Connect with us

Bihar

ارریہ میں ضلع مجسٹریٹ کی صدارت میں ٹی بی سے نجات مہم کاانعقاد،ٹی بی کے مریضوں کے لئے ڈی بی ٹی فنڈز کی بروقت دستیابی کو بنائیںیقینی : ونود دوہن

Published

on

(پی این این)
ارریہ: حکومت ہند اور حکومت بہار کی طرف سے چلائی جانے والی ٹی بی فری انڈیا مہم کے تحت جاری ایکٹیو کیس فائنڈنگ مہم کا ایک جائزہ اجلاس پیر کو کلکٹریٹ کے پرمان آڈیٹوریم میں ضلع مجسٹریٹ مسٹر ونود دوہان کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ضلع میں ٹی بی کے خاتمے سے متعلق مختلف پروگراموں کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
جائزہ کے دوران، مہم کے تمام اہم پہلوؤں بشمول ٹی بی اسکریننگ، ایکسرے ٹیسٹنگ، این اے اے ٹی ٹیسٹنگ، مختلف ٹی بی کی دیکھ بھال، ٹی پی ٹی، نکشے مترا یوجنا، اور ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر (ڈی بی ٹی) پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ ضلع مجسٹریٹ نے انچارج تمام متعلقہ میڈیکل افسران سے بلاک وار پیش رفت کی معلومات حاصل کیں اور ضروری ہدایات جاری کیں۔
ضلع مجسٹریٹ نے انچارج تمام میڈیکل افسران کو ہدایت دی کہ وہ ٹی بی فری انڈیا مہم کے تحت طے شدہ اہداف کے مطابق کام میں تیزی لائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ اسکریننگ، جانچ اور علاج کے عمل میں کوئی کوتاہی نہ برتی جائے۔
انہوں نے کہا کہ صحت کے تمام عہدیداروں کی بنیادی ذمہ داری ممکنہ مریضوں کی بروقت شناخت، معیاری جانچ، باقاعدہ علاج اور مریضوں کو سرکاری سہولیات سے دستیاب فوائد کو یقینی بنانا ہے۔اجلاس میں نشچے متروں کی فعال شرکت بڑھانے، ٹی بی کے مریضوں کو وقت پر ڈی بی ٹی( ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر ) کی رقم فراہم کرنے اور زیر علاج مریضوں کی باقاعدہ نگرانی کو یقینی بنانے پر بھی خصوصی زور دیا گیا۔
ڈسٹرکٹ آفیسر نے کہا کہ تمام متعلقہ محکمے ایک دوسرے کے ساتھ تال میل سے کام کریں، تاکہ ضلع میں ٹی بی کے خاتمہ کا ہدف بروقت حاصل کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ بارش کے موسم کو مدنظر رکھتے ہوئے چکن گونیا اور ڈینگی کا بھی اجلاس میں جائزہ لیا گیا۔ میٹنگ میں سول سرجن ارریہ، غیر متعدی امراض افسر ارریہ، ڈسٹرکٹ پروگرام منیجر ارریہ اور تمام انچارج میڈیکل افسران موجود تھے۔

Bihar

جھارکھنڈمیں امارت شرعیہ کی11ٹیمیں ایس آئی آر سے متعلق عوامی بیداری میں مصروف،امیر شریعت ، ناظم امارت شرعیہ اور شعبۂ تنظیم کے ذریعہ مسلسل رہنمائی جاری

