تازہ ترین
فلاحی منصوبوں کے نفاذ میں لاپروائی پرحکومت ناراض، پوری ریاست سے رپورٹ طلب،ہر سطح پراب اس کالیا جائے گا جائزہپستول کے ساتھ انسٹاگرام پر ریل بناناپڑا مہنگا، پولیس کی شراب کے اڈے پرچھاپہ ماری، 6 افرادگرفتارمولانا طفیل احمد قاسمیؒ اپنے آبائی وطن گیاری میں سپردِ خاک،امیرِ شریعت نے پڑھائی نمازِ جنازہ، مدرسہ رحمانیہ میں تعزیتی نشست، علماء و ذمہ داران کا خراجِ عقیدتزبان و ادب کے آفاق کو وسعت عطا کرتا ہےترجمہ،(پی این این) پٹنہ:ترجمے کے بغیر مختلف قومیتوں کے بیچ اشتراک کا عمل ممکن نہیں ہوسکتا اور ہندستان جیسے کثیر لسانی اور کثیر ثقافتی ملک کی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب یہاں بڑی تعداد میں کئی زبانوں کے جاننے والے افراد ایک دوسرے کے جذبات، تاثرات اور تحریر و تقریر کو جان سکیں۔ ترجمہ نئی دنیا کے ہزار ابواب کھولتا ہے اور مترجمین نئی دنیا کی سانس اور دھڑکنوں کو بہ حسن و خوبی پہچانتے ہیں۔ دنیا کی کشادگی اور تہذیبی، ثقافتی، لسانی اور فکری بالیدگی اس بات پر منحصر ہے کہ وہ زبان یا قوم کتنی بڑی تعداد میں ذو لسانی یا سہ لسانی افراد کو میدانِ عمل میں اتارتا ہے۔ اس لیے آنے والے وقت میں فنِ ترجمہ ایک بڑے علمی دائرے کی تشکیل میں کامیاب ہوگا اور تخلیقی و غیر تخلیقی ادب کی فہرست بندی میں اپنی مستحکم حیثیت کے ساتھ موجود ہوگا۔ قومی ترجمہ مشن، سنٹرل انسٹی ٹیوٹ آف انڈین لینگویجز، میسور کے اشتراک سے کالج آف کامرس کے شعبۂ اردو کے زیر اہتمام آج ترجمے کی صلاحیت سازی کے موضوع پر منعقدہ پانچ روزہ ورک شاپ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین نے ترجمے سے متعلق مذکورہ باتیں پیش کیں۔ اس ورک شاپ کا افتتاح کالج آف کامرس کی پرنسپل پروفیسر سنیتا رائے نے کیا اور صدارت کی ذمہ داری پاٹلی پترا یونی ورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر ابوبکر رضوی نے ادا کی۔ خدا بخش لائبریری کے سربراہ پروفیسر محمد زاہد الحق مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے اس پروگرام کا حصہ تھے۔ پروگرام کی نظامت شعبۂ اردو ، پٹنہ یونی ورسٹی کی استاد ڈاکٹرافشاں بانو نے کی۔ ورک شاپ میں شریک مہمانان اور دور دراز سے آئے ۸۰؍کی تعداد میں شرکا سے خطاب کرتے ہوئے شعبۂ اردو کے استاد اور مقامی کوآرڈینیٹر پروفیسر صفدر امام قادری نے کہا کہ موضوعاتی اور فکری اعتبار سے یہ ورک شاپ ہمارے ریسرچ اسکالرس کے ذہنی اور فکری ابعاد کو نہ صرف یہ کہ وسعت دے گا بلکہ اس سے ہمارے ادبی سماج میں ایک روشنی اور خیر سگالی کی کیفیت پیدا ہوگی۔ ترجمہ زبانوں اور تہذیبوں میں اشتراک کا ایک پیمانہ ہے، اس لیے شرکا کو چاہیے کہ اس ورک شاپ میں جس علمی اور فکری مزاج کے ساتھ وہ شریک ہوئے ہیں، یہاں سے واپس ہوں تو اس سے بہتر اور بااعتبار بن کر نکلیں۔ انھوںنے بتایا کہ ورک شاپ کے لیے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی، بنارس ہندو یونی ورسٹی، پاٹلی پترا یونی ورسٹی، پٹنہ یونی ورسٹی، حیدرآباد یونی ورسٹی اور کولہان یونی ورسٹی سے فنِ ترجمہ کے ماہرین ، اساتذہ کو دعوت دی گئی ہے جن کے ساتھ شرکا پانچ دنوں تک پیہم مشق کریںگے اور ترجمے کے میدان میں خود کو درجۂ اعتبار تک پہنچانے میں کامیاب ہوںگے۔ اس ورک شاپ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس کی پرنسپل پروفیسر سنیتا رائے نے اپنے کالج کی مختلف تعلیمی اور تدریسی سرگرمیوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے شعبۂ اردو کے اس اقدام کو سراہا کیوںکہ قومی سطح کے اس ورک شاپ میں ہمارے طلبہ و طالبات کی کاروباری صلاحیت اور شاہراہِ حیات میں کامیابی کی نئی منازل طے کرنے کے لیے مواقع حاصل ہوںگے۔ انھوںنے اردو زبان کی شیرینی اور بیان کی خوش گفتاری کی تعریف کی۔ انھوںنے طلبہ کی حوصلہ افزائی کی اور کہا کہ اپنے مستقبل کے لیے نئے نئے کاموں سے خود کو لیس کریں ۔ کالج ایسے دوسرے پروگرام بھی کرتا رہے گا۔ افتتاحی اجلاس میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے خدا بخش لائبریری کے ڈائرکٹر پروفیسر محمد زاہد الحق شریک تھے۔ انھوںنے ہندستان میں کثیر لسانی ماحول کا گذشتہ مردم شماری کے اعداد و شمار کے حوالے سے جائزہ لیتے ہوئے اس افسوس ناک صورت حال کا ذکر کیا کہ پورے ملک میں ایک سے زیادہ زبان بولنے والوں کی تعداد تقریباً ایک فی صد ہے۔ انھوںنے کہا کہ ۹۷؍فی صد افراد تو صرف ایک ہی زبان کے دائرے میں پیدائش سے موت تک محصور رہتے ہیں۔ انھوںنے کہا کہ کثیر لسانی ماحول بنائے بغیر حکومتِ ہند کے ویژن ۲۰۴۷ ؍ کے خوابوں کو ہم تعبیر کے درجے تک نہیں پہنچا سکتے۔ ریسرچ اسکالرس کو انھوںنے ترغیب دلائی کہ وہ مستعد ہوکر ورک شاپ سے نئی زبانوں کے بیچ کام کرنے کے اصول و ضوابط سیکھیں اور اپنے ملک اور نئی دنیا میں اپنے لیے مواقع تلاش کریں۔ افتتاحی اجلاس کی صدارت پاٹلی پترا یونی ورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر ابوبکر رضوی نے فرمائی ۔ انھوںنے ترجمے کے فن اور اس کی عملی جہتوں پر روشنی ڈالتے ہوئے یہ واضح کیا کہ ترجمہ ایک علمی کام ہے اور اس کی کچھ مبادیات بھی ہیں۔ نثر اور شعری ترجمے کے تقاضے مختلف ہیں اور ہر زبان کی مخصوص تہذیبی، ادبی اور علمی اصطلاحیں بھی ہوتی ہیں جن کے ترجمے میں زبان کے علم کی مہارت کا خاصا امتحان ہوجاتا ہے۔ انھوںنے غالب کے ایک شعر کی مثال پیش کرتے ہوئے اردو اور ہندی زبانوں میں اچھے اور برے ترجمے کے امتیاز کو بھی واضح کیا۔ انھوںنے کالج آف کامرس کے شعبۂ اردو کو ایسے انوکھے علمی کام کے لیے مبارک باد دی اور آیندہ بھی ایسے کاموں کے لیے معاونت کا یقین دلایا۔ قومی ترجمہ مشن کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر محمد نوشاد عالم نے اپنے خطاب میں سنٹرل انسٹی ٹیوٹ آف انڈین لینگویجز کے اس ذیلی ادارے کا تفصیل سے تعارف پیش کرایا اور بتایا کہ حکومتِ ہند میں جب ڈاکٹر منموہن سنگھ وزیرِ اعظم تھے،ا س دور میں اس ادارے کی بنیاد پڑی اور یہ ادارہ ہندستان کی تمام قومی زبانوں کی اہم کتابوں اور دستاویزات کے تراجم کے کام میں مستعدی سے منہمک ہے۔ افتتاحی اجلاس کے بعد ورک شاپ میں تین خصوصی لکچر کا انعقاد کیا گیا۔ پہلے لکچر میں سنٹرل یونی ورسٹی آف حیدرآباد اور خدا بخش لائبریری کے موجودہ ڈائرکٹر ڈاکٹر محمد زاہد الحق نے فنِ ترجمہ کے تعارف کے دوران اس کی افادیت ، اہمیت اور اقسام پر بہ تفصیل روشنی ڈالی۔ قومی ترجمہ مشن کے سربراہ ڈاکٹر طارق خان نے آن لائن خطاب میں ترجمہ کے شعبۂ علم کو آنے والے دور میں کن خاص ذمے داریوں کو ادا کرنا ہے، اس موضوع پر انگریزی زبان میں بہ تفصیل روشنی ڈالی۔ پروفیسر صفدر امام قادری نے سماجی تبدیلی میں فنِ ترجمہ اور مترجمین کی خدمات کے حوالے سے اپنے خطاب میں طلبا و طالبات کو ترغیب دلائی کہ اس شعبۂ علم کی طرف وہ اپنی توجہ بڑھائیں اور روزگار کے نئے مواقع کی طرف دستکیں دیں۔ کالج آف کامرس میں آیندہ چار دنوں تک فنِ ترجمہ کے مختلف موضوعات پر ماہرین کے خطابات ہوتے رہیںگے۔ پروفیسر علی رفاد فتیحی(علی گڑھ) ، پروفیسر مشرف علی(بنارس ہندو یونی ورسٹی)، ڈاکٹر محمد ذاکر حسین(خدا بخش لائبریری، پٹنہ)، پروفیسر افروز اشرفی(پاٹلی پترا یونی ورسٹی)، ممتاز شاعر سنجے کمار کندن، کرشن سمیدھا، پروفیسر سید احمد بدر(جمشید پور)، ڈاکٹر افشاں بانو(پٹنہ یونی ورسٹی) اور ڈاکٹر محمد نوشاد عالم کے خصوصی خطابات ہوںگے۔ آن لائن موڈ میں ڈاکٹر وشودیپ گگوئی(میسور) اور ڈاکٹر شبیہ راحت(احمد آباد) اپنے لکچرس دیںگے۔ توقع کی جاتی ہے کہ یہ ورک شاپ فنِ ترجمہ کے سلسلے سے بہار کے ریسرچ اسکالرس کے ذہنی آفاق کو منور کرے گا اور ان کے لیے تعلیمی ترقی کے نئے وسائل پیدا کرے گا۔تنظیم ائمہ اوقاف ہریانہ کی عمومی میٹنگ منعقد، اہم امور پر اتفاقایس ٹی ایس اسکول میں انٹر اسکول ضلعی والی بال اور باسکٹ بال ٹورنامنٹ کا افتتاحسابق ایم ایل اےکا چیف الیکشن کمشنر پر حملہ، استعفیٰ کا مطالبہ’مہاتما گاندھی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ‘کے موضوع پر خصوصی لکچر کا انعقاد
دلی این سی آر

اردو اکادمی کے زیراہتمام’سرسنگم‘ پروگرام میں شعرا اور فنکاروں نے سامعین کو کیامسحور

(پی این این)
نئی دہلی:دلی کا دل کہے جانے والے کناٹ پلیس میں واقع سینٹرل پارک میں اردو اکادمی، دہلی کے زیرِ اہتمام مشاعروں، غزل گائیکی اور قوالی پر مشتمل تین روزہ ادبی و ثقافتی پروگرام ’’سر سنگم‘‘ کے دوسرے دن شعرا اور فنکاروں نے سامعین کو جھومنے پر مجبور کر دیا۔ جشن کے دوسرے دن کا آغاز شعری نشست سے ہوا، جس کی صدارت معروف شاعر و ادیب شعیب رضا فاطمی نے کی اور نظامت کے فرائض نوجوان ناظمِ مشاعرہ ہلال بدایونی نے انجام دیے۔ مشاعرے کے آغاز سے قبل محکمۂ فن، ثقافت و السنہ، حکومتِ دہلی کے ایڈیشنل سکریٹری اور اردو اکادمی، دہلی کے سکریٹری لیکھ راج نے اسٹیج پر موجود شعرا کے ساتھ شمعِ مشاعرہ روشن کی۔ بعد ازاں لیکھ راج نے تمام شعرا کا استقبال کرتے ہوئے ان کی خدمت میں خوبصورت پودے بطور یادگاری تحفہ پیش کیے۔
