Connect with us

دلی این سی آر

جامعہ میں اپنی نوعیت کی پہلی دو روزہ قومی کانفرنس کاکیا انعقاد

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی :جامعہ ملیہ اسلامیہ کی فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے شعبہ کامرس اینڈ بزنس اسٹڈیز نے اپنے تعلیمی سفر میں ایک اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے اپنی نوعیت کی پہلی دو روزہ قومی کانفرنس کا انعقاد کیا۔
 ’’وکست بھارت کے لیے جی ایس ٹی اصلاحات: دوہزار سیتالیس تک ہندوستان کی سماجی و اقتصادی تبدیلی کو مستحکم کرنا‘‘کے موضوع پر منعقدہ اس کانفرنس میں ستر تحقیقی مقالات پیش کیے گئے اور سات ریاستوں کے ماہرین تعلیم کے ساتھ ساتھ مرکزی یونیورسٹیوں کے چار وائس چانسلرز نے شرکت کی، تاکہ جی ایس ٹی، اعلیٰ تعلیم اور ‘وکست بھارت  دوہزار سینتالیس’‘جیسے اہم موضوع پر وسیع تر مکالمہ انجا م جا سکے۔نئی دہلی میں واقع جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کیمپس میں انیس اور بیس اگست دوہزار چھبیس کو منعقدہ اور انڈین کونسل آف سوشل سائنس ریسرچ، نئی دہلی کے اشتراک سے ترتیب دی گئی یہ دو روزہ کانفرنس، ہندوستان کی اقتصادی تبدیلی میں ’’گڈز اینڈ سروسز ٹیکس( جی ایس ٹی)‘ کے کردار کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم تعلیمی پلیٹ فارم ثابت ہوئی۔ تاہم، اس کانفرنس کی امتیازی خصوصیت یہ تھی کہ اس میں ہونے والی گفتگو محض ٹیکس کے نظام تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کا دائرہ کار حکمرانی، شمولیت، ڈیجیٹل تبدیلی، اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور تعمیرِ قوم جیسے وسیع تر مسائل تک پھیلا ہوا تھا۔اس کانفرنس میں  ایک سو آٹھ محققین کی جانب سے ایک سو ساٹھ انفرادی رجسٹریشن کے ذریعے انہتر تحقیقی مقالات موصول ہوئے ۔
جن میں متعدد ایسے مقالے بھی شامل تھے جو ایک سے زائد مصنفین نے مشترکہ طور پر تیار کیے تھے۔ یہ مقالا ت سات ریاستوں اور قومی راجدھانی دہلی میں واقع پچیس سے زائد یونیورسٹیوں اور اداروں کی جانب سے پیش کیے گئے ؛ ان میں دہلی، اتر پردیش، ہریانہ، اتراکھنڈ، پنجاب، تلنگانہ اور اوڈیشہ کے تعلیمی ادارے شامل تھے۔
شرکت کا یہ وسیع دائرہ کار معاشی نظم و نسق اور ترقی کے ایک آلے کے طور پر جی ایس ٹی میں بڑھتی علمی دلچسپی کو اجاگر کرتاہے۔ کانفرنس میں اساتذہ، رسرچ اسکالرس، پوسٹ گریجویٹ اور انڈر گریجویٹ طلبہ اور صنعت سے وابستہ پیشہ ور افراد نے حصہ لیا۔ اس میں جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، جامعہ ہمدرد، دہلی یونیورسٹی اور اس کے ملحقہ کالجز، اگنو ، مانو ،رچنا انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ریسرچ اینڈ اسٹڈیز، آئی آئی ایل ایم یونیورسٹی، شوبھت یونیورسٹی، کماؤں یونیورسٹی، امراپالی یونیورسٹی، شاردا یونیورسٹی، ایمیٹی یونیورسٹی، بنارس ہندو یونیورسٹی، خالصہ یونیورسٹی، خالصہ کالج آف لا، اتکل یونیورسٹی اور دیگر کئی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