Published

on

(پی این این)
پھلواری شریف:صوبۂ جھارکھنڈ میں ایس آئی آر کا عمل جاری ہے ۲۹؍ جولائی ۲۰۲۶ء فارم جمع کرنے کی آخری تاریخ طے ہے ،گاؤں ،دیہات اور پسماندہ علاقہ کے لوگوں کے لیےمتعلقہ کاغذات کی فراہمی اور فارم کی صحیح صحیح خانہ پُری میں دشواریوں کا پیش آنا فطری بات ہے ،خاص طور پر پرانے ووٹر لسٹ سے ناموں کا انتخاب، آدھار اور ووٹر لسٹ سے اس کی ہم آہنگی اور فارم جمع کرنے کے بعد اس کی وصولیابی کی رسید کا حصول عام لوگوں کے لیے یقیناآسان نہیں ہے ،جب کہ یہ عمل دستوری اعتبار سے غیر معمولی اہم اور شہریت و شناخت کے لئے بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔
ایسی صورت حال میں امارت شرعیہ بہار،اڈیشہ ،جھارکھنڈ و مغربی بنگال جس نے ہمیشہ پریشانی اور مشکلات کی گھڑی میں رضاکارانہ طور پر بلا تفریق مذہب و ملت عوام و خواص اور ضرورت مندوں کی رہنمائی کی ذمہ داری ادا کی ہے اور اس سے قبل صوبۂ جھارکھنڈ میں پیرنٹس میپنگ کے موقع پر پورے جھارکھنڈ کے اندر بیداری پیدا کرنے اور لوگوں کی رہنمائی کرنے کی ذمہ داری نبھائی ہے ،اس کے لئے ضروری تھا کہ وہ اس موقع پر بھی عوام وخواص کی ہرممکن رضاکارانہ رہنمائی کرے تاکہ کوئی مستحق شہری فارم بھرنے اور وقت پر جمع کرنے سے محروم نہ ہو جائے یا غلط فارم بھرنے کی وجہ سے آنے والے دن میں پریشانی کا شکار نہ ہو؛چنانچہ امیر شریعت بہار،اڈیشہ وجھارکھنڈ مفکر ملت حضرت مولانا احمدو لی فیصل رحمانی مدظلہ کی ہدایت ،ناظم امارت شرعیہ مولانا مفتی محمد سعید الرحمٰن قاسمی ومولانا انظار عالم قاسمی صدر قاضی شریعت کے مشورہ اور تنظیم امارت شرعیہ کے انچارج مولانا مفتی محمد سہراب ندوی قاسمی نائب نائب ناظم امارت شرعیہ اوران کے رفقاء کے تعاون سے پورے جھارکھنڈ کےلئے ۲۴؍اضلاع کو ۱۱؍ٹیموں کے درمیان تقسیم کر کے ہر ٹیم کے لئے قائد اور معاونین طے کر نے کے بعد تین دن قبل جھارکھنڈ کے متعلقہ اضلاع میںٹیمیں روانہ کی جاچکی ہیں اور یہ ٹیمیں اپنے مفوضہ کاموں میں سرگرم عمل بھی ہو چکی ہے ،ان ٹیموں کے ذریعہ اب تک جو رپورٹس موصول ہو رہی ہیں وہ نہایت ہی امید افزا ہیں ،ان ٹیموں کے ذریعہ پریشان حال لوگوں کی اچھی مدد ہو رہی ہے ،یہ ٹیمیں بلاک وار پروگرام کے اعتبار سے گاؤں تک پہونچ کر لوگوں سے حالات دریافت کرتی ہیں اور ادھورے کاموں کو مکمل کرنے کے لئے نوجوانوں کی ٹیم کو سرگرم اور بی ایل اوز سے رابطہ کرتی ہے ۔
