دلی این سی آر
چندے کی چوری کے اصل گنہگاروں کو بچا رہے ہیں مودی: کجریوال
نئی دہلی:بھگوان شری رام کے مندر میں چندے کی مبینہ چوری کے معاملے پر عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے وزیر اعظم نریندر مودی پر براہِ راست حملہ کیا۔انہوں نے کہا کہ کیا وزیر اعظم شری رام مندر میں چندے کی چوری کے اصل مجرموں کو بچا رہے ہیں؟کیونکہ مودی جی نے خود ٹرسٹ تشکیل دیا، اس کے ہر رکن کا انتخاب خود کیا اور اپنے قریبی چمپت رائے کو مندر کا سب سے بااختیار ذمہ دار بھی بنایا۔ ایسے میں کیا ملک کے عوام کو یقین ہے کہ مودی جی اصل چوروں کو سزا دلا سکیں گے؟ پورا واقعہ تو یہی ظاہر کرتا ہے کہ مودی جی اس معاملے کو دبانے، رفع دفع کرنے اور قصورواروں کو بچانے میں لگے ہوئے ہیں۔ اروند کیجریوال نے کہا کہ شری رام مندر کی زمین کی خریداری، تعمیراتی کام اور چندے میں اتنے بڑے بڑے گھوٹالے ہوئے، مگر کیا وزیر اعظم کو اس کی خبر تک نہیں ہوئی؟ حقیقت یہ ہے کہ انہیں سب کچھ معلوم تھا، لیکن وہ دھرتراشٹر بنے رہے۔ جب سچ عوام کے سامنے آنے لگا تو لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے ایک فرضی ایس آئی ٹی تشکیل دے دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جب ہمارے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ زمین گھوٹالے کے ثبوت لے کر گئے تو ایس آئی ٹی نے کہا کہ وہ زمین گھوٹالے کی جانچ ہی نہیں کر رہی ہے۔ آخر ایس آئی ٹی کر کیا رہی ہے؟ پہلے بھی ایس آئی ٹی بنی تھی، کچھ نہیں ہوا، اس بار بھی بنی ہے، کچھ نہیں ہوگا۔جمعرات کو پارٹی ہیڈکوارٹر میں دہلی پردیش صدر سوربھ بھاردواج کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے کہا کہ اب سب مان رہے ہیں کہ شری رام مندر میں چندے کی چوری ہوئی ہے، لیکن کیا اصل قصورواروں کو، جو بڑے بااثر اور طاقتور لوگ ہیں، سزا ملے گی؟ کیا ان کی گرفتاریاں ہوں گی؟ کیا ان کے خلاف کارروائی ہوگی؟ ہر جگہ یہ کہا جا رہا ہے کہ مودی جی کسی کو نہیں چھوڑیں گے، کسی کو معاف نہیں کریں گے۔ میں عوام سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا انہیں بھی یقین ہے کہ مودی جی اصل چوروں کو سزا دلا سکیں گے؟ میں یہ نہیں کہہ سکتا اور نہ ہی میرے پاس اس بات کا کوئی ثبوت ہے کہ یہ پیسہ مودی جی تک پہنچا۔ اس بارے میں میں کوئی تبصرہ نہیں کروں گا۔ لیکن پورا واقعہ ضرور یہ بتاتا ہے کہ مودی جی نے اس پورے معاملے کو دبانے، چھپانے اور اصل مجرموں کو بچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اروند کیجریوال نے کہا کہ وزیر اعظم نے ذاتی طور پر ایک ٹرسٹ بنایا۔ اس ٹرسٹ کا ایک ایک رکن خود منتخب کیا۔ اس میں ان کے اپنے قریبی لوگ شامل ہیں۔ چمپت رائے وزیر اعظم کے انتہائی قریبی مانے جاتے ہیں۔ مودی جی نے انہیں شری رام مندر کا جنرل سیکریٹری اور سب سے بااختیار ذمہ دار بنایا۔ 2021 میں وہاں زمینوں کے بڑے گھوٹالے ہوئے۔ ایک پاٹھک خاندان نے دو کروڑ روپے کی زمین ان کی پارٹی سے وابستہ ایک شخص کو فروخت کی، اور صرف دس منٹ بعد اسی شخص نے وہی زمین 18 کروڑ روپے میں مندر ٹرسٹ کو فروخت کر دی۔ دس منٹ میں دو کروڑ کی زمین اٹھارہ کروڑ کی کیسے ہوگئی؟ کیا وزیر اعظم کو اس کی خبر نہیں ہوئی؟ پوری دنیا کو معلوم تھا، میڈیا میں بھی خبریں آئیں۔ اسی طرح تین کروڑ روپے کی زمین 24 کروڑ میں، نو کروڑ کی زمین 55 کروڑ میں اور 14 کروڑ کی زمین 95 کروڑ روپے میں ٹرسٹ نے خریدی۔ کیا وزیر اعظم کو اس سب کی اطلاع نہیں تھی؟ یہ سب عوامی ریکارڈ میں موجود ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مندر کی تعمیر سے وابستہ انجینئروں کا الزام ہے کہ ٹینڈروں میں ان سے 40 فیصد کمیشن مانگا جاتا تھا۔ کیا وزیر اعظم کو اس کا بھی علم نہیں تھا؟ صرف 40 دنوں میں سی سی ٹی وی کیمروں میں 70 مرتبہ چوری ریکارڈ ہوئی، کیا انہیں معلوم نہیں تھا؟ آٹھ ماہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج حذف کر دی گئی، کیا اس کی بھی خبر نہیں تھی؟ اتنے طویل عرصے تک چندے کی چوری ہوتی رہی، پھر بھی انہیں کچھ معلوم نہیں ہوا؟ ٹرسٹ میں مرکزی وزارت داخلہ کا ایک افسر بھی موجود تھا، اس کے باوجود بھی انہیں کچھ معلوم نہیں ہوا؟ وزیر اعظم کو ملک کے ہر بوتھ کے ووٹر کی معلومات معلوم ہوتی ہیں، کون کس پارٹی کو ووٹ دیتا ہے، کس کا نام فہرست سے ہٹانا ہے اور کس کا شامل کرنا ہے، مگر اگر وہ کہیں کہ انہیں اس چوری کا علم نہیں تھا تو یہ بات قابلِ یقین نہیں۔اروند کیجریوال نے کہا کہ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) نے کم از کم 12 رپورٹیں وزیر اعظم کو دی تھیں، جن میں بتایا گیا تھا کہ رام مندر کی تعمیر، زمینوں کی خریداری اور چندے میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں اور چوریاں ہو رہی ہیں۔ انہیں سب معلوم تھا، مگر وہ دھرتراشٹر کی طرح خاموش رہے۔ جب معاملہ حد سے بڑھ گیا اور عوامی دباؤ بڑھنے لگا تو لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے ایس آئی ٹی بنا دی گئی۔ ایف آئی آر درج ہوئے بغیر ایس آئی ٹی کیسے بن سکتی ہے؟ اس وقت تو ایف آئی آر بھی درج نہیں ہوئی تھی۔ اسی دن عوام سمجھ گئے تھے کہ وزیر اعظم اصل مجرموں کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس کے بعد ایک فرضی ایف آئی آر درج کی گئی اور آٹھ چھوٹے ملازمین کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا۔حیرت کی بات یہ ہے کہ پولیس نے ان کی ریمانڈ بھی نہیں مانگی بلکہ سیدھا عدالتی حراست میں بھیج دیا۔ کسی بھی چوری کے مقدمے میں پولیس پوچھ گچھ کے لیے ریمانڈ لیتی ہے تاکہ معلوم ہو سکے مال کہاں ہے، کس کے کہنے پر چوری ہوئی اور اصل ماسٹر مائنڈ کون ہے، لیکن یہاں ایسا کچھ نہیں کیا گیا۔ انہیں یقین دلایا گیا کہ فکر نہ کرو، چند دنوں میں ضمانت ہو جائے گی۔ آخر یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ اروند کیجریوال نے مزید کہا کہ جب ہمارے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ زمین گھوٹالے کے دستاویزات لے کر ایس آئی ٹی کے پاس گئے تو ایس آئی ٹی نے حیران کن جواب دیا کہ وہ زمین گھوٹالے کی جانچ ہی نہیں کر رہی بلکہ صرف چندے کے معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔پھر تعمیراتی اور زمینوں کے گھوٹالوں کی جانچ کون کرے گا؟ 