دلی این سی آر
بھجن پورہ میں ہندوؤں نے آگ میں پھنسے مسلم خاندانوں کو بچا کر نفرت پھیلانے والی طاقتوں کو دیاکرارا جواب :سوربھ بھاردواج
(پی این این )
نئی دہلی:عام آدمی پارٹی نے بھجن پورہ کے چاند باغ کالونی میں واقع پانچ منزلہ عمارت میں لگنے والی آگ کے دوران نظر آنے والی ہندو-مسلم یکجہتی کی بھرپور ستائش کی ہے۔ آپ کے دہلی پردیش صدر سوربھ بھاردواج نے کہا کہ بھجن پورہ میں ہندوؤں نے نہ صرف آگ میں پھنسے مسلم خاندانوں کو بچایا بلکہ نفرت پھیلانے والی طاقتوں کو بھی سخت جواب دیا۔ رات تقریباً دو بجے پڑوس میں رہنے والے ایک ہندو خاندان کو آگ لگنے کا علم ہوا، جس کے بعد انہوں نے فوراً لوگوں کو جمع کیا۔ سب نے فائر بریگیڈ کا انتظار کیے بغیر چادر تان کر کھڑے ہو گئے، جس پر کود کر 20 سے 25 افراد نے اپنی جان بچائی۔ انہوں نے کہا کہ اگر پالَم آتشزدگی کے دوران فائر بریگیڈ گدّے بچھانے دیتی تو وہاں بھی سبھی لوگوں کی جان بچ سکتی تھی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فائر بریگیڈ کے عملے کو بہتر تربیت دی جائے اور اسکولی بچوں کو بھی بچاؤ کے طریقے سکھائے جائیں۔پیر کے روز آپ ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سوربھ بھاردواج نے کہا کہ جب پالَم میں آگ لگی تھی، اگر اس وقت فائر بریگیڈ اور دہلی پولیس نیچے گدّے بچھانے دیتی تو شاید تمام 9 لوگوں کی جان بچ سکتی تھی۔
پالَم کے واقعے کا اثر ہفتہ کی رات دہلی کے بھجن پورہ علاقے کے چاند باغ کالونی میں بھی دیکھا گیا، جہاں شدید آگ لگی۔ آگ بیسمنٹ یا گراؤنڈ فلور کی پارکنگ سے شروع ہوئی جہاں گاڑیوں میں آگ لگی، اور پھر اوپر کی منزلوں تک پھیل گئی، جس سے عمارت میں دھواں بھر گیا۔ رات تقریباً دو بجے جب لوگوں کا دم گھٹنے لگا تو انہیں نیچے آگ لگنے کا احساس ہوا۔سوربھ بھاردواج نے بتایا کہ اس آگ میں تقریباً 20 سے 25 افراد پھنسے ہوئے تھے۔ اس پانچ منزلہ عمارت میں رہنے والے زیادہ تر لوگ مسلم برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ اس واقعے کی سب سے خوبصورت بات یہ رہی کہ جب انہوں نے مدد کے لیے چیخنا شروع کیا تو سب سے پہلے مدد کے لیے ان کے پڑوسی منوج کمار شرما سامنے آئے، جو ایک ہندو برہمن ہیں اور آٹے کی چکی چلاتے ہیں۔ انہوں نے شور مچا کر آس پاس کے لوگوں کو جگایا اور رات دو بجے ہی بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو گئے۔ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ یہ غریبوں کی کالونی ہے، جسے بی جے پی حکومت نفرت کی نظر سے دیکھتی ہے اور غیر مجاز کالونی کہتی ہے، مگر یہاں کے لوگ ایک دوسرے کے لیے جان دینے کو تیار رہتے ہیں۔ وہ سوشل میڈیا پر صرف اوہ مائی گاڈ لکھ کر ردعمل نہیں دیتے بلکہ زمین پر آ کر مدد کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کو ان کی بہادری پر حکومت کی طرف سے انعام دیا جانا چاہیے اور وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کو خود جا کر انہیں اعزاز دینا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ پڑوسیوں نے بڑی دانشمندی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے طے کیا کہ فائر بریگیڈ کے آنے تک اپنی طرف سے لوگوں کو بچانے کی کوشش کی جائے۔ ایک شخص پہلی منزل سے کودا، جس کے بعد سب نے نیچے چادر تان لی۔ بتایا جاتا ہے کہ اوپر سے پانچ افراد نے چھلانگ لگائی، جن میں دو چھوٹی بچیاں بھی شامل تھیں۔ خدا کے کرم سے ان سب کو صرف معمولی چوٹیں آئیں اور ابتدائی طبی امداد کے بعد انہیں اسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔سوربھ بھاردواج نے بتایا کہ بچائے گئے افراد میں 25 سالہ جانب، 11 سالہ فلک، 22 سالہ نکہت، 25 سالہ سونی، 2 سالہ آصف اور ان کی والدہ راشدہ شامل ہیں۔ راشدہ کے بارے میں بتایا گیا کہ جیسے ہی انہیں آگ کا علم ہوا، انہوں نے سب سے پہلے گیس سلنڈروں کو آگ سے دور کیا تاکہ کوئی بڑا دھماکہ نہ ہو۔ اس دوران ان کے ہاتھ جل گئے، لیکن انہوں نے ہمت دکھاتے ہوئے سلنڈروں کو محفوظ جگہ منتقل کر دیا۔ اوپر سے کودنے والے تمام افراد مسلم تھے جبکہ نیچے ہندو پڑوسیوں نے چادر تان کر ان کی جان بچائی۔انہوں نے بتایا کہ عمارت میں موجود دیگر لوگوں کو بچانے کے لیے سیڑھی کا انتظام کیا گیا اور سامنے والی عمارت سے سیڑھی لگا کر ایک ایک کر کے دوسرے، تیسرے اور چوتھے منزل سے لوگوں کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ یہ ایک بڑی مثال ہے کہ عام لوگ بھی ہمت اور سمجھداری سے کئی جانیں بچا سکتے ہیں۔
سوربھ بھاردواج نے بی جے پی حکومت سے اپیل کی کہ فائر بریگیڈ اور پولیس اہلکاروں کو بہتر تربیت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پالَم کے واقعے کے دوران پولیس موجود تھی اور چاہتی تو سیڑھی لگا کر لوگوں کو بچا سکتی تھی، مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ اسکولوں اور کالجوں کے ذریعے عام لوگوں کو بھی ایسی تربیت دی جانی چاہیے تاکہ ہنگامی حالات میں وہ اپنی اور دوسروں کی جان بچا سکیں۔انہوں نے کہا کہ جب کہیں ہندو-مسلم نفرت کی خبریں آتی ہیں تو اسے بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ اس طرح کی مثبت مثالوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو نفرت پھیلانے والی تنظیموں سے ہوشیار رہنا چاہیے اور اپنے بچوں کو بھی ان سے دور رکھنا چاہیے۔آخر میں انہوں نے کہا کہ مشکل وقت میں ہمیشہ پڑوسی ہی کام آتا ہے، چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔ چاند باغ کا یہ واقعہ اس بات کی زندہ مثال ہے کہ اگر لوگ ہمت، سمجھداری اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں تو کئی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔
دلی این سی آر
جامعہ ملیہ اسلامیہ میںمنایا گیاعالمی فیزیو تھیراپی ڈے
(پی این این)
نئی دہلی : سینٹر فار فزیوتھیرپی اینڈ ری ہیبیلی ٹیشن سائنسز ( سی پی آر ایس)جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ’عالمی یومِ فزیوتھیرپی ‘ دوہزار چھبیس‘ کے موقع پر مختلف سرگرمیوں کا اہتمام کیا۔ ان سرگرمیوں کا مرکزی موضوع’’قلبی امراض اور فالج کی روک تھام، انتظام اور بحالی میں فزیوتھیراپی اور جسمانی سرگرمی کا کردار تھا‘‘۔
ان تقریبات کے سلسلے میں، سی پی آر ایس نے ’ابوالفضل آر ڈبلیو اے کے اشتراک سے پانچ ستمبر دوہزارچھبیس کو اوکھلا، نئی دہلی کے جامعہ نگر (ڈی-بلاک) میں واقع آرڈبلیو اے کے دفتر میں کمیونٹی کی سطح پر ایک مفت فزیوتھیراپی کیمپ منعقد کیا۔ اس کیمپ کا مقصد کمیونٹی کے اراکین میںدل کی صحت، فالج سے بچاؤ، جسمانی سرگرمی اور صحت و عملی خود مختاری کو برقرار رکھنے میں فزیوتھیرپی کے کردار کے بارے میں بیداری پیدا کرنا تھا۔ واضح ہو کہ یہ کیمپ ڈاکٹر معظم حسین خان کی نگرانی میں منعقد کیا گیا تھا۔تقریبات میں سات ستمبر دوہزار چھبیس کو کھیلوں کی سرگرمیاں بھی شامل تھیں، جن کا مقصد شرکا میں جسمانی سرگرمی اور دل کی صحت کو فروغ دینا تھا۔ جسمانی طور پر فعال رہنے کے لیے شرکا کو تحریک دی گئی جس کے لیے ان سے کہا گیا کہ وہ صحت مندانہ مقابلوں میں حصہ لیں۔
