Connect with us

uttar pradesh

بلندشہر:اوپن ڈسٹرکٹ تائیکوانڈو چیمپئن شپ 2026 میں نیو ڈائمنڈپبلک اسکول کے طلبہ نے جیتے 7 میڈل، ضلع کا نام کیا روشن

Published

on

(پی این این)
سکندرآباد /بلند شہر:محلہ رسالداران میں واقع نیو ڈائمنڈ پبلک اسکول کے طلبہ نے تائیکوانڈو فیڈریشن آف انڈیا (FIT) کے زیر اہتمام نوئیڈا کے بی جی ایس وشواناتھن انٹرنیشنل اسکول میں گزشتہ 16 مئی کو منعقدہ اوپن ڈسٹرکٹ تائیکوانڈو چیمپئن شپ 2026* میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پورے ضلع کا نام روشن کیا ہے۔ اسکول کے ہونہار کھلاڑیوں نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجموعی طور پر 7 میڈل (3 گولڈ، 3 سلور اور 1 برونز میڈل) اپنے نام کیے۔
مقابلہ میں میڈل جیتنے والے فاتح طلبہ کی تفصیلات یہ ہیں:گولڈ میڈل (طلائی تمغہ) فاتحین: معاذ (کلاس: چوتھی، عمر: 11 سال)، عبداللہ (کلاس: چوتھی، عمر: 11 سال)، حماد (کلاس: نرسری، عمر: 3.5 سال)۔سلور میڈل (نقرئی تمغہ) فاتحین: شکیب (کلاس: چھٹی، عمر: 13 سال)، ایاز (کلاس: چھٹی، عمر: 13 سال)، ارحان (کلاس: چھٹی، عمر: 13 سال)۔ برونز میڈل (کانسی کا تمغہ) فاتحین: زید (کلاس: ساتویں، عمر: 14 سال)، ارحان (کلاس: چوتھی، عمر: 11 سال) کے نام قابل ذکر ہیں۔
دی اسپورٹس اینڈ مارشل آرٹس ایسوسی ایشن، ضلع بلند شہر کے صدر اور ٹرینر *ماسٹر ذاکر حسین* نے یہ معلومات دیتے ہوئے بتایا کہ نیو ڈائمنڈ پبلک اسکول کی یہ کامیابی پورے ضلع بلند شہر کے لیے باعثِ فخر ہے۔ بچوں کی اس تاریخی کامیابی پر ان کی حوصلہ افزائی کے لیے منگل کو اسکول میں ایک تہنیتی تقریب (اعزازی تقریب) کا انعقاد کیا گیا، جہاں فاتح طلبہ کو نوازا گیا۔
شہر کی معزز اور ممتاز شخصیات نے خاص طور پر اسکول میں تشریف لا کر تمام فاتح بچوں کو مبارکباد دی، ان کے روشن مستقبل کی دعا کی اور کھیل کے میدان میں مزید آگے بڑھنے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کی۔
اس موقع پر امامِ عیدین مولانا محمد ارشد قاسمی، شاہی جامع مسجد کے امام مولانا محمد عارف قاسمی، قاری شفاعت خاں قاسمی، مفتی نسیم احمد قاسمی، مولانا گل صنور قاسمی، ڈاکٹر سلیم احمد، مرزا رحمان بیگ، اریب احمد وغیرہ سمیت اسکول کا تمام اسٹاف اور والدین موجود تھے۔اسکول انتظامیہ اور مقامی لوگوں نے بچوں کی اس بڑی کامیابی پر انتہائی خوشی کا اظہار کیا ہے اور اسے اسکول و پورے سکندرآباد حلقہ کے لیے ایک فخر کا لمحہ قرار دیا ہے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

uttar pradesh

تعلیم، صحت اور خواتین کے بااختیار ہونے پر زور؛ راجہ مہندر پرتاپ سنگھ یونیورسٹی کے کانووکیشن میں گورنر آنندی بین پٹیل کا اہم خطاب