کانفرنس کا آغاز انیس اگست دوہزار چھبیس کو فیکلٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے آڈیٹوریم میں تلاوتِ کلامِ پاک اور جامعہ کے ترانے سے ہوا، جس کے بعد کنوینر پروفیسر دیبارشی مکھرجی نے مہمانان او رسامعین و حاضرین کا خیر مقدم کیا اور کانفرنس کے موضوع کا تعارف پیش کیا۔ افتتاحی اجلاس سے شعبہ کامرس اینڈ بزنس اسٹڈیز کے سربراہ پروفیسر نصیب احمد اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کی فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے ڈین پروفیسر زبیر مینائی نے بھی خطاب کیا۔
ا فتتاحی اجلاس کی علمی حیثیت کو ‘ایبسٹریکٹ پروسیڈنگز’ (مقالہ جات کی تلخٰص پر مبنی مجموعے) بعنوان جی ایس ٹی، گروتھ اینڈ گورنینس:پاتھ ویز تو وکست بھارت اے آئی لٹیریسی : ریتھنکنگ انٹلی جینس ،لرننگ اینڈ ہیومن پوٹینشیل ان دی ایج آف انٹلی جینٹ مشینس کی رونمائی نے مزید مستحکم کیا۔ یہ دونوں مطبوعات اقتصادی طرزِ حکمرانی، تکنیکی تبدیلی، تعلیم اور بھارت کے ترقیاتی سفر جیسے امور کے ساتھ کانفرنس کی وسیع تر وابستگی کی عکاس تھیں۔
افتتاحی اجلاس میں تلنگانہ پبلک سروس کمیشن کے رکن ڈاکٹر عامر اللہ خان نے کلیدی خطاب کیا، جس کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شیخ الجامعہ اور کانفرنس کے سرپرست اعلی عزت مآب پروفیسر مظہر آصف نے صدارتی خطاب کیا۔ اجلاس کا اختتام شریک کنوینر ڈاکٹر وویک کے اظہار تشکر اور قومی ترانے پر ہوا۔
یہ کانفرنس پروفیسر زبیر مینائی اور پروفیسر نصیب احمد کی بطور شریک سرپرست رہنمائی میں منعقد کی گئی، جس میں پروفیسر دیبارشی مکھرجی کنوینر اور ڈاکٹر وویک اور ڈاکٹر اظہار احمد شریک کنوینر تھے۔ اس کے انعقاد میں کانفرنس کوآرڈینیشن ٹیم کا تعاون شامل تھا جس میں زینب علی، سجادہ، اریبہ، اقرا تبسم، فہد مخدومی، ارم خان، کرونا بھٹلا، فیض قمر، عائشہ خان، ابھیشیک پرتاپ سنگھ اور مرزا حنان بشار شامل تھے۔
کانفرنس کا علمی و تحقیقی مرکز آٹھ مختلف موضوعاتی شعبوں پر محیط آٹھ تکنیکی اجلاسوں پر مشتمل تھا، جن میں جی ایس ٹی  کے متنوع معاشی، سماجی اور ادارہ جاتی پہلوؤں پر تحقیقی نقطہ نظر کو یکجا کیا گیا۔ مباحثوں کا آغاز ‘جی ایس ٹی اور وکست بھارت دوہزار سینتالیس کا وژن’ کے موضوع پر اجلاس سے ہوا، جس کی صدارت آئی آئی ایم لکھنؤ کے ڈاکٹر کشتیج اوستھی نے کی، جب کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ڈاکٹر محمد عاطف شریک چیئر اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ڈاکٹر توصیف الدین صدیقی بطور باحث شامل رہے۔ اس سیشن میں ہندوستان کے طویل مدتی ترقیاتی عزائم کے وسیع تر تناظر میں جی ایس ٹی کا جائزہ لیا گیا۔
دوسرا اجلاس’جی ایس ٹی اور شعبہ جاتی اثرات ‘ کے موضوع پر جس کی صدارت جے نارائن ویاس یونیورسٹی کے پروفیسر کرشن اوتار گوئل نے کی، جب کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے جناب ایس شامخ احسن شریک چیئر اور جامعہ کے ڈاکٹر محمد زکریا صدیقی بطور باحث شامل رہے۔ تیسرے سیشن’جی ایس ٹی، شمولیت اور پائیدار ترقی‘ کی قیادت جامعہ ملیہ اسلامیہ کی پروفیسر شیما علیم نے کی؛ اس میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ڈاکٹر سمیر بابو شریک چیئر اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر اشرف الیان بطور باحث شریک رہے۔
