Connect with us

Bihar

’ضلع کے ہر گاؤں اور محلہ میں دینی مکتب قائم کرناوقت کاتقاضا‘،چھپراکے مشہور ادارہ جامعہ ہاجرہ بیلا میں مشاورتی میٹنگ منعقد کا انعقاد

Published

on

(پی این این)
سارن:ضلع کے مشہور ادارہ جامعہ ہاجرہ بیلا میں بعد نماز مغرب ایک مشاورتی میٹنگ منعقد ہوئی۔جسمیں ضلع کے مختلف علاقوں سے کثیر تعداد میں ممبران حضرات کی تشریف آوری ہوئی۔ پروگرام کا آغاز جامعہ کے استاذ قاری انصار کے تلاوت سے ہوا اور عزیزم انس سلمہ نے نعت نبی پیش کی جبکہ نظامت کے فرائض حافظ اعجاز الحق نے انجام دیئے۔کلیدی خطاب جمعیت علماء ہند کے ضلع صدر و جامعہ کے مہتمم مولانا ظفر عالم قاسمی نے پیش کیا۔
انہوں نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جس جذبہ ایمانی کے ساتھ ہم سب یہاں جمع ہوئے ہیں اسی جذبہ کے ساتھ اب ہم لوگوں کو زمینی سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ وقت بات کرنے کا نہیں بلکہ کام کرنے کا ہے۔ابھی اسی وقت کوئی لائحہ عمل طے کیجیے اور کام شروع کر دیجیے۔انہوں نے کہا کہ اپنے ساتھ تمام تنظیموں اور تمام جماعتوں کو شامل کیجیے۔ہمیں ایک دوسرے کا رفیق بن کر کام کرنا ہے فریق بن کر نہیں۔جب ہم رفیق بن کر کام کریں گے تو ہمیں ایک دوسرے کا ساتھ ملےگا اور کام کرنا آسان ہوگا۔انہوں نے مزیدکہا کہ اگر فریق بن کر کام کریں گے تو فراق ہوگا اور اس سے کام کرنے میں دشواریاں پیدا ہوں گی۔لہذا وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے کام کیجیے۔امت کو ہر ممکن انتشار سے بچانے کی کوشش کیجیئے۔
اس موقع پر موصوف نے چند تجاویز بھی پیش کیں۔جن میں ضلع کے ہر اس گاؤں میں جہاں پسماندہ طبقہ کے مسلمان رہتے ہیں وہاں دینی مکتب قائم کیا جائے تاکہ وہاں کے بچے اور بچیوں کو قرآنی تعلیمات سے آراستہ کیا جا سکے۔نوجوان نسلوں میں بڑھتے ارتداد کو روکنے کے لئے مضبوط لائحہ عمل طے کیا جائے اور اسلام کی صحیح تصویر پیش کی جائے تاکہ انکے شکوک و شبہات دور ہو سکیں۔غریب بیواؤں اور یتیم بچیوں کی امداد رسی کی جائے۔باتفاق رائے تجویز منظور کر لی گئی اور 10 افراد پر مشتمل ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔جو ایسے گاؤں کا جائزہ لے گی جہاں مکتب کی ضرورت ہوگی۔وہاں فوری طور پر مکتب کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔
اس موقع پر مہمان خصوصی جمعیت علماء کے ضلع ناظم حاجی توقیر عثمان،محمد مطلوب،ارشاد صاحب،حاجی انوار احمد،ماسٹر شبیب احمد،ماسٹر شمشاد،لطیف‌الرحمن،ڈاکٹر مختار،ڈاکٹر علی شیر، حفیظ الرحمٰن،اشرف صاحب،ماسٹر حسیب وغیرہم نے بھی اپنے قیمتی مشوروں سے نوازا۔ جامعہ کے صدر عبد الحنان،سکریٹری پروفیسر شاہد عالم اور ناظم تعلیمات مولانا طارق عظیم اور تمام اساتذۂ اکرام نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔مولانا ظفر عالم قاسمی کی رقت آمیز دعاؤں پر مجلس کا اختتام ہوا۔

Bihar

’دعوتِ گفتگو‘کے تحت ایک علمی و ادبی مذاکرہ کا انعقاد

Published

on

گیا جی : شہر کے نیو کریم گنج میں واقع مولانا انوارالحق اردو لائبریری میں جمعہ کی شام ’’دعوتِ گفتگو‘‘ کے تحت ایک علمی و ادبی مذاکرہ منعقد ہوا، جس میں ادب، علم اور فکر کے دو اہم موضوعات پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ پہلا موضوع ساہتیہ اکادمی ایوارڈ یافتہ ممتاز افسانہ نگار و ادیب پروفیسر حسین الحق کی شخصیت اور ادبی خدمات تھا، جبکہ دوسرا موضوع بھارت رتن اور سابق صدر ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی تصنیفی خدمات اور ان کے افکار کی عصری معنویت پر مشتمل تھا۔
مقررین نے کہا کہ پروفیسر حسین الحق نے اپنی تخلیقات میں انسانی رشتوں، سماجی تبدیلیوں اور عوامی زندگی کے مسائل کو نہایت حساس اور فنی انداز میں پیش کیا، جس کی وجہ سے انہیں اردو فکشن میں نمایاں مقام حاصل ہے۔
اس موقع پر ان کی غیر مطبوعہ تحریروں پر مشتمل دو کتابوں ’’حسین الحق: فن اور فنکار‘‘ اور ’’حسین الحق: مسافر کا خواب‘‘ کی رسمِ اجرا بھی انجام دی گئی۔ ان کتابوں کی تدوین ان کے صاحبزادے ڈاکٹر سید عینین علی حق نے کی ہے۔ مقررین نے اسے اردو ادب کے لیے ایک اہم اضافہ قرار دیا۔
دوسرے اجلاس میں ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی سائنسی، تعلیمی اور ادبی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ان کی تحریریں نوجوانوں میں علم، تحقیق، سائنسی مزاج اور قومی خدمت کا جذبہ پیدا کرتی ہیں اور ان کی زندگی عزم، دیانت اور محنت کی روشن مثال ہے۔
جلسے کی صدارت پروفیسر سید احمد قادری نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض شارے علی حق نے انجام دیے۔ مذاکرے سے پروفیسر قاسم فریدی، پروفیسر عین تابش، ندیم جعفری، پروفیسر محمد بدیع الزماں، پروفیسر اصفر جمال ملک، پروفیسر مشیر الزماں، نوشاد ناداں، ڈاکٹر احسان اللہ دانش، پروفیسر پرویز وہاب اور امان الحق نے خطاب کیا۔ مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ مدثر ظفر اور غلام غوث نے بھی اظہارِ خیال کیا۔
اس موقع پر اسد الحق، آفتاب عالم، صحافی فیصل رحمانی، ممتاز احمد، معراج احمد، ایس ایم ثاقب، سید فضل الرحمن، ابو آلے، اشتیاق عالم اور لائبریرین محمد دانش سمیت بڑی تعداد میں اہلِ علم، ادباء، محققین اور کتاب دوست افراد موجود تھے۔
اختتام پر پروفیسر پرویز وہاب نے کہا کہ مولانا انوارالحق اردو لائبریری صرف کتابوں کا ذخیرہ نہیں بلکہ علمی و ادبی مکالمے کا ایک فعال مرکز ہے۔ بعد ازاں پروفیسر عین تابش کے کلمات تشکر سے پروگرام اختتام پزیر ہوا۔

