دیش
بنگلہ دیش نے کی بھارت سے مزید ایندھن کی فراہمی کی درخواست
(پی این این)
ڈھاکہ :بنگلہ دیش نے بھارت سے ایندھن کی مزید فراہمی کی درخواست کی ہے، جو دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کی ایک اہم علامت سمجھی جا رہی ہے۔بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان نے نئی دہلی کے دو روزہ دورے کے دوران بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور پیٹرولیم وزیر ہردیپ سنگھ پوری سے ملاقاتیں کیں، جہاں توانائی تعاون سمیت مختلف امور پر بات چیت ہوئی۔
بنگلہ دیش نے حالیہ ڈیزل سپلائی پر بھارت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ایندھن اور کھاد کی فراہمی میں اضافے کی درخواست کی، جس پر بھارتی وزیر نے مثبت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس درخواست پر “ہمدردانہ اور فوری” غور کیا جائے گا۔رپورٹس کے مطابق بنگلہ دیش توانائی کی درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، اور امریکہ۔اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے باعث عالمی سپلائی متاثر ہوئی ہے، جس سے ملک میں ایندھن کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔یہ دورہ وزیر اعظم طارق رحمان کی نئی حکومت کی جانب سے بھارت کے ساتھ سفارتی روابط بحال کرنے کی ابتدائی کوششوں کا حصہ ہے، جو فروری 2026 میں اقتدار میں آئی تھی۔
ملاقاتوں میں ویزا سہولتوں میں نرمی اور سیکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ بھارت نے عندیہ دیا کہ بنگلہ دیشی شہریوں کے لیے، خاص طور پر طبی اور کاروباری مقاصد کے لیے، ویزا عمل کو آسان بنایا جائے گا۔یاد رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات 2024 میں اس وقت کشیدہ ہو گئے تھے جب سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ بھارت منتقل ہو گئی تھیں، تاہم حالیہ مہینوں میں دونوں جانب سے مثبت اشاروں کے بعد تعلقات میں بہتری دیکھی جا رہی ہے۔
دیش
فیصلوں میں اے آئی کا استعمال خطرناک
نئی دہلی :سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے بنائے گئے قانونی مثالوں کا استعمال انتہائی خطرناک ہے۔ کورٹ نے کہا کہ یہ خطرہ اتنا ہی بڑا ہے جتنا بھوپال گیس المیہ میں زہریلی گیس کا رسائو تھا۔
جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس ارادھے کی بنچ نے نیشنل کمپنی لا ٹریبونل (ایل سی ایل ٹی) کے فیصلے کو منسوخ کردیا اور کہا کہ اے آئی سے بنائے گئے جھوٹے اور غیر موجود فیصلوں کو کورٹ میں اصلی بتا کر پیش کرنا نظام عدل کو نقصان پہنچاتا ہے۔ ایسے معاملوں میں عدالتوں کو بالکل نرمی نہیں دکھانی چاہئے۔
غورطلب ہے کہ ایل سی ایل ٹی میں اپنے فیصلے کو صحیح ثابت کرنے کے لئے جن قانونی معاملوں کو حوالہ دیا تھا ان میں کئی معاملے اصل نہیں تھے۔ فیصلوں میں کچھ معاملوں کا نام لکھا گیا تھا جو پوری طرح نقلی تھے۔ ان کا قانونی سائٹیشن بنایا گیا تھا۔ ان کا کوئی حقیقی ریکارڈ موجود نہیں تھا۔
جموں وکشمیر بینک لمیٹڈ نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ دیا تھا کہ ان کے وکیل نے نقلی حوالہ نہیں دیا تھا یہ ریسرچ کا موضوع ہے۔ عدالت میں کہا کہ وہ اے آئی کے خلاف نہیں بلکہ اس کی غلط جانکاری کے خلاف ہے، اس لئے اے آئی کا استعمال انتہائی ہوشیاری ، جانچ پڑتال اور انسانی نگرانی میں کی جانی چاہئے۔
اگر کوئی وکیل بنا کسی جانچ کے اے آئی کی جانکاری کو کورٹ میں پیش کرتا ہے تو اس کی پیشہ ورانہ غلطی ہے۔ اسی طرح اگر کوئی جج بھی ایسی غلط جانکاری پر بھروسہ کرتا ہے تو یہ سنگین غلطی مانی جائے گی۔ عدالت کا کہنا ہے کہ نظام عدل میں ایمانداری اور بھروسہ بنائے رکھنا ضروری ہے۔ اے آئی کا استعمال کیا جاسکتا ہے لیکن جانچ اور فیصلہ انسانی ذہن کے مطابق ہونا چاہئے۔
دیش
علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شریک ہوں گے سلمان خورشید اور محبوبہ مفتی