چوتھے سیشن، ‘چیلنجز، اصلاحات اور مستقبل کا لائحہ عمل’ کی صدارت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسر محمد یامین نے کی، جب کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ڈاکٹر سیف الرحمن فاروقی شریک چیئر اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر نصیب احمد بطور باحث شامل رہے۔ پانچویں سیشن، ‘جی ایس ٹی اور کاروبار میں آسانی‘ میں مانو رچنا یونیورسٹی کے پروفیسر بھاویش پرکاش جوشی صدر اجلاس، جامعہ ملیہ اسلامیہ کی ڈاکٹر یاسمین شمسی رضوی شریک چیئر اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر محمد کمال النبی بطور باحث شریک رہے۔
چھٹے اجلاس’جی ایس ٹی اور سماجی و اقتصادی تبدیلی‘‘ کی صدارت ایمیٹی یونیورسٹی کی ڈاکٹر پلوی تیاگی نے کی، جب کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی لیفٹیننٹ (ڈاکٹر) انوارہ ہاشمی شریک چیئر اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کی پروفیسر راحیلہ فاروقی بطور باحث شامل رہیں۔ ساتویں اجلاس مین’جی ایس ٹی، کوآپریٹو فیڈرلزم اور مالیاتی نظم و نسق‘ کی قیادت دہلی اسکل اینڈ انٹرپرینیورشپ یونیورسٹی کی فیکلٹی آف بزنس، فنانس اینڈ مینیجریل اسکلز کی ڈین پروفیسر شروتی ترپاٹھی نے کی؛ اس میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ڈاکٹر وسیم اکرم شریک چیئر اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر مونس شکیل بطور باحث شریک ہوئے۔
آخری تکنیکی سیشن،’جی ایس ٹی اور ڈیجیٹل اکانومی، کی صدارت آسام یونیورسٹی کے ڈاکٹر دیپ جیوتی چودھری نے کی، جب کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ ڈاکٹر محمد کاشف خان شریک چیئر اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر ریحان خان سوری بطور باحث شامل رہے۔
کانفرنس کی ایک نمایاں خصوصیت “وکست بھارت دوہزارسینتالیس کے لیے یونیورسٹیاں: اعلیٰ تعلیم، تحقیق، جدت اور سب کو ساتھ لے کر قوم کی تعمیر نو کا تصور کے موضوع پر کانفرنس لیڈرشپ ڈائیلاگ تھا۔ ایک منفرد علمی اجتماع میں، مرکزی یونیورسٹیوں کے چار وائس چانسلرز ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوئے تاکہ ہندوستانی اعلیٰ تعلیم کے مستقبل اور دوہزار سینتالیس تک ایک ترقی یافتہ ہندوستان کی تشکیل میں یونیورسٹیوں کے کردار پر تبادلہ خیال کر سکیں۔ پروفیسر دیبارشی مکھرجی کی نظامت میں ہونے والے اس مکالمے میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شیخ الجامعہ عزت مآب پروفیسر مظہر آصف، آسام یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر راجیو موہن پنت، میزورم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر دیباکر چندر ڈیکا اور تریپورہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر دیبرتا داس نے شرکت کی۔