Published

on

علی گڑھ:راجہ مہندر پرتاپ سنگھ اسٹیٹ یونیورسٹی کے تیسرے جلسۂ تقسیمِ اسناد (کانووکیشن) کا انعقاد پیر کے روز شیلا گوتم لرننگ سینٹر آڈیٹوریم میں نہایت پروقار ماحول میں انجام پایا۔ تقریب کی صدارت اتر پردیش کی گورنر اور یونیورسٹی کی چانسلر آنندی بین پٹیل نے کی، جبکہ ملک کے نامور سائنس داں، ممتاز ماہرِ حیاتیات اور ماہرِ تعلیم پروفیسر شیخر سی مانڈے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئے۔ اس موقع پر انہیں یونیورسٹی کی جانب سے اعزازی ڈی لِٹ (ڈی ایل آئی آئی ٹی) کی ڈگری سے سرفراز کیا گیا۔

تقریب کے آغاز میں وائس چانسلر پروفیسر نریندر بہادر سنگھ نے معزز مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے یونیورسٹی کی گزشتہ ایک سال کی تعلیمی، تحقیقی اور انتظامی کامیابیوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا، جبکہ رجسٹرار پربدھ سنگھ نے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کو حلف دلایا۔

اس موقع پر گورنر آنندی بین پٹیل نے بٹن دبا کر 51 ہزار 547 طلبہ کی ڈگریوں کو ڈیجی لاکر سے منسلک کرنے کے عمل کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس جدید سہولت سے طلبہ کو اپنی ڈگریاں اور اسناد حاصل کرنے کے لیے یونیورسٹی کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے بلکہ وہ دنیا کے کسی بھی مقام سے انہیں بآسانی حاصل کر سکیں گے۔

اپنے خطاب میں گورنر نے کہا کہ “حقیقی جدیدیت انسان کے لباس میں نہیں بلکہ اس کے افکار، کردار اور اخلاقی اقدار میں پوشیدہ ہوتی ہے۔” انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنی تہذیب و ثقافت سے وابستہ رہتے ہوئے تعلیم کو قوم کی خدمت اور سماجی ترقی کا ذریعہ بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف ڈگری حاصل کرنا کامیابی نہیں بلکہ معاشرے کے لیے مفید اور باکردار شہری بننا ہی تعلیم کا اصل مقصد ہے۔

انہوں نے کہا کہ راجہ مہندر پرتاپ سنگھ نے آزادی کی جدوجہد اور تعلیم کے فروغ کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں، اس لیے نوجوان نسل کو ان کی زندگی، نظریات اور قومی خدمات سے روشناس کرانا ہر تعلیمی ادارے کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے یونیورسٹیوں میں عظیم شخصیات پر مباحثوں، تقریری مقابلوں اور علمی سرگرمیوں کے انعقاد پر زور دیا۔

گورنر نے کہا کہ اس سال گولڈ میڈل حاصل کرنے والے 50 طلبہ میں 33 طالبات اور 17 طلبہ شامل ہیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بیٹیاں ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔

انہوں نے صحت کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے 9 سے 14 سال کی بچیوں کے لیے ایچ پی وی ویکسین کو انتہائی ضروری قرار دیا اور کہا کہ بروقت ویکسینیشن کے ذریعے مستقبل میں سروائیکل کینسر جیسے خطرناک مرض سے بچاؤ ممکن ہے۔ انہوں نے اینیمیا کے خاتمے، ٹی بی کے انسداد، خواتین کی تعلیم، کم عمری کی شادی کی روک تھام، معیاری تعلیم، مطالعے کی عادت، شمسی توانائی کے فروغ اور خواتین کو معاشی و سماجی طور پر بااختیار بنانے پر بھی زور دیا۔

