تازہ ترین
مظفرپور میں مفت طبی کیمپ کا انعقاد،ماہر ڈاکٹروں نے دی صحت سے متعلق رہنمائی،سیوا ٹرسٹ کی پہل، بچوں اور خواتین سمیت مختلف امراض کے مریضوں کو ملی طبی سہولت، مفت ادویات بھی تقسیمسپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں کیا جائیگا اردو ٹی ای ٹی امیدواروں کا مقدمہ دائرارریہ: سدبھاونا منچ کے اراکین نے مختلف درگا پوجا پنڈالوں کاکیا دورہ، باہمی محبت اور بھائی چارے کا دیا پیغام،وسرجن میں شامل ہونے والے افراد کا استقبال اور کیا جائے گا اعزازسرسید احمد خاں نے قوم کو تعلیم کی اہمیت سے کرایاروشناس ،اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے زیرِ اہتمام یومِ سرسید کی پر تقریب کا انعقادوائس چانسلر نعیمہ خاتون کے ہاتھوں دس کتابوں کا اجرا ،یوم سر سید پر سر سید اکیڈمی کی جانب سےتقریب رسم اجرا کا انعقاددھام پور میں جشنِ سرسید تقریب کا انعقاد، عصری علوم کے حصول پرزور،سرسید احمد خاں کی خدمات کوپروقار اور شاندار انداز میںپیش کیاگیا خراجِ عقیدت5 افراد کی موت کے معاملے میں بہن، بہنوئی سمیت تین گرفتاردہلی حکومت جمنا کو صاف کرنے کے لیےکر رہی ہے کام : سی ایم ریکھا
دلی این سی آر

اسکول کی فیسوں میں اضافے پرکیجریوال کا ریکھا حکومت پر حملہ

کیجریوال کا ریکھا حکومت پر حملہ

(پی این این)
نئی دہلی-دہلی پبلک اسکول، (Delhi Public School) دوارکا نے بڑھی ہوئی فیس ادا نہ کرنے پر 30 طلبہ کو نکال دیا۔ رپورٹ کے مطابق والدین کا کہنا تھا کہ ان کے بچوں کو اسکول کے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ یہاں تک کہ والدین کو روکنے کے لیے گیٹ کے باہر باو ¿نسر بھی تعینات کیے گئے تھے۔
اب اس معاملے پر دہلی کے سابق وزیر اعلی اروند کیجریوال(Arvind Kejrival) نے ریکھا حکومت پر حملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے اے پی حکومت کے دوران ایسا کبھی نہیں ہوا۔ کسی طالب علم کو نکالا نہیں جا سکتا۔دہلی کے دوارکا میں واقع دہلی پبلک اسکول نے 30 کے قریب اسکول کے طلباءکو سالانہ فیس ادا کرنے میں ناکامی کی وجہ سے نکال دیا۔ریکھا حکومت بچوں کے والدین کو پریشان کر رہی ہے۔

اس کے بعد والدین ناراض ہو گئے۔ والدین کا کہنا تھا کہ ان کے بچوں کو اسکول کے احاطے میں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔ والدین کے مطابق، وہ ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن (DOE) کی طرف سے منظور شدہ 93,400 روپے کی سالانہ فیس کی بنیاد پر ماہانہ اقساط ادا کر رہے تھے۔ اسکول نے ہم سے 1,95,000 روپے فیس مانگی تھی۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب دہلی حکومت نے حال ہی میں پرائیویٹ اسکولوں میں من مانی فیسوں میں اضافے کو روکنے کے لیے ایک مسودہ بل کی منظوری دی تھی۔ یہ بل فی الحال لاگو نہیں ہوا ہے۔

اس میں اسکول، ضلع اور ریاستی سطح پر فیس ریگولیٹری کمیٹیاں قائم کرنے کی تجویز ہے۔ اس میں طلباﺅ الگ کرنے یا داخلے سے انکار کرنے جیسی زبردستی کارروائیوں پر ?50,000 کے جرمانے کا بھی بندوبست کیا گیا ہے۔دہلی کے سابق وزیر اعلی اروند کیجریوال ڈی پی ایس کے اس رویے سے کافی ناراض نظر آئے۔ اپنے ایکس ہینڈل سے پوسٹ کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے دور میں ایسا کبھی نہیں ہونے دیا گیا۔
کوئی سکول طلبہ کو نکال نہیں سکتا۔ آپ کی حکومت ہمیشہ طلبائ اور والدین کے تحفظ کے لیے کھڑی رہی ہے۔”کسی طرح، ہم منگل کو اپنے بیٹے کو اسکول میں داخل کروانے میں کامیاب ہو گئے۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