اس سلسلے میں بیڈمنٹن، والی بال، ریلے ریس، رسہ کشی، کھو-کھو اور بازو کی کشتی (آرم ریسلنگ) جیسی سرگرمیاں منعقد کی گئیں، جن سے شرکا کو اپنی جسمانی تندرستی وصحت، باہمی ہم آہنگی، قوتِ برداشت اور ٹیم ورک کو بہتر بنانے کے مواقع ملے۔ پروفیسر سورج کمار اور ڈاکٹر محمد شاہد رضا نے کھیلوں کاپروگرام کوآرڈی نیٹ کیا تھا۔ پروگرام کا اختتام آٹھ ستمبر دوہزار چھبیس کو یونیورسٹی پولی ٹیکنک آڈیٹوریم ،جامعہ ملیہ اسلامیہ میں منعقدہ ایک سیمینار کے ساتھ ہوا، جس میں قلبی امراض اور فالج کی روک تھام، انتظام اور بحالی میں فزیوتھیرپی اور جسمانی سرگرمی کے کردار پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس لیکچر پروگرام میں طب اور فزیوتھیرپی کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے ممتاز ماہرین نے شرکت کی۔
سر گنگا رام اسپتال کے سینئر کنسلٹنٹ فزیشن اور صدرِ ہند کے سابق معالج، ڈاکٹر محسن ولی (پدم شری) نے شرکا سے خطاب کیا۔ آئی ایس آئی سی ملٹی اسپیشلٹی اسپتال کی اسسٹنٹ پروفیسر اور آپریشنز ہیڈ ڈاکٹر رمشہ صدیقی، اور اپولو نالج کی کارڈیو ریسپائریٹری فزیوتھراپسٹ اور اسسٹنٹ ڈین ڈاکٹر برنالی بھٹاچاریہ نے بھی قلبی صحت، جسمانی سرگرمی اور بحالی سے متعلق اپنے گراں قدر خیالات کا اظہار کیا۔ اس پروگرام کا انعقاد ڈاکٹر اقصی مجددی،اسسٹنٹ پروفیسر ، سی پی آر ایس،جامعہ ملیہ اسلامیہ اور پروگرام انچارچ کی رہنمائی میں کیا گیا۔عالمی یومِ فزیوتھیرپی کی تقریبات کا انعقاد جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سی پی آر ایس کے ڈائریکٹر، پروفیسر مجومی ایم نوہو کی رہنمائی میں ہوا۔ان اقدامات کے ذریعے ، سی پی آر ایس،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے قلبی امراض کی روک تھام، فالج کے خطرے کو کم کرنے اور صحت یابی و بحالی میں معاونت کے لیے باقاعدہ جسمانی سرگرمی اور عوامی آگاہی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
دلی این سی آر
برکس سمٹ: 35 سڑکیںٹریفک سے رہیں گی متاثر
نئی دہلی :دہلی والوں کے لیے یہ بہت اہم خبر ہے۔ 11 سے 13 ستمبر تک بھارت منڈپم میں منعقد ہونے والی برکس سمٹ کے لیے ٹریفک ایڈوائزری جاری کی گئی ہے۔ اس مدت کے دوران، بہت سی سڑکیں بند رہیں گی اور ڈائیورشن اپنی جگہ پر ہوں گے۔ ٹریفک پولیس نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے سفر پر جانے سے پہلے ایڈوائزری کو چیک کریں۔دہلی میں منعقد ہونے والی برکس سمٹ کے لیے ٹریفک ایڈوائزری جاری کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ چوٹی کانفرنس 11 سے 13 ستمبر تک بھارت منڈپم میں ہونے والی ہے۔ تاہم غیر ملکی وفود اور خصوصی مہمانوں کی نقل و حرکت کے باعث 10 ستمبر سے 14 ستمبر تک ٹریفک کی پابندیاں جاری رہنے کی توقع ہے۔ سمٹ کے دوران 35 سے زیادہ سڑکوں کے متاثر ہونے کی توقع ہے۔ تقریباً 4,800 اہلکار ٹریفک کنٹرول کے لیے تعینات کیے گئے ہیں۔متاثر ہونے والی بڑی سڑکوں میں سردار پٹیل مارگ، مدر ٹریسا کریسنٹ، تین مورتی مارگ، اکبر روڈ، تیس جنوری مارگ، راجیش پائلٹ مارگ، سبرامنیم بھارتی مارگ، متھرا روڈ، موتی لال نہرو مارگ، ڈاکٹر ذاکر حسین مارگ، جن پتھ، اشوکا روڈ، براکھمبا روڈ، ٹالسٹائی مارگ، نتھل مارگ، نتھل مارگ، اے۔ مارگ، اے پی جے عبدالکلام روڈ، پریس انکلیو روڈ، لال بہادر شاستری مارگ، جوزف بروز ٹیٹو مارگ، اور لالہ لاجپت رائے مارگ۔