2021 میں بھی اتر پردیش حکومت نے زمین گھوٹالے کی جانچ کے لیے ایک ایس آئی ٹی بنائی تھی، مگر وہ بھی خاموشی سے ختم ہوگئی۔ کسی کو معلوم ہی نہیں ہوا کہ اس کی رپورٹ کب آئی اور کہاں گئی۔ اس بار بھی وہی ہوگا۔ 2021 میں نہ کوئی ایف آئی آر ہوئی، نہ کوئی گرفتاری، اور نہ ہی کوئی جیل گیا۔ اس بار بھی سب کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اروند کیجریوال نے کہا کہ جن لوگوں نے استعفے دیے ہیں، ان کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ آج بھی مندر کا انتظام وہی لوگ چلا رہے ہیں۔ کاغذوں میں استعفے ضرور دیے گئے ہیں، مگر عملی طور پر انتظام انہی کے ہاتھ میں ہے۔ بی جے پی کے ایک بڑے لیڈر برج بھوشن کا بیان میں نے سوشل میڈیا پر دیکھا، جس میں انہوں نے کہا کہ اگر انہوں نے منہ کھولا تو بہت بڑے بڑے نام سامنے آئیں گے اور انہیں اپنی جان کا خطرہ ہے۔ آخر وہ کون سے نام ہیں جن کا ذکر کرنے سے برج بھوشن بھی ڈر رہے ہیں؟ بابا باغیشور دھام نے بھی کہا کہ اس معاملے میں بہت بڑے لوگ شامل ہیں اور اگر وہ بولیں گے تو ان پر بھی آنچ آ سکتی ہے۔ جب اتنے طاقتور لوگ نام لینے سے خوفزدہ ہیں تو واضح ہے کہ جن آٹھ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، وہ صرف عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے ہیں۔ اصل کردار کوئی اور ہیں اور گرفتار کیے گئے لوگ صرف مہرے ہیں۔اروند کیجریوال نے وزیر اعظم نریندر مودی سے کہا کہ ملک کی عوام جاننا چاہتی ہے کہ وہ کس کو بچا رہے ہیں، کیوں بچا رہے ہیں اور ان کی کیا مجبوری ہے؟ اس معاملے سے کروڑوں
دلی این سی آر
جامعہ ملیہ اسلامیہ نے لائبریری ریڈنگ ہال کی نشستوں میں توسیع
نئی دہلی :جامعہ ملیہ اسلامیہ نے اپنی تاریخی ڈاکٹر ذاکر حسین لائبریریکے ریڈنگ ہال کو نمایاں طور پر وسیع اور جدید خطوط پر استوار کیا ہے۔ یہ اقدام طلبہ کو تعلیم و تحقیق کے لیے ایک جدید، سب کے لیے سازگار اور طلبہ دوست ماحول فراہم کرنے کی جاری کوششوں میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
لائبریری کی ان بہتر سہولیات کو طلبہ، محققین اور اساتذہ کی تعلیمی و تحقیقی ضروریات جو مسلسل تبدیل اور بڑھ رہی ہیں کی تکمیل کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس میں بیٹھنے کی گنجائش میں اضافہ، اوقات کار میں توسیع، بنیادی ڈھانچے میں بہتری اور آرام دہ ماحول کی فراہمی شامل ہے۔تجدید شدہ اور وسیع کیے گئے مطالعہ کے ہالوں کا افتتاح مورخہ چودہ جولائی دوہزار چھبیس کو عزت مآب پروفیسر مظہر آصف،شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے عالی وقار مسجل پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی نے کیا۔ اس موقع پر یونیورسٹی کے لائبریرین ڈاکٹر وکاس ایس ناگرالے، مختلف شعبہ جات کے ڈین اور سربراہان، یونیورسٹی کے ممتاز عہدیداران، اساتذہ، طلبہ اور مدعو مہمان بھی موجود تھے۔ تقریب کا آغاز ربن کاٹنے کی رسم سے ہوا، جس کے بعد شرکا کو تجدید شدہ مطالعہ ہالوں کا معائنہ کرایا گیا۔