Connect with us

دلی این سی آر

زبانی احکامات نہیں، بلکہ قانون بنا کر او-زون کی رہائشی کالونیوں کو تحفظ دے سرکار: سوربھ بھاردواج

Published

on

نئی دہلی: عام آدمی پارٹی نے او-زون میں قائم رہائشی کالونیوں کو بچانے کے لیے بی جے پی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں قانون بنا کر ان کالونیوں کو تحفظ فراہم کرے۔آپ کے دہلی ریاستی صدر سوربھ بھاردواج نے کہا کہ اگر بی جے پی حکومت واقعی او-زون کی رہائشی کالونیوں کو تحفظ دینا چاہتی ہے تو صرف زبانی احکامات سے کام نہیں چلے گا، بلکہ اس کے لیے قانون بنایا جائے۔ او-زون علاقہ خالی کرانے کا حکم بی جے پی کے زیر انتظام ڈی ڈی اے کی بار بار عدالت سے رجوع کرنے کی وجہ سے آیا ہے۔ ایک طرف حکومت کہتی ہے کہ کوئی گھر نہیں توڑا جائے گا، لیکن دوسری طرف مسلسل انہدامی کارروائیاں جاری ہیں۔ جھگیوں کے معاملے میں بھی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا یہی کہتی رہیں کہ کوئی جھگی نہیں توڑی جائے گی، لیکن روزانہ جھگیاں گرائی جا رہی ہیں۔ بدھ کو آپ ہیڈکوارٹر میں براڑی سے رکن اسمبلی سنجیو جھا کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے دہلی ریاستی صدر سوربھ بھاردواج نے کہا کہ او-زون یا نام نہاد او-زون کے دائرے میں آنے والے گھروں اور جائیدادوں پر گزشتہ چند دنوں سے حکومت کی جانب سے انہدامی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ اس کے باعث دہلی میں ویسا ہی خوف و ہراس پھیل گیا ہے جیسا کچھ عرصہ قبل جھگی جھونپڑیوں میں رہنے والوں کے درمیان دیکھا گیا تھا۔ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا روزانہ کہتی تھیں کہ جھگیاں نہیں توڑی جائیں گی، لیکن جس دن وہ یہ بیان دیتی تھیں، اسی دن جھگیوں پر بلڈوزر چل جاتا تھا۔ آج بھی حکومت کہہ رہی ہے کہ او-زون کے معاملے میں کوئی کارروائی نہیں ہوگی، لیکن منگل کو وہاں رہائشی عمارتوں پر بلڈوزر چلایا گیا۔ ہم حکومت سے کہنا چاہتے ہیں کہ محض زبانی بیانات دینے کے بجائے تحریری اور قانونی کارروائی کرے۔سوربھ بھاردواج نے مزید کہا کہ ہائی کورٹ میں بار بار مرکزی حکومت سے پوچھا گیا کہ دہلی اسپیشل پروویژن ایکٹ کے تحت غیر مجاز کالونیوں کو جو تحفظ حاصل ہے، کیا وہ او-زون کی کالونیوں کو بھی حاصل ہے؟ اس سوال پر مرکزی حکومت اور ڈی ڈی اے نے جان بوجھ کر خاموشی اختیار کی تاکہ ان کالونیوں کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔ ڈی ڈی اے نے مختلف عدالتوں میں بار بار یمنا کے کنارے رہنے والے لوگوں کے خلاف کارروائی اور انہدام کا مطالبہ کیا۔ مرکز میں بیٹھی بی جے پی حکومت کی انہی پالیسیوں کی وجہ سے دہلی کے لاکھوں لوگوں کے سروں پر بے گھر ہونے کی تلوار لٹک رہی ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پارلیمنٹ میں قانون لا کر واضح کیا جائے کہ دہلی اسپیشل پروویژن ایکٹ کے تحت جو تحفظ غیر مجاز کالونیوں کو دیا گیا ہے، وہی تحفظ او-زون میں واقع رہائشی کالونیوں کو بھی حاصل ہوگا۔ اس موقع پر براڑی سے رکن اسمبلی سنجیو جھا نے کہا کہ بی جے پی حکومت او-زون میں رہنے والے لوگوں کو بے گھر کرنے کی دانستہ سازش کر رہی ہے۔ دہلی کے ارکان پارلیمنٹ، وزیر اعلیٰ اور وزراء جھوٹے وعدے اور یقین دہانیاں دے کر لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ ان کی نیت کچھ اور ہے اور کہتے کچھ اور ہیں۔ تین دن قبل براڑی کے جگت پور گاؤں میں بی جے پی رکن پارلیمنٹ رام ویر سنگھ بدھوڑی اور منوج تیواری نے ایک پنچایت میں کہا تھا کہ ایک بھی اینٹ نہیں ٹوٹے گی، لیکن اگلے ہی دن اسی گاؤں میں انہدامی کارروائی کر دی گئی۔ دو دن قبل ریکھا گپتا کراول نگر گئی تھیں، جہاں موجود تمام وزراء ، ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی نے بار بار کہا کہ ایک بھی اینٹ نہیں ہلے گی، لیکن منگل کو وہاں بھی مکانات گرائے گئے۔ ایک بیوہ خاتون نے بڑی مشکل سے پیسے جمع کرکے اپنا گھر بنایا تھا، جسے منگل کو منہدم کر دیا گیا۔ ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ جب بی جے پی کے رہنما بار بار یقین دہانی کرا رہے ہیں تو پھر مکانات کیوں گرائے جا رہے ہیں؟سنجیو جھا نے مزید کہا کہ ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ بی جے پی کے رہنما، ارکان پارلیمنٹ، وزراء اور وزیر اعلیٰ خود ہی ڈی ڈی اے سے ناانصافی نہ کرنے کی اپیل کیوں کر رہے ہیں؟ انہوں نے کہا تھا کہ ڈبل انجن کی حکومت ہوگی اور عوام کی مشکلات کم کی جائیں گی۔ کیا ڈبل انجن کی حکومت میں انجن سے بڑا بھی کوئی پرزہ ہو گیا ہے؟ اس کا صاف مطلب ہے کہ ان کی نیت گھر بچانے کی ہے ہی نہیں۔عدالت نے بار بار پوچھا کہ کیا او-زون کے رہائشیوں کو خصوصی تحفظ دیا جا رہا ہے، لیکن انہوں نے خاموشی اختیار کر لی۔ الٹا یہ کہا گیا کہ ہم بازآبادکاری کی اسکیم بنا رہے ہیں۔ بازآبادکاری کا منصوبہ بنانے کا مطلب ہی یہ ہے کہ لوگوں کو بے دخل کیا جا رہا ہے۔ بی جے پی جھوٹ بول کر لوگوں کو گمراہ کر رہی ہے تاکہ مرحلہ وار مکانات گرائے جا سکیں۔ سنجیو جھا نے کہا کہ بی جے پی کے لوگ یہ بہانہ بناتے ہیں کہ صرف نئے مکانات گرائے جائیں گے۔ لیکن نئے مکان کی تعریف کیا ہے؟ کسی نے سات سال پہلے مکان بنایا، اسے نیا قرار دے کر گرا دیا گیا۔ ایک شخص اپنی ستر سال پرانی آبائی زمین پر چار دیواری تعمیر کر رہا تھا، اسے بھی نیا تعمیراتی کام قرار دے کر منہدم کر دیا گیا۔ نئی تعمیر کا بہانہ صرف اس لیے بنایا جا رہا ہے کہ پہلے سب کچھ گرا دیا جائے اور جو بچ جائے اسے بعد میں ختم کر دیا جائے۔ دہلی کے عوام کے ساتھ ہونے والی یہ ناانصافی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ہم سب نے طے کیا ہے کہ اس مسئلے کا حل صرف پارلیمنٹ سے نکل سکتا ہے۔ پارلیمنٹ میں قانون بنا کر یا آرڈیننس لا کر ہی اس مسئلے کا مستقل حل ممکن ہے۔ جب دوسرے معاملات میں بڑے بڑے آرڈیننس لائے جا سکتے ہیں تو غریبوں کے گھر بچانے کے لیے آرڈیننس کیوں نہیں لایا جا سکتا؟سنجیو جھا نے مزید کہا کہ اب عام آدمی پارٹی دہلی کی ہر کالونی میں جا کر او-زون ہٹاؤ، پارلیمنٹ میں قانون لاؤ اور غریب کا گھر بچاؤ کے عنوان سے دستخطی مہم چلائے گی۔ ہم بی جے پی کو عوام کو گمراہ نہیں کرنے دیں گے۔ ان کی ریگولرائزیشن پالیسی کے تحت صرف 40 فیصد غیر مجاز کالونیاں ہی باقاعدہ قرار دی جا سکی ہیں۔ 2014 کے بعد ہونے والی توسیع کو اس میں شامل نہیں کیا گیا۔ مسئلہ صرف او-زون کا نہیں ہے، اگر آج ہم کھڑے نہیں ہوئے تو کل سب کی باری آئے گی۔ ہم ایک ایک کالونی میں جائیں گے اور دستخطی مہم چلائیں گے۔ دہلی کی 91 کالونیوں میں رہنے والے لوگ خوف اور صدمے میں مبتلا ہیں۔ وہ جھوٹی یقین دہانی نہیں، بلکہ پارلیمنٹ سے قانون بنا کر تحفظ چاہتے ہیں۔ بی جے پی غریبوں کو دہلی سے بے دخل کرنا چاہتی ہے۔ پہلے جھگیاں گرا کر غریبوں کو ہٹایا گیا، اب باقی غریبوں کو بھی بے گھر کیا جا رہا ہے۔ وہ بھول گئے ہیں کہ یہی غریب دہلی کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ چھوٹے موٹے کام کرنے والے بیشتر لوگ انہی علاقوں میں رہتے ہیں۔ ہمارا وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا جی سے مطالبہ ہے کہ دہلی کو برباد نہ کیجیے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

دلی این سی آر

MCD نے ٹاؤن وینڈنگ کمیٹی کے انتخابات کا کیا اعلان

Published

on

 

(پی این این)
نئی دہلی :دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) نے ٹاؤن وینڈنگ کمیٹیوں (ٹی وی سی) کے انتخاکا شیڈول جاری کیا۔ شہر بھر کے رجسٹرڈ اسٹریٹ وینڈرز سے 12 نمائندوں کے انتخاب کے لیے 2 اگست کو ووٹنگ ہوگی، جب کہ گنتی اور نتائج کا اعلان 4 اگست کو ہوگا۔ 2 اگست کو ووٹنگ ہوگی۔ ایم سی ڈی نے الیکشن لڑنے میں دلچسپی رکھنے والے اہل رجسٹرڈ اسٹریٹ وینڈرز سے کہا ہے کہ وہ اپنے متعلقہ زونل دفاتر سے نامزدگی فارم حاصل کریں اور انہیں ڈپٹی کمشنر (زون) کم ریٹرننگ آفیسر کے پاس جمع کرائیں۔
اس معلومات کا انکشاف کرتے ہوئے، ایم سی ڈی نے کہا کہ ان انتخابات کے لیے نامزدگی کا عمل 3 جولائی سے شروع ہو کر 10 جولائی تک جاری رہے گا۔ نامزدگیوں کی جانچ پڑتال اور اعتراضات کو دور کرنے کا عمل 11 جولائی کو ہوگا، جب کہ امیدوار 13 جولائی تک اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے سکیں گے۔ امیدواروں کی حتمی فہرست بھی 13 جولائی کو جاری کی جائے گی۔ ایم سی ڈی صرف ان انتخابات کے لیے ووٹوں کی فہرست تیار کرے گی۔ وینڈنگ (CoVs) ووٹ دینے کے اہل ہوں گے۔ایم سی ڈی کے مطابق، ان انتخابات میں منتخب ہونے والی 12 نشستیں مختلف سماجی طبقات کے لیے مخصوص کی گئی ہیں، جن میں درج فہرست ذاتوں، درج فہرست ذاتوں (خواتین)، اقلیتوں اور معذور افراد کے لیے ایک ایک نشست، دیگر پسماندہ طبقات اور غیر محفوظ خواتین کے لیے دو نشستیں، اور تین نشستیں غیر محفوظ طبقات کے لیے ہیں۔ اس کے علاوہ، ایک نشست دیگر پسماندہ طبقات (خواتین) کے لیے مخصوص ہے۔میونسپل باڈی کے 12 زونز میں 250 وارڈز ہیں اور قواعد کے مطابق ہر آٹھ وارڈز کے لیے کم از کم ایک کمیٹی کی ضرورت ہے۔ میونسپل باڈی نے کہا کہ پولنگ اسٹیشنوں کے بارے میں معلومات زونل آفس میں متعلقہ ریٹرننگ آفیسر کے نوٹس بورڈ پر آویزاں کی جائیں گی۔
شہری ادارے نے بتایا کہ ان انتخابات کے دوران شہر بھر میں تقریباً 27 کمیٹیاں بنائی جائیں گی جن میں سے ہر ایک میں 12 منتخب دکانداروں کے نمائندے شامل ہوں گے۔
، جب کہ بقیہ اراکین میں ماہرین، رہائشی فلاح و بہبود اور مارکیٹ ایسوسی ایشن کے نمائندے اور رضاکار تنظیمیں شامل ہوں گی۔
شایم سی ڈی نے کہا کہ یہ انتخابات دہلی اسٹریٹ وینڈرس (روزی کا تحفظ اور اسٹریٹ وینڈنگ کا ضابطہ) ایکٹ، 2014، اور دہلی اسٹریٹ وینڈرس (ذریعہ معاش کا تحفظ اور اسٹریٹ وینڈنگ کا ضابطہ) قواعد، 2017 کے تحت کرائے جارہے ہیں۔نیشنل ایسوسی ایشن آف اسٹریٹ وینڈرس آف انڈیا (NASVI) نے بدھ کے روز اس اقدام کو اسٹریٹ وینڈرز (روزی کا تحفظ اور اسٹریٹ وینڈنگ کا ضابطہ) ایکٹ، 2014 کے تحت جمہوری کام کاج کو مضبوط بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم قرار دیا۔NASVI کے نیشنل کوآرڈینیٹر اروند سنگھ نے کہا، “کسی بھی دکاندار کو روزی کمانے اور اپنے جمہوری حق کو استعمال کرنے کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔ MCD کو اس بات کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ پولنگ اسٹیشنوں تک آسانی سے رسائی ہو اور انتخابات انتہائی شفاف اور جامع انداز میں منعقد
ہوں۔”

