Connect with us

Bihar

نئے فوجداری قوانین سے ریاست میں مضبوط ہوگا نظامِ انصاف،بودھ گیا میں ریاستی سطح کے سیمینارکا انعقاد،وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری کا عدالتی نظام کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے پر زور

Published

on

(پی این این)
بودھ گیا: بہار کے بودھ گیا واقع کنونشن سینٹر میں نئے فوجداری قوانین پر منعقدہ دو روزہ ریاستی سطح کے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے اعلان کیا کہ ریاست میں 100 فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کی جائیں گی تاکہ فوجداری مقدمات کا جلد از جلد تصفیہ ممکن ہو اور عوام کو بروقت انصاف فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عدلیہ کے ساتھ مکمل تال میل کے ذریعے انصاف کے نظام کو مزید مضبوط، شفاف، مؤثر اور ٹیکنالوجی پر مبنی بنانے کے لیے سنجیدہ ہے۔
اس اعلیٰ سطحی سیمینار میں سپریم کورٹ، مختلف ہائی کورٹوں کے جج صاحبان، پٹنہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، بہار عدلیہ کے عدالتی افسران، محکمہ قانون کے اعلیٰ حکام اور انتظامی افسران نے شرکت کی۔
وزیر اعلیٰ نے حکومت اور عدلیہ کے درمیان بہتر رابطہ قائم کرنے کے لیے ہر تین ماہ بعد مشترکہ جائزہ اجلاس منعقد کرنے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ان اجلاسوں میں مقدمات کے اندراج، پولیس تفتیش، استغاثہ، قانونی کارروائی اور دیگر عملی مسائل کا جائزہ لے کر ان کے بروقت حل کی کوشش کی جائے گی۔
سمراٹ چودھری نے کہا کہ بہار کی پہچان ہمیشہ’’ انصاف کے ساتھ ترقی” رہی ہے۔ نئے فوجداری قوانین کے مؤثر نفاذ سے انصاف کا نظام مزید مضبوط ہوگا اور عوام کو جلد، آسان اور مؤثر انصاف میسر آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ عدالتیں، حکومت اور پولیس اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہیں، تاہم نظام کی حقیقی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب عوام کا عدالتی نظام پر اعتماد مزید مستحکم ہو۔
وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں میں دنیا تیزی سے تبدیل ہوئی ہے اور آج موبائل فون اور سوشل میڈیا روزمرہ زندگی کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔ ایسے میں عدالتی نظام کو بھی جدید ٹیکنالوجی کے مطابق ڈھالنا ناگزیر ہے تاکہ عدالتی کارروائیاں زیادہ شفاف، مؤثر اور تیز رفتار بن سکیں۔
وزیر اعلیٰ نے یقین دلایا کہ بہار حکومت عدلیہ کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے عوام کو فوری، آسان اور مؤثر انصاف فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پابندِ عہد ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے قوانین کے کامیاب نفاذ سے نہ صرف قانون و انتظام کی صورتحال بہتر ہوگی بلکہ انصاف کا نظام بھی مزید مضبوط ہوگا۔
اس سے قبل سمراٹ چودھری کے گیا ہوائی اڈے پہنچنے پر کارکنان اور حامیوں نے ان کا پُرتپاک استقبال کیا، جس کے بعد وہ بودھ گیا روانہ ہوئے۔ سیمینار میں شرکت کے لیے پٹنہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جمعہ کی شام ہی گیا پہنچ گئے تھے، جہاں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ اس موقع پر ضلع مجسٹریٹ، پولیس سپرنٹنڈنٹ سمیت متعدد سینئر انتظامی اور پولیس افسران موجود تھے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Bihar