بلاک کی سطح پر ایک’’ ہیلپ ڈیسک‘‘ کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے تاکہ جوکاغذی دشواریاں ہیں ان کا حل سمجھایا جاسکے ،پورے جھارکھنڈ کی سطح پر رانچی میں واقع امارت شرعیہ کے دارالقضاء کے دفتر میں ایک ’’ہیلپ سینٹر‘‘ بھی قائم کیا گیا ہے ،جہاں ایس آئی آر کے سلسلہ میں ضروری معلومات رکھنے والے کئی افراد متعین کیے گئے ہیں، تاکہ ان کے ذریعہ ضروری رہنمائی کا کام آن لائن انجام پاتا رہے ،خود حضرت امیر شریعت مدظلہ اور ناظم امارت شرعیہ ان ٹیموں کی کارکردگی کاروزانہ جائزہ لیتے ہیں اور یہ حضرات بھی تحریری رپورٹ کے ذریعہ اپنی کارکردگی سے مطلع کرتے ہیں ،اس وقت مولانا مفتی انور قاسمی قاضی شریعت رانچی ضلع رانچی و کھونٹی ۔ مولانا مفتی سہیل اختر قاسمی نائب قاضی شریعت مرکزی دارالقضاء پٹنہ ضلع گڈا و دمکا۔جناب مولانا احمد حسین قاسمی مدنی معاون ناظم امارت شرعیہ ضلع دیوگھر و جامتاڑا۔جناب مولانا قمر انیس قاسمی معاون ناظم امارت شرعیہ ضلع مشرقی و مغربی سنگھ بھوم اور ضلع کھرساواں۔جناب مولانا مفتی قیام الدین قاسمی ضلع صاحب گنج و پاکوڑ۔جناب ڈاکٹر حفظ الرحمٰن صاحب ضلع لوہردگا و گملا۔جناب مولانا اکرام الدین قاسمی ضلع لاتیہار،پلاموں و گڑھوا۔جناب مولانا محمد شاہد قاسمی قاضی شریعت دھنباد ضلع دھنباد و بوکارو۔جناب مولانا ضمیرالدین قاسمی ضلع گریڈیہہ و کوڈرما۔ جناب مولاناکلیم اللہ مظہر قاسمی ضلع رامگڈھ و ہزاری باغ اور جناب مولانا مختار قاسمی ضلع سمڈیگا کی ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں ۔بیداری اور تعاون کا یہ عمل ان شاءاللہ پہلے مرحلہ میں ۲۹ ؍جولائی تک جاری رہے گااور اس کے بعد ناموں کےجائزہ کے عمل میں بھی تعاون دیا جائے گااور اللہ نے چاہا تو فہرست کے شائع ہونے تک مکمل نگرانی رکھی جائے گی تاکہ حکومتی اصول وشرائط کے مطابق ہر مستحق شہری کا نام لسٹ میں شامل رہ سکے۔
اور وہ آئندہ دنوں میں دشواری و پریشانی میں مبتلا نہ ہوں ، یہ اطلاع دفتر نظامت امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ سے جناب مولانا محمد شارق رحمانی صاحب نے دی ۔

