Connect with us

uttar pradesh

معاشرے کی ترقی، ثقافت اور تہذیب کو محفوظ رکھنے میں ادیبوں کا اہم کردار: مینا خان ناز

Published

on

(پی این این)
رُڑکی: ادیب معاشرے کو جوڑنے کے ساتھ ساتھ ہماری ثقافت اور تہذیب کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ شاعری کسی مدرسے یا یونیورسٹی میں نہیں سیکھی جاتی، یہ الہامی عطیہ ہوتی ہے۔یہ خیالات موہنی دیوی ڈگری کالج میں پدم وبھوشن گوپال داس نیرج، پدم شری بیکل اتساہی و پدم شری بشیر بدر کی یاد میں ہوئے آل انڈیا کوی سمیلن و مشاعرے میں اتر پردیش کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج و معروف شاعرہ محترمہ مینا خان ناز نے ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ عمدہ ادب ہی عمدہ سماج اور قومیت کے جذبے کو مضبوط کرتا ہے۔
مشاعرے کے مہمانِ خصوصی ہریدوار کے پولیس سپرنٹنڈنٹ پروفیسر شیکھر سویال نے کہا کہ شاعری بھی ایک تپسیا اور یوگ سادھنا سے کم نہیں ہے کیونکہ شاعر دنیاوی الجھنوں اور ہنگاموں سے الگ اپنی دنیا بساتا ہے۔ سی او منگلور ابھِنَے چودھری، سی او بھگوان پور دَکش شوکھنڈ نے کہا کہ شاعری ایسی صنف ہے جو آج کے مادی اور سائنسی دور میں بھی کسی سورس کی محتاج نہیں، اے آئی کے ذریعے آج سب کچھ ممکن ہے مگر جو شاعری کے جذبات یا خیالات شاعر پیش کر سکتا ہے وہ اے آئی بھی ظاہر نہیں کر سکتا۔
پروگرام میں مہمانِ خصوصی کے طور پر تشریف لائے ایم ایل اے منگلور قاضی نظام الدین، معروف صنعتکار و نیوٹیک گروپس انڈیا-دبئی کے سی ای او مشرف علی خان، بی جے پی ضلع صدر ڈاکٹر مدھو سنگھ، وزیرِ مملکت شوبھا رام پرجاپتی، شیام ویر سینی، فونکس کے چیئرمین نوجوان سماج سیوک انجینئر چیرب جین، الائنس کلب انٹرنیشنل کی ڈسٹرکٹ گورنر انیتا گپتا، چیئرمین اروند گپتا، وزیرِ مملکت مفتی شمعون قاسمی، اقلیتی تعلیمی اتھارٹی کے چیئرمین پروفیسر سرجیت سنگھ گاندھی، نے بھی نیرج، بیکل و بدر جی کو خراجِ عقیدت پیش کر کے شاعری سے لطف اندوز ہوئے۔مشاعرے کے بانی اور اتراکھنڈ اردو اکیڈمی کے سابق نائب صدر ڈاکٹر افضل منگلوری نے کہا کہ اس مشاعرے کا مقصد محبت ,اتحاد اور سماج میں پھیلی نفرت کو ختم کرنا ہے – یہ خوشی کی بات ہے کہ یہاں پر ہندو ,مسلمان اور تمام سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ تمام ضلعے کے اعلی افسران موجود ہیں جو اس بات کی دلیل ہے کہ محبت کے پیغام کے لیے ہر کوئی دل سے ادب کی محفلوں کو پسند کرتا ہے۔
ملک بھر سے آئے شاعروں میں مینا خان، مَیکش اعظمی، مونیکا اروڑا منتشا، ششانک نیرج، شَیلیش گوتم، مہیش شریواستو، پردیپ دیوانہ، پرم ویر کوشک، عادل رشید، شریف، منوج آریہ، اُدے کمار مصور، انیل امروہوی، سید نفیس، دیپک اروڑا دیپ، اشوک پال سنگھ وغیرہ نے حب الوطنی، سماجی ہم آہنگی، ویر رس کی غزلوں و نظموں سے سماں باندھ دیا۔
اس سے قبل موہنی دیوی ڈگری کالج کے مینیجنگ ڈائریکٹر یوگیش سنگھل، سشیل سنگھل، چیئرمین منیشا سنگھل، ڈائریکٹر اکشے سنگھل، اشونی سنگھل، امیت گوئل، منیشا جین، نوین جین، اروند گپتا، بال کلیان کی سپروائزر گنگا دیوی، استاد اشوک پال، اُدے کمار مصور، انیتا گپتا نے مہمانوں، مدعو شاعروں و صحافیوں کا شال، پھول مالاؤں، و مومنٹو سے استقبال کیا۔
اس موقع پر، ضلع جنرل سیکریٹری اکشے پرتاپ سنگھ، صدر جمہوریہ ایوارڈ یافتہ ایچ ایم کپور، ایڈووکیٹ برجیش تیاگی، بھاجیومو پردیش نائب صدر گورو کوشک، پرنسپل نریندر سنگھ امبیڈکر، سماج سیوک، سبھاش نمبردار، سلمان فریدی، ایشور لال شاستری، وکاس وشِشٹ، رام کمار اُپادھیائے، نریندر آہوجا، حیدر زما خان، قاضی نورالدین، سابق کونسلر انیل شرما بلّو، عمران دیش بھکت، سید نفیس الحسن، قاضی سراج الدین، وغیرہ موجود رہے۔ آخر میں کالج کی چیئرمین منیشا سنگھل نے سب کا شکریہ ادا کیا۔ شاعر مَیکش اعظمی کی سرسوتی وندنا و سید نفیس کے حب الوطنی گیت سے کوی سمیلن کا آغاز ہوا۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