طلبہ پر لاٹھی چارج جمہوری اقدار پر حملہ

Published

on

دربھنگہ : راشٹریہ جنتا دل (راجد) کے رہنما و بوکھڑا بلاک کے سابق نائب پرمکھ آفتاب عالم منٹو نے پٹنہ میں اپنے مطالبات کے حق میں پُرامن مظاہرہ کرنے والے طلبہ پر پولیس کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے جمہوری اقدار اور آئینی حقوق پر براہِ راست حملہ قرار دیا ہے۔
انہوں نے بدھ کو جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا کہ جمہوری نظام میں ہر شہری کو اپنی بات رکھنے، احتجاج درج کرانے اور پُرامن مظاہرہ کرنے کا آئینی حق حاصل ہے۔ ایسے میں طلبہ اور نوجوانوں کی جائز آواز کو طاقت کے زور پر دبانے کی کوشش نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ جمہوری روایات کے بھی منافی ہے۔
آفتاب عالم منٹو نے کہا کہ اگر طلبہ اپنی تعلیم، روزگار اور مستقبل سے متعلق سوالات اٹھا رہے ہیں تو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی بات سنے اور مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بہار کی این ڈی اے حکومت نوجوانوں کے مسائل کو سمجھنے کے بجائے دباؤ اور طاقت کے استعمال کا راستہ اختیار کر رہی ہے، جو کسی بھی جمہوری حکومت کے لیے مناسب طرزِ عمل نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ لاٹھیوں اور طاقت کے ذریعے وقتی طور پر سوالات کو دبایا جا سکتا ہے، لیکن نوجوانوں کے خواب، امیدیں اور امنگیں ختم نہیں کی جا سکتیں۔ حکومت نے نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار کے میدان میں بڑے بڑے وعدے کیے تھے، مگر زمینی سطح پر ان وعدوں کی تکمیل نظر نہیں آ رہی، جس کے باعث نوجوانوں میں بے چینی اور ناراضگی فطری امر ہے۔
راجد رہنما نے مزید کہا کہ طلبہ کے مسائل کا حل مذاکرات، مثبت اقدامات اور جوابدہی میں پوشیدہ ہے، نہ کہ لاٹھی چارج اور گرفتاریوں میں۔ انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ نوجوانوں کے مستقبل کو سنوارنے کے لیے ٹھوس پالیسی اختیار کرے اور ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے۔
آفتاب عالم منٹو نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ عوام سب کچھ دیکھ رہی ہے اور جمہوری نظام میں عوام ہی سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے۔ وقت آنے پر عوام اپنے ووٹ کے ذریعے ہر فیصلے کا جواب دیتی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ تشدد اور دباؤ کی سیاست سے گریز کرتے ہوئے تعلیم، روزگار اور نوجوانوں کے روشن مستقبل کے حوالے سے اپنی حقیقی ذمہ داری نبھائے۔

Continue Reading

Bihar

دہلی میں کانگریس رہنماؤں پر پولیس کی کارروائی کے خلاف مظاہرہ، وزیرِ اعظم کا پتلہ نذرِ آتش

Published

on

بہار شریف:ضلع کانگریس کمیٹی، نالندہ کے زیرِ اہتمام نیٹ امتحان میں پیپر لیک، تعلیمی نظام میں بڑھتی بدعنوانی اور دہلی میں کانگریس اراکینِ پارلیمنٹ و رہنماؤں پر پولیس کے ذریعے کیے گئے بل کے استعمال اور پرتشدد کارروائی کے خلاف بہار شریف کے ہاسپٹل موڑ پر زبردست مظاہرہ کیا گیا۔ اس دوران کارکنوں نے مرکزی حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نریندر مودی کا علامتی پتلا نذرِ آتش کیا۔
پروگرام کی قیادت ضلع کانگریس کمیٹی، نالندہ کے ضلع صدر شری وویک کمار سنہا نے کی۔اس موقع پر ضلع صدر وویک کمار سنہا نے کہا کہ نیٹ  پیپر لیک نے لاکھوں محنتی طلبہ اور ان کے خاندانوں کے مستقبل سے کھلواڑ کیا ہے۔ امتحانی نظام کی ساکھ پر سنگین سوال کھڑا ہو گیا ہے، لیکن مرکزی حکومت مجرموں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے مستقبل کی حفاظت کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، لیکن آج طلبہ مسلسل پیپر لیک، بے روزگاری اور بے ترتیبی سے جوجھ رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دہلی میں جمہوری طریقے سے احتجاج کر رہے کانگریس اراکینِ پارلیمنٹ و رہنماؤں کے ساتھ پولیس کا بل کا استعمال جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔ جمہوریت میں ہر شہری اور سیاسی جماعت کو پرامن اور آئینی طریقے سے اپنی بات رکھنے کا حق ہے۔ احتجاجوں کے دوران قانون و نظم برقرار رکھنا ضروری ہے، ساتھ ہی پرامن اظہارِ رائے کے حق کا احترام بھی ہونا چاہیے۔
ضلع کانگریس کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ نیٹ  پیپر لیک کے معاملے کی غیر جانبدارانہ اور مقررہ وقت میں تحقیقات کر کے مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور امتحانی نظام کو شفاف اور محفوظ بنایا جائے۔ ساتھ ہی جمہوری احتجاج کے دوران قانون کے مطابق طرزِ عمل یقینی بنایا جائے اور شہریوں کے پرامن اظہارِ رائے کے حق کا احترام کیا جائے۔
پروگرام میں بڑی تعداد میں کانگریس عہدیداران، کارکنان اور حامیان موجود تھے۔ آخر میں سب نے نوجوانوں کے مستقبل کی حفاظت، تعلیمی نظام میں شفافیت اور جمہوری اقدار کے دفاع کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کا عہد کیا۔

