Connect with us

دلی این سی آر

زبانی احکامات نہیں، بلکہ قانون بنا کر او-زون کی رہائشی کالونیوں کو تحفظ دے سرکار: سوربھ بھاردواج

Published

on

نئی دہلی: عام آدمی پارٹی نے او-زون میں قائم رہائشی کالونیوں کو بچانے کے لیے بی جے پی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں قانون بنا کر ان کالونیوں کو تحفظ فراہم کرے۔آپ کے دہلی ریاستی صدر سوربھ بھاردواج نے کہا کہ اگر بی جے پی حکومت واقعی او-زون کی رہائشی کالونیوں کو تحفظ دینا چاہتی ہے تو صرف زبانی احکامات سے کام نہیں چلے گا، بلکہ اس کے لیے قانون بنایا جائے۔ او-زون علاقہ خالی کرانے کا حکم بی جے پی کے زیر انتظام ڈی ڈی اے کی بار بار عدالت سے رجوع کرنے کی وجہ سے آیا ہے۔ ایک طرف حکومت کہتی ہے کہ کوئی گھر نہیں توڑا جائے گا، لیکن دوسری طرف مسلسل انہدامی کارروائیاں جاری ہیں۔ جھگیوں کے معاملے میں بھی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا یہی کہتی رہیں کہ کوئی جھگی نہیں توڑی جائے گی، لیکن روزانہ جھگیاں گرائی جا رہی ہیں۔ بدھ کو آپ ہیڈکوارٹر میں براڑی سے رکن اسمبلی سنجیو جھا کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے دہلی ریاستی صدر سوربھ بھاردواج نے کہا کہ او-زون یا نام نہاد او-زون کے دائرے میں آنے والے گھروں اور جائیدادوں پر گزشتہ چند دنوں سے حکومت کی جانب سے انہدامی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ اس کے باعث دہلی میں ویسا ہی خوف و ہراس پھیل گیا ہے جیسا کچھ عرصہ قبل جھگی جھونپڑیوں میں رہنے والوں کے درمیان دیکھا گیا تھا۔ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا روزانہ کہتی تھیں کہ جھگیاں نہیں توڑی جائیں گی، لیکن جس دن وہ یہ بیان دیتی تھیں، اسی دن جھگیوں پر بلڈوزر چل جاتا تھا۔ آج بھی حکومت کہہ رہی ہے کہ او-زون کے معاملے میں کوئی کارروائی نہیں ہوگی، لیکن منگل کو وہاں رہائشی عمارتوں پر بلڈوزر چلایا گیا۔ ہم حکومت سے کہنا چاہتے ہیں کہ محض زبانی بیانات دینے کے بجائے تحریری اور قانونی کارروائی کرے۔سوربھ بھاردواج نے مزید کہا کہ ہائی کورٹ میں بار بار مرکزی حکومت سے پوچھا گیا کہ دہلی اسپیشل پروویژن ایکٹ کے تحت غیر مجاز کالونیوں کو جو تحفظ حاصل ہے، کیا وہ او-زون کی کالونیوں کو بھی حاصل ہے؟ اس سوال پر مرکزی حکومت اور ڈی ڈی اے نے جان بوجھ کر خاموشی اختیار کی تاکہ ان کالونیوں کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔ ڈی ڈی اے نے مختلف عدالتوں میں بار بار یمنا کے کنارے رہنے والے لوگوں کے خلاف کارروائی اور انہدام کا مطالبہ کیا۔ مرکز میں بیٹھی بی جے پی حکومت کی انہی پالیسیوں کی وجہ سے دہلی کے لاکھوں لوگوں کے سروں پر بے گھر ہونے کی تلوار لٹک رہی ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پارلیمنٹ میں قانون لا کر واضح کیا جائے کہ دہلی اسپیشل پروویژن ایکٹ کے تحت جو تحفظ غیر مجاز کالونیوں کو دیا گیا ہے، وہی تحفظ او-زون میں واقع رہائشی کالونیوں کو بھی حاصل ہوگا۔ اس موقع پر براڑی سے رکن اسمبلی سنجیو جھا نے کہا کہ بی جے پی حکومت او-زون میں رہنے والے لوگوں کو بے گھر کرنے کی دانستہ سازش کر رہی ہے۔ دہلی کے ارکان پارلیمنٹ، وزیر اعلیٰ اور وزراء جھوٹے وعدے اور یقین دہانیاں دے کر لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ ان کی نیت کچھ اور ہے اور کہتے کچھ اور ہیں۔ تین دن قبل براڑی کے جگت پور گاؤں میں بی جے پی رکن پارلیمنٹ رام ویر سنگھ بدھوڑی اور منوج تیواری نے ایک پنچایت میں کہا تھا کہ ایک بھی اینٹ نہیں ٹوٹے گی، لیکن اگلے ہی دن اسی گاؤں میں انہدامی کارروائی کر دی گئی۔ دو دن قبل ریکھا گپتا کراول نگر گئی تھیں، جہاں موجود تمام وزراء ، ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی نے بار بار کہا کہ ایک بھی اینٹ نہیں ہلے گی، لیکن منگل کو وہاں بھی مکانات گرائے گئے۔ ایک بیوہ خاتون نے بڑی مشکل سے پیسے جمع کرکے اپنا گھر بنایا تھا، جسے منگل کو منہدم کر دیا گیا۔ ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ جب بی جے پی کے رہنما بار بار یقین دہانی کرا رہے ہیں تو پھر مکانات کیوں گرائے جا رہے ہیں؟سنجیو جھا نے مزید کہا کہ ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ بی جے پی کے رہنما، ارکان پارلیمنٹ، وزراء اور وزیر اعلیٰ خود ہی ڈی ڈی اے سے ناانصافی نہ کرنے کی اپیل کیوں کر رہے ہیں؟ انہوں نے کہا تھا کہ ڈبل انجن کی حکومت ہوگی اور عوام کی مشکلات کم کی جائیں گی۔ کیا ڈبل انجن کی حکومت میں انجن سے بڑا بھی کوئی پرزہ ہو گیا ہے؟ اس کا صاف مطلب ہے کہ ان کی نیت گھر بچانے کی ہے ہی نہیں۔عدالت نے بار بار پوچھا کہ کیا او-زون کے رہائشیوں کو خصوصی تحفظ دیا جا رہا ہے، لیکن انہوں نے خاموشی اختیار کر لی۔ الٹا یہ کہا گیا کہ ہم بازآبادکاری کی اسکیم بنا رہے ہیں۔ بازآبادکاری کا منصوبہ بنانے کا مطلب ہی یہ ہے کہ لوگوں کو بے دخل کیا جا رہا ہے۔ بی جے پی جھوٹ بول کر لوگوں کو گمراہ کر رہی ہے تاکہ مرحلہ وار مکانات گرائے جا سکیں۔ سنجیو جھا نے کہا کہ بی جے پی کے لوگ یہ بہانہ بناتے ہیں کہ صرف نئے مکانات گرائے جائیں گے۔ لیکن نئے مکان کی تعریف کیا ہے؟ کسی نے سات سال پہلے مکان بنایا، اسے نیا قرار دے کر گرا دیا گیا۔ ایک شخص اپنی ستر سال پرانی آبائی زمین پر چار دیواری تعمیر کر رہا تھا، اسے بھی نیا تعمیراتی کام قرار دے کر منہدم کر دیا گیا۔ نئی تعمیر کا بہانہ صرف اس لیے بنایا جا رہا ہے کہ پہلے سب کچھ گرا دیا جائے اور جو بچ جائے اسے بعد میں ختم کر دیا جائے۔ دہلی کے عوام کے ساتھ ہونے والی یہ ناانصافی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ہم سب نے طے کیا ہے کہ اس مسئلے کا حل صرف پارلیمنٹ سے نکل سکتا ہے۔ پارلیمنٹ میں قانون بنا کر یا آرڈیننس لا کر ہی اس مسئلے کا مستقل حل ممکن ہے۔ جب دوسرے معاملات میں بڑے بڑے آرڈیننس لائے جا سکتے ہیں تو غریبوں کے گھر بچانے کے لیے آرڈیننس کیوں نہیں لایا جا سکتا؟سنجیو جھا نے مزید کہا کہ اب عام آدمی پارٹی دہلی کی ہر کالونی میں جا کر او-زون ہٹاؤ، پارلیمنٹ میں قانون لاؤ اور غریب کا گھر بچاؤ کے عنوان سے دستخطی مہم چلائے گی۔ ہم بی جے پی کو عوام کو گمراہ نہیں کرنے دیں گے۔ ان کی ریگولرائزیشن پالیسی کے تحت صرف 40 فیصد غیر مجاز کالونیاں ہی باقاعدہ قرار دی جا سکی ہیں۔ 2014 کے بعد ہونے والی توسیع کو اس میں شامل نہیں کیا گیا۔ مسئلہ صرف او-زون کا نہیں ہے، اگر آج ہم کھڑے نہیں ہوئے تو کل سب کی باری آئے گی۔ ہم ایک ایک کالونی میں جائیں گے اور دستخطی مہم چلائیں گے۔ دہلی کی 91 کالونیوں میں رہنے والے لوگ خوف اور صدمے میں مبتلا ہیں۔ وہ جھوٹی یقین دہانی نہیں، بلکہ پارلیمنٹ سے قانون بنا کر تحفظ چاہتے ہیں۔ بی جے پی غریبوں کو دہلی سے بے دخل کرنا چاہتی ہے۔ پہلے جھگیاں گرا کر غریبوں کو ہٹایا گیا، اب باقی غریبوں کو بھی بے گھر کیا جا رہا ہے۔ وہ بھول گئے ہیں کہ یہی غریب دہلی کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ چھوٹے موٹے کام کرنے والے بیشتر لوگ انہی علاقوں میں رہتے ہیں۔ ہمارا وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا جی سے مطالبہ ہے کہ دہلی کو برباد نہ کیجیے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