ہندوستانی تعلیم کو درپیش کچھ بڑے سوالات کو حل کرنے کے لئے بات چیت ادارہ جاتی نقطہ نظر سے آگے بڑھی: ہندوستانی علمی روایات کی مطابقت، کثیر لسانی تعلیم، بین الضابطہ تعلیم، تحقیق اور اختراع، پائیداری، ادارہ جاتی ذمہ داری اور جامع قوم کی تعمیر میں یونیورسٹیوں کا کردار۔
کانفرنس کے دوسرے دن، بیس اگست  دوہزار چھبیس میں، آئی آئی ایم لکھنؤ کے ڈاکٹر کشتیج اوستھی کے ساتھ پالیسی ریسرچ ڈائیلاگ بھی پیش کیا گیا، جس سے تعلیمی انکوائری کو عصری پالیسی کے خدشات سے جوڑنے کا موقع ملا۔
مکالمے نے شرکا کو اس بات پر غور کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے تکنیکی سیشن کی تکمیل کی کہ ٹیکسیشن اور معاشی نظم و نسق پر تحقیق پالیسی کی تشکیل اور نفاذ میں کس طرح اپنا تعاون دے سکتی ہے۔ اس دن کانفرنس میں ایک اور اہم فکری جہت کا اضافہ کرتے ہوئے کتاب ’بہت سے ذہن، ایک قوم‘کی رونمائی بھی ہوئی۔ تحقیقی پریزنٹیشنز، پالیسی ڈائیلاگ، علمی اشاعتوں اور ادارہ جاتی قیادت کے امتزاج نے دوسرے دن کو ایک وسیع کردار دے دیا، جس نے کانفرنس کے بنیادی تھیم کی مختلف جہتوں کو اکٹھا کیا: وکست بھارت دوہزار سینتالیس کی طرف ہندوستان کے سفر میں علم، اداروں اور باخبر عوامی پالیسی کا کردار۔
کانفرنس کا اختتام ایک الوداعی تقریب پر ہوا جس میں یونیورسٹی کے اعلیٰ عہدیداران، ڈینز، سربراہانِ شعبہ جات، ڈائریکٹرز، تعلیمی رہنما اور مندوبین شریک ہوئے۔
اس تقریب سے پروفیسر نصیب احمد، پروفیسر زبیر مینائی، پروفیسر محمد کمال النبی (افسر مالیات ،جامعہ ملیہ اسلامیہ ) اور پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی ( مسجل ،جامعہ ملیہ اسلامیہ ) نے خطاب کیا۔ مہمانِ خصوصی پروفیسر گووردھن داس (رکن، نیتی آیوگ) نے بھی شرکائسے خطاب کیا، جس کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف نے صدارتی خطاب کیا۔
تقریب کے دوران ‘بہترین مقالے کے ایوارڈ’اور اسناد کی تقسیم کا سلسلہ بھی عمل میں آیا جس کا مقصد کانفرنس کے دوران پیش کی گئی نمایاں تحقیقی خدمات کا اعتراف کرنا تھا۔ ‘مجموعی طور پر بہترین کانفرنس پیپر’ کا ایوارڈ گریٹر نوئیڈا کی آئی آئی ایل ایم (IILM) یونیورسٹی کے ڈاکٹر بلال خان اور ڈاکٹر کیفی اعظم کو ان کے مقالے’ امپیکٹ آف جی ایس ٹی آن بینکنگ سیکٹر ڈولپمنٹ : ایویڈینس فرام اسٹیٹ لیول پینل ڈیٹا ان انڈیا‘کو  دیا گیا۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے صہیب بشیر اور ڈاکٹر محمد عاطف کو ان کے مقالے ’فرام اسپیکفک کول سیس ٹو ایڈ ویلوریم جی ایس ٹی: ایکزامننگ انڈیاز امپلی سٹ کاربن پرائس سگنل اینڈ فرم لیول امیشین انٹینسٹی‘ کو ‘دوسرے بہترین مقالے کا ایوارڈ’ دیا گیا۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شہباز احمد خان، ندیم خان اور ڈاکٹر محمد سعیم خان کو ان کے مقالے “GST and the Digital Economy: Examining Youth Digital Startup Intentions in India through Digital Readiness, Financial Literacy, and Entrepreneurial Motivation”  کے لیے تیسرے بہترین مقالے کا ایوارڈ’ دیا گیا۔
تقریب کا اختتام شریک کنوینر ڈاکٹر اظہار احمد کے کلماتِ تشکر اور اس کے بعد قومی ترانے پر ہوا۔
Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