نئی سہولیات کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر وکاس ایس ناگرالے نے بتایا کہ تجدید شدہ اور توسیع شدہ ریڈنگ ہال میں دوسو پچاس نشستوں پر مشتمل ایک ہال خاص طور پر تحقیقی اسکالرس اور پوسٹ گریجویٹ طلبہ کے لیے، اور ایک سو پچاس نشستوں والا ایک ہال پوسٹ گریجویٹ طلبہ کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ ان جدید سہولیات میں آرام دہ اور جسمانی ساخت کے موافق (ergonomic) فرنیچر، بہتر روشنی اور ہوا کے گزر کا نظام، آسان رسائی اور مطالعے کے لیے پرسکون ماحول شامل ہیں۔ تعلیمی برادری کی بہتر خدمت کے لیے، دونوں ریڈنگ ہال ہفتے کے ساتوں دن، بشمول ہفتہ اور اتوار، رات بارہ بجے تک کھلے رہیں گے۔
اس کے علاوہ، جامعہ ملیہ اسلامیہ کی پرانی لائبریری کا ریڈنگ ہال رات دو بجے تک کھلا رہتا ہے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پروفیسر آصف نے علم، جدت اور ذہنی و فکری نشوونما کے مراکز کے طور پر لائبریریوں کے اہم کردار پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ لائبریریاں اسکالرس کے لیے محض مطالعے اور حوالہ جاتی مواد کے حصول کی جگہیں نہیں ہیں بلکہ یہ طلبہ کے درمیان باہمی ربط کو بڑھانے کے لیے بہترین مراکز کا کام بھی دیتی ہیں، جس سے باہمی تعاون پر مبنی آموزش کے عمل اور تعلیمی مباحثوں کو فروغ ملتا ہے۔ پروفیسر آصف نے تعلیمی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے اپنی انتظامیہ کے عزم کا اعادہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ آج کی ڈیٹا پر مبنی دنیا میں سیکھنے اور تحقیق کے کلچر کو فروغ دینے کے لیے لائبریری کی جدید سہولیات ناگزیر ہیں۔لائبریریوں کو ”کسی بھی ادارے کی تعلیمی زندگی کی ریڑھ کی ہڈی“قرار دیتے ہوئے، پروفیسر رضوی نے کہا کہ یہ توسیع طلبہ پر مرکوز پالیسیوں اور نقطہ نظر کے مطابق تعلیمی وسائل میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی مسلسل سرمایہ کاری کا پختہ ثبوت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تجدید شدہ اور وسیع تر ریڈنگ ہال سے مجموعی تعلیمی تجربے میں نمایاں بہتری متوقع ہے اور یہ عالمی معیار کی تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کے یونیورسٹی کے وژن میں معاون ثابت ہوں گے۔ انہوں نے یونیورسٹی لائبریرین اور ڈاکٹر ذاکر حسین لائبریری کے عملے کی کوششوں کو بھی سراہا، جنہوں نے جامعہ کی وسیع تعلیمی برادری کی متنوع اور بدلتی ضروریات کے مدنظر بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے عزم کا مظاہرہ کیا۔یونیورسٹی لائبریرین ڈاکٹر وکاس ایس ناگرالے نے لائبریری کے ترقیاتی اقدامات کو کامیابی سے نافذ کرنے میں مسلسل رہنمائی اور غیر متزلزل تعاون کے لیے پروفیسر آصف اور پروفیسر رضوی کا صمیم قلب سے شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ بہتری لائبریری کے اس عزم کو اجاگر کرتی ہے کہ وہ طلبہ پر مرکوز جدید تعلیمی ماحول فراہم کرے جو تعلیمی فضیلت اور تحقیق میں ممد و معاون ہو، نیز وقت کے تقاضوں کے مطابق اپنی خدمات کو مسلسل بہتر بناتی رہے۔افتتاحی تقریب کی نظامت کے فرائض ذاکر حسین لائبریری کے جان محمد میر نے انجام دیے اور محترمہ شاذیہ علوی نے باضابطہ طور پر سب کا شکریہ ادا کیا۔ تقریب کا اختتام قومی ترانہ کی نغمہ سرائی کے ساتھ ہوا۔
