سے یہ بھی اپیل کی ہے کہ وہ آر ایس ایس کے پروگرام کیلئے جگہ کی اجازت نہ دیں۔ آرا یس ایس کے سو سال پورے ہونے کے موقع پر چلائے جارہے انٹرنیشنل آئوٹ ریچ پروگرام کے تحت بھاگوت کا دورہ امریکہ اور کینڈا میں ہوچکا ہے۔ دا انڈیپنڈنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق انھوں نے آر ایس ایس کو ایک تاناہی اور ملٹری فکر والی تنظیم قرار دیا ہے۔ جس سے یوروپین فاسی واد سے تحریک ملی تھی۔ اور تنظیم نے افسران سے یہ بھی کہا ہے کہ برطانیہ کے الگ الگ ثقافت والے سماج کی تحفظ کےلئے بھی نظم کیا جائے۔ اس مکتوب میں ہندوزفار ہیومن رائٹرس ، یوکے انڈین مسلم کونسل ، انڈیا لیبر سالیڈیٹری اور ساوتھ ایشیا سالیڈیٹری جیسی تنظیموں نے دستخط کئے ہیں۔ مکتوب میں خاص طبقات کی سیکورٹی کے لئے میٹروپولٹن پولیس کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں بھی جانکاری مانگی گئی ہے۔

Continue Reading

دیش

ٹی ایم سی کے 22 باغیوں کی رکنیت پر لٹکی تلوار

Published

on

نئی دہلی:ترنمول کانگریس کے 22 باغی ممبران پارلیمنٹ جو این سی پی میں چلے گئے ہیں، ان کی رکنیت پر تلوار لٹکی ہوئی ہے۔ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے انھیں نوٹس جاری کردیا ہے کہ وہ 22 ستمبر تک جواب دیں کہ کیسے وہ این سی پی آئی میں گئے۔ غورطلب ہے کہ ٹی ایم سی کے لیڈر ابھشیک بنرجی نے اپنی عرضی میں ان تمام باغی ارکان پارلیمنٹ کی رکنیت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو غیر قانونی طور پر ایک گمنام جماعت این سی پی آئی میں چلے گئے ہیں۔ واضح ہو کہ گزشتہ 18 جون 2026 کو ٹی ایم سی کے جنرل سکریٹری اور ایم پی ابھشیک بنرجی نے اوم برلا سے ان تمام باغی ارکان پارلیمنٹ کے خلاف آئین کی دسویں شیڈیول کے تحت نااہل قرار دیتے ہوئے ان کی رکنیت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق اسپیکر اوم برلا نے ان 20 این سی پی آئی ممبران پارلیمنٹ کو ٹی ایم سی اس عرضی کا جواب دینے کے لئے 22 ستمبر تک کا وقت دیا ہے۔
غورطلب ہے کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخاب کے نتیجے آنے کے بعد 14 جون ٹی ایم سی کے 20 ارکان پارلیمنٹ نے بغاوت کردی تھی اور نیشنلسٹ سٹیزن پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی ) کا دامن تھام لیا تھا۔ اس کے بعد انھوں نے این ڈی اے کو حمایت دینے کا اعلان کردیا تھا، مگر اب ان کی رکنیت پر آئینی سوال کھڑا ہوگیا ہے۔ ان باغی ارکان کی قیادت پارٹی کے سینئر رہنماؤں سدپ بندیوپادھیائے اور کاکولی گھوش دستیدار کر رہے ہیں۔ ان ارکان نے انتخابی شکست کے بعد پارٹی میں پیدا ہونے والی اندرونی کشمکش کے دوران جون میں پارٹی سے الگ راہ اختیار کی تھی۔دسویں شیڈول یعنی پارٹی بدلنے سے متعلق قانون سے بچنے کے لیے، باغی گروپ نے، جو ٹی ایم سی کے 28 لوک سبھا ارکان میں سے دو تہائی سے زیادہ ارکان پر مشتمل ہے، تریپورہ میں قائم نیشنلسٹ سٹیزنس پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی) میں انضمام کا اعلان کیا تھا۔
اس دوران اسپیکر اوم برلا نے 20 باغی ارکان کے لیے ایوان میں الگ نشستوں کی منظوری دے دی ہے، تاہم ان کے انضمام کی ابھی توثیق نہیں کی ہے۔ ابھشیک بنرجی نے اسپیکر اوم برلا سے باغی ارکان کے خلاف نااہلی کی درخواستوں پر کارروائی تیز کرنے اور ٹی ایم سی کے باقی 8 وفادار ارکان کے لیے نشستوں کے انتظام میں تبدیلی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
بنرجی نے اس معاملے میں سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا تھا۔ سماعت کے دوران لوک سبھا اسپیکر اور ایوان کے سکریٹری جنرل کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بنچ کو بتایا تھا کہ اسپیکر نے دسویں شیڈول کے تحت ٹی ایم سی کی جانب سے دائر نااہلی کی درخواستوں پر 20 ارکان کو پہلے ہی نوٹس جاری کر دیے ہیں۔بہرحال باغیوں میں حجان کی کیفیت ہے جبکہ ممتا بنرجی خیمہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔اطلاع یہ بھی ہے کہ یوسف پٹھان سمیت چار ممبران پارلیمنٹ ممتا بنرجی کے رابطہ میں ہیں۔

Continue Reading

دیش

بی سی آئی کو قانون کے طلبا کے خلاف کارروائی کا اختیار نہیں

Published

on

نئی دہلی:سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ بار کونسل آف انڈیا (بی سی آئی) قانون کے طلبہ کو ان کے کالج یا یونیورسٹی کے اندر کیے گئے کسی طرز عمل پر سزا نہیں دے سکتی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ بی سی آئی کے پاس قانون کی تعلیم حاصل کر رہے طلبہ کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ قانون کے طلبہ کے طرز عمل اور ان کے نظم و ضبط سے متعلق فیصلہ ان کی یونیورسٹی یا تعلیمی ادارہ ہی کر سکتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ بی سی آئی نے چیف جسٹس کی کانووکیشن تقریب میں شرکت کی مخالفت کرنے والے نلسار کے طلبہ کے خلاف کارروائی کے لیے جو خطوط بھیجے تھے، وہ اس کے دائرہ اختیار سے باہر تھے۔یہ عرضی نالسار کے سابق طلبہ مہر سود اور ابھشیک تیواری نے دائر کی تھی۔ عرضی میں بی سی آئی کے چیئرمین منن کمار مشرا کے 13 اگست کے اس سرکلر کو چیلنج کیا گیا تھا، جس میں انہوں نے نالسار کے طلبہ کے کسی بھی بار کونسل میں وکیل کی حیثیت سے رجسٹریشن پر پابندی عائد کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم مخالفت کے بعد منن مشرا نے یہ سرکلر واپس لے لیا تھا۔
دراصل نالسار کے طلبہ نے چیف جسٹس سوریہ کانت کے ہاتھوں کانووکیشن تقریب میں ڈگری حاصل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بعد منن کمار مشرا نے یہ سرکلر جاری کیا تھا۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network