دلی این سی آر

ایم پی اور ایم ایل ایز پر پارٹی چھوڑنے پر 10 سال کی لگے پابندی:سی جی پی

Published

on

نئی دہلی :کپل سبل نے ان ایم پیز اور ایم ایل اے پر 10 سال کی پابندی کی تجویز پیش کی ہے جو پیسے یا الیکشن لڑنے اور عوامی عہدہ رکھنے کے دباؤ کی وجہ سے پارٹیاں بدلتے ہیں۔ اس دوران کاکروچ جنتا پارٹی کے ارکان دو قدم آگے بڑھ گئے ہیں۔ایم پی اور ایم ایل ایز پر پارٹی چھوڑنے پر 10 سال کی پابندی! ایک کاکروچ کپل سبل سے دو قدم آگے بڑھ کر یہ مطالبہ کرتا ہے۔سینئر وکیل اور راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ کپل سبل نے ایسے ممبران پارلیمنٹ اور ایم ایل اے پر 10 سال کی پابندی لگانے کی تجویز پیش کی ہے جو پیسے یا دباؤ کی وجہ سے پارٹیاں بدلتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پارٹی کے ٹکٹ اور نشان پر جیتنے والے اور پھر دوسری پارٹی میں شامل ہونے والے ایم پی اور ایم ایل اے کو ایک مدت کے لیے الیکشن لڑنے اور عوامی عہدہ رکھنے سے روک دیا جانا چاہیے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) اس سے بھی زیادہ سخت سزا کا مطالبہ کر رہی ہے۔ CJP کے ترجمان سورو داس نے کہا، “ہمارے پہلے چارٹر آف ڈیمانڈز میں پہلے ہی ایسے لیڈروں پر الیکشن لڑنے اور 20 سال تک کسی بھی عوامی عہدے پر رہنے پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔” اس سلسلے میں کاکروچ کپل سبل سے دو قدم آگے دکھائی دیتے ہیں۔ہارس ٹریڈنگ اینڈ ڈیموکریسی” پر ایک بحث میں سبل نے انحراف مخالف قانون اور آئین کے 10ویں شیڈول میں انضمام کی رعایت پر سوال اٹھایا۔ ان کا استدلال ہے کہ اگر کسی قانون ساز پارٹی کے دو تہائی ارکان کسی دوسری پارٹی سے منحرف ہو جاتے ہیں اور اسے “انضمام” سمجھا جاتا ہے تو بڑے پیمانے پر انحراف ایک جائز راستہ بن جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کا مقصد حقیقی سیاسی تنظیم نو کی حفاظت کرنا ہے، نہ کہ ایم ایل ایز کو پارٹی چھوڑنے سے بچانے کے لیے۔سبل نے کہا کہ انحراف کو روکنے کے لیے اگر ضروری ہو تو قانون کو پڑھا اور اس میں ترمیم کی جانی چاہیے۔
انہوں نے نااہلی کے مقدمات کا فیصلہ کرنے کے لیے اسپیکر کی جگہ ایک آزاد ٹربیونل بنانے اور ایسے فیصلوں کے لیے ایک وقت مقرر کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔سورو داس نے سبل کی تجویز کا خیرمقدم کیا، یہ کہتے ہوئے کہ CJP کے پہلے کے چارٹر آف ڈیمانڈز میں اور بھی سخت دفعات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق پارٹی X کے ٹکٹ پر جیتنے والے لیکن پھر دباؤ یا رشوت کے تحت پارٹی Y میں شامل ہونے والے ایم پی اور ایم ایل اے کو 20 سال تک کسی بھی عوامی عہدے پر رہنے یا الیکشن لڑنے سے روک دیا جانا چاہیے۔داس نے سیاسی پارٹیوں کی تقسیم، ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے رخ بدلنے پر مجبور کرنے کے لیے 50-100 کروڑ روپے کی مبینہ رشوت، اور حکومتوں کا تختہ الٹنے کو ملک کے ساتھ غداری قرار دیا۔ انہوں نے موجودہ انسداد انحراف قانون کو فرسودہ قرار دیا اور تبدیلیوں کا مطالبہ کیا۔سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل کی طرف سے کسی بھی ایم پی اور ایم ایل اے پر پابندی لگانے کی تجویز کا جو پارٹی X کے نشان پر منتخب ہوتا ہے اور بعد میں پیسے کے لیے یا دباؤ میں پارٹی Y سے عیب دار ہوتا ہے۔ وہ 10 سال کی پابندی کا مطالبہ کرتا ہے۔

Continue Reading

دلی این سی آر

صاف، جدید اور آسانی سے قابل رسائی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری : ریکھا گپتا

Published

on

نئی دہلی :دہلی کے شالیمار باغ علاقے کے رہائشیوں کو ایک نیا عوامی سہولت کا تحفہ ملا ہے۔ دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے سنگل پور گاؤں کے لیبر چوک میں نئے تعمیر شدہ پبلک ٹوائلٹ کا افتتاح کیا۔ حکومت کے مطابق، اس سہولت کے کھلنے سے مقامی باشندوں کو صاف ستھرا اور بہتر عوامی بیت الخلا تک رسائی حاصل ہو گی۔ لیبر چوک کے علاقے میں روزانہ بڑی تعداد میں لوگ آتے ہیں۔ اس لیے پبلک ٹوائلٹ کی سہولت مقامی رہائشیوں کے ساتھ ساتھ راہگیروں اور آس پاس کام کرنے والے لوگوں کے لیے بھی کارآمد ثابت ہوگی۔ نئے ٹوائلٹ کو جدید تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کیا گیا ہے، صاف اور آسان عوامی مقامات کو یقینی بنایا گیا ہے۔
اس پبلک ٹوائلٹ کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ معذور افراد کی ضروریات کو بھی پورا کرتا ہے۔ پریشانی سے پاک استعمال کو یقینی بناتے ہوئے ان کے لیے خصوصی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ اسے عوامی سہولیات کو سب کے لیے قابل رسائی بنانے کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جاتا ہے۔ بیت الخلا کی صفائی اور باقاعدہ دیکھ بھال کے بھی انتظامات کیے گئے ہیں۔ سہولت کی دیکھ بھال اور صارفین کی ضروریات کی نگرانی کے لیے ایک نگران مقرر کیا گیا ہے۔ اس سے ٹوائلٹ کی صفائی کو برقرار رکھنے اور عوام کے لیے بہتر تجربہ فراہم کرنے میں مدد کی توقع ہے۔
وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے دارالحکومت میں شہری سہولیات کو مستحکم کرنے کے لیے جاری کوششوں پر زور دیا۔ دہلی حکومت کا کہنا ہے کہ شہر صاف، جدید اور آسانی سے قابل رسائی سہولیات فراہم کرنے کے لیے اپنے بنیادی ڈھانچے کو مسلسل بڑھا رہا ہے۔ دہلی کے مختلف علاقوں میں شہری سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے مختلف سرکاری محکمے مل کر کام کر رہے ہیں۔ اس کا مقصد شہر کے قریبی علاقوں میں ضروری سہولیات فراہم کرنا اور روزمرہ کی زندگی کو آسان بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہلی میں صاف ستھرے اور جدید عوامی بیت الخلاؤں کی کمی کو دور کرنے کے لیے دہلی ٹورزم کو سڑکوں اور بازاروں میں ایک ہزار بیت الخلا کمپلیکس بنانے کا ہدف دیا گیا ہے۔ ان میں مردوں، خواتین اور معذور افراد کے لیے تین الگ الگ یونٹ ہوں گے، جبکہ خواتین کے لیے سینیٹری نیپکن کی سہولت بھی دستیاب ہوگی۔ چوبیس گھنٹے کیئر ٹیکر، ہر 20 کمپلیکس پر ایک سپروائزر اور جدید صفائی کی مشینوں کے ساتھ ان کی دیکھ بھال براہ راست حکومت کرے گی۔ دہلی کے باشندوں اور یہاں آنے والے سیاحوں کے لیے یہ سہولت مکمل طور پر مفت ہوگی۔

 

Continue Reading

دلی این سی آر

دہلی کے اسٹریٹ وینڈرز کے لیے ایک بڑی راحت

Published

on

نئی دہلی :دہلی ہائی کورٹ نے ایم سی ڈی اور این ڈی ایم سی کو ہدایت دی ہے کہ وہ سٹریٹ وینڈرز کے سامان کو ضبط کرنے کے 24 گھنٹے کے اندر ضبطی میمو جاری کریں۔ مزید برآں، عدالت نے ضبطی کے پورے عمل کی ویڈیو ٹیپنگ کا حکم دیا ہے۔ اس عدالتی فیصلے کو سڑکوں پر دکانداروں کی بڑی فتح قرار دیا جا رہا ہے۔
ریہری پتری ایکتا منچ نے میمو جاری نہ ہونے کی شکایت کرتے ہوئے مفاد عامہ کی عرضی دائر کی۔جسٹس پرتیبھا ایم سنگھ اور وکاس مہاجن کی بنچ نے حکم دیا کہ ایم سی ڈی اور این ڈی ایم سی اسٹریٹ وینڈرس کے سامان کو ضبط کرنے کے عمل کی ویڈیو ٹیپ کریں اور 24 گھنٹے کے اندر ضبط شدہ سامان کا میمو جاری کریں۔ میمو میں ضبطی کی تاریخ، ضبط کیے گئے سامان کی فہرست، ان کے ذخیرہ کرنے کی جگہ (شیلف نمبر)، ضبط کیے گئے سامان کی تفصیلات، اور اس عمل کا ذمہ دار اہلکار شامل ہونا چاہیے۔
عدالت نے کہا کہ اگر جرمانہ ادا کرنا ہے تو جرمانے کی تفصیلات اور متعلقہ اہلکار بھی سڑک پر دکاندار کو فراہم کریں۔ عدالت نے یہ حکم 10 ستمبر کو ریہری پتری ایکتا منچ کی طرف سے دائر مفاد عامہ کی عرضی کے جواب میں جاری کیا۔ اس قانونی چارہ جوئی کا تعلق سڑک کے دکانداروں کے ذریعہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر سامان ضبط کرنے سے ہے۔ الزام یہ تھا کہ جب بھی سامان ضبط کیا جاتا ہے تو MCD اور NDMC ضبطی میمو جاری نہیں کرتے ہیں۔ایم سی ڈی اور این ڈی ایم سی پر بھی سامان کی فہرست فراہم نہ کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ سامان ضبط کرنے کے بعد انہوں نے صرف جرمانے کی رسید جاری کی۔ ایم سی ڈی اور این ڈی ایم سی کے وکلاء نے دلیل دی کہ سامان ایک مخصوص وقت پر ضبط کیا گیا تھا۔ اس معاملے میں، اہلکاروں نے موقع پر ہی ایک ضبطی میمو تیار کیا، جس سے دوسرے دکانداروں کو چوکس کر دیا گیا، جس سے انہیں فرار ہونے کا موقع ملا۔
ایم سی ڈی اور این ڈی ایم سی کے وکلاء نے یہ بھی کہا کہ پہلے سامان ضبط کیا گیا تھا، اور شام کو، ضبطی میمو کے ساتھ جرمانے کی رسید جاری کی گئی تھی۔ حکام نے ضبط شدہ سامان کو ذخیرہ کرنے کے لیے ایک گودام کا انتظام کیا۔ دکانداروں کا سامان مخصوص شیلفوں پر رکھا گیا تھا، جس کی رسید پر شیلف نمبر لکھا ہوا تھا۔ جرمانے کی ادائیگی کے بعد دکانداروں کو ان کا سامان واپس کر دیا گیا۔اس حکم کے بعد، ہائی کورٹ نے کہا کہ ایم سی ڈی اور این ڈی ایم سی سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اسٹریٹ وینڈرس (روزی کا تحفظ اور اسٹریٹ وینڈنگ کے ضابطے) ایکٹ 2014 کے سیکشن 19 کی تعمیل کریں گے۔
اس قانون کے تحت ضبط شدہ سامان کی فہرست تیار کرنا اور دکاندار کو ایک کاپی فراہم کرنا لازمی ہے۔ اگر موقع پر ضبطی کا میمو تیار کرنا ممکن نہ ہو، تو MCD اور NDMC کو ضبطی کے 24 گھنٹے کے اندر ایک میمو جاری کرنا چاہیے۔ عمل کی ویڈیو گرافی لازمی ہے۔

 

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network