تقریب کے دوران آنگن واڑی مراکز کے لیے 200 کھیل اور صحت کٹس تقسیم کی گئیں، جبکہ علی گڑھ، کاس گنج، ہاتھرس اور ایٹہ کی دس آنگن واڑی کارکنان کو علامتی طور پر یہ کٹس پیش کی گئیں۔ گورنر نے ضلع انتظامیہ کی جانب سے ٹی بی کے خاتمے اور دیگر عوامی فلاحی منصوبوں میں انجام دی جانے والی خدمات کو سراہا۔

اس موقع پر دھرم سماج کالج کے ڈاکٹر سریندر پال، ڈاکٹر اجے کمار اور شری وارشنیہ کالج کی پروفیسر گنجن اگروال کو تدریس کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے پر اعزازات سے نوازا گیا۔ گورنر نے انہیں اپنی تصنیف “چیلنجز مجھے پسند ہیں” بھی بطور تحفہ پیش کی۔

تقریب میں یونیورسٹی کے زیرِ سرپرستی گود لیے گئے دیہات کی طالبات نے ماحولیات کے تحفظ اور آبی ذخائر کی حفاظت پر مبنی ثقافتی پروگرام پیش کیا، جبکہ لودھا سنولین ودیالیہ کی طالبہ کشش نے “میری ماں” کے عنوان پر تقریر اور نغمہ پیش کر کے سامعین کی بھرپور داد حاصل کی۔

مختلف شعبوں میں گولڈ میڈل حاصل کرنے والوں میں آفرین خان، پراچی اگروال، پریانشی اپادھیائے، شلپی، شروتی گوئل، پرشانت راجپوت، کشاگر گپتا، تیج پال سنگھ، سیا، انوج کمار، شریا مہیشوری، انشیکا وارشنیہ، سوربھی چودھری، کرن شرما، بھونیش تیواری، ابھیشیک تالان، عدنان احمد، انو کماری، ببلی سینگر، دیپالی وارشنیہ، گریما سنگھ، خوشی گپتا، غزل خان، اماں شی شرما، مانوی پاراشر، مسویٰ علی، نیہا چودھری، پرتیبھا، پریانکا بھاردواج، رچا گرگ، شالوی بالیان، شکھر یادو، اُدتیش کماری، یوگیتا سنگھ، سواتی، منجول چودھری، آدرش پرتاپ پنڈیر، مونا، عارف خان، نیتو ورما، انجلی شاکیہ، لَوی مہاجن، انکیتا سنگھ، ایشوریہ سنگھ، ستوتی پرساد، بھوپیندر، جتیندر یادو، وجے کمار مینا اور دیپک ناگر شامل ہیں، جبکہ بی اے کے طالب علم نتن کمار کو گولڈ میڈل کے ساتھ چانسلر میڈل سے بھی نوازا گیا۔

گورنر آنندی بین پٹیل نے گولڈ میڈل حاصل کرنے والے تمام طلبہ کے والدین اور متعلقہ کالجوں کے پرنسپلز کو بھی اسٹیج پر مدعو کیا اور ان کی کامیابی کو سراہتے ہوئے کہا کہ طلبہ کی اس کامیابی میں والدین اور اساتذہ کا کردار بھی قابلِ تحسین ہے۔

اس تقریب میں رکنِ پارلیمنٹ ستیش گوتم، ضلع پنچایت کی چیئرپرسن وجئے سنگھ، رکن اسمبلی انل پراشر، ایم ایل سی ڈاکٹر مانویندر سنگھ، میئر پرشانت سنگھل، بی جے پی ضلع صدر کرشن پال سنگھ، ضلع جنرل سکریٹری شیو نارائن شرما، محکمہ پرچارک گووند جی، ضلع مجسٹریٹ اونیناش کمار، ایس ایس پی نیرج کمار جادون، چیف ڈیولپمنٹ آفیسر یوگیندر کمار، رجسٹرار پربدھ سنگھ، فائنانس کنٹرولر دھیریندر سنگھ، اساتذۂ کرام، انتظامی افسران، عوامی نمائندوں اور طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