اس موقع پر موجود کارکنان: ویویکانند پاسوان، حیدر عالم، جمال اشرف جمالی، عثمان غنی، انجینئر ٹیپو، اجے کمار پانڈے، شیو کمار یادو، ستیندر سنگھ، مکیش کمار، امتیاز عالم، انیل کمار، پرمود کمار، رودراکش سنگھ یادو، ڈاکٹر اودھیش پرساد، اجے کمار پانڈے، انیل کمار، ودیانند یادو، سرفراز ملک، سجانی کمار، ممتا رانی، کرانی پاسوان، رجنیش کمار، اجیت راج “میڈیا انچارج”، چندن یادو، شیلش کمار، ستیندر کمار، انیل کمار، پرمود کمار، حافظ مہتاب عالم، سبھاش جی اور دیگر ضلع کانگریس کمیٹی کے عہدیداران، کارکنان اور بڑی تعداد میں عام شہری موجود تھے۔

Continue Reading

Bihar

نالندہ کے ضلع مجسٹریٹ نے 36 عوامی شکایات پر طے کی افسران کی جواب دہی

Published

on

بہار شریف:عوامی شکایات کے وقت پر ازالے کو اعلیٰ ترجیح دیتے ہوئے تمام متعلقہ افسران کو ہر درخواست پر فوری کارروائی یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی۔
نہر میں کھاڑ ہونے، سرکاری پیمائش کے بعد لگائے گئے پلر کو اکھاڑنے، آمد و رفت کے راستے کو تجاوزات سے پاک کرانے، جمعبندی منسوخ کرنے، اسلحہ جاری کرنے اور زمین کے تنازع سے جڑے معاملات کا غیر جانبدارانہ، شفاف اور قانون کے مطابق حل یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی۔
ضلع مجسٹریٹ نے واضح کہا کہ عام شہریوں کی مشکلات کے حل میں کسی بھی سطح پر سستی قبول نہیں کی جائے گی۔جن-سنوائی کے دوران ضلع مجسٹریٹ، نالندہ محترمہ ادیتا سنگھ نے ضلع کے دور دراز پرکھنڈوں اور پنچایتوں سے آئے کل 36 فریادیوں سے براہِ راست مکالمہ کر کے ان کی شکایات کو انتہائی حساسیت اور سنجیدگی سے سنا اور متعلقہ افسران کی جواب دہی طے کرتے ہوئے موقع پر ہی سخت ہدایات جاری کیں۔
زمین کی فروخت کے باوجود مخالف فریق کے ذریعے سرکاری پیمائش کے بعد لگائے گئے پلر کو اکھاڑنے سے متعلق معاملات میں سب ڈویژنل افسر SDO اور سب ڈویژنل پولیس افسر، صدر SDPO، بہار شریف کو موقع پر امن و امان برقرار رکھتے ہوئے غیر جانبدارانہ حل نکالنے کی ہدایت دی گئی۔
جن-سنوائی کے دوران زمین کے تنازع اور محصول سے جڑی کئی پیچیدہ شکایات سامنے آئیں۔ جمعبندی منسوخ کرنے سے جڑے معاملات پر ضلع مجسٹریٹ نے ایڈیشنل کلکٹر-سہ-ضلع لوک شکایت افسر، نالندہ کو فوری ریکارڈ کی گہری جانچ کر کے وقت پر ازالہ کا حکم دیا۔
وہیں، عام راستے پر تجاوزات کر کے آمد و رفت میں رکاوٹ ڈالنے کی شکایت پر بھی لوک شکایت افسر کو فوری کارروائی کرتے ہوئے راستہ تجاوزات سے پاک کرانے کے لیے ہدایت کی گئی۔
جن-سنوائی میں آئی دیگر تمام درخواستوں کو بھی متعلقہ محکمے کے افسران کو منتقل کرتے ہوئے ضلع مجسٹریٹ نے واضح وارننگ دی کہ عام شہریوں کی مشکلات کے حل میں کسی بھی سطح پر غفلت یا سستی برداشت نہیں کی جائے گی۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network