دیش
خواتین فوجی افسران کو مستقل کمیشن کا پورا حق :سپریم کورٹ
(پی این این)
نئی دہلی :سپریم کورٹ نے خواتین فوجی افسران کو مستقل کمیشن دینے سے متعلق اہم تبصرہ کیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ شارٹ سروس کمیشن کے تحت خدمات انجام دینے والی خواتین فوجی افسران بھی مستقل کمیشن کی حقدار ہیں اور انہیں کسی امتیاز کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ خواتین فوجی افسران کے ساتھ انصاف ہونا چاہیے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ پورے نظام کی غیر جانبداری کو ظاہر کرتا ہے کہ SSC خواتین افسران کو مستقل کمیشن نہیں دیا جا رہا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ہر سال کم از کم 250 خواتین افسران کو مستقل کمیشن دینے کا حکم جاری کیا گیا تھا اور اس کی خلاف ورزی نہیں کی جا سکتی۔ عدالت نے یہ تبصرہ آئین کے آرٹیکل 142 کے تحت اپنا استحقاق استعمال کرتے ہوئے کیا۔ عدالت نے کہا کہ اگر آرمی اور نیوی دونوں میں خواتین افسران کے ساتھ امتیازی سلوک ہو رہا ہے تو اس کا ازالہ ضروری ہے۔
چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ صرف مرد شارٹ سروس کمیشن آفیسرز (ایس ایس سی او) ہی مستقل کمیشن کے حقدار نہیں ہو سکتے۔ اگر مستقل کمیشن دینے میں خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے تو یہ ناانصافی ہے۔ سپریم کورٹ نے سالانہ خفیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ خواتین مستقل کمیشن کی اہل نہیں ہیں۔
سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ آرمی، نیوی اور ایئر فورس میں شارٹ سروس کمیشن خواتین افسران کو 14 سال کی سروس کے بعد بھی پنشن کا فائدہ ملنا چاہیے۔ تاہم، فوج نے پہلے 20 سال کی سروس کے بعد پنشن لازمی قرار دی تھی۔ عدالت نے کہا تھا کہ خواتین افسران بھی طبی معیار اور تادیبی منظوری کے بعد مستقل کمیشن کے لیے اہل ہیں۔ یہ صرف مخصوص شعبوں پر لاگو نہیں ہوتا ہے۔
خواتین فوجی افسران نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ آپریشن سندھ جیسے آپریشنز میں حصہ لینے کے باوجود انہیں مستقل کمیشن دینے میں اپنے مرد ہم منصبوں کے مقابلے امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ خواتین افسران نے چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس اجول بھویان اور جسٹس این کوٹیشور سنگھ پر مشتمل بنچ کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر بھی عمل نہیں کیا جا رہا ہے۔
افسران کی نمائندگی کرنے والے وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ کے 2020 اور 2021 کے احکامات کی بار بار خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقل کمیشن میں خواتین افسران کی کمی ہے۔ 2021 کے بعد سے، کئی ایسے واقعات ہوئے ہیں جہاں 250 کی حد سے تجاوز کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین افسران انتہائی باصلاحیت ہیں اور انہوں نے اہم آپریشنز میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ اس کے باوجود انہیں جس امتیازی سلوک کا سامنا ہے وہ انتہائی پریشان کن ہے۔
دیش
مدھیہ پردیش ،گجرات، یوپی ،بہار سمیت 16ریاستوں میں بھاری بارش
بھوپال/جے پور/پٹنہ:ملک بھر میں زبردست بارش کا دور جاری ہے۔ مدھیہ پردیش گجرات، اترپردیش، بہار سمیت 16 ریاستوں میں زبردست بارش ہورہی ہے۔ بستی مہاراشٹر، مراٹھاواڑہ، بیدر اور تلنگانہ میں ریڈ الرٹ جاری کردیا گیاہے۔ ریڈ الرٹ کا مطلب ہے کہ 24 گھنٹے میں حد سے زیادہ بارش۔
دریں اثنا اتراکھنڈ میں ردپریا کے گوری کنڈ کے پاس لینڈ سلائڈنگ سے کیدار ناتھ یاترا تیسرے دن بھی بند رہی ۔ اس دوران کئی گھروں میں پتھروں کا ملبہ گھس گیا۔ اور نصف درجن گاڑیوں کے بہنے کی خبریں ہیں۔ کانوڑیوں کو بچانے کے لئے ایس ڈی آر ایف ٹیم لگی ہوئی ہے۔ آسام میں سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد اب سو سے پار کرگئی ہے۔ پانچ لاکھ سے زائد آبادی والے علاقے زیر آب ہیں۔ وہاں کے لوگ دوسرے محفوظ علاقوں میں منتقل کردیئے گئے ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ایک اگست تک آسام اور دوسری ریاستوں میں بھاری بارش اور بجلی گرنے کے امکانات ہیں۔آسام میں تنسکویا، بھیما جی ، لکھیم پور، شیو ساگر، جورہارٹ اور گولہ گھاٹ جیسے سرحدی اضلاع کو الرٹ کردیا گیا ہے۔