دلی این سی آر

جامعہ ملیہ اسلامیہ نے لائبریری ریڈنگ ہال کی نشستوں میں توسیع

Published

on

 

نئی دہلی :جامعہ ملیہ اسلامیہ نے اپنی تاریخی ڈاکٹر ذاکر حسین لائبریریکے ریڈنگ ہال کو نمایاں طور پر وسیع اور جدید خطوط پر استوار کیا ہے۔ یہ اقدام طلبہ کو تعلیم و تحقیق کے لیے ایک جدید، سب کے لیے سازگار اور طلبہ دوست ماحول فراہم کرنے کی جاری کوششوں میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
لائبریری کی ان بہتر سہولیات کو طلبہ، محققین اور اساتذہ کی تعلیمی و تحقیقی ضروریات جو مسلسل تبدیل اور بڑھ رہی ہیں کی تکمیل کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس میں بیٹھنے کی گنجائش میں اضافہ، اوقات کار میں توسیع، بنیادی ڈھانچے میں بہتری اور آرام دہ ماحول کی فراہمی شامل ہے۔تجدید شدہ اور وسیع کیے گئے مطالعہ کے ہالوں کا افتتاح مورخہ چودہ جولائی دوہزار چھبیس کو عزت مآب پروفیسر مظہر آصف،شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے عالی وقار مسجل پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی نے کیا۔ اس موقع پر یونیورسٹی کے لائبریرین ڈاکٹر وکاس ایس ناگرالے، مختلف شعبہ جات کے ڈین اور سربراہان، یونیورسٹی کے ممتاز عہدیداران، اساتذہ، طلبہ اور مدعو مہمان بھی موجود تھے۔ تقریب کا آغاز ربن کاٹنے کی رسم سے ہوا، جس کے بعد شرکا کو تجدید شدہ مطالعہ ہالوں کا معائنہ کرایا گیا۔نئی سہولیات کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر وکاس ایس ناگرالے نے بتایا کہ تجدید شدہ اور توسیع شدہ ریڈنگ ہال میں دوسو پچاس نشستوں پر مشتمل ایک ہال خاص طور پر تحقیقی اسکالرس اور پوسٹ گریجویٹ طلبہ کے لیے، اور ایک سو پچاس نشستوں والا ایک ہال پوسٹ گریجویٹ طلبہ کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ ان جدید سہولیات میں آرام دہ اور جسمانی ساخت کے موافق (ergonomic) فرنیچر، بہتر روشنی اور ہوا کے گزر کا نظام، آسان رسائی اور مطالعے کے لیے پرسکون ماحول شامل ہیں۔ تعلیمی برادری کی بہتر خدمت کے لیے، دونوں ریڈنگ ہال ہفتے کے ساتوں دن، بشمول ہفتہ اور اتوار، رات بارہ بجے تک کھلے رہیں گے۔
