تازہ ترین
جامعہ رحمانی تعلیم و تربیت اور اصلاح و تزکیہ کا روشن مرکز، مولانا عبداللہ سالم چترویدی کی جامعہ رحمانی مونگیر آمد، طلبہ و اساتذہ سے خطاب،فکر و نظر ٹی وی اسٹوڈیو کا کیامعائنہسیمانچل کے تعلیمی، سماجی اور معاشی ترقی کیلئے ہمیں متحدہ طور پرکرنی ہوگی کوشش : منوج وشواشآفات سے ہونے والی اموات پرملے گادوگنا معاوضہ، ایسے معاملات میںاب 8لاکھ روپے دے گی ریاستی حکومت ،وزیراعلیٰ نے فصلوں اور مویشیوں کے نقصان پر امدادی رقم میں بھی کیا اضافہجعلی نوٹ چھاپنے کی فیکٹری کا پردہ فاش، چاول مل میں چھاپے جارہے تھے جعلی نوٹ، چھاپہ ماری میں 100، 200 اور 500 روپے کے نوٹ بڑی مقدار میں برآمداذان اور بھجن کے لیے لاؤڈ اسپیکر کی اجازت کا مطالبہ، مرزاپور سمیت متعدد دیہی علاقوں کے وفد نے ڈی ایم سے کی ملاقاتایک ادیب، ناقد، افسانہ نگار کے ساتھ ساتھ ایک اچھا انسان ہم سےہوگیا جدا :پروفیسر ارتضیٰ کریم، شعبہ اردو سی سی ایس یونیورسٹی میرٹھ میں ”صبا اکرام: تعزیتی جلسہ“ پر آن لائن پرو گرام کا انعقادمانو ایوننگ کالج میںنئے یو جی کورسز کے ساتھ پی جی کورس بھی ہوں گےشروع : پروفیسر سید عین الحسنانجمن اسلام آلانا انگلش ہائی اسکول نے 130ویں ہیرس شیلڈ مسلسل تیسری مرتبہ درج کی جیت
دیش

اے ایم یو میں رنگریزہ آرٹ فیسٹ کا آغاز، تخلیقی صلاحیتوں اور فنی اظہار کا رنگا رنگ جشن

(پی این این)
علی گڑھ:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے یونیورسٹی فائن آرٹس کلب کے زیر اہتمام منعقد ہونے والا رنگریزہ آرٹ فیسٹ 2026 پرجوش انداز میں شروع ہوا۔ پہلے دن تخلیقی صلاحیتوں کا جشن منایا گیا، جس میں جوش و خروش، فنکارانہ اظہار اور بامعنی شرکت نمایاں رہی۔
تقریب کا باقاعدہ آغاز صبح 11:30 بجے معزز مہمانوں کی موجودگی میں ربن کاٹنے کی رسم سے ہوا۔ اس موقع پر مہمانِ خصوصی سابق وائس چانسلر پروفیسر محمد گلریز تھے، جب کہ مہمانانِ اعزازی میں پروفیسر محمد شمیم (چیئرپرسن،شعبہ تپ دق و امراض تنفس، جے این ایم سی، اے ایم یو)، ڈاکٹر عابد ہادی (چیئرپرسن، شعبہ فائن آرٹس)، ڈاکٹر وسیم مشتاق وانی (صدر، یو ایف اے سی)، پروفیسر بدر جہاں (مینٹور) اور پروفیسر محمد رضوان خان (کوآرڈینیٹر، کلچرل ایجوکیشن سنٹر) شامل تھے۔
افتتاح کے بعد مہمانوں نے نمائش گاہوں کا دورہ کیا اور پیش کیے گئے فن پاروں کا مشاہدہ کیا۔ ان میں مختلف اقسام کی پینٹنگز اور تنصیبات (انسٹالیشنز) شامل تھیں۔ جنگ و تصادم، زیاں اور انسانی دکھ جیسے موضوعات کے ساتھ ساتھ غالب، زرینہ ہاشمی اور مجاز لکھنوی جیسی ادبی و فنکارانہ شخصیات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے والے فن پاروں نے فنی گہرائی و گیرائی اور حساسیت کا نمایاں طور سے اظہار کیا۔ ہر فن پارے نے اپنے تہہ دار بیانیے اور فکری وضاحت کے باعث مہمانوں کی توجہ اور ستائش حاصل کی۔
یہ دورہ سی ای سی کے لان تک جاری رہا، جہاں مزید فن پاروں نے شائقین کو محظوظ کیا اور بامعنی مکالمے کو فروغ دیا۔ اس کے بعد افتتاحی تقریب منعقد ہوئی، جس میں مہمانوں کا رسمی استقبال کیا گیا اور انہیں گلدستے پیش کئے گئے۔
اپنے خطاب میں پروفیسر گلریز نے شرکاء کی محنت اور تخلیقی کاوشوں کی ستائش کی اور فیسٹیول میں نمایاں فکری پختگی اور فنکارانہ دیانت داری کو سراہا۔رنگریزہ 2026 کا پہلا دن بے حد کامیاب رہا۔ اپریل کی شدید گرمی کے باوجود فیسٹیول کا جوش و جذبہ برقرار رہا اور یہ ایک یادگار اور بامقصد تجربہ بن کر سامنے آیا۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