Continue Reading

uttar pradesh

نوجوان لیڈر ساحل خاں ساتھیوں سمیت سماجوادی پارٹی میں شامل

Published

on

دیوبند:سماجوادی پارٹی کو نکوڑ اسمبلی حلقہ میں بڑی مضبوطی حاصل ہوئی ہے ۔نکوڑ اسمبلی حلقہ سے 55؍ہزار ووٹ حاصل کرنے والے نوجوان لیڈر ساحل خان کے ساتھ سیکڑوں ساتھیوں نے سماجوادی پارٹی کی رکنیت اختیار کرلی ۔
واضح ہوکہ کئی یوم قبل ساحل خان نے سماج وادی پارٹی کے قائد اکھلیش یادو سے ملاقات کرکے پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی ۔جس کے بعد ساحل خان نے سہارنپور میں اپنی رہائشگا ہ پر اپنے سیکڑوں ساتھیوں کو پارٹی کی رکنیت دلائی ۔اس موقع پر سماجوادی لیڈر نے کہا کہ میں اپنے پرانے گھر واپس آچکا ہوں ۔انہوں نے کہا کہ سماجوادی پارٹی سے ہی میں اپنی سیاست کی شروعات کی تھی ۔
انہوں نے کہا کہ 2027میں اکھلیش یادو کو دوبارہ وزیر اعلیٰ بنانے کے لئے وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے ۔ساحل خان کے ساتھ بڑی تعداد میں نوجوانوں ،کسانوں اور اقلیتی طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد نے سماجوادی پارٹی میں شمولیت اختیار کی ہے ۔سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کے سماجوادی پارٹی میں شامل ہونے سے سہارنپور اسمبلی حلقہ میں پارٹی کو کافی مضبوطی ملی ہے ۔