uttar pradesh

کسی بھی صورت میں منہدم نہیں ہونے دیں گے جوہر یونیورسٹی،اعظم خان کی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کے لیے اکھلیش یادو نے رام پور بھیجا سماجوادی پارٹی کا وفد،ضلع مجسٹریٹ کو سونپا میمورنڈم

Published

on

(پی این این)
رام پور:اعظم خان کی جوہر یونیورسٹی کا معاملہ دن بہ دن سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ جمعہ کے روز سماجوادی پارٹی کے آٹھ ارکانِ پارلیمنٹ سمیت 10 رکنی وفد رام پور پہنچا اور ضلع مجسٹریٹ سے ملاقات کرکے انہیں ایک عرضداشت پیش کی۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ارکانِ پارلیمنٹ نے کہا کہ جوہر یونیورسٹی کی عمارتوں کو کسی بھی صورت منہدم نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک تعلیمی ادارہ ہے اور طلبہ سے لے کر اساتذہ تک، سب کا مستقبل اس سے وابستہ ہے۔وفد نے ضلع مجسٹریٹ اجے کمار دویدی سے ملاقات کے دوران یونیورسٹی کی عمارتیں منہدم کرنے کے حکم کو منسوخ کرنے اور قانون کے مطابق اس مسئلے کا مناسب حل نکالنے کی درخواست کی۔
دوپہر تقریباً سوا ایک بجے سماجوادی پارٹی کے ارکانِ پارلیمنٹ کا وفد درجنوں گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ گاندھی سمادھی واقع سنت شیرو منی روی داس گیسٹ ہاؤس پہنچا۔ یہاں حامیوں کی بڑی تعداد جمع تھی، جس کے باعث کچھ دیر دھکم پیل بھی ہوئی۔ اس کے بعد ارکانِ پارلیمنٹ کا قافلہ جوہر یونیورسٹی کے لیے روانہ ہو گیا۔یونیورسٹی کیمپس میں وفد نے دھرنے پر بیٹھے طلبہ و طالبات سے ملاقات کی اور انہیں یقین دلایا کہ ان کے مستقبل کے ساتھ کسی قسم کی ناانصافی نہیں ہونے دی جائے گی۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے ساتھ اجلاس کے بعد وفد سہ پہر تقریباً ساڑھے تین بجے کلکٹریٹ پہنچا، جہاں ضلع مجسٹریٹ سے ملاقات کرکے انہیں ایک یادداشت پیش کی۔وفد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سماجوادی پارٹی جوہر یونیورسٹی کے طلبہ کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔ کلکٹریٹ سے واپسی کے بعد تمام ارکانِ پارلیمنٹ اعظم خان کی رہائش گاہ پہنچے، جہاں انہوں نے ان کی اہلیہ تزئین فاطمہ سے ملاقات کی۔
مفاہمت نامہ پر سماجوادی پارٹی کے ضلعی صدر اجے ساگر، رکنِ پارلیمنٹ جاوید علی خان، ہریندر ملک، روچی ویرا، اقرا حسن، نیرج موریہ، ضیاء الرحمٰن برق، دیویش شاکیہ اور رام شیرو منی ورما کے دستخط موجود ہیں۔جوہر یونیورسٹی کو منہدم کیے جانے کی کارروائی کے خلاف رام پور پہنچیں مرادآباد سے سماجوادی پارٹی کی رکنِ پارلیمنٹ روچی ویرا نے دوٹوک انداز میں کہا کہ یونیورسٹی کو کسی بھی قیمت پر منہدم نہیں ہونے دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک عمارت کا معاملہ نہیں بلکہ ہزاروں طلبہ و طالبات کے مستقبل کا سوال ہے، اور سماجوادی پارٹی بچوں کے تعلیمی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کرتی رہے گی۔