نوئیڈا-مشرقی دہلی پر اثر: نوئیڈا اور مشرقی دہلی سے پرگتی میدان، وسطی دہلی اور شہر کے دیگر حصوں تک سفر کرنے والے لوگوں کو اہم رابطہ سڑکوں پر پابندیوں کی وجہ سے تاخیر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوارکا-دھولا کوان روٹ: دوارکا اور مغربی دہلی سے دھولا کوان، ہوائی اڈے اور وسطی دہلی جانے والے لوگوں کو وی وی آئی پی موومنٹ کے دوران ٹریفک جام اور موڑ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔جنوبی دہلی تشویش: مصری وفد کی ساکیت اور وسطی دہلی میں واقع اس کے ہوٹل کے درمیان نقل و حرکت جنوبی دہلی کے پہلے سے بھیڑ والے علاقوں پر اضافی دباؤ ڈال سکتی ہے، خاص طور پر مصروف اوقات کے دوران۔ ٹریفک پولیس نے پہلے ہی یہ مسئلہ اٹھایا تھا اور وفد کی رہائش وسطی دہلی میں تبدیل کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ریئل ٹائم نیویگیشن: ٹریفک پولیس نے آن لائن میپ سروسز کو تعینات کیا ہے۔
دلی این سی آر
ستیہ نکیتن حادثہ : قرول باغ اور چاندنی چوک سمیت 10 علاقوں میںچلے گا بلڈوزر
نئی دہلی :دہلی کے ستیہ نکیتن علاقے میں ایک پی جی عمارت گرنے سے پانچ طلباء سمیت سات افراد کی موت ہو گئی۔ اس واقعہ سے سبق لیتے ہوئے، دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) کی ٹیم خطرناک عمارتوں، غیر مجاز تعمیرات اور عمارت کے ضوابط کی خلاف ورزیوں کے خلاف اپنی بلڈوزر کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایم سی ڈی ٹیم کی بلڈوزر کارروائی قرول باغ اور چاندنی چوک سمیت 10 علاقوں میں جاری رہنے کی امید ہے۔ایم سی ڈی نے دہلی کے تمام 12 زونوں میں مسماری اور نفاذ کی کارروائیاں جاری رکھیں۔ یہ کارروائی ستیہ نکیتن میں ایک عمارت کے منہدم ہونے کے چند دن بعد ہوئی ہے، جس میں طلباء کے لیے ادائیگی کرنے والے مہمان (PG) کی رہائش تھی۔ سات افراد ہلاک اور کم از کم پانچ زخمی ہوئے۔لکشمی نگر، جگت پوری، اور پانڈو نگر جیسے علاقوں سے آنے والے مناظر میں ایم سی ڈی کی ٹیموں کو عمارت کے ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے والے ڈھانچوں کے خلاف مسماری اور نفاذ کی کارروائیاں کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
پچھلے دو تین دنوں کے دوران، ایم سی ڈی کی ٹیموں نے وشواس نگر، مکھرجی نگر، جامعہ نگر، شاہین باغ، تلک نگر، کرم پورہ، قرول باغ، رمیش نگر، مانسروور گارڈن، چاندنی چوک، اور نہرو وہار میں بھی کارروائیاں کیں۔ ان علاقوں میں آپریشن جاری رہنے کی توقع ہے۔دریں اثنا، ایم سی ڈی نے 6 ستمبر کو ستیہ نکیتن میں منہدم ہونے والی عمارت سے ملحقہ عمارت کو کنٹرول شدہ انہدام کا کام دوبارہ شروع کر دیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ انہدام کا عمل مرحلہ وار اور کنٹرولڈ انداز میں کیا جا رہا ہے۔
یہ آپریشن دہلی بھر میں غیر مجاز تعمیرات، جائیدادوں کے غیر قانونی استعمال اور ساختی طور پر غیر محفوظ عمارتوں کے خلاف وسیع کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔ ستیہ نکیتن کی عمارت گرنے کے بعد اس مہم کو تیز کر دیا گیا ہے۔اس واقعے کے بعد شروع کی گئی حفاظتی تشخیصی مہم کے ایک حصے کے طور پر، MCD نے 7 سے 9 ستمبر کے درمیان 1,252 ادائیگی کرنے والی مہمان عمارتوں کا سروے کیا۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق، 1 جون سے 9 ستمبر کے درمیان، شہری ادارے نے 1,053 مسماری کی کارروائیاں کیں، 491 جائیدادوں کو سیل کیا، اور 2,316 کو شوکاز نوٹس جاری کیا اور شہر بھر میں 7 سے 9 کو مسمار کرنے کے نوٹسز جاری کیے۔
-
بہار10 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
