Connect with us

دلی این سی آر

جامعہ ملیہ اسلامیہ نے لائبریری ریڈنگ ہال کی نشستوں میں توسیع

Published

on

 

نئی دہلی :جامعہ ملیہ اسلامیہ نے اپنی تاریخی ڈاکٹر ذاکر حسین لائبریریکے ریڈنگ ہال کو نمایاں طور پر وسیع اور جدید خطوط پر استوار کیا ہے۔ یہ اقدام طلبہ کو تعلیم و تحقیق کے لیے ایک جدید، سب کے لیے سازگار اور طلبہ دوست ماحول فراہم کرنے کی جاری کوششوں میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
لائبریری کی ان بہتر سہولیات کو طلبہ، محققین اور اساتذہ کی تعلیمی و تحقیقی ضروریات جو مسلسل تبدیل اور بڑھ رہی ہیں کی تکمیل کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس میں بیٹھنے کی گنجائش میں اضافہ، اوقات کار میں توسیع، بنیادی ڈھانچے میں بہتری اور آرام دہ ماحول کی فراہمی شامل ہے۔تجدید شدہ اور وسیع کیے گئے مطالعہ کے ہالوں کا افتتاح مورخہ چودہ جولائی دوہزار چھبیس کو عزت مآب پروفیسر مظہر آصف،شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے عالی وقار مسجل پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی نے کیا۔ اس موقع پر یونیورسٹی کے لائبریرین ڈاکٹر وکاس ایس ناگرالے، مختلف شعبہ جات کے ڈین اور سربراہان، یونیورسٹی کے ممتاز عہدیداران، اساتذہ، طلبہ اور مدعو مہمان بھی موجود تھے۔ تقریب کا آغاز ربن کاٹنے کی رسم سے ہوا، جس کے بعد شرکا کو تجدید شدہ مطالعہ ہالوں کا معائنہ کرایا گیا۔نئی سہولیات کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر وکاس ایس ناگرالے نے بتایا کہ تجدید شدہ اور توسیع شدہ ریڈنگ ہال میں دوسو پچاس نشستوں پر مشتمل ایک ہال خاص طور پر تحقیقی اسکالرس اور پوسٹ گریجویٹ طلبہ کے لیے، اور ایک سو پچاس نشستوں والا ایک ہال پوسٹ گریجویٹ طلبہ کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ ان جدید سہولیات میں آرام دہ اور جسمانی ساخت کے موافق (ergonomic) فرنیچر، بہتر روشنی اور ہوا کے گزر کا نظام، آسان رسائی اور مطالعے کے لیے پرسکون ماحول شامل ہیں۔ تعلیمی برادری کی بہتر خدمت کے لیے، دونوں ریڈنگ ہال ہفتے کے ساتوں دن، بشمول ہفتہ اور اتوار، رات بارہ بجے تک کھلے رہیں گے۔
اس کے علاوہ، جامعہ ملیہ اسلامیہ کی پرانی لائبریری کا ریڈنگ ہال رات دو بجے تک کھلا رہتا ہے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پروفیسر آصف نے علم، جدت اور ذہنی و فکری نشوونما کے مراکز کے طور پر لائبریریوں کے اہم کردار پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ لائبریریاں اسکالرس کے لیے محض مطالعے اور حوالہ جاتی مواد کے حصول کی جگہیں نہیں ہیں بلکہ یہ طلبہ کے درمیان باہمی ربط کو بڑھانے کے لیے بہترین مراکز کا کام بھی دیتی ہیں، جس سے باہمی تعاون پر مبنی آموزش کے عمل اور تعلیمی مباحثوں کو فروغ ملتا ہے۔ پروفیسر آصف نے تعلیمی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے اپنی انتظامیہ کے عزم کا اعادہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ آج کی ڈیٹا پر مبنی دنیا میں سیکھنے اور تحقیق کے کلچر کو فروغ دینے کے لیے لائبریری کی جدید سہولیات ناگزیر ہیں۔لائبریریوں کو ”کسی بھی ادارے کی تعلیمی زندگی کی ریڑھ کی ہڈی“قرار دیتے ہوئے، پروفیسر رضوی نے کہا کہ یہ توسیع طلبہ پر مرکوز پالیسیوں اور نقطہ نظر کے مطابق تعلیمی وسائل میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی مسلسل سرمایہ کاری کا پختہ ثبوت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تجدید شدہ اور وسیع تر ریڈنگ ہال سے مجموعی تعلیمی تجربے میں نمایاں بہتری متوقع ہے اور یہ عالمی معیار کی تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کے یونیورسٹی کے وژن میں معاون ثابت ہوں گے۔ انہوں نے یونیورسٹی لائبریرین اور ڈاکٹر ذاکر حسین لائبریری کے عملے کی کوششوں کو بھی سراہا، جنہوں نے جامعہ کی وسیع تعلیمی برادری کی متنوع اور بدلتی ضروریات کے مدنظر بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے عزم کا مظاہرہ کیا۔یونیورسٹی لائبریرین ڈاکٹر وکاس ایس ناگرالے نے لائبریری کے ترقیاتی اقدامات کو کامیابی سے نافذ کرنے میں مسلسل رہنمائی اور غیر متزلزل تعاون کے لیے پروفیسر آصف اور پروفیسر رضوی کا صمیم قلب سے شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ بہتری لائبریری کے اس عزم کو اجاگر کرتی ہے کہ وہ طلبہ پر مرکوز جدید تعلیمی ماحول فراہم کرے جو تعلیمی فضیلت اور تحقیق میں ممد و معاون ہو، نیز وقت کے تقاضوں کے مطابق اپنی خدمات کو مسلسل بہتر بناتی رہے۔افتتاحی تقریب کی نظامت کے فرائض ذاکر حسین لائبریری کے جان محمد میر نے انجام دیے اور محترمہ شاذیہ علوی نے باضابطہ طور پر سب کا شکریہ ادا کیا۔ تقریب کا اختتام قومی ترانہ کی نغمہ سرائی کے ساتھ ہوا۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