 

Continue Reading

دلی این سی آر

BAT-BMS ایپ سے ای رکشا ڈرائیور پریشان

Published

on

 

 

(پی این این)
نئی دہلی :ان دنوں، کچھ نوجوان موٹر سائیکل سوار دہلی سمیت ملک کے کئی علاقوں میں سڑک کے بیچوں بیچ ای-رکشا کو روکنے کے لیے ایک چینی ایپ کا استعمال کر رہے ہیں۔ جس سے ڈرائیوروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ حالانکہ دہلی کے کسی پولیس اسٹیشن میں کوئی شکایت درج نہیں کی گئی ہے، لیکن سوشل میڈیا پر مختلف ویڈیوز میں یہ مسئلہ سامنے آرہا ہے۔ ڈرائیوروں کی سہولت کے لیے ای رکشوں میں نصب کی جانے والی ڈیوائس اب ان کے لیے پریشانی کا باعث بن گئی ہے۔
براری میٹرو اسٹیشن پر ایک ای رکشہ ڈرائیور سونو نے اطلاع دی کہ ان کا ای رکشہ پیر کو سڑک کے بیچ میں اچانک رک گیا۔ اس کی وجہ سمجھنے سے قاصر، اس نے مسافروں کو اتارا اور ای رکشہ کو ایک مکینک کے پاس لے گیا۔ پھر مکینک نے تین سو روپے میں ایک ایپ کا استعمال کرتے ہوئے بیٹری کو کھولا، اور ای رکشہ نے کام کرنا شروع کر دیا۔ سونو نے وضاحت کی کہ مکینک نے اسے بتایا کہ ایپ نے ایک چپ کے ذریعے بیٹری کو بجلی کی سپلائی منقطع کر دی ہے۔سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو میں سائیکل پر سوار ایک نوجوان ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے ای رکشہ کو روکنے کے لیے ایپ کا استعمال کرتے ہوئے نظر آ رہا ہے۔ یہ ویڈیو یکم جولائی کو اپ لوڈ کی گئی تھی۔ ایک اور ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ایک ای رکشہ ڈرائیور ایپ کی ناکامی سے پریشان ہے۔ ایک صارف نے ویڈیو اپ لوڈ کی، جس میں ای رکشہ ڈرائیور ایک نوجوان کو زبانی گالیاں دے رہا تھا، اور الزام لگایا کہ اس نے ای رکشہ کو روکنے کے لیے ایپ کا استعمال کیا۔
لیتھیم آئن بیٹری کی نگرانی کے لیے ای رکشے بیٹری مینجمنٹ سسٹم ڈیوائس سے لیس ہوتے ہیں۔ یہ بلوٹوتھ کے ذریعے موبائل فون سے جڑتا ہے۔ اس کے ذریعے ڈرائیور بیٹری کے چارج، وولٹیج، درجہ حرارت، کرنٹ وغیرہ کو مانیٹر کر سکتے ہیں۔
زیادہ تر سستے ای رکشے چائنیز بی ایم ایس سے لیس ہوتے ہیں، جس میں بلوٹوتھ سے منسلک ہونے کے لیے کسی قسم کی حفاظتی سہولت نہیں ہوتی۔ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شرپسند اپنے موبائل فون پر “BAT- BMSایپ ڈاؤن لوڈ کر رہے ہیں۔ جیسے ہی کوئی ای رکشہ ان کی گاڑی کے 10 سے 15 میٹر کے اندر آتا ہے، یہ ایپ بغیر اجازت کے رکشہ کے بی ایم ایس سے جڑ جاتی ہے۔ ایپ بیٹری کے ڈسچارج سوئچ کو بند کرنے کے لیے ایپ کا استعمال کرتی ہے، موٹر کی بجلی کاٹ دیتی ہے۔ BAT-BMS ایک چینی ایپ ہے جو گوگل پلے اسٹور پر دستیاب ہے۔