سنبھل سے رکنِ پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق نے جوہر یونیورسٹی کی عمارتوں کو منہدم کرنے سے متعلق انتظامیہ کی کارروائی پر سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کو منہدم کرنے کا حکم سراسر غلط ہے اور رام پور کے ضلع مجسٹریٹ کو یہ حکم فوری طور پر واپس لینا چاہیے۔رکنِ پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق نے مزید کہا کہ وہ اس معاملے کو پارلیمنٹ میں بھرپور انداز میں اٹھائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ زیرو آور میں اس موضوع پر اظہارِ خیال کے لیے ان کا نمبر بھی آ چکا تھا، لیکن ایوان میں مسلسل ہنگامہ آرائی کے باعث کارروائی آگے نہیں بڑھ سکی۔
رام پور پہنچیں کیرانہ سے سماجوادی پارٹی کی رکنِ پارلیمنٹ اقرا حسن نے حکومت پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ جوہر یونیورسٹی کو صرف اس لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ اس کی بنیاد سماجوادی پارٹی کے سینئر رہنما اعظم خان نے رکھی تھی۔اقرا حسن نے کہا کہ اگر عمارتوں کے نقشوں کو بنیاد بنا کر کارروائی کی جا رہی ہے تو انگریزوں کے دور میں تعمیر ہونے والی بے شمار عمارتیں آج بھی بغیر منظور شدہ نقشوں کے موجود ہیں۔ ایسے میں کیا حکومت ان تمام عمارتوں کو بھی منہدم کرے گی؟
راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمنٹ جاوید علی خان نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت سے کسی بھی قسم کی امید رکھنا بے سود ہے، کیونکہ یہ تعلیم اور عوام دونوں کی مخالف حکومت ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نہیں چاہتی کہ ملک کے لوگ تعلیم حاصل کریں یا غریب خاندانوں کے بچوں کو معیاری تعلیم میسر آئے۔
جاوید علی خان نے الزام لگایا کہ جوہر یونیورسٹی کو منہدم کرنے سے متعلق ضلع انتظامیہ کا حکم غیر قانونی ہے اور اسے فوری طور پر واپس لیا جانا چاہیے۔
مظفر نگر سے رکنِ پارلیمنٹ ہریندر ملک نے اتر پردیش حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تعلیم کے فروغ کے بجائے تعلیمی اداروں کو نقصان پہنچانے میں مصروف ہے۔ہریندر ملک نے کہا کہ حکومت کی توجہ نئی یونیورسٹیاں قائم کرنے پر ہونی چاہیے، لیکن اس کے برعکس وہ موجودہ تعلیمی اداروں کو منہدم کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا حکومت ارکانِ پارلیمنٹ کے مطالبے کو قبول کرے گی، تو انہوں نے جواب دیا، ’’اگر حکومت مہر نہیں لگائے گی، تو ہم اپنی مہر لگائیں گے۔‘‘

 