گجرات میں دو دنوں کی بارش نے عام زندگی مفلوج کردی ہے یہاں بھی ہائی الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔ مدھیہ پردیش میں بھی بارش کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ وہاں کے 17 اضلع متاثر ہیں۔ یوپی ، بہار کے کئی اضلاع میں بھی انتظامیہ الرٹ ہے۔
دیش
سپریم کورٹ نے بھوج شالہ درگاہ میں نماز کی دی اجازت
نئی دہلی:سپریم کورٹ نے مسلم فریق کو متنازعہ بھوج شالہ احاطہ سے منسلک درگاہ کی زمین پر جمعہ کی نماز کی ادائیگی کی اجازت دی ہے۔ کورٹ نے کہا کہ مذہبی حقوق کی ادائیگی ہمارا فرض ہے۔ اسے سلب نہیں کیا جاسکتا۔
سپریم کورٹ نے مدھیہ پردیش حکومت کو ہدایت دی ہے کہ کل کی جمعہ کی نماز کے لئے بھوج شالہ احاطہ کے بغل میں زمین فراہم کی جائے۔کورٹ نے واضح کیا کہ مسلم فریق نے خسرہ نمبر596جسے درگاہ کی زمین بتایا گیا ہے وہاں پر جمعہ کی نماز ادا کرنے کی اجازت مانگی ہے۔یہ جگہ متنازعہ احاطہ سے بالکل نزدیک ہے ۔
عدالتِ عظمیٰ نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ ہر جمعہ دوپہر ایک بجے سے تین بجے کے درمیان مسلمانوں کو مذکورہ مقام پر نماز ادا کرنے کی اجازت یقینی بنائے۔
چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس حکم سے ریاستی حکومت اور مسلم فریق باہمی رضامندی سے جمعہ کی نماز کے لیے کسی متبادل مقام پر غور کرنے سے محروم نہیں ہوں گے۔ 14 جولائی کو سپریم کورٹ نے عبوری حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ مقدمے کے حتمی فیصلے تک ہر جمعہ دوپہر ایک بجے سے تین بجے کے درمیان نماز کے لیے متنازع مقام سے متصل ایک علیحدہ کھلی جگہ فراہم کی جائے۔بعد ازاں حاجی منیر احمد کی قیادت میں مسلم فریق نے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے الزام لگایا کہ عدالت کے حکم پر عمل نہیں کیا گیا، کیونکہ ضلعی انتظامیہ نے جو متبادل جگہ فراہم کی ہے وہ متنازع بھوج شالا کمپلیکس سے تقریباً 1.3 کلومیٹر دور ہے۔مسلم فریق کا مؤقف تھا کہ نماز کے لیے ایسی جگہ دی جانی چاہیے جہاں سے مسجد نظر آتی ہو، تاکہ نماز کی ادائیگی ممکن ہو سکے۔
واضح رہے کہ 15 مئی کو مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ دھار ضلع میں واقع متنازع بھوج شالا-کمال مولہ مسجد کمپلیکس دراصل دیوی سرسوتی کا مندر ہے۔ اسی فیصلے میں عدالت نے آثارِ قدیمہ کے سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کے کئی دہائیوں پرانے اس حکم کو بھی منسوخ کر دیا تھا، جس کے تحت مسلم برادری کو اس مقام پر جمعہ کی نماز ادا کرنے کی اجازت حاصل تھی۔
دیش
آسام میں سیلاب سے 61 ہلاک،8لاکھ افراد متاثر،گجرات میں بھار ی بارش سے 8کی موت،تمام تعلیمی ادارے بند
گوہاٹی/احمد آباد:آسام میں سیلاب کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد 61 سے تجاوز کرگئی ہے۔چوبیس گھنٹے میں 15 لوگوں کی موت کی خبریں ہیں۔ ریاست کے بارہ اضلاع زیر آب ہیں۔8 لاکھ سے زائد کو دوسری جگہ منتقل کرایا گیا ہے۔ادھر گجرات میں بھی بارش نے تباہی مچائی ہے۔ وہاں مسلسل بارش ہورہی ہے۔ 50 ہزار سے زائد لوگوں کو دوسری جگہ منتقل کیا گیا ہے۔بارش سے جڑے حادثات میں 8 لوگوں کی موت کی خبریں ہین۔ احمد آباد میں تمام اسکول ، کالج، آنگن باڑی ودیگر تعلیمی ادارے بند کردیے گئے۔ادھر اترپردیش اور راجستھان میں بھی بارش کا الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔اترپردیش میں گزشتہ پندرہ دنوں سے لگاتار بارش ہورہی ہے،آج تیس اضلاع میں زبردست بارش کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ راجستھان میں بھی بارش کا دور جاری ہے۔محکمہ موسمیات نے ریاست کے مختلف حصوں کے لئے الرٹ جاری کردیا ہے۔ حالانکہ جموں وکشمیر میں لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے آمدورفت ٹھپ تھی لیکن اب چھ دنوں کے بعد آمدورفت جاری ہوئی ہے۔ امرناتھ یاترا بھی شروع کردی گئی ہے۔
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
دلی این سی آر11 months agoاردو اکادمی دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے میں کثیر تعداد میں اسکولی بچوں نےلیا حصہ
