Connect with us

بہار

اسمبلی انتخابات کے لیے ای وی ایم کی دوسری رینڈمائزیشن مکمل

Published

on

(پی این این)
چھپرہ:اسمبلی انتخابات کے لئے ضلع کلکٹریٹ آڈیٹوریم میں ای وی ایم مشینوں کی دوسری رینڈمائزیشن کا عمل کامیابی کے ساتھ مکمل کیا گیا۔اس موقع پر 113 ایکما اسمبلی کےآبزرور گندھم چندرودو،114 مانجھی کے آبزرور منجو گوئل،115 بنیاپور کےآبزرور سوپنل تیمبے،116 ترئیاں کے آبزرور وی کرونا،117 مڑھوڑہ کےآبزرور سجو وحید،118 چھپرہ کےآبزرور شرت بی،119 گرکھا کےآبزرور امر کشواہا،120 امنور کےآبزرور ارون کمار،121 پرسا کےآبزرور اے کاؤسگن اور 122 سونپور کےآبزرور بٹلنگ ایس سوہلیہ کے ساتھ میونسپل کمشنر سنیل کمار پانڈے،ڈپٹی الیکشن آفیسر جاوید اقبال،ڈی ایم ڈبلیو او روی پرکاش،ڈی آئی او تارنِی کمار،سب الیکشن آفیسر اخلاق انصاری کے علاوہ بی جے پی کے ضلع جنرل سکریٹری ستیانند سنگھ،آر جے ڈی کے مکیش کمار سونو،سی پی آئی ایم کے ضلع رکن سنتوش کمار پانڈے،تمام اسمبلی حلقوں کے امیدوار یا ان کے نمائندے شریک تھے۔
ڈی آئی او مسٹر کمار نے بتایا کہ رینڈمائزیشن ایک خودکار عمل ہے جس سے ای وی ایم مشینوں کی تقسیم میں مکمل شفافیت برقرار رکھی جاتی ہے۔پہلے مرحلے میں مشینوں کو اسمبلی وار تقسیم کیا گیا تھاجبکہ دوسرے مرحلے میں انہیں بوتھ وار الاٹ کیا گیا۔اس پورے عمل میں کوئی انسانی یا دستی مداخلت نہیں ہوتی۔لہٰذا کسی کو پیشگی علم نہیں ہوتا کہ کون سی مشین کس بوتھ کے لیے مختص ہوگی۔انہوں نے مزید بتایا کہ پہلی رینڈمائزیشن کے بعد مشینوں کو اسمبلی وار الگ کر کے الیکشن کمیشن کے پورٹل پر اسکین کیا گیا اور متعلقہ ڈسپیچ مراکز کو بھیج دیا گیا۔اب بوتھ وار تفریق کے بعد ان مشینوں کی کمیشننگ کی جائے گی۔ساتھ ہی پولنگ ڈے کے لیے ریزرو مشینیں بھی تیار کی جا رہی ہیں۔ہر اسمبلی حلقے کو اس کے کل پولنگ بوتھوں کے علاوہ 20 فیصد اضافی بیلٹ یونٹ اورکنٹرول یونٹ اور 30 فیصد اضافی وی وی پیٹ ریزرو کے طور پر فراہم کی گئیں۔ایکما کے 356 بوتھوں کو 356 بیلٹ یونٹ، کنٹرول یونٹ اور وی وی پی اے ٹی کے ساتھ 71 ریزرو بیلٹ یونٹ اور کنٹرول یونٹ اور 107 وی وی پی اے ٹی مختص کیے گئے تھے۔ مانجھی کے 363 بوتھوں کو 363 بیلٹ یونٹ، کنٹرول یونٹ اور وی وی پی اے ٹی کے ساتھ ساتھ 79 ریزرو بیلٹ یونٹ اور کنٹرول یونٹ اور 115 وی وی پی ایم مختص کیے گئے تھے۔
بنیا پور کے 377 بوتھوں کو 377 بیلٹ یونٹ، کنٹرول یونٹ اور وی وی پی اے ٹی کے ساتھ ساتھ 75 ریزرو بیلٹ یونٹ، کنٹرول یونٹ اور 113 وی وی پی اے ٹی مختص کیے گئے تھے۔ تریاں کے 354 بوتھوں کو 354 بیلٹ یونٹ، کنٹرول یونٹ، اور وی وی پی اے ٹی کے ساتھ ساتھ 70 ریزرو بیلٹ یونٹ، کنٹرول یونٹ، اور 106 وی وی پی اے ٹی مختص کیے گئے تھے۔ مڑہورہ کے 333 بوتھوں کے لیے 333 بیلٹ یونٹ، کنٹرول یونٹ اور وی وی پی اے ٹی کے ساتھ 66 ریزرو بیلٹ یونٹ، کنٹرول یونٹ اور 99 ریزرو وی وی پی اے ٹی کو الاٹ کیا گیا تھا۔چھپرہ کے 373 بوتھوں کے لیے 337 بیلٹ یونٹ، کنٹرول یونٹ اور وی وی پی اے ٹی کے ساتھ 74 ریزرو بیلٹ یونٹ، کنٹرول یونٹ اور 111 وی وی پی اے ٹی الاٹ کیے گئے تھے۔ گرکھا کے 360 بوتھوں کے لیے 360 بیلٹ یونٹ، کنٹرول یونٹ اور وی وی پی اے ٹی کے ساتھ 72 بیلٹ یونٹ، کنٹرول یونٹ اور 108 ریزرو وی وی پی اے ٹی الاٹ کیے گئے تھے۔
امنور کے 330 بوتھوں کے لیے 330 بیلٹ یونٹ، کنٹرول یونٹ اور وی وی پی اے ٹی کے ساتھ 66 بیلٹ یونٹ، کنٹرول یونٹ اور99 ریزرو وی وی پی اے ٹی کو الاٹ کیا گیا تھا۔ پرسا کے 327 بوتھوں کے لیے 327 بیلٹ یونٹ، کنٹرول یونٹ اور وی وی پی اے ٹی کے ساتھ 65 بیلٹ یونٹ، کنٹرول یونٹ اور 98 ریزرو وی وی پی اے ٹی کو الاٹ کیا گیا تھا۔ سونپور کے 337 بوتھس کے لیے مختص 337 بیلٹ یونٹ، کنٹرول یونٹ اور وی وی پی اے ٹی کے علاوہ، 67 بیلٹ یونٹ، کنٹرول یونٹ اور 101 ریزرو وی وی پی اے ٹی مختص کیے گئے ہیں۔رینڈمائزیشن کے بعد تیار کی گئی مشینوں کی فہرست کے ہر صفحے پرآبزرو،ریٹرننگ آفیسر،ای وی ایم نوڈل آفیسر اور تمام امیدواروں یا ان کے نمائندوں نے دستخط کیے۔آبزروروں نے بتایا کہ دستخط شدہ فہرست کی فوٹو کاپی تمام امیدواروں کو فراہم کی جائے گی اور اسے ضلع انتظامیہ کے ساتھ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر بھی اپ لوڈ کیا جائے گا تاکہ ہر کوئی اس کا مشاہدہ کر سکے۔

Bihar

ایس سی پی کوچنگ سینٹرکے وائرل ویڈیو معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ

Published

on

(پی این این)
ارریہ:فاربس گنج واقع ایس سی پی کوچنگ سینٹر میں یومِ اساتذہ کے موقع پر منعقدہ ایک پروگرام کی مبینہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد معاملہ زیرِ بحث ہے۔ وائرل ویڈیو کے حوالے سے بعض حلقوں کی جانب سے اعتراضات کا اظہار کرتے ہوئے پورے معاملے کی غیر جانب دارانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
مبینہ طور پر 5 ستمبر کو یومِ اساتذہ کے موقع پر منعقدہ پروگرام کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آئی، جس میں طالبات کو برقع میں ایک گانے پر رقص کرتے ہوئے دکھائے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ ویڈیو کی حقیقت، پروگرام کے اصل حالات اور اس میں شامل افراد کے کردار کے بارے میں مختلف طرح کی باتیں سامنے آنے کے بعد مقامی نوجوانوں اور شہریوں نے معاملے کی باقاعدہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
اسی سلسلے میں جوکی ہاٹ کے نوجوانوں اور مقامی شہریوں کی جانب سے متعلقہ افسران کو درخواست پیش کی گئی۔ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) کے لیٹر ہیڈ پر جوکی ہاٹ تھانہ صدر اور بلاک ایجوکیشن آفیسر کو درخواست دی گئی، جبکہ ضلع ایجوکیشن آفیسر اور ضلع مجسٹریٹ، ارریہ کو بھی درخواست پیش کرکے معاملے کی مکمل جانچ کا مطالبہ کیا گیا۔
درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو اور اس سے متعلق تمام حقائق کی غیر جانب دارانہ طور پر جانچ کی جائے۔ ساتھ ہی پروگرام کے انعقاد، ویڈیو کے اصل پس منظر اور ذمہ دار افراد کے کردار کی بھی تحقیقات کی جائے۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات کے دوران کسی قانون یا ضابطے کی خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
اس موقع پر SDPI کے ضلعی صدر محمد مدثر، سکریٹری جمشید عالم، راجد کے نوجوان رہنما تحسین فائز اور محمد صائم، سیمانچل یوا سنگٹھن کے محمود قمر، صادق انور اور راغب راہی، نیز تحفظِ شریعت و ویلفیئر سوسائٹی کے سکریٹری عبدالوارث سمیت مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں سے وابستہ افراد موجود تھے۔
نوجوانوں نے کہا کہ ان کا مقصد کسی فرد یا ادارے کو تحقیقات سے قبل قصوروار قرار دینا نہیں ہے، بلکہ وائرل ویڈیو کی حقیقت اور پورے معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کے ذریعے اصل حقائق کو سامنے لانا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی جانب سے قانون کی خلاف ورزی یا کسی مذہب اور اس کے ماننے والوں کے جذبات کو مجروح کرنے کی بات تحقیقات میں ثابت ہوتی ہے تو قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے، تاکہ مستقبل میں ایسے معاملات کی روک تھام ہوسکے۔

Continue Reading

Bihar

سیلاب متاثرین کی امداد میں شریک اساتذہ و طلبہ کے اعزاز میں امیرشریعت کا خصوصی عشائیہ

Published

on

(پی این این)
مونگیر:امیرِ شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم، سرپرست جامعہ رحمانی و سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر نے آسام اور اڈیشہ کے حالیہ سیلاب کے دوران راحت رسانی اور بازآبادکاری کے کاموں میں شریک جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے اساتذہ و طلبہ کو، امدادی ٹیم کی واپسی پر ان کے اعزاز میں خصوصی عشائیے پر مدعو کیا۔
یہ عشائیہ محض ایک رسمی ضیافت نہیں تھا بلکہ ان اساتذہ و طلبہ کی خدمت، وقت، محنت اور جذبۂ انسانیت کو تسلیم کرنے اور نئی نسل میں خدمتِ خلق کے جذبے کو مزید مضبوط بنانے کا ایک بامعنی موقع تھا، جس میں حضرت امیرِ شریعت نے ان کی عملی شرکت اور قربانی کو سراہا۔
اسلام نے انسانی خدمت کو محض ایک سماجی ذمہ داری کے بجائے دینی قدر کی حیثیت دی ہے، اور جو لوگ مصیبت کی گھڑی میں دوسروں کے کام آتے ہیں، ان کی قدردانی اور حوصلہ افزائی بھی اسی دینی مزاج کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: “لَا يَشْکُرُ اللَہَ مَنْ لَا يَشْکُرُ النَّاسَ” یعنی جو شخص لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا، وہ اللہ کا بھی شکر گزار نہیں ہوتا۔ حضرت امیرِ شریعت کی جانب سے دیا گیا یہ عشائیہ اسی جذبۂ تشکر و قدردانی کا عملی اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ حضرت امیرِ شریعت کی خصوصی ہدایت اور سرپرستی میں امارتِ شرعیہ نے آسام اور اڈیشہ کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی ٹیمیں روانہ کی تھیں۔ آسام میں راحت رسانی اور بازآبادکاری کے کام کی قیادت امارتِ شرعیہ کے معاون ناظم مولانا احمد حسین قاسمی مدنی نے کی، جبکہ اڈیشہ کی ٹیم کی قیادت مفتی عبد اللہ انس قاسمی کے سپرد رہی۔ ان دونوں ٹیموں میں امارتِ شرعیہ کے علماء و کارکنان کے ساتھ جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے اساتذہ اور منتخب طلبہ نے بھی عملی طور پر شرکت کی۔
حضرت امیرِ شریعت کی جانب سے جامعہ رحمانی کے اساتذہ و طلبہ کو اس مہم میں شامل کرنے کے پیچھے ایک اہم تعلیمی و تربیتی مقصد بھی کارفرما تھا۔ جامعہ رحمانی میں تعلیم محض کتابوں اور کلاس روم تک محدود نہیں بلکہ طلبہ میں سماجی ذمہ داری، ہمدردی، قیادت اور معاشرتی مسائل سے عملی وابستگی پیدا کرنا بھی تربیتی عمل کا حصہ ہے۔ متاثرہ خاندانوں کے درمیان خود پہنچ کر ان کے حالات دیکھنا اور اپنی بساط کے مطابق ان کے کام آنا، طلبہ کے لیے ان اقدار کو عملی تجربے میں ڈھالنے کا مؤثر ذریعہ ثابت ہوا۔
واضح رہے کہ آسام اور اڈیشہ کے سیلاب زدہ علاقوں میں امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ کی امدادی ٹیموں نے کئی روز تک منظم راحت رسانی اور بازآبادکاری کا کام انجام دیا۔ آسام کے ضلع شیو ساگر میں متاثرہ خاندانوں کی گھر گھر نشاندہی کے بعد انہیں لوہے کے پلنگ، بستر کے سیٹ، کچن کا سامان اور مکانات کی تعمیرِ نو کے لیے ٹین شیٹ و بانس فراہم کیا گیا؛ “اب تک 600 خاندان اس امدادی مہم سے مستفید ہو چکے ہیں، جن کی بحالی اور مکمل بازآبادکاری کے لیے ضروری اقدامات کیے گئے ہیں۔”
اڈیشہ میں بھی امدادی ٹیم نے مفتی عبداللہ انس قاسمی کی قیادت میں متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے راحت رسانی کا کام انجام دیا۔امارتِ شرعیہ کی مجلسِ شوریٰ نے 3 ستمبر کو امیرِ شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کی زیرِ صدارت منعقدہ اجلاس میں آسام و اڈیشہ کے اس ریلیف ورک کو ایک تاریخ ساز اور مثالی خدمت قرار دیا۔

Continue Reading

Bihar

دربھنگہ میں جنم اشٹمی کے آرکیسٹرا پروگرام میں چاقوبازی، ایک نوجوان ہلاک

Published

on

(پی این این)
دربھنگہ:سمری تھانہ علاقہ کے بھراٹھی پنچایت کے کنور پٹی گاؤں کے وارڈ نمبر 12 میں ہفتہ کی دیر رات جنم اشٹمی کے موقع پر منعقد آرکیسٹرا پروگرام کے دوران ہوئی چاقوبازی میں ایک نوجوان کی موت ہوگئی، جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوگیا۔ واقعہ کے بعد پولیس نے تیزی سے کارروائی کرتے ہوئے 24 گھنٹے کے اندر ایف آئی آر میں نامزد 8 ملزمین کو گرفتار کرلیا۔ گرفتار تمام ملزمان کو عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا ہے، جبکہ مزید 6 نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس مسلسل چھاپہ ماری کر رہی ہے۔
پیر کو سمری تھانہ احاطہ میں منعقد پریس کانفرنس میں صدر ایس ڈی پی او-2 کمتول ایس کے سمن نے واقعہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق آرکیسٹرا پروگرام کے دوران پوجا کمیٹی کے ارکان اور ملزم فریق کے درمیان کسی بات کو لے کر تنازع ہوگیا تھا۔ تنازع کو پُرسکون کرانے کے لیے راما شیش رام کا 19 سالہ بیٹا کملیش رام آگے آیا، اسی دوران ملزمان نے اس پر چاقو سے حملہ کردیا۔ کملیش کو بچانے پہنچے رام کشور رام کے 18 سالہ بیٹے سمن کمار پر بھی چاقو سے وار کیا گیا۔دونوں نوجوانوں کو شدید زخمی حالت میں علاج کے لیے دربھنگہ میڈیکل کالج و اسپتال (ڈی ایم سی ایچ) لے جایا گیا، جہاں دورانِ علاج کملیش رام کی موت ہوگئی۔ سمن کمار کا علاج جاری ہے۔
واقعہ کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس جگوناتھ ریڈی جلا ریڈی کی ہدایت پر خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی اور مختلف مقامات پر چھاپہ ماری کی گئی۔ پولیس نے کارروائی کے دوران واردات میں استعمال کیے گئے 2 چاقو برآمد کیے، جن میں ایک خون آلود چاقو بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ ملزمان کے 3 موبائل فون بھی ضبط کیے گئے ہیں۔پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان میں کنسی کے بلٹن سہنی کا بیٹا مراری کمار، ابھے ٹھاکر کا بیٹا وریندر ٹھاکر، ارون سہنی کا بیٹا راکیش کمار، جے نارائن سہنی کے بیٹے چنچل کمار اور چندن کمار، شمبھو سہنی کا بیٹا گنور سہنی، رام ساگر داس کا بیٹا امرجیت کمار اور سمری کے سنتوش پاسوان کا بیٹا روہت کمار شامل ہیں۔ متوفی کملیش رام کے والد راما شیش رام کی تحریری درخواست پر سمری تھانہ میں مقدمہ نمبر 186/26 درج کیا گیا ہے، جس میں 14 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں ابھیشیک سہنی، کرن مہتو، ریتیش کمار، کرش کمار، پنکج سہنی اور روشن سہنی کو بھی ملزم بنایا گیا ہے۔ پولیس ان چھ ملزمان کی گرفتاری کے لیے ان کے ممکنہ ٹھکانوں پر مسلسل چھاپہ ماری کر رہی ہے۔
ایس ڈی پی او ایس کے سمن نے بتایا کہ گرفتار ملزمان کے مجرمانہ ریکارڈ کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی تفتیش میں پروگرام کے دوران پوجا کمیٹی کے ارکان اور ملزم فریق کے درمیان تنازع کی بات سامنے آئی ہے۔ پروگرام کے انعقاد کے سلسلے میں پوجا کمیٹی کی جانب سے پولیس کو کسی قسم کی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ تفتیش کے دوران اگر پوجا کمیٹی کا کردار سامنے آتا ہے تو اس کے خلاف بھی ضابطے کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
پولیس واقعہ سے متعلق دیگر پہلوؤں کی بھی باریک بینی سے تفتیش کر رہی ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران سمری تھانہ صدر اروند کمار اور ایڈیشنل تھانہ صدر ششی شنکر کمار بھی موجود تھے۔
فوٹو کیپشن: چاقو زنی کے واقعہ میں گرفتار ملزمین سے متعلق پریس بریف کرتے ایس ڈی پی او 2 ایس کے سمن ،تھانہ انچارج اروند کمار،

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network