Continue Reading

uttar pradesh

گنگا ایکسپریس وے پرالٹ گئی بس،2 مسافروں کی موت، 20 زخمی

Published

on

(پی این این)
سنبھل:اتر پردیش کے ضلع سنبھل میں گنگا ایکسپریس وے پر اتوار کو ایک مسافر بس الٹ جانے سے دو مسافروں کی موت ہو گئی جبکہ 20 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔موصولہ اطلاعات کے مطابق حادثے کے وقت بس بہرائچ سے پنجاب جا رہی تھی اور اس میں تقریباً 150 مسافر سوار تھے۔ بہجوئی تھانہ علاقے میں لہراون ایکسچینج کے قریب مبینہ طور پر ڈرائیور کو نیند کی جھپکی آ گئی، جس کے باعث بس بے قابو ہو کر پہلے ڈیوائیڈر سے ٹکرائی اور پھر الٹ گئی، جس کے نتیجے میں 20 سے زائد مسافر زخمی ہو گئے۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی ایمبولینس، پولیس اور یوپیڈا کے افسران موقع پر پہنچ گئے اور راحت و بچاؤ کا کام شروع کرتے ہوئے زخمیوں کو کمیونٹی ہیلتھ سینٹر، بہجوئی منتقل کیا۔
اسپتال میں ڈاکٹروں نے گجاپور کی رہائشی گنگا رام کی 17 سالہ بیٹی نہا اور گونڈا کے رہائشی للّن کے 35 سالہ بیٹے پنٹو کو مردہ قرار دے دیا۔حادثے میں مہیش، دنیش، چھوٹو، پنکج، وپن، پونم، گڈو، شوبھت، اروند، منّا لال، سریندر کمار، انیتا، گیتا، رومانہ اور راما دیوی سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے۔ شدید زخمی چند مسافروں کو بہتر علاج کے لیے ہائر سینٹر ریفر کر دیا گیا ہے۔

Continue Reading

uttar pradesh

انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کا ماہانہ سائنسی سیمینار منعقد ,جدید تحقیق کے بعد لیور ٹرانس پلانٹیشن سے حسب معمول گزرتی ہے زندگی : ڈاکٹر راگھو بنسل

Published

on

(پی این این)
دیوبند:انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن سہارنپور برانچ کے ماہانہ سائنسی مذاکرہ کا انعقاد کیا گیا ۔اس سائنسی اجلاس میں پارس ہاسپٹل ،پنچ کلا سے شرکت کرنے والے ڈاکٹر امت کمار منڈ ل اور ڈاکٹر راگھوبنسل نے اپنے خیالات کا اظہارکیا ۔ ڈاکٹر امت کمار منڈل نے کہا کہ ٹی بی کے مریضوں کو مکمل طور سے اپنا علاج کرانا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ درمیان میں علاج چھوڑدینے سے ٹی بی کے بیکڑیامیں مدافعت پیدا ہوجاتی ہے جس کے بعد علاج بہت مشکل ہوجاتا ہے ،انہوں نے کہا کہ ٹی بی کے کسی مریض کے پھینپھڑے میں اگر گھٹلی پیدا ہوجاتی ہے تو ایسے مریضوں کی بروکو اسکوپی کی مددسے ٹھیک ٹھیک جانچ کرنی چاہئے ۔ڈاکٹر راگھو بنسل نے بتایا کہ اگر کسی مریض کا جگر متاثر ہوجائے اور کام کرنا بند کردے تواس طرح کی صورت میں صرف لیور ٹرانس پلانٹیشن ہی واحد علاج ہے ۔ڈاکٹر راگھو بنسل نے کہا کہ اب لیور ٹرانس پلانٹیشن کے بعدمریض معمول کے طور سے اپنی زندگی گزار سکتا ہے ۔
اس موقع پر انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے سکریٹری ڈاکٹر نیرج آریہ نے سبھی مہمانوں کا استقبال کیا ۔جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر کلیم احمد نے انجام دیئے ۔ اس پروگرام میں ڈاکٹر انوپم ملک ،ڈاکٹر سدھیر اگروال ،ڈاکٹر پونم کمار ،ڈاکٹر سی ایس چوپڑا ،ڈاکٹر وندنا ورما ،ڈاکٹر انل ملک ،ڈاکٹر سیمااگروال ، ڈاکٹر سدرشن ناگپال ،ڈاکٹر وی ایس پنڈیر ،ڈاکٹر سومیا جین ،ڈاکٹر ڈی کے گپتا، ڈاکٹرمہیش چندرا ،ڈاکٹر رجنیش سنگھل ،ڈاکٹر روی کانت ، ڈاکٹرپروین متل ،ڈاکٹر آرایس پنوار ، ڈاکٹر سفل کمار ،ڈاکٹر ایم کے جین ،ڈاکٹر سعودحسن ،ڈاکٹر خلیل اللہ خاں اور ڈاکٹر رجت بنسل موجود رہے ۔

 

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network