Connect with us

بہار

ایل پی جی گیس کی قلت کے پیش نظر جامعہ رحمانی کے نئے تعلیمی سال کی تاریخ میں تبدیلی

Published

on

(پی این این)
مونگیر :جامعہ رحمانی خانقاہ، مونگیر نے ملک میں جاری ایل پی جی (LPG) گیس کی شدید قلت کے پیش نظر اپنے تعلیمی سیشن کے آغاز کی تاریخ میں نظرِ ثانی کا اعلان کیا ہے۔ ادارہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات نے نہ صرف گھریلو زندگی کو متاثر کیا ہے بلکہ بڑے تعلیمی و اقامتی اداروں کے لیے بھی انتظامی سطح پر سنگین چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔
جامعہ کے ذمہ داران نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ نئے اور قدیم طلبہ، خصوصاً وہ طلبہ جو دور دراز علاقوں سے اپنے سرپرستوں کے ہمراہ جامعہ کا رخ کرتے ہیں، اس نئے تعلیمی مرحلہ کے لیے نہایت شوق اور تیاری کے ساتھ منتظر تھے۔ ادارہ نے طلبہ اور ان کے اہلِ خانہ کے جذبات اور ان کی عملی مشکلات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لیا۔
جامعہ رحمانی کے ناظم الحاج مولانا محمد عارف رحمانی نے اپنے پریس بیانیہ میں کہا کہ جامعہ رحمانی کی انتظامیہ نے ایل پی جی گیس کی فراہمی کے لیے متعلقہ سرکاری اداروں اور مقامی انتظامیہ سے مسلسل رابطہ قائم رکھا۔ اگرچہ انتظامیہ کی جانب سے مکمل تعاون اور سنجیدگی کا دعویٰ کیا گیا، تاہم گیس کی مجموعی قلت کے باعث فراہمی ممکن نہ ہو سکی، جس کے نتیجہ میں طلبہ اور سرپرستوں کی بڑی تعداد کے قیام و طعام کا معیاری انتظام کرنا فی الحال دشوار ہو گیا ہے۔
جامعہ رحمانی نے ہمیشہ اپنے طلبہ اور ان کے سرپرستوں کی عزت و احترام اور ان کے سہولت و آرام کو اولین ترجیح دی ہے، اور اسی اصول کے تحت جلد بازی سے گریز کرتے ہوئے ایک متبادل اور دیرپا حل اختیار کیا گیا ہے۔ ادارہ میں لکڑی اور کوئلے کے ذریعے کھانا تیار کرنے کے لیے ایک نئے مطبخ کی تعمیر کا کام فوری طور پر شروع کر دیا گیا ہے، جو تیزی سے جاری ہے اور توقع ہے کہ آئندہ ایک ہفتہ میں مکمل ہو جائے گا۔ اس اقدام کے بعد جامعہ بہتر اور باوقار انداز میں اپنے طلبہ کا استقبال کرنے کے قابل ہو سکے گا۔
اسی پس منظر میں جامعہ رحمانی خانقاہ، مونگیر کے افتتاح کی تاریخ کو 11 شوال المکرم 1447ھ ( 31 مارچ 2026ء) کے بجائے 20 شوال المکرم 1447ھ (9 اپریل 2026ء)، بروز جمعرات مقرر کیا گیا ہے۔ تمام قدیم و جدید طلبہ سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اسی تاریخ کی صبح جامعہ پہنچیں۔ داخلہ کی کارروائی اسی روز شام سے شروع ہو جائے گی، جبکہ باقاعدہ تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز 25 شوال المکرم 1447ھ (تقریباً 14 اپریل 2026ء)، روز بدھ سے ہوگا۔
جامعہ کے انتظامیہ نے طلبہ اور سرپرستوں سے اپیل کی ہے کہ وہ نئی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اپنے سفر اور قیام کا منصوبہ اسی کے مطابق ترتیب دیں، تاکہ کسی بھی قسم کی پریشانی سے بچا جا سکے۔ بیان کے اختتام پر ادارہ نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ موجودہ حالات میں آسانی فرمائے، علم و عمل میں برکت عطا کرے، اور ادارہ کو مزید ترقی و استحکام نصیب فرمائے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Bihar

انصاف کے لئے لڑنا آرجے ڈی کامقصد،آمریت کے ذریعے ملک کو پیچھے دھکیل رہی ہےبی جے پی ، راشٹریہ جنتا دل کے یومِ تاسیس پرسربراہ لالوپرساد یادو کاکارکنان اور عوام کو پیغام