دلی این سی آر
’آپ ‘نے بغیر کوئی وجہ بتائے تین خواتین کونسلروں کوکیا معطل
نئی دہلی :دہلی میں ایک دن پہلے ہونے والے ایم سی ڈی زونل کمیٹی کے انتخابات میں کراری شکست کے بعد، عام آدمی پارٹی نے جمعرات کو اپنے تین کونسلروں کو پارٹی سے معطل کر دیا۔ پارٹی کی دہلی یونٹ کے صدر سوربھ بھردواج نے ایک حکم نامہ جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ مندرجہ ذیل ایم سی ڈی کونسلروں کو عام آدمی پارٹی سے معطل کر دیا گیا ہے۔اس دوران انہوں نے مسز نرملا دیوی (شرما)، مسز کرشنا راگھو، اور مسز سلطانہ آباد کو پارٹی رکنیت سے معطل کر دیا۔ اگرچہ سوربھ بھاردواج نے اپنے حکم میں کونسلروں کو معطل کرنے کی وجہ نہیں بتائی، لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ پارٹی نے ان کونسلروں کے خلاف یہ کارروائی کل کے ایم سی ڈی زونل کمیٹی کے انتخابات میں ان کے خلاف کراس ووٹنگ کے الزامات کے بعد کی ہے۔
اس بارے میں معلومات فراہم کرتے ہوئے ایم سی ڈی لیڈر آف اپوزیشن انکش نارنگ نے کہا، “ویسٹ زون اور سٹی ایس پی زون میں چیئرمین کے انتخاب میں پارٹی کے خلاف کراس ووٹ دینے والے کونسلروں کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کا واضح پیغام ہے کہ مینڈیٹ اور پارٹی کے ساتھ دھوکہ دہی کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کی جائے گی۔” پارٹی مخالف سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی۔
اس سے پہلے بی جے پی نے 12 ایم سی ڈی وارڈ کمیٹی کے انتخابات میں سے 10 میں چیئرپرسن کا عہدہ حاصل کیا اور چھ میں سے پانچ اسٹینڈنگ کمیٹی سیٹیں حاصل کیں۔ عام آدمی پارٹی نے بقیہ دو وارڈ کمیٹیوں اور ایک اسٹینڈنگ کمیٹی سیٹ پر چیئرپرسن کے عہدوں پر کامیابی حاصل کی۔
ان نتائج کے ساتھ ہی بی جے پی نے 18 رکنی اسٹینڈنگ کمیٹی میں اپنی پوزیشن مزید مضبوط کر لی ہے۔ کمیٹی میں اب 12 بی جے پی اور 6 اے اے پی ممبران ہیں۔ سٹینڈنگ کمیٹی کے علاوہ 12 وارڈ کمیٹیوں کے چیئرپرسن اور وائس چیئرپرسن کے عہدوں کے لیے انتخابات ایم سی ڈی ہیڈکوارٹرس سوک سینٹر میں منعقد ہوئے۔اس مدت کے دوران، بی جے پی نے نجف گڑھ، شاہدرہ ساؤتھ، شاہدرہ نارتھ، ساؤتھ، کیشو پورم، نریلا، سول لائنز، سٹی ایس پی، سینٹرل اور ویسٹرن زون کی وارڈ کمیٹیوں میں چیئرپرسن کے عہدوں پر کامیابی حاصل کی۔ دریں اثنا، AAP نے روہنی اور قرول باغ وارڈ کمیٹیوں میں چیئرپرسن شپ حاصل کی۔ نجف گڑھ میں بی جے پی کے جیویر سنگھ رانا کو چیئرپرسن اور سشما راٹھی کو وائس چیئرپرسن منتخب کیا گیا۔ ششی یادو کو اسٹینڈنگ کمیٹی کے لیے منتخب کیا گیا۔ تینوں بلامقابلہ منتخب ہوئے۔
دلی این سی آر
جل بورڈ نے ایم سی ڈی سےمانگا 5سالہ عمارت کا ریکارڈ
