تازہ ترین
دہلی ہائی کورٹ کا پولیس سے سوال، اے پی سی آر کے سکریٹری ندیم خان کی مبینہ حراست پر نوٹسجیور ہوائی اڈے سے بین الاقوامی پروازیںہوں گی شروعطالبات کی شکایات کا موثر ازالہ بنانا حکومت کی اولین ترجیح: ریکھاجمہوری نظام میں پُرامن احتجاج عوام کااختیار،چراغ پاسوان نے اپنے ہی اتحاد کے وزیر جیتن رام مانجھی کے بیان پرکیا جوابی حملہگیا جی:کلال اور عراقی کو ایک ہی ذات قرار دینے کا مطالبہبروقت مسئلہ حل نہ ہوا تو ہم دوبارہ احتجاج کرنے پرہوں گے مجبور:سنگھرش سمیتی،ایس ڈی ایم ارریہ کی یقین دہانی پر شہر کے بنیادی مسائل کو لے کر 6 روزہ احتجاجی مظاہرہ ملتوینئی نسل کی اخلاقی و تعلیمی تربیت اساتذہ کی اولین ذمہ داری: قاری ذاکر حسین قاسمی،جمعیت علماء شہر و ضلع مظفر نگر کے تحت تنظیم ائمہ و علمائے مساجدکے زیرِ انتظام اجلاس کا انعقاد11 نومبر کو ’’ تعلیمی کانفرنس‘‘ و تقریب تقسیم انعامات,
Bihar

’ضلع کے ہر گاؤں اور محلہ میں دینی مکتب قائم کرناوقت کاتقاضا‘،چھپراکے مشہور ادارہ جامعہ ہاجرہ بیلا میں مشاورتی میٹنگ منعقد کا انعقاد

(پی این این)
سارن:ضلع کے مشہور ادارہ جامعہ ہاجرہ بیلا میں بعد نماز مغرب ایک مشاورتی میٹنگ منعقد ہوئی۔جسمیں ضلع کے مختلف علاقوں سے کثیر تعداد میں ممبران حضرات کی تشریف آوری ہوئی۔ پروگرام کا آغاز جامعہ کے استاذ قاری انصار کے تلاوت سے ہوا اور عزیزم انس سلمہ نے نعت نبی پیش کی جبکہ نظامت کے فرائض حافظ اعجاز الحق نے انجام دیئے۔کلیدی خطاب جمعیت علماء ہند کے ضلع صدر و جامعہ کے مہتمم مولانا ظفر عالم قاسمی نے پیش کیا۔
انہوں نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جس جذبہ ایمانی کے ساتھ ہم سب یہاں جمع ہوئے ہیں اسی جذبہ کے ساتھ اب ہم لوگوں کو زمینی سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ وقت بات کرنے کا نہیں بلکہ کام کرنے کا ہے۔ابھی اسی وقت کوئی لائحہ عمل طے کیجیے اور کام شروع کر دیجیے۔انہوں نے کہا کہ اپنے ساتھ تمام تنظیموں اور تمام جماعتوں کو شامل کیجیے۔ہمیں ایک دوسرے کا رفیق بن کر کام کرنا ہے فریق بن کر نہیں۔جب ہم رفیق بن کر کام کریں گے تو ہمیں ایک دوسرے کا ساتھ ملےگا اور کام کرنا آسان ہوگا۔انہوں نے مزیدکہا کہ اگر فریق بن کر کام کریں گے تو فراق ہوگا اور اس سے کام کرنے میں دشواریاں پیدا ہوں گی۔لہذا وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے کام کیجیے۔امت کو ہر ممکن انتشار سے بچانے کی کوشش کیجیئے۔
اس موقع پر موصوف نے چند تجاویز بھی پیش کیں۔جن میں ضلع کے ہر اس گاؤں میں جہاں پسماندہ طبقہ کے مسلمان رہتے ہیں وہاں دینی مکتب قائم کیا جائے تاکہ وہاں کے بچے اور بچیوں کو قرآنی تعلیمات سے آراستہ کیا جا سکے۔نوجوان نسلوں میں بڑھتے ارتداد کو روکنے کے لئے مضبوط لائحہ عمل طے کیا جائے اور اسلام کی صحیح تصویر پیش کی جائے تاکہ انکے شکوک و شبہات دور ہو سکیں۔غریب بیواؤں اور یتیم بچیوں کی امداد رسی کی جائے۔باتفاق رائے تجویز منظور کر لی گئی اور 10 افراد پر مشتمل ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔جو ایسے گاؤں کا جائزہ لے گی جہاں مکتب کی ضرورت ہوگی۔وہاں فوری طور پر مکتب کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔
اس موقع پر مہمان خصوصی جمعیت علماء کے ضلع ناظم حاجی توقیر عثمان،محمد مطلوب،ارشاد صاحب،حاجی انوار احمد،ماسٹر شبیب احمد،ماسٹر شمشاد،لطیف‌الرحمن،ڈاکٹر مختار،ڈاکٹر علی شیر، حفیظ الرحمٰن،اشرف صاحب،ماسٹر حسیب وغیرہم نے بھی اپنے قیمتی مشوروں سے نوازا۔ جامعہ کے صدر عبد الحنان،سکریٹری پروفیسر شاہد عالم اور ناظم تعلیمات مولانا طارق عظیم اور تمام اساتذۂ اکرام نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔مولانا ظفر عالم قاسمی کی رقت آمیز دعاؤں پر مجلس کا اختتام ہوا۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