Continue Reading

uttar pradesh

یوم تصفیہ پر شکایتوں کا ازالہ،ماں کے نام ایک درخت مہم کے تحت لگائے گئے پودے

Published

on

رام پور: سمادھن دیوس سے پہلے ضلع مجسٹریٹ اجے کمار دویدی اور پولیس سپرنٹنڈنٹ سومیندر کمار مینا نے ماں کے نام پر ایک درخت مہم کے تحت تحصیل صدر کے احاطے میں پودے لگائے۔ اس موقع پر انہوں نے تحصیل دیوس میں شرکت کرنے والے لوگوں میں پودے تقسیم کیے اور ماحولیاتی تحفظ کا پیغام دیا۔
ضلع مجسٹریٹ نے کہا کہ ہر شخص کو چاہیے کہ وہ اپنی ماں کے احترام میں کم از کم ایک پودا لگائے اور اس کی دیکھ بھال اور حفاظت کو یقینی بنائے جب تک وہ درخت نہ بن جائے۔اس کے بعد تحصیل صدر آڈیٹوریم میں ضلع مجسٹریٹ اور پولیس سپرنٹنڈنٹ کی موجودگی میں مشترکہ سمپورن سمادھان دیوس کا انعقاد کیا گیا۔ ضلع مجسٹریٹ نے شکایت کنندگان کی شکایات اور مطالبات کو سنجیدگی سے سنا اور متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایت کی کہ وہ ان کے فوری اور معیاری حل کو یقینی بنائیں۔
سمپورن سمادھان دیوس کے دوران مختلف محکموں سے متعلق 32 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 7 کا موقع پر ہی ازالہ کیا گیا۔ شکایات میں بنیادی طور پر ریونیو، پولیس، بجلی، بلاک ڈیولپمنٹ، غیر قانونی تجاوزات، راشن کارڈ، آیوشمان بھارت کارڈ، میونسپل کارپوریشن، اور ہاؤسنگ سے متعلق موصول ہوئی ہیں۔
اس دوران ضلع مجسٹریٹ اور پولیس سپرنٹنڈنٹ نے ذاتی طور پر کھود کی رہنے والی نشا اور جگت پور کی رہنے والی شوریہ کو لاعلاج بیماریوں کے علاج کے لیے آیوشمان بھارت کارڈ پیش کیا۔امداد دیوس پرطبی امداد کے خواہاں شکایت کنندگان کی درخواستوں کے بارے میں ضلع مجسٹریٹ نے ضلع سپلائی افسر کو ہدایت دی کہ وہ اہلیت کی تصدیق کریں اور ترجیحی بنیادوں پر انتیودیا راشن کارڈ جاری کرنے کے عمل کو تیز کریں۔ انہوں نے چیف میڈیکل آفیسر کو ہدایت دی کہ وہ آیوشمان بھارت اسکیم سے متعلق تمام ضروری رسمی کارروائیوں کو فوری طور پر مکمل کریں تاکہ اہل استفادہ کنندگان کے بروقت، معیاری اور مفت علاج کو یقینی بنایا جا سکے۔راشن کارڈس پر یونٹس کی تعداد بڑھانے کے سلسلے میں موصول ہونے والی درخواستوں کے بارے میں ضلع مجسٹریٹ نے ضلع سپلائی افسر کو اہلیت کی بنیاد پر ضروری کارروائی کرنے کی ہدایت دی۔
محکمہ ریونیو سے تعلق رکھنے والی سرکاری اراضی پر ناجائز تجاوزات کی شکایت موصول ہونے پر ضلع مجسٹریٹ نے فوری طور پر متعلقہ عہدیداروں اور اسٹیشن ہاؤس آفیسر کو انچارج نامزد کیا اور انہیں تجاوزات ہٹانے کے لیے کارروائی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ضلع مجسٹریٹ نے کہا کہ حکومت کی منشا کے مطابق ہر شکایت کو غیر جانبدارانہ، شفاف اور مستقل طور پر حل کیا جانا چاہیے۔عہدیداروں کو شکایات کے حل میں رسمی کارروائیوں سے گریز کرنا چاہئے۔
اور اگر ضروری ہو تو ذاتی طور پر سائٹ کا دورہ کریں اور سائٹ پر تحقیقات کریں۔ شکایت کنندہ سے رائے لینے کے بعد ہی مقدمات کو حل کیا جانا چاہیے۔پولیس سپرنٹنڈنٹ نے ہدایت کی کہ محکمہ ریونیو اور پولیس کی مشترکہ ٹیم زمین کے تنازعات، خواتین کو ہراساں کرنے، ناجائز تجاوزات اور امن و امان سے متعلق شکایات پر فوری اور موثر کارروائی کو یقینی بنائے۔اسی طرح تحصیل شاہ بادمیں چیف ڈویلپمنٹ آفیسر گلاب چندر کی صدارت میں سمپورن سمادھان دیوس کا انعقاد کیا گیا جس میں 11 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 02 کا موقع پر ہی ازالہ کیا گیا۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (فنانس اینڈ ریونیو) آنند کمار سنگھ کی صدارت میں تحصیل ملک میں ایک سمپورن سمدھن دیوس کا انعقاد کیا گیا، جہاں 27 شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 6 کا موقع پر ہی ازالہ کیا گیا۔ تحصیل ٹانڈہ میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (ایڈمنسٹریشن) ڈاکٹر نتن مدن کی صدارت میں سمپورن سمادھان دیوس کا انعقاد کیا گیا جس میں 19 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 04 شکایات کا موقع پر ہی ازالہ کیا گیا۔مزید تحصیل سوار میں سب ڈویژنل مجسٹریٹ سوار کی صدارت میں سمپورن سمادھا‌ن دیوس کا انعقاد کیا گیا جس میں 05 شکایات موصول ہوئیں اور 01 شکایت کا موقع پر ہی ازالہ کیا گیا۔ تحصیل بلاس پور میں سب ڈویژنل مجسٹریٹ بلاس پور کی صدارت میں سمپورن سمادھان دیوس کا انعقاد کیا گیا جس میں کل 14 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 02 شکایات کا موقع پر ہی ازالہ کیا گیا۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network