دلی این سی آر

’آپ ‘نے بغیر کوئی وجہ بتائے تین خواتین کونسلروں کوکیا معطل

Published

on

نئی دہلی :دہلی میں ایک دن پہلے ہونے والے ایم سی ڈی زونل کمیٹی کے انتخابات میں کراری شکست کے بعد، عام آدمی پارٹی نے جمعرات کو اپنے تین کونسلروں کو پارٹی سے معطل کر دیا۔ پارٹی کی دہلی یونٹ کے صدر سوربھ بھردواج نے ایک حکم نامہ جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ مندرجہ ذیل ایم سی ڈی کونسلروں کو عام آدمی پارٹی سے معطل کر دیا گیا ہے۔اس دوران انہوں نے مسز نرملا دیوی (شرما)، مسز کرشنا راگھو، اور مسز سلطانہ آباد کو پارٹی رکنیت سے معطل کر دیا۔ اگرچہ سوربھ بھاردواج نے اپنے حکم میں کونسلروں کو معطل کرنے کی وجہ نہیں بتائی، لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ پارٹی نے ان کونسلروں کے خلاف یہ کارروائی کل کے ایم سی ڈی زونل کمیٹی کے انتخابات میں ان کے خلاف کراس ووٹنگ کے الزامات کے بعد کی ہے۔
اس بارے میں معلومات فراہم کرتے ہوئے ایم سی ڈی لیڈر آف اپوزیشن انکش نارنگ نے کہا، “ویسٹ زون اور سٹی ایس پی زون میں چیئرمین کے انتخاب میں پارٹی کے خلاف کراس ووٹ دینے والے کونسلروں کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کا واضح پیغام ہے کہ مینڈیٹ اور پارٹی کے ساتھ دھوکہ دہی کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کی جائے گی۔” پارٹی مخالف سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی۔
اس سے پہلے بی جے پی نے 12 ایم سی ڈی وارڈ کمیٹی کے انتخابات میں سے 10 میں چیئرپرسن کا عہدہ حاصل کیا اور چھ میں سے پانچ اسٹینڈنگ کمیٹی سیٹیں حاصل کیں۔ عام آدمی پارٹی نے بقیہ دو وارڈ کمیٹیوں اور ایک اسٹینڈنگ کمیٹی سیٹ پر چیئرپرسن کے عہدوں پر کامیابی حاصل کی۔
ان نتائج کے ساتھ ہی بی جے پی نے 18 رکنی اسٹینڈنگ کمیٹی میں اپنی پوزیشن مزید مضبوط کر لی ہے۔ کمیٹی میں اب 12 بی جے پی اور 6 اے اے پی ممبران ہیں۔ سٹینڈنگ کمیٹی کے علاوہ 12 وارڈ کمیٹیوں کے چیئرپرسن اور وائس چیئرپرسن کے عہدوں کے لیے انتخابات ایم سی ڈی ہیڈکوارٹرس سوک سینٹر میں منعقد ہوئے۔اس مدت کے دوران، بی جے پی نے نجف گڑھ، شاہدرہ ساؤتھ، شاہدرہ نارتھ، ساؤتھ، کیشو پورم، نریلا، سول لائنز، سٹی ایس پی، سینٹرل اور ویسٹرن زون کی وارڈ کمیٹیوں میں چیئرپرسن کے عہدوں پر کامیابی حاصل کی۔ دریں اثنا، AAP نے روہنی اور قرول باغ وارڈ کمیٹیوں میں چیئرپرسن شپ حاصل کی۔ نجف گڑھ میں بی جے پی کے جیویر سنگھ رانا کو چیئرپرسن اور سشما راٹھی کو وائس چیئرپرسن منتخب کیا گیا۔ ششی یادو کو اسٹینڈنگ کمیٹی کے لیے منتخب کیا گیا۔ تینوں بلامقابلہ منتخب ہوئے۔