 

 

 

Continue Reading

دلی این سی آر

اقلیتی فرقہ کے خلاف نفرت تشویشناک:مفتی مکرم

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی :شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مفکر ملت مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد نے جمعہ کی نماز سے قبل خطاب میں مسلمانوں کو تاکید کی کہ اسلامی شریعت کی پابندی کریں اور نوجوانوں کو بھی شریعت کا پابند بنائیں اسی میں فلاح دارین ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت میں اقلیتی فرقہ کے خلاف نفرت اور اشتعال انگیزی حد سے زیادہ ہو چکی یہ تشویش کی بات ہے ابھی مغربی بنگال کی حکومت کو بنے ہوئے زیادہ دن بھی نہیں گزرے ہیں کہ وہاں پر یونیفارم سول کوڈ لانے کی تیاری ہے۔
یو سی سی بل بھی نافذ کیا جائے گا اس کے علاوہ تبدیلی مذہب مخالف قانون اور مبینہ لینڈ جہاد بل بھی لانے کا پروگرام ہے۔ یو سی سی بل میں آئینی طور پر محفوظ قبائلی برادری اس سے مستثنی رہیں گے۔ مفتی مکرم نے کہا کہ آئین ہر فرقے کو اپنے اپنے مذہب کے مطابق عمل کرنے کی اجازت دیتا ہے اور آزادی کے بعد سے اب تک آئین کے مطابق ہر فرقہ قانون کے مطابق اپنے سبھی مسائل کو حل کرنے میں آزاد ہے تو اب کیا پریشانی ہے یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ نفرت کا مقابلہ چل رہا ہے فرقہ پرستی کی سیاست کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں ایک سیکولر ملک میں ایسا نہیں ہونا چاہیے ۔
مفتی مکرم نے بھارت کی راجدھانی دہلی میں لنچنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات پر شدید رنج و غم کا اظہار کیا انہوں نے کہا کہ ایک ہفتے میں لنچنگ کے کئی واقعات رونما ہوئے ہیں۔
نریلا میں شرپسندوں نے معمولی جھگڑے پر دو بھائیوں پر حملہ کر دیا جن میں سے ایک کی موت ہو گئی ایک زخمی ہے، اتم نگر کے راجا پوری میں قرض کی عدم ادائیگی پر عزیر کو قتل کر دیا گیا ضلع غازی آباد کے لونی مصطفی آباد علاقے میں بائک سے کار کی ٹکر پر محمد زید کو ہلاک کر دیا گیا ہمارا مطالبہ ہے کہ لنچنگ کرنے والوں کو سخت سزا دی جائے اور اقلیتوں کے جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے آئندہ ایسے واقعات رونما نہ ہوں اس کا مکمل بندوبست کیا جائے ۔
مفتی مکرم نے فلسطینی بچوں پر اسرائیل کے مظالم کی شدید مذمت کی ۔ اقوام متحدہ کی جانب سے گذشتہ ہفتہ ایک رپورٹ جاری کی گئی ہے اس رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2023 اور اکتوبر 2025 تک بیس ہزار سے زیادہ فلسطینی بچے ہلاک ہوئے 44 ہزار سے زیادہ بچے زخمی ہوئے جان بوجھ کر بچوں کو نشانہ بنایا گیا ہم اس ظلم کی شدید مذمت کرتے ہیں اور عالمی برادری کو اور ہر ملک کو ایسے ظلم کی مذمت کرنی چاہیے اور مظالم میں اسرائیل کا ساتھ نہیں دینا چاہیے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network