Continue Reading

Bihar

تحریم فاطمہ نے نیٹ یوجی2026میں شاندار کامیابی حاصل کرکے علاقے کا نام کیاروشن

Published

on

دربھنگہ: ضلع کی باصلاحیت طالبہ تحریم فاطمہ، دختر اعجاز احمد اور شبانہ پروین نے قومی اہلیت و داخلہ امتحان (نیٹ یوجی) 2026 میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔
تحریم فاطمہ نے 720 میں سے 601 نمبر حاصل کیے ہیں۔ انہیں 99.5092242 پرسنٹائل حاصل ہوا ہے جبکہ آل انڈیا رینک (اے آئی آر) 9503 حاصل کرکے اپنی قابلیت کا لوہا منوایا ہے۔ مضامین کے لحاظ سے انہوں نے حیاتیات (بایولوجی) میں 99.86 پرسنٹائل، کیمسٹری میں 99.71 پرسنٹائل اور فزکس میں 98.38 پرسنٹائل حاصل کیے ہیں۔
تحریم کی اس شاندار کامیابی پر ان کے اہلِ خانہ، اساتذہ اور پورے علاقے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ تمام خیرخواہوں نے ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ مستقبل میں ایک کامیاب ڈاکٹر بن کر انسانیت، معاشرے اور ملک کی خدمت کریں گی۔اس موقع پر اہلِ خانہ، اساتذہ، دوستوں اور علاقے کی معزز شخصیات نے تحریم فاطمہ کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کی اس کامیابی کو ضلع کے لیے باعثِ فخر قرار دیا۔تحریم کے بھائی عبدالواسع نے کہا کہ تحریم نے یہ نمایاں کامیابی حاصل کرکے نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے معاشرے کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔ہم سب کی جانب سے تحریم فاطمہ کو اس شاندار کامیابی پر دلی مبارکباد اور ان کے روشن، کامیاب اور تابناک مستقبل کے لیے نیک خواہشات۔ اللہ تعالیٰ انہیں مزید کامیابیاں عطا فرمائے۔ آمین۔