Continue Reading

Bihar

اردو تحقیق او ر تنقید کومزید معیاری بنانے کے لئے سائنٹفک طریقہ کار کو اپنا نا ضروری: پروفیسر آفتاب احمد آفاقی

Published

on

(پی این این)
دربھنگہ:ہندوستانی ادب کے مطالعے سے یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ دیگر زبانوں میں تحقیق وتنقید کے مقابل اردو تنقید وتحقیق تغیر زمانہ کے تقاضوں کو پورا کرتا رہاہے اور ہمارے اکابرین محققین وناقدین نے اپنی محنتِ شاقہ سے اردو تحقیق وتنقید کو نہ صرف بلند معیار بخشا ہے بلکہ مغربی تنقید کے مقابل کھڑا بھی کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر مشتاق احمد، پرنسپل سی ایم کالج، دربھنگہ نے کیا ۔
پروفیسر احمد نے کہا کہ عصرِ حاضر میں علم وادب کی دنیا میں بڑا انقلاب آیا ہے اور تحقیق وتنقید کے شعبے میں بھی بڑی تبدیلی ہو رہی ہے اس لئے ہمارے اساتذہ اور طلبا وطالبات کو سنجیدگی کے ساتھ بدلتی ادبی فضا سے استفادہ کرنے اور اپنے لئے ایک نئی راہ بنانے کی ضرورت ہے۔اب روایتی طریقہ کار کو چھوڑ کر نئی دریافتوں سے روشنی حاصل کرنی ہوگی اور موضوعاتی سطح پر بھی منفرد موضوع کا انتخاب کرنا ہوگا۔
پروفیسر احمد کالج میں اردو زبان وادب کے طلبا وطالبات کے لئے ’’اردو تحقیق وتنقید :سمت ورفتار‘‘ کے موضوع پر منعقد مذاکرہ سے خطاب کر رہے تھے ۔ پروفیسر احمد نے کہا کہ ہماری خوش بختی ہے کہ اس مذاکرہ میں اردو کے نامور محقق وناقد پروفیسر آفتاب احمد آفاقی ، صدر شعبہ اردو ، بنارس ہندو یونیورسٹی، بنارس تشریف لائے ہیں ۔اس موقع پر مہمانِ خاص پروفیسر آفتاب احمد آفاقی نے کہا کہ اردو تحقیق اور تنقید کی تاریخ مثالی رہی ہے اور اس پر ہم اردو والوں کو فخر کرنا چاہئے لیکن عہدِ حاضر میں تحقیق وتنقید کے شعبے کو مزید وسعت دینے اور معیاری بنانے کے لئے سائنٹفک طریقہ کار کو اپنانے کی ضرورت ہے ۔
پروفیسر آفاقی نے کہا کہ آج پوری دنیا میںزبان وادب کے مطالعے کے تعلق سے طرح طرح کی غلط فہمیاں بھی پھیلائی جا رہی ہیں کہ ادب کا دائرہ محدود ہو رہاہے لیکن سچائی یہ ہے کہ اب ڈیجٹل لائبریری اور دیگر سائنسی طریقہ کار کی بدولت زبان وادب کا دائرہ دن بہ دن وسیع ہو رہاہے اور ہزاروں ویب سائٹ کے ذریعہ دنیا کی بڑی آبادی زبان وادب کے سرمایے سے استفادہ کر رہی ہے۔انہوں نے خوشی کا اظہار کیا کہ سی ایم کالج، دربھنگہ میں اس طرح کے عصری تقاضوں کے موضوعات پر مذاکرے منعقد کئے جاتے ہیں جس سے طلبا وطالبات کو نئی روشنی حاصل ہوتی ہے۔
اس موقع پر پروفیسر آفتاب اشرف ،ڈاکٹر ناصرین ثریا، ڈاکٹر شمشیر علی، ڈاکٹر ابصار عالم، ڈاکٹر اے کے ایم ہادی، فیضان حیدر، ڈاکٹر روح اللہ خاں وغیرہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔آغاز میں متھلانچل کی تہذیبی وثقافتی روایت کے مطابق پروفیسر آفاقی کا پاگ، چادر اور گلدستہ سے پروفیسر مشتاق احمد پرنسپل سی ایم کالج، دربھنگہ نے استقبال کیا اوران کی آمد کے لئے ان کے تئیں اظہارِ تشکر پیش کیا ۔

Continue Reading

Bihar

شراب مافیا اور جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کارروائی کرنے سے کیوں گھبراتی ہےفرضی انکاؤنٹر کرانے والی حکومت؟ہم انصاف کی لڑائی میں ہمیشہ متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑے ہیں:تیجسوی یادو