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) آج اپنا 30واں یوم تاسیس منا رہا ہے۔ اس موقع پر پارٹی کے بانی لالو پرساد یادو نے بہار کے عوام اور پارٹی کارکنان کے نام پیغام جاری کرتے ہوئے 3 دہائیوں کے تنظیمی سفر کو جدوجہد، قربانی اور سماجی انصاف کی سیاست کی مثال قرار دیا۔ انہوں نے یوم تاسیس پر تمام تمام لیڈران، کارکنان اور حامیوں کو مبارکباد اور نیک خواہشات پیش کیں۔
لالو پرساد یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شیئر کیے گئے اپنے طویل پیغام میں کہا کہ ’’5 جولائی 1997 کو آر جے ڈی کا قیام غریبوں، مظلوموں، پسماندہ طبقات، دلتوں اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور سماجی انصاف کے نظریے کو مضبوط کرنے کے مقصد سے عمل میں آیا تھا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ گزشتہ 30 سالوں میں پارٹی نے کئی سیاسی چیلنجز کا سامنا کیا، لیکن اپنے بنیادی اصولوں اور عوامی مفاد کے مسائل پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔
سابق وزیر اعلیٰ بہار لالو پرساد یادو ’ایکس‘ پر لکھتے ہیں کہ ’’پارٹی سماجی انصاف، مساوات، روزگار اور ہمہ جہت ترقی کی سیاست کے لیے پرعزم ہے۔ ملک میں جمہوری اداروں اور آئینی نظام کو مضبوط بنائے رکھنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔‘‘ اپنے پیغام میں لالو پرساد یادو نے بی جے پی کو بھی ہدف تنقید بنایا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ’’آئینی اداروں کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے اور جمہوری اقدار کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایسے وقت میں سماجی انصاف اور آئین کے تحفظ کے لیے تمام جمہوری قوتوں کو متحد ہو کر آواز اٹھانی چاہیے۔‘‘لالو پرساد یادو اپنی پوسٹ میں یہ بھی لکھتے ہیں کہ ’’آر جے ڈی صرف انتخاب لڑنے والی سیاسی پارٹی نہیں ہے، بلکہ عوام کے حقوق، اختیارات اور وقار کی لڑائی لڑنے والی ایک عوامی تحریک ہے۔ یہی نظریہ پارٹی کی سب سے بڑی طاقت رہا ہے اور آگے بھی اسی سمت میں تنظیم کام کرتی رہے گی۔‘‘
واضح رہے کہ یوم تاسیس کے موقع پر آج بہار کے تمام اضلاع میں آر جے ڈی کی جانب سے مختلف پروگرام منعقد کیے جا رہے ہیں۔ پارٹی دفاتر میں پرچم کشائی، کارکنان کے اجلاس، اعزازی تقریبات اور سماجی پروگراموں کے ذریعہ 30واں یوم تاسیس انتہائی جوش و خروش کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔

Continue Reading

Bihar

رام مندر میں چڑھاوے کی مبینہ چوری کے قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا ،چندہ چوری معاملے پر چراغ پاسوان کا دوٹوک مؤقف

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:لوک جن شکتی پارٹی کے قومی صدر چراغ پاسوان نے کہا کہ بھگوان شری رام کے نام پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ جس کسی نے بھی شری رام کے بھکتوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے، اسے سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے۔
اتوار کو لکھنؤ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چراغ پاسوان نے کہا کہ شری رام مندر میں چڑھاوے کی مبینہ چوری کے معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ایس آئی ٹی اپنا کام کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں کارروائی بھی کی جا چکی ہے۔ جو بھی قصوروار پایا جائے گا، اسے سزا ضرور ملے گی۔ عقیدت مندوں کے مذہبی جذبات سے کھلواڑ کرنے والے کسی بھی شخص کو ہرگز بخشا نہیں جانا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ بھرت تیواری معاملے میں بھی جو کوئی قصوروار ثابت ہو، اسے سخت ترین سزا دی جانی چاہیے۔
اس سے قبل چراغ پاسوان نے لکھنؤ کے اندرا گاندھی پرتشٹھان میں لوک جن شکتی پارٹی کے بانی اور سابق مرکزی وزیر، مرحوم رام ولاس پاسوان کی یومِ پیدائش کے موقع پر منعقدہ تقریب میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کیا۔چراغ پاسوان نے کانگریس اور سماجوادی پارٹی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابات کے دوران ان جماعتوں نے عوام میں یہ غلط فہمی پھیلائی کہ ریزرویشن اور آئین خطرے میں ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پارلیمنٹ میں ہاتھ میں آئین کی کاپی لے کر لوک سبھا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔چراغ پاسوان نے کہا، ’’میں آپ سب کو یقین دلاتا ہوں کہ جب تک چراغ پاسوان زندہ ہے، نہ ریزرویشن کو کوئی خطرہ ہے اور نہ ہی آئین کو۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ بار بار یہ تاثر دیتے ہیں کہ ریزرویشن اور آئین خطرے میں ہیں، انہیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کے مطابق ذات پات، مذہب اور فرقہ واریت سے بالاتر ہو کر پورے معاشرے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کام کرنا ہوگا۔
چراغ پاسوان نے کہا کہ بابا صاحب کو بھارت رتن سے سرفراز کرانے میں ہمارے رہنما رام ولاس پاسوان نے اہم کردار ادا کیا۔ انہی کی کوششوں سے پارلیمنٹ کے سینٹرل ہال میں بابا صاحب کی تصویر نصب کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر سب سے پہلے کسی نے ریزرویشن کا مطالبہ اٹھایا تو وہ رام ولاس پاسوان تھے۔ دلت سماج کی ترقی اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے بھی رام ولاس پاسوان نے نمایاں خدمات انجام دیں، جبکہ کانگریس نے کبھی اس طبقے کی حقیقی فکر نہیں کی۔چراغ پاسوان نے مزید کہا کہ کانگریس اور سماجوادی پارٹی نے ہمیشہ ذات پات اور مذہب کے نام پر لوگوں کو تقسیم کرکے سیاست کی ہے۔ ایسے عناصر کا احتساب ہونا چاہیے۔