Continue Reading

دلی این سی آر

جل بورڈ نے ایم سی ڈی سےمانگا 5سالہ عمارت کا ریکارڈ

Published

on

نئی دہلی :دہلی حکومت ان تمام عمارتوں کو سیل کر سکتی ہے جن کے لیے پانی اور سیوریج انفراسٹرکچر فنڈ چارجز (IFC) دہلی جل بورڈ (DJB) کے پاس جمع نہیں کیے گئے ہیں۔ ڈی جے بی نے دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) سے پچھلے پانچ سالوں کے تعمیراتی منصوبوں کا ریکارڈ طلب کیا ہے۔ ادائیگی میں ناکامی جائیداد کو سیل کرنے جیسی کارروائی کا باعث بن سکتی ہے۔ دہلی کے وزیر آبی پرویش ورما نے کہا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی، لیکن ہر کسی کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے گا۔دہلی کے وزیر پانی پرویش ورما نے کہا کہ حکومت نے افراد، ہاؤسنگ یونٹس، اداروں اور صنعتوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اس سال کے شروع میں DJB انفراسٹرکچر چارجز کو کم اور آسان کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہماری ابتدائی داخلی تفتیش سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کئی بڑی گروپ ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں عمارتیں انفراسٹرکچر چارجز ادا کیے بغیر تعمیر کی گئیں۔ اس سے بلڈرز اور ڈی جے بی حکام کے درمیان ملی بھگت کا پتہ چلتا ہے۔ ہم آئی ایف سی چارجز ادا کرنے میں ناکام رہنے والوں پر نہ صرف جرمانے عائد کریں گے بلکہ عمارتوں کو سیل بھی کریں گے۔وزیر پانی نے کہا کہ ہم نے ایم سی ڈی سے پچھلے پانچ سالوں میں منظور شدہ تمام عمارتی منصوبوں کے ڈیٹا کی درخواست کی ہے۔ ہم اس ڈیٹا کو جل بورڈ کو ادا کیے جانے والے انفراسٹرکچر چارجز کے اپنے ڈیٹا سے ملائیں گے۔ جہاں کہیں بھی ہمیں کوئی تضاد پایا جائے گا، اصل رقم کے علاوہ جرمانہ عائد کیا جائے گا۔اندرونی اندازوں کے مطابق، دارالحکومت میں 3000 مربع میٹر اور اس سے اوپر کی تقریباً 300 جائیدادیں ہیں جن کے لیے کوئی IFC چارجز ادا نہیں کیے گئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں دہلی جل بورڈ کو تقریباً 2,000 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ پرویش ورما نے کہا کہ حکومت نے اب سسٹم کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے اور IFC کے عمل کو آسان، شفاف اور منصفانہ بنا دیا ہے۔وزیر پانی نے کہا کہ 200 مربع میٹر تک کے پلاٹوں پر کوئی چارج نہیں لیا جائے گا اور غیر ضروری پیمائش یا افسران کی طرف سے ہراساں کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔ بہت سے معاملات میں، جہاں پہلے لوگوں کو پرانے نظام کے تحت 15-16 لاکھ روپے تک ادا کرنا پڑتا تھا، اب یہ رقم کم ہو کر تقریباً 2-3 لاکھ روپے رہ گئی ہے۔دہلی جل بورڈ دارالحکومت میں 200 مربع میٹر سے بڑے پلاٹوں پر نئی یا اضافی تعمیرات پر IFC چارجز لگاتا ہے۔ پانی اور سیوریج کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر شروع ہونے سے پہلے یہ چارج جمع کرنا ضروری ہے۔وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے حال ہی میں آئی ایف سی چارج پالیسی میں تبدیلیوں اور آسانیاں کی منظوری دی۔ فیکٹریوں اور صنعتی اکائیوں نے DJB کے نظرثانی شدہ انفراسٹرکچر چارج سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا ہے، جس سے ابتدائی تعمیراتی لاگت میں نمایاں کمی آئی ہے۔