نئی دہلی :ایران میں 4جولائی سے ہونے والے علی خامنہ ای کی آخری رسومات کی تقریب میں شرکت کیلئے کانگریس کی نمائندگی سلمان خورشید کریں گے، جبکہ پی ڈی پی کی رہنما محبوبہ مفتی بھی اس تقریب میں شریک ہوں گی۔ایران نے دونوں بڑی ہندوستانی جماعتوں یعنی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور کانگریس کے قومی صدور کو مدعو کیا ہے۔نیوز پورٹل ’اے بی پی‘ پر شائع خبر کے مطابق ذرائع سے پتہ چلتا ہے کہ ایران کی دعوت پر کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑ گے کی جگہ پارٹی کے خارجہ محکمہ کے سربراہ سلمان خورشیدشریک ہوں گے جو جمعہ (3 جولائی 2026) کو ہونےکا پروگرام ہے۔ چونکہ یہ پروگرام 3 جولائی کو ہونا ہے، اس لیے کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے اتنے مختصر نوٹس پر شرکت کرنے سے قاصر ہیں۔ذرائع کے مطابق کانگریس کے محکمہ خارجہ کے سربراہ سلمان خورشید ایران میں اپنی پارٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے سرکاری پیغام دیں گے۔ تاہم سلمان خورشید کے لیے ابھی تک فلائٹ بک نہیں کی گئی۔ اس لیے ان کے سفر کے لیے چارٹرڈ طیارے کا امکان تلاش کیا جا رہا ہے۔دریں اثنا، ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنے آنجہانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کی دعوت دی۔ اس کے نتیجے میں، ہندوستانی وزیر مملکت برائے امور خارجہ پبیترا مارگریتا اور بہار کے گورنر سید عطا حسنین ہندوستان کی جانب سے اگلے ہفتے ایران میں شرکت کر سکتے ہیں۔
دیش
رام مندر چوری معاملہ:2ملزمین کے گھروں پر بلڈوزر ایکشن کی تیاری
ایودھیا:اترپردیش سرکار کافی دبائو میں ہے۔ رام مندر چوری معاملے میں دو ملزمین کے گھروں پر بلڈوزر ایکشن کی تیاری ہورہی ہے۔ لیکن چمپت رائے اور انل مشرا جیسے بڑے لوگوں پر مقدمہ درج نہیں ہونے کے خلاف ایودھیا کے وکلا کے پرزور مظاہرہ کیا ہے۔
ایودھیا کے رام مندرمیں چڑھاوا کی مبینہ چوری کے ملزم لوکش مشرا کے زیرِتعمیرمکان کے خلاف بھی کارروائی ہوسکتی ہے۔ بدھ کے روزایودھیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے افسران نے تعمیراتی مقام کا معائنہ کیا۔ ابتدائی جانچ میں معلوم ہوا کہ تعمیرپوری زمین پر کی گئی ہے اور عمارت کے لیے مقررہ تعمیراتی حدود (بلڈنگ کوریج) کی مکمل خلاف ورزی کی گئی ہے۔ ملزم کے ایک پڑوسی کے مطابق افسران نے مکان کی پیمائش کی، سروے کیا اورواپس چلے گئے۔
دوسری جانب، پولیس نے بدھ (یکم جولائی، 2026) کے روزلوکش مشرا کے پڑوسی راج کمارپانڈے سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک پوچھ گچھ کی۔ راج کماراسی محلے، شہادت گنج میں رہتے ہیں، جہاں لوکش مشرا کا نیا مکان زیرِ تعمیرہے۔ پولیس نے ان سے دریافت کیا کہ ان کی لوکش مشرا سے کب اورکیسے جان پہچان ہوئی، وہ اسے کتنا جانتے تھے، دونوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت ہوتی تھی، زمین کب اورکتنی قیمت میں خریدی گئی، تعمیراتی کام کب شروع ہوا، پلاٹ پرکون کون آتا تھا اورزمین کس شخص سے خریدی گئی۔ ان تمام معاملات سے متعلق پولیس نے تفصیلی معلومات حاصل کیں۔
تحقیقات کے مطابق، ماہانہ صرف 18 ہزارروپئے تنخواہ حاصل کرنے والا لوکش مشرا تقریباً ایک ہزارمربع فٹ کے پلاٹ پردومنزلہ عالی شان مکان تعمیرکرا رہا تھا۔ گراؤنڈ فلورپرتین کمرے بنائے جا رہے تھے اورہرکمرے کے ساتھ منسلک غسل خانہ (اٹیچڈ واش روم) موجود ہے۔ دوسری منزل پربھی تین کمرے تعمیرکئے گئے تھے، جن میں ایک لگژری سوئٹ طرزکا کمرہ شامل تھا، جس میں الگ رہائشی حصہ (لونگ ایریا)، الگ خواب گاہ اورمنسلک غسل خانہ بنایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ تیسری منزل کی تعمیرکی بھی تیاری مکمل کر لی گئی تھی اورستونوں کی ڈھلائی کے لیے سریے کا فریم ورک بھی تیارہوچکا تھا۔
ایودھیا میں ایک کمرے کے مکان میں رہنے والے اور ماہانہ صرف 18 ہزارروپئے تنخواہ پانے والے لوکش مشرا کا یہ عالیشان زیرِتعمیرمکان نے ہرکسی کوحیران کردیا ہے۔ گزشتہ نومبرمیں پلاٹ کی رجسٹری کرائی گئی، فروری میں تعمیراتی کام شروع ہوا اورمئی تک تقریباً دومنزلوں کی تعمیرمکمل ہوچکی تھی۔ ذرائع کے مطابق، پلاٹ کی اصل قیمت تقریباً 25 لاکھ روپئے بتائی جا رہی ہے، تاہم سرکاری دستاویزات میں اس کی قیمت صرف 8 لاکھ روپئے درج کی گئی ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ یہ زمین لوکش مشرا نے اپنی اہلیہ سپریا کے نام پرخریدی تھی۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار7 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
دلی این سی آر10 months agoاردو اکادمی دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے میں کثیر تعداد میں اسکولی بچوں نےلیا حصہ