اس کے علاوہ، جامعہ ملیہ اسلامیہ کی پرانی لائبریری کا ریڈنگ ہال رات دو بجے تک کھلا رہتا ہے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پروفیسر آصف نے علم، جدت اور ذہنی و فکری نشوونما کے مراکز کے طور پر لائبریریوں کے اہم کردار پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ لائبریریاں اسکالرس کے لیے محض مطالعے اور حوالہ جاتی مواد کے حصول کی جگہیں نہیں ہیں بلکہ یہ طلبہ کے درمیان باہمی ربط کو بڑھانے کے لیے بہترین مراکز کا کام بھی دیتی ہیں، جس سے باہمی تعاون پر مبنی آموزش کے عمل اور تعلیمی مباحثوں کو فروغ ملتا ہے۔ پروفیسر آصف نے تعلیمی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے اپنی انتظامیہ کے عزم کا اعادہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ آج کی ڈیٹا پر مبنی دنیا میں سیکھنے اور تحقیق کے کلچر کو فروغ دینے کے لیے لائبریری کی جدید سہولیات ناگزیر ہیں۔لائبریریوں کو ”کسی بھی ادارے کی تعلیمی زندگی کی ریڑھ کی ہڈی“قرار دیتے ہوئے، پروفیسر رضوی نے کہا کہ یہ توسیع طلبہ پر مرکوز پالیسیوں اور نقطہ نظر کے مطابق تعلیمی وسائل میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی مسلسل سرمایہ کاری کا پختہ ثبوت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تجدید شدہ اور وسیع تر ریڈنگ ہال سے مجموعی تعلیمی تجربے میں نمایاں بہتری متوقع ہے اور یہ عالمی معیار کی تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کے یونیورسٹی کے وژن میں معاون ثابت ہوں گے۔ انہوں نے یونیورسٹی لائبریرین اور ڈاکٹر ذاکر حسین لائبریری کے عملے کی کوششوں کو بھی سراہا، جنہوں نے جامعہ کی وسیع تعلیمی برادری کی متنوع اور بدلتی ضروریات کے مدنظر بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے عزم کا مظاہرہ کیا۔یونیورسٹی لائبریرین ڈاکٹر وکاس ایس ناگرالے نے لائبریری کے ترقیاتی اقدامات کو کامیابی سے نافذ کرنے میں مسلسل رہنمائی اور غیر متزلزل تعاون کے لیے پروفیسر آصف اور پروفیسر رضوی کا صمیم قلب سے شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ بہتری لائبریری کے اس عزم کو اجاگر کرتی ہے کہ وہ طلبہ پر مرکوز جدید تعلیمی ماحول فراہم کرے جو تعلیمی فضیلت اور تحقیق میں ممد و معاون ہو، نیز وقت کے تقاضوں کے مطابق اپنی خدمات کو مسلسل بہتر بناتی رہے۔افتتاحی تقریب کی نظامت کے فرائض ذاکر حسین لائبریری کے جان محمد میر نے انجام دیے اور محترمہ شاذیہ علوی نے باضابطہ طور پر سب کا شکریہ ادا کیا۔ تقریب کا اختتام قومی ترانہ کی نغمہ سرائی کے ساتھ ہوا۔