Continue Reading

دلی این سی آر

بھارتی ریلوے کی پہلی ہائیڈروجن ٹرین تیار،جند-سونی پت روٹ پر چلے گی10 کوچز پر مشتمل جدید ٹرین ، 2600 مسافروں کی گنجائش

Published

on

خالد وسیم
نئی دہلی:بھارتی ریلوے ملک کی پہلی ہائیڈروجن فیول سیل ٹرین کو پٹریوں پر اتارنے کے لیے تیار ہے۔ یہ جدید ٹرین ہائیڈروجن ایندھن کی مدد سے خود اپنی بجلی پیدا کرے گی اور اس کے آپریشن کے دوران کاربن کے اخراج کو تقریباً صفر سطح تک محدود رکھا جا سکے گا۔ ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ نہ صرف ریلوے نظام میں ایک بڑی تکنیکی تبدیلی ہے بلکہ بھارت کے گرین انرجی مشن کو بھی نئی رفتار فراہم کرے گا۔بھارتی ریلوے گزشتہ ایک دہائی کے دوران تیزی سے برقی کاری کے عمل کو مکمل کر چکی ہے اور اب براڈ گیج نیٹ ورک کا 99 فیصد سے زیادہ حصہ بجلی سے چل رہا ہے۔ اس کے باوجود ریلوے انتظامیہ صاف توانائی کے مزید جدید ذرائع تلاش کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں ہائیڈروجن فیول سیل ٹیکنالوجی کو عملی شکل دی گئی ہے۔اس ٹیکنالوجی میں ٹرین کے اندر نصب فیول سیل ہائیڈروجن اور فضا میں موجود آکسیجن کے درمیان کیمیائی عمل کے ذریعے بجلی پیدا کرتا ہے۔ اس عمل میں نہ دھواں پیدا ہوتا ہے اور نہ ہی کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج، جبکہ صرف پانی کے بخارات خارج ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہائیڈروجن سے چلنے والی ٹرینوں کو مستقبل کا ماحول دوست سفری ذریعہ قرار دیا جا رہا ہے۔بھارتی ریلوے کی یہ ٹرین دو ہائیڈروجن پاور کارز اور آٹھ مسافر کوچز پر مشتمل ہوگی۔ ہر پاور کار تقریباً 1200 کلو واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جبکہ ٹرین کی ڈیزائن رفتار 110 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر کی گئی ہے۔ اس میں ایک وقت میں تقریباً 2600 مسافر سفر کر سکیں گے، جو عالمی سطح پر چلنے والی بیشتر ہائیڈروجن ٹرینوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ گنجائش ہے۔ریلوے حکام کے مطابق ٹرین کو ابتدائی طور پر شمالی ریلوے کے جند-سونی پت سیکشن پر چلایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے ہریانہ کے جند میں ملک کا سب سے بڑا ریلوے ہائیڈروجن ری فیولنگ مرکز قائم کیا گیا ہے، جہاں گرین ہائیڈروجن کی تیاری، ذخیرہ اور سپلائی کا مکمل نظام موجود ہے۔ہائیڈروجن کی آتش گیر نوعیت کے پیش نظر منصوبے میں خصوصی حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ ٹرین اور ری فیولنگ اسٹیشن دونوں مقامات پر ہائیڈروجن لیکیج سینسر، آگ اور دھوئیں کی نشاندہی کرنے والے جدید آلات، خودکار شٹ ڈاؤن سسٹم اور مسلسل نگرانی کے نظام نصب کیے گئے ہیں۔ کسی بھی غیر معمولی صورتحال میں نظام خودکار طور پر ہائیڈروجن کی سپلائی بند کر دیتا ہے۔ریلوے ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرین کو مسافروں کے لیے شروع کرنے سے قبل مختلف تکنیکی اور حفاظتی آزمائشوں سے گزارا گیا، جن میں بریکنگ سسٹم، برقی نظام، کمپن اور مواصلاتی نظام کے تفصیلی ٹیسٹ شامل تھے۔ جرمنی کی معروف سرٹیفکیشن ایجنسی TÜV SÜD نے بھی اس منصوبے کا آزادانہ حفاظتی جائزہ لیا ہے۔ماہرین کے مطابق ہائیڈروجن ٹرین کا آغاز بھارت کو گرین ٹرانسپورٹ کے عالمی نقشے پر ایک نئی شناخت دلائے گا۔ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو دیگر ریلوے روٹس، خصوصاً کالکا-شملہ جیسے تاریخی راستوں تک توسیع دینے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے، جو ملک میں ماحول دوست سفری نظام کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network