Continue Reading

Bihar

بہار میں الگ نیتی آیوگ قائم کریں گے سمراٹ چودھری،ہر ضلع کے لیے تیارکیاجائے گا الگ الگ بجٹ ،ریاستی حکومت کو طویل مدتی ترقیاتی حکمت عملی اور پالیسی سازی میں رہنمائی فراہم کرے گاکمیشن

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:نیتی آیوگ کی طرز پر بہار میں بھی ایک الگ کمیشن قائم کیا جائے گا۔ اس کا اعلان وزیر اعلیٰ سمرت چودھری نے کیا ہے۔ اس کے تحت ریاست کی ترقی کے لیے ایک طویل مدتی وژن تیار کیا جائے گا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہر ضلع کے لیے الگ اور خود مختار بجٹ تیار کیا جائے گا، تاکہ مقامی ضروریات کے مطابق وسائل کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ معیاری ترقی کے ساتھ ساتھ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت اور مقررہ مدت میں تکمیل کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے کل پٹنہ میں واقع ایک اَنے مارگ کے لوک سیوک آواس (وزیر اعلیٰ کی سرکاری رہائش گاہ) کے سنکلپ سبھاگار میں منصوبہ بندی و ترقی محکمہ کی جائزہ میٹنگ کی صدارت کی۔ اس دوران انہوں نے محکمہ کی مختلف ترقیاتی اسکیموں کی پیش رفت کا جائزہ لیا اور منصوبوں کے مؤثر نفاذ، نگرانی اور آئندہ کی حکمت عملی کے حوالے سے ضروری ہدایات جاری کیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاست کی ہمہ جہت اور طویل مدتی ترقی کے لیے مرکزی حکومت کے نیتی آیوگ کی طرز پر بہار میں بھی ایک الگ کمیشن قائم کیا جائے گا۔ یہ کمیشن ریاست کی دیرپا ترقی کے لیے وژن دستاویز تیار کرے گا، مختلف شعبوں میں شواہد کی بنیاد پر پالیسی سازی کرے گا، ترقیاتی منصوبوں کے مؤثر نفاذ کی نگرانی کرے گا، مختلف محکموں کے درمیان بہتر تال میل قائم کرے گا اور وقتاً فوقتاً حکومت کو پالیسی سے متعلق تجاویز بھی پیش کرے گا۔
وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے کہا کہ بہار میں عوامی نمائندوں کی ترقیاتی اسکیموں کے مؤثر نفاذ اور ان میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے ارکانِ اسمبلی (ایم ایل ایز) اور قانون ساز کونسل کے ارکان (ایم ایل سیز) کے لیے ایک مخصوص آن لائن پورٹل تیار کیا جائے گا، جس کے ذریعے منصوبوں کی نگرانی اور عمل درآمد کو مزید مؤثر اور شفاف بنایا جا سکے گا۔
وزیر اعلیٰ نے افسران کو ہدایت دی کہ بہار کی مختلف ترقیاتی اسکیموں پر عمل درآمد کے دوران معیار، شفافیت اور بروقت تکمیل کو اولین ترجیح دی جائے۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ حکومت کی تمام فلاحی اور ترقیاتی اسکیموں کے فوائد معاشرے کے آخری فرد تک پہنچیں، جس کے لیے مسلسل نگرانی اور تمام متعلقہ محکموں کے باہمی تعاون سے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے ریاست کے تمام اضلاع کی ہمہ جہت اور متوازن ترقی کو یقینی بنانے کے لیے ہدایت دی ہے کہ ہر ضلع کی مقامی ضروریات، دستیاب وسائل اور ترقی کے امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے جامع منصوبۂ عمل تیار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ضلع کے لیے الگ بجٹ منصوبہ تیار کیا جائے گا، تاکہ مقامی ضروریات اور ترقیاتی ترجیحات کے مطابق وسائل کا مؤثر اور بہتر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔
واضح رہے کہ ملک میں پہلے سے نیتی آیوگ قائم ہے، جو سماجی اور معاشی امور پر حکومت کو طویل مدتی حکمتِ عملی اور پالیسی سازی کے لیے تجاویز فراہم کرتا ہے۔ یہ ادارہ دراصل مرکزی حکومت کے تھنک ٹینک کے طور پر کام کرتا ہے۔ نیتی آیوگ کا سابقہ نام منصوبہ بندی کمیشن (پلاننگ کمیشن) تھا۔ اب اسی طرز پر بہار میں بھی ایک الگ کمیشن قائم کیا جائے گا، جو ریاستی حکومت کو طویل مدتی ترقیاتی حکمتِ عملی اور پالیسی سازی میں رہنمائی فراہم کرے گا۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network