صدرِ مشاعرہ شعیب رضا فاطمی نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے اردو اکادمی، دہلی کی خدمات کا اعتراف کیا اور کہا کہ ملک بھر میں کوئی بھی ادارہ اردو اکادمی، دہلی سے زیادہ فعال نظر نہیں آتا۔ انھوں نے کہا کہ زبان و ادب، تہذیب و ثقافت اور فنونِ لطیفہ کی تمام اقسام، بشمول شاعری و موسیقی کو فروغ دینے کے لیے اکادمی کی کوششیں نہ صرف لائقِ تحسین بلکہ قابلِ تقلید بھی ہیں۔انھوں نے اس سلسلے میں دہلی حکومت اور محکمۂ فن، ثقافت و السنہ کے تعاون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج کے ماحول میں ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب، زبان و ادب اور فنونِ لطیفہ کو فروغ دینے کے لیے حکومت کی کوششیں بھرپور داد کی مستحق ہیں۔
مشاعرے میں جاوید قمر، سلمیٰ شاہین، احمد علوی، شعیب رضا فاطمی،مجاہد فراز، وارث وارثی، جاوید نیازی، سالم سلیم ، سریتا جین اور ہلال بدایونی نے اپنے کلام سے سامعین کے ذوق کو تسکین بخشی۔مشاعرے کے بعد غزل گلوکار سیف نعیم علی نے ’’غزل کی سرگوشی‘‘ کے تحت شاندار غزل گائیکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سامعین کو مسحور کر دیا۔ سیف نعیم علی کی پرسوز آواز اور بہترین فنکاری سامعین کے دلوں کو چھو گئی۔ اس کے بعد دوسرے دن کے آخری پروگرام میں غفران نظامی اور ان کی ٹیم نے ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کی نمائندگی کرنے والی قوالیوں کی شاندار پیش کش سے سامعین کو جھومنے پر مجبور کر دیا۔
اس موقع پر سینٹرل پارک میں سامعین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ اکادمی کے اس پروگرام کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پروگرام کے آخر تک تمام نشستیں بھری ہوئی تھیں اور لوگ دور تک کھڑے ہو کر شاعری اور موسیقی کے اس حسین سنگم سے محظوظ ہو رہے تھے۔ اردو اکادمی، دہلی کی کوشش یہی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک زبان و ادب اور تہذیب و ثقافت کی خوبصورتی کو پہنچائے، خاص طور پر نئی نسل کو ہندوستانی ثقافت کی شاندار روایت سے روشناس کرائے۔ اس سلسلے میں اکادمی کے دیگر پروگراموں کی طرح ’’سْر سنگم‘‘ بھی نہایت شاندار ثابت ہو رہا ہے اور سامعین کی روز بروز بڑھتی ہوئی تعداد اس کا واضح ثبوت ہے۔
’’سْر سنگم‘‘ کے دوسرے دن منعقد ہونے والے تمام پروگراموں کی نظامت کے فرائض ریشماں فاروقی نے بحسن و خوبی انجام دیے اور اپنے دلکش و دلنشیں اندازِ گفتگو اور خوب صورت نظامت سے سامعین کو باندھے رکھا۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