Continue Reading

دلی این سی آر

’آپ ‘نے بغیر کوئی وجہ بتائے تین خواتین کونسلروں کوکیا معطل

Published

on

نئی دہلی :دہلی میں ایک دن پہلے ہونے والے ایم سی ڈی زونل کمیٹی کے انتخابات میں کراری شکست کے بعد، عام آدمی پارٹی نے جمعرات کو اپنے تین کونسلروں کو پارٹی سے معطل کر دیا۔ پارٹی کی دہلی یونٹ کے صدر سوربھ بھردواج نے ایک حکم نامہ جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ مندرجہ ذیل ایم سی ڈی کونسلروں کو عام آدمی پارٹی سے معطل کر دیا گیا ہے۔اس دوران انہوں نے مسز نرملا دیوی (شرما)، مسز کرشنا راگھو، اور مسز سلطانہ آباد کو پارٹی رکنیت سے معطل کر دیا۔ اگرچہ سوربھ بھاردواج نے اپنے حکم میں کونسلروں کو معطل کرنے کی وجہ نہیں بتائی، لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ پارٹی نے ان کونسلروں کے خلاف یہ کارروائی کل کے ایم سی ڈی زونل کمیٹی کے انتخابات میں ان کے خلاف کراس ووٹنگ کے الزامات کے بعد کی ہے۔
اس بارے میں معلومات فراہم کرتے ہوئے ایم سی ڈی لیڈر آف اپوزیشن انکش نارنگ نے کہا، “ویسٹ زون اور سٹی ایس پی زون میں چیئرمین کے انتخاب میں پارٹی کے خلاف کراس ووٹ دینے والے کونسلروں کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کا واضح پیغام ہے کہ مینڈیٹ اور پارٹی کے ساتھ دھوکہ دہی کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کی جائے گی۔” پارٹی مخالف سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی۔
اس سے پہلے بی جے پی نے 12 ایم سی ڈی وارڈ کمیٹی کے انتخابات میں سے 10 میں چیئرپرسن کا عہدہ حاصل کیا اور چھ میں سے پانچ اسٹینڈنگ کمیٹی سیٹیں حاصل کیں۔ عام آدمی پارٹی نے بقیہ دو وارڈ کمیٹیوں اور ایک اسٹینڈنگ کمیٹی سیٹ پر چیئرپرسن کے عہدوں پر کامیابی حاصل کی۔
ان نتائج کے ساتھ ہی بی جے پی نے 18 رکنی اسٹینڈنگ کمیٹی میں اپنی پوزیشن مزید مضبوط کر لی ہے۔ کمیٹی میں اب 12 بی جے پی اور 6 اے اے پی ممبران ہیں۔ سٹینڈنگ کمیٹی کے علاوہ 12 وارڈ کمیٹیوں کے چیئرپرسن اور وائس چیئرپرسن کے عہدوں کے لیے انتخابات ایم سی ڈی ہیڈکوارٹرس سوک سینٹر میں منعقد ہوئے۔اس مدت کے دوران، بی جے پی نے نجف گڑھ، شاہدرہ ساؤتھ، شاہدرہ نارتھ، ساؤتھ، کیشو پورم، نریلا، سول لائنز، سٹی ایس پی، سینٹرل اور ویسٹرن زون کی وارڈ کمیٹیوں میں چیئرپرسن کے عہدوں پر کامیابی حاصل کی۔ دریں اثنا، AAP نے روہنی اور قرول باغ وارڈ کمیٹیوں میں چیئرپرسن شپ حاصل کی۔ نجف گڑھ میں بی جے پی کے جیویر سنگھ رانا کو چیئرپرسن اور سشما راٹھی کو وائس چیئرپرسن منتخب کیا گیا۔ ششی یادو کو اسٹینڈنگ کمیٹی کے لیے منتخب کیا گیا۔ تینوں بلامقابلہ منتخب ہوئے۔

Continue Reading

دلی این سی آر

جل بورڈ نے ایم سی ڈی سےمانگا 5سالہ عمارت کا ریکارڈ

Published

on

نئی دہلی :دہلی حکومت ان تمام عمارتوں کو سیل کر سکتی ہے جن کے لیے پانی اور سیوریج انفراسٹرکچر فنڈ چارجز (IFC) دہلی جل بورڈ (DJB) کے پاس جمع نہیں کیے گئے ہیں۔ ڈی جے بی نے دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) سے پچھلے پانچ سالوں کے تعمیراتی منصوبوں کا ریکارڈ طلب کیا ہے۔ ادائیگی میں ناکامی جائیداد کو سیل کرنے جیسی کارروائی کا باعