دیش
ریپ کیس میں پراجول ریوانہ کو عمر قید کی سزا، سابق وزیر اعظم دیوے گوڑا کے پوتے ہیں ریونا
بنگلورو– جنتا دل (سیکولر) کے سابق ایم پی پرجول ریوانہ کو بنگلورو کی ایک خصوصی عدالت نے اپنی گھریلو ملازمہ کے ساتھ عصمت دری کرنے کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی ہے(Prajwal Revanna Life Imprisonment)۔ عدالت نے سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا (Former PM HD Deve Gowda) کے پوتے پراجول ریونا پر بھی 5 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں زیادہ سے زیادہ سزا سنائی ہے۔ پراجول ریوانا کو 48 سالہ گھریلو ملازمہ کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں سزا سنائی گئی ہے۔
ہاسن ضلع کے ہولیناراسی پورہ میں واقع ریوانہ خاندان کے فارم ہاؤس میں گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی خاتون نے الزام لگایا تھا کہ پراجول ریونا نے 2021 سے اس کے ساتھ بار بار عصمت دری کی۔
ریوانا کو جمعہ کو بنگلورو کی خصوصی عدالت برائے ایم پی اور ایم ایل ایز نے عصمت دری، مجرمانہ دھمکیاں دینے اور مباشرت کی تصاویر کی غیر قانونی گردش سمیت مختلف جرائم کے لیے مجرم قرار دیا تھا، اور ہفتہ کو سزا سنائی گئی تھی۔
متاثرہ کی طرف سے پیش ہونے والے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر بی این جگدیش نے عدالت کو بتایا کہ متاثرہ کی بار بار عصمت دری کی گئی، بلیک میل کیا گیا اور یہاں تک کہ جنسی زیادتی کی ویڈیو دیکھنے کے بعد خودکشی کا سوچا۔

کئی خواتین نے الزام لگایا تھا کہ اس وقت کے رکن پارلیمنٹ ریوانا نے انہیں جنسی حرکات پر مجبور کیا اور اسے ریکارڈ کیا۔
“جنسی زیادتی کی ویڈیو پراجول کی سفاکانہ ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے۔ وہ ایک موجودہ رکن پارلیمنٹ تھا، قانون سے پوری طرح واقف تھا، پھر بھی اس نے ایسی حرکتیں کیں۔ وہ ایک عادی مجرم ہے جس نے کئی خواتین کی ویڈیوز ریکارڈ کیں۔ اسے زیادہ سے زیادہ سزا ملنی چاہیے،” جگدیش نے کہا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ “ایک مضبوط پیغام بھیجا جانا چاہیے کہ دولت اور سیاسی طاقت نرمی کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ عدالتوں کو اس عام تصور کو غلط ثابت کرنا چاہیے کہ بااثر لوگ ہلکی پھلکی سزاؤں سے فرار ہو جاتے ہیں جبکہ عام شہری قانون کے شکنجے میں رہتے ہیں”۔
سزا سنانے سے پہلے اپنے آخری بیان میں پراجول ریوانا نے ٹوٹتے ہوئے کہا، “یہ کیس الیکشن کے دوران کیوں آیا؟ جب میں ایم پی تھا تو میرے خلاف کوئی شکایت درج نہیں ہوئی، اب وہ کہہ رہے ہیں کہ میں نے کئی جنسی زیادتیاں کیں، تب کوئی سامنے کیوں نہیں آیا؟”
اپریل 2024 میں کئی خواتین کی جانب سے الزامات لگانے کے بعد پراجول ریوانہ کے خلاف مقدمات درج کیے گئے تھے۔ خواتین نے الزام لگایا تھا کہ اس وقت کے رکن پارلیمنٹ نے انہیں جنسی حرکات پر مجبور کیا اور اسے ریکارڈ کیا۔ ہاسن لوک سبھا حلقہ میں پولنگ سے تین دن پہلے 23 اپریل 2024 کو ریونا کے کئی خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے ویڈیوز منظر عام پر آنا شروع ہوئے، جہاں سے وہ جے ڈی (ایس) امیدوار تھے۔ جیسے ہی تنازعہ بڑھتا گیا، ریوانا پولنگ کے ایک دن بعد جرمنی روانہ ہوگئیں۔ تاہم وہاں سے واپسی کے بعد اسے گرفتار کر لیا گیا۔
دیش
چیف جسٹس کو گالی دینے والے پر نہیں ہوگی کارروائی
نئی دہلیسپریم کورٹ میں جمعہ کے دن ایک غیر معمولی واقعہ دیکھنے کو ملا، جب ایک عرضی دہندہ وکیل نے ہوا میں فائلیں چھالیں اور سی جے آئی سوریہ کانت کو گولی دی، یہ پورا واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہورہا ہے۔ جس پر شدید ردعمل کا اظہار ہورہا ہے اور وکیل پر کارروائی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ اس کے باوجود سپریم کورٹ نے ملزم کے خلاف کوئی ایکشن لینے سے انکار کردیا ہے۔
دراصل جمعہ کے روز سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران ایک درخواست گزار نے ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ اس نے عدالت میں نازیبا الفاظ کہے اور کورٹ روم میں کیس کی فائل پھینک دی۔ اس وقت سی جے آئی سوریہ کانت کورٹ روم میں موجود نہیں تھے۔ جسٹس کے وی وشوناتھن اور جسٹس آلوک ارادھے کی بنچ اس درخواست پر سماعت کر رہی تھی۔ عرضی گزار بغیر کسی وکیل کے خود ہی اپنا کیس لڑ رہا تھا۔
سپریم کورٹ نے کورٹ روم میں ہنگامہ آرائی کرنے، کیس سے متعلق دستاویزات ہوا میں اچھالنے اور ہندوستان کے چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے والے عرضی گزار پربل پرتاپ کے خلاف فی الحال کوئی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم عدالت عظمیٰ نے درخواست گزار کے رویے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اس کی درخواست بھی خارج کر دی۔ جسٹس کے وی وشوناتھن اور جسٹس آلوک ارادھے پر مشتمل بنچ کے سامنے عرضی گزار نے ایسی حرکت کی تھی، جس کے بعد سیکورٹی اہلکار اسے حراست میں لے کر کورٹ روم سے باہر چلے گئے۔
سپریم کورٹ کا ماننا ہے کہ سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے بھی ایسے واقعات کو انجام دیا جاتا ہے۔ ایسے میں کوئی قانونی قدم اٹھانے سے متعلقہ شخص اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائے گا۔ رجسٹرار کی جانب سے جب چیف جسٹس کو اس واقعے کے بارے میں مطلع کیا گیا تو انہوں نے بھی اس معاملے میں آگے کوئی قدم نہ اٹھانے کی ہدایت دی۔
دراصل جمعہ کے روز سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران ایک درخواست گزار نے ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ اس نے عدالت میں نازیبا الفاظ کہے اور کورٹ روم میں کیس کی فائل پھینک دی۔ اس وقت سی جے آئی سوریہ کانت کورٹ روم میں موجود نہیں تھے۔ جسٹس کے وی وشوناتھن اور جسٹس آلوک ارادھے کی بنچ اس درخواست پر سماعت کر رہی تھی۔ عرضی گزار بغیر کسی وکیل کے خود ہی اپنا کیس لڑ رہا تھا۔
سماعت کے دوران اس نے خود کو ’خود مختار‘ بتایا اور کیس کی فائل کے کاغذات ہوا میں اچھال دیے۔ عرضی گزار کے اس رویے سے کورٹ روم میں کچھ دیر کے لیے خاموشی چھا گئی اور سیکیورٹی اہلکاروں نے فوری طور پر اسے کورٹ روم سے باہر نکال دیا۔ جیسے ہی سماعت شروع ہوئی عرضی گزار نے کہا کہ ’’یور آنر، میں آپ کو لکھنؤ کے اے سی پی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیتا ہوں۔‘‘ جسٹس کے وی وشوناتھن نے حیرت کا اظہار کیا اور پوچھا کہ ’’کیا آپ مجھے حکم دے رہے ہیں؟‘‘ عرضی گزار نے جواب دیا ’’میری طرف سے بس اتنا ہی، سب کچھ ریکارڈ پر ہے۔‘‘ پھر اس نے کیس کی فائل ہوا میں پھینک دی اور نازیبا الفاظ کا استعمال کرنے لگا۔ سیکورٹی اہلکاروں نے فوری مداخلت کرتے ہوئے اسے کورٹ روم سے باہر لے گئے۔
21 جولائی کی ریلی پر سیاسی گھمسان، ترنمول نے کلکتہ ہائی کورٹ کا کھٹکھٹایادروازہ
کولکاتا: مغربی بنگال کی سیاست میں 21 جولائی کی روایتی یومِ شہداء ریلی اس بار شدید سیاسی اور قانونی کشمکش کا مرکز بن گئی ہے۔ کولکاتہ پولیس کی جانب سے دھرمتلہ میں جلسے کی اجازت نہ دینے کے فیصلے کے بعد ’’کالی گھاٹ ترنمول‘‘ نے کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے، جبکہ دوسری جانب ریتوبرتا بنرجی کی قیادت والی خود کو ’’اصل ترنمول‘‘ کہنے والی تنظیم بھی اسی دن پروگرام کے انعقاد کے لیے سرگرم ہے۔ اس طرح 21 جولائی کی ریلی محض ایک سیاسی اجتماع نہیں بلکہ ترنمول کانگریس کے اندر جاری طاقت کی کشمکش کی علامت بنتی جا رہی ہے۔کولکاتہ پولیس پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ دھرمتلہ جیسے انتہائی مصروف علاقے میں 21 جولائی کو کسی بڑے جلسے کی اجازت دینا ممکن نہیں۔ اس فیصلے کے بعد ریتوبرتا بنرجی کے حامیوں نے ریاستی پولیس کے ڈائریکٹر جنرل سدھاناتھ گپتا سے ملاقات کر کے متبادل مقام کی درخواست کی اور گاندھی مجسمہ کے قریب جلسہ منعقد کرنے کی اجازت مانگی۔ ادھر ممتا بنرجی کی قیادت والی ’’کالی گھاٹ ترنمول‘‘ نے پولیس کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔واضح رہے کہ ترنمول کانگریس گزشتہ کئی دہائیوں سے 21 جولائی کو یومِ شہداء کے طور پر مناتی آئی ہے۔ یہ دن 1993 میں اس وقت کے یوتھ کانگریس کارکنوں پر مہاکرن مارچ کے دوران پولیس فائرنگ میں 13 افراد کی ہلاکت کی یاد میں منایا جاتا ہے اور ہر سال دھرمتلہ اس تاریخی اجتماع کا مرکز رہا ہے۔ تاہم اس سال صورتحال یکسر مختلف ہے کیونکہ پارٹی کے اندر اختلافات اور قیادت کے بحران نے اس روایت کو بھی متاثر کر دیا ہے۔ پارٹی کے انتخابی نشان، تنظیمی اختیار اور مالی وسائل کو لے کر رسہ کشی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ متعدد ارکانِ پارلیمنٹ اور اسمبلی پارٹی قیادت سے ناراض بتائے جا رہے ہیں، جبکہ ممتا بنرجی اور ابھیشیک بنرجی کی قیادت کو لے کر بھی اختلافات کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ ایسے میں 21 جولائی کی ریلی کو پارٹی اپنی سیاسی طاقت اور تنظیمی اتحاد کے مظاہرے کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ذرائع کے مطابق ’’کالی گھاٹ ترنمول‘‘ اس مرتبہ ان تمام رہنماؤں اور کارکنوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کر رہی ہے جو مشکل وقت میں پارٹی کے ساتھ کھڑے رہے لیکن انہیں مناسب سیاسی مقام یا ذمہ داری نہیں مل سکی۔ قیادت کو امید ہے کہ اس حکمت عملی سے پارٹی کے اندر اتحاد کو مضبوط کیا جا سکے گا، تاہم ریلی کے مقام پر تاحال غیر یقینی برقرار ہے۔
دیش
طلبا کو بارش سے بچانے کیلئے دیپکے نے ٹینٹ لگانے کی مانگی اجازت
نئی دہلی:نیٹ پیپر لیک معاملے اور دیگر بدعنوانیوں کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی(سی جے پی ) کے جنتر منتر پر مظاہرہ کا بیسواں دن ہے۔ اس دوران دہلی میں بارش بھی ہورہی ہے ، بتایا جاتا ہے کہ سی جے پی کے بانی دیپکے نے پولیس والوں کے سامنے ہاتھ جوڑے کہ انھیں ٹینٹ لگانے کی اجازت دے، کیونکہ طلبا بارش میں بھیگ رہے ہیں۔ انھوں نے ایک ویڈیو پر پولیس میں ترپال لگانے کی کوشش کرنے والے طلبا کے ساتھ پولیس پر بدسلوکی کا بھی الزام لگایا، انھوں نے لکھا ہے کہ خاتون طلبا کو پولیس والوں نے دھکا دیا۔
غورطلب ہے کہ جنتر منتر کے مظاہرے میں معروف سماجی خدمت گار وانگچک بھی بھوک ہڑتال پر ہیں۔ ان کے یہ بھوک ہڑتال کا بارہ واں دن ہے۔ سی جے پی امتحانات میں بدعنوانیوں کے خلاف وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفیٰ مانگ رہی ہے۔ اس مظاہرے میں کئی نامی گرامی سوشل ایکٹوسٹ بھی شامل ہیں، وانگچک 28 جون سے بھوک ہڑتال کررہے ہیں ان کا وزن تیزی سے گرتا جارہا ہے۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