نئی دہلی :دہلی حکومت ان تمام عمارتوں کو سیل کر سکتی ہے جن کے لیے پانی اور سیوریج انفراسٹرکچر فنڈ چارجز (IFC) دہلی جل بورڈ (DJB) کے پاس جمع نہیں کیے گئے ہیں۔ ڈی جے بی نے دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) سے پچھلے پانچ سالوں کے تعمیراتی منصوبوں کا ریکارڈ طلب کیا ہے۔ ادائیگی میں ناکامی جائیداد کو سیل کرنے جیسی کارروائی کا باعث بن سکتی ہے۔ دہلی کے وزیر آبی پرویش ورما نے کہا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی، لیکن ہر کسی کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے گا۔دہلی کے وزیر پانی پرویش ورما نے کہا کہ حکومت نے افراد، ہاؤسنگ یونٹس، اداروں اور صنعتوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اس سال کے شروع میں DJB انفراسٹرکچر چارجز کو کم اور آسان کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہماری ابتدائی داخلی تفتیش سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کئی بڑی گروپ ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں عمارتیں انفراسٹرکچر چارجز ادا کیے بغیر تعمیر کی گئیں۔ اس سے بلڈرز اور ڈی جے بی حکام کے درمیان ملی بھگت کا پتہ چلتا ہے۔ ہم آئی ایف سی چارجز ادا کرنے میں ناکام رہنے والوں پر نہ صرف جرمانے عائد کریں گے بلکہ عمارتوں کو سیل بھی کریں گے۔وزیر پانی نے کہا کہ ہم نے ایم سی ڈی سے پچھلے پانچ سالوں میں منظور شدہ تمام عمارتی منصوبوں کے ڈیٹا کی درخواست کی ہے۔ ہم اس ڈیٹا کو جل بورڈ کو ادا کیے جانے والے انفراسٹرکچر چارجز کے اپنے ڈیٹا سے ملائیں گے۔ جہاں کہیں بھی ہمیں کوئی تضاد پایا جائے گا، اصل رقم کے علاوہ جرمانہ عائد کیا جائے گا۔اندرونی اندازوں کے مطابق، دارالحکومت میں 3000 مربع میٹر اور اس سے اوپر کی تقریباً 300 جائیدادیں ہیں جن کے لیے کوئی IFC چارجز ادا نہیں کیے گئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں دہلی جل بورڈ کو تقریباً 2,000 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ پرویش ورما نے کہا کہ حکومت نے اب سسٹم کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے اور IFC کے عمل کو آسان، شفاف اور منصفانہ بنا دیا ہے۔وزیر پانی نے کہا کہ 200 مربع میٹر تک کے پلاٹوں پر کوئی چارج نہیں لیا جائے گا اور غیر ضروری پیمائش یا افسران کی طرف سے ہراساں کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔ بہت سے معاملات میں، جہاں پہلے لوگوں کو پرانے نظام کے تحت 15-16 لاکھ روپے تک ادا کرنا پڑتا تھا، اب یہ رقم کم ہو کر تقریباً 2-3 لاکھ روپے رہ گئی ہے۔دہلی جل بورڈ دارالحکومت میں 200 مربع میٹر سے بڑے پلاٹوں پر نئی یا اضافی تعمیرات پر IFC چارجز لگاتا ہے۔ پانی اور سیوریج کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر شروع ہونے سے پہلے یہ چارج جمع کرنا ضروری ہے۔وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے حال ہی میں آئی ایف سی چارج پالیسی میں تبدیلیوں اور آسانیاں کی منظوری دی۔ فیکٹریوں اور صنعتی اکائیوں نے DJB کے نظرثانی شدہ انفراسٹرکچر چارج سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا ہے، جس سے ابتدائی تعمیراتی لاگت میں نمایاں کمی آئی ہے۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