Continue Reading

Bihar

جھارکھنڈ میں ایس آئی آر کے فارم کی خانہ پُری کے لئے عوامی بیدار تحریک سرگرم عمل

Published

on

پھلواری شریف : ر  یاست جھارکھنڈ میں انتخای فہرستوں پر نظر ثانی کا کام چل رہا ہے ،ووٹر لسٹ میں ناموں کو درج کرانے کے لئے امارت شرعیہ بہار،اڈیشہ ،جھارکھنڈ و مغربی بنگال کی طرف سے عوامی بیداری لانے کی خاطر ریاست بھر میں گیارہ رکنی ٹیمیں مستقل متحڑک و سرگرم عمل ہیں ،یہ تمام ٹیمیں امارت شرعیہ بہار ،اڈیشہ ،جھارکھنڈ و مغربی بنگال کے امیر شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ ،ناظم امارت شرعیہ مولانا مفتی محمد سعید الرحمٰن قاسمی صاحب ،قاضی شریعت مولانا مفتی محمد انظار عالم قاسمی صاحب اور نائب ناظم مولانا مفتی محمد سہراب ندوی قاسمی صاحب کی نگرانی میں اضلاع کی سطح سے بلاک و قصبات تک ایس آئی آر کے فارم بھرنے کے طریقہ کار سے واقف کرا رہے ہیں ،جس سے لوگوں میں بیداری آ رہی ہے ۔امارت شرعیہ کی طرف سے رہنمائی کرنے والی ٹیموں کی رپورٹ سے اندازہ ہوتا ہے کہ لوگ فکر و عمل کی یکسانیت اور مسئلہ کی حساسیت و نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے بڑی دلچسپی سے تربیتی کیمپوں میں شرکت کر رہے ہیں ،ضلع رانچی کے مانڈر اور بیڑو بلاک سے قاضی انور صاحب ،مفتی محمد وسیم اختر صاحب ،مولانا سہیل سجاد صاحب اور مولانا اسجد قاسمی صاحب نے اپنی رپورٹ میں بتلایا کہ یہ ٹیم ہر اعتبار سے کامیابی کے ساتھ چل رہی ہے ،مانڈر بلاک کے پانچ مقامات پر ایس آئی آر ہیلپ ڈیسک لگائے جا چکے ہیں ،اسی طرح بیڑو میں چار جگہوں پر تربیتی کیمپ منعقد ہوئے اور ہر جگہ فعال نوجوان کی ٹیم مقرر کر دی گئی ہے ،ضلع گڈا سے قاضی سہیل اختر قاسمی صاحب اور مولانا مجیب الرحمٰن قاسمی صاحب نے کہا کہ مہگاواں بلاک اور بسنترائے کے خرد سانکھی ،بسنت رائے ،جمنی کولہ کیتھیا میں تربیتی پروگرام ہوئے ۔ضلع دھنباد سے قاضی شاہدقاسمی صاحب نے لکھا کہ ضلع بوکارو کے چندنکیاری ،انصار محلہ ،نوڈیہا،مکتا پور کے مقامی اصحاب کی مٹینگیں ہوئیںاور ان کے سامنے ایس آئی آر کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی،اس کے بعد ہیلپ ڈیسک قائم ہوا ،قاضی ضمیرالدین قاسمی صاحب نے گریڈیہہ کے منڈا ٹانر اور بلائی ڈیہہ میں متدد اجتماعات کئے ۔مولانا احمد حسین احمدقاسمی مدنی ،مولانا عمران عالم قاسمی اور مولانا سرفراز عالم مظاہری نے ضلع دیوگھر کے کئی بستیوں میںپروگرام کیا اور ایس آئی آر کے تعلق سے رہنمائی کی،بستیوں میں نوجوانوں کی ٹیم بھی بنا دی گئی ہے کام بھی جاری ہے ۔مولانا قمر انیس قاسمی صاحب اور قاضی سعود عالم قاسمی صاحب نے اپنے معاونین کے ساتھ جمشید پور چائباسہ میں متعدد پرگرام کئے اور ہر جگہ ہیلپ ڈیسک تشکیل دی ۔مولانا کلیم اللہ مظہر قاسمی ،مفتی عبدالباری قاسمی ،مولانا رفیع احمد ندوی اور مولانا عبدالجبار حسامی کی معاونت میں ہزاری باغ کے بڑکا گاؤں بلاک کے مختلف علاقوں میں رہنمائی میں مستقل مصروف ہیں اور متحرک نوجوانوں کی ٹیم تشکیل دے کر ایس آئی آر مہم کو قوت بخش رہے ہیں اور ہر مقام پر رضاکاروں کو بھی توجہ دلا رہے ہیں۔مولانا قیام الدین قاسمی،مولانا سعودا للہ رحمانی ،قاضی صدام حسین قاسمی اور مولانا ضیاء الاسلام قاسمی پاکوڑ کے مختلف علاقوں میں لوگوں کو ایس آئی آر کا فارم بھرنے کی طریقہ بتلایا اور اکثر مساجد کے دروازہ پر ہیلپ ڈیسک قائم کیا اور وہاں نامزد افراد بھی طے کر دیئے جس سے کاموں کو آگے بڑھانے میں سہولت پیدا ہوئی ۔مولانااکرام الدین قاسمی صاحب ،مولانا عبدالجبار قاسمی صاحب ضلع لاتیہار کے لالٹین گنج کے مختلف دیہی و شہری آبادیوں میں مستقل ایس آئی آر کی اہمیت سے لوگوں کو واقف کرا رہے ہیں اور باہمی مشورہ سے ٹیمیں بھی تشکیل دے رہے ہیں ۔مولانا مختار احمد قاسمی اور مولانا احمد حسین قاسمی نے سمڈیگا سے رپورٹ دیتے ہوئے کہا کہ اس علاقہ میں 90/فیصد کام مکمل ہو گیا ہے ،شہر کے مختلف محلوں میں عوامی رہنمائی ،فارموں کی جانچ اور اصلاح کا کام اطمینان بخش طریقہ سے انجام پا رہا ہے ۔امارت شرعیہ کی تحریک اور یہاں کے علماء کی جدوجہد سے جھارکھنڈ میں عوامی بیداری مہم کامیابی کے ساتھ انجام پا رہا ہے ۔ان شاء اللہ مستقبل میں اس کے مفید اثرات ظاہر ہوں گے ۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network