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:پٹنہ میں جسم فروشی کے مبینہ اڈے کی مخالفت کرنے پر بنٹی کے اغوا کے بعد قتل کیے جانے کے معاملے پر بہار کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔ قائدِ حزبِ اختلاف تیجسوی یادو نے اس واقعے کو لے کر وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔تیجسوی یادو نے مقتول بنٹی کی اہلیہ سے فون پر بات کر کے اظہارِ تعزیت کیا اور انہیں صبر و حوصلہ رکھنے کی تلقین کی۔
انہوں نے اس گفتگو کی ایک ویڈیو بھی اپنے ایکس ہینڈل پر شیئر کی ہے، جس میں بنٹی کی غمزدہ اہلیہ آبدیدہ نظر آتی ہیں اور شدتِ غم سے زار و قطار رو رہی ہیں۔تیجسوی یادو نے بنٹی کی اہلیہ کو دلاسا دیتے ہوئے یقین دلایا کہ وہ انصاف کی لڑائی میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اسی کے ساتھ انہوں نے سمراٹ چودھری حکومت پر الزام عائد کیا کہ ریاستی حکومت مجرموں کو تحفظ فراہم کر رہی ہے، جس کے باعث جرائم پیشہ عناصر کے حوصلے بلند ہو گئے ہیں۔تیجسوی یادو نے اپنے ایکس ہینڈل پر لکھا، ’’پٹنہ کے کربیگہیا علاقے میں اقتدار اور پولیس کی سرپرستی میں مبینہ طور پر چلائے جا رہے جسم فروشی کے اڈے کی مخالفت کرنے پر 25 سالہ کرانہ تاجر بنٹی کمار کو 6 جولائی کو پٹنہ جنکشن کے قریب سے اغوا کر لیا گیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں پوری واردات واضح طور پر نظر آ رہی ہے، لیکن مجرموں کو تحفظ فراہم کرنے والی پولیس نے انہیں تلاش کرنے کے بجائے اہلِ خانہ کو ہی ڈانٹ پھٹکار لگائی۔
انہوں نے مزید لکھا، ’’کل راشٹریہ جنتا دل کے ایک وفد نے اغوا شدہ تاجر کی اہلیہ سے ملاقات کی اور میری ان سے ٹیلی فون پر بات کرائی۔ ہمارے دباؤ کے بعد ہی پولیس نے کل پٹنہ دیہی ضلع کے اتھمل گولا تھانہ علاقے سے ان کی مسخ شدہ لاش برآمد کر کے اہلِ خانہ کو اس کی اطلاع دی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ پولیس کو پورے معاملے کی پہلے سے جانکاری تھی۔‘‘
تیجسوی یادو نے مزید لکھا، ’’مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ جسم فروشی کا مبینہ دھندا چلانے والے بے خوف ہو کر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس غیر اخلاقی اور ناجائز کمائی کا ایک حصہ وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ تک پہنچتا ہے۔ وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری بتائیں کہ ایسے مجرموں اور اس مبینہ نیٹ ورک کے سرغنہ کون ہیں؟انہوں نے الزام عائد کیا کہ بہار کے عوام جانتے ہیں کہ گزشتہ دنوں بی جے پی حکومت قائم ہونے کے بعد پٹنہ جنکشن کے اطراف جسم فروشی کے مبینہ اڈوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اسی علاقے میں حکومت کے ایک بی جے پی وزیر کی رہائش گاہ بھی واقع ہے، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدر کا تعلق بھی اسی علاقے سے بتایا جاتا ہے۔
تیجسوی یادو نے مزید سوال اٹھایا، ’’بے گناہوں کے فرضی انکاؤنٹر کرانے والی حکومت شراب مافیا، جسم فروشی کے مبینہ دھندے سے وابستہ عناصر اور جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کارروائی کرنے سے کیوں گھبراتی ہے؟ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کی ان مبینہ انسانی اسمگلروں اور جسم فروشی کے دھندے سے وابستہ افراد کے ساتھ آخر کیا ملی بھگت ہے کہ انہیں بچانے میں پوری طاقت صرف کی جا رہی ہے؟‘‘
واضح رہے کہ بنٹی کمار پٹنہ کے نیو کربیگہیا علاقے کے رہائشی تھے، جو جکن پور تھانہ کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔ 6 جولائی کو کوتوالی تھانہ علاقے میں واقع دودھ منڈی کے قریب سے ان کا مبینہ طور پر اغوا کیا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ ملزمان انہیں بائی پاس کے راستے موکامہ کی جانب لے گئے اور بختیار پور-موکامہ فور لین کے قریب قتل کر دیا۔ بعد ازاں ان کی لاش اتھمل گولا تھانہ علاقے کے پھلیل پور گاؤں کے نزدیک زمین میں دبا دی گئی۔ پولیس کئی روز تک بنٹی کمار کی تلاش میں مصروف رہی، تاہم بروقت ان کا کوئی سراغ لگانے میں کامیاب نہ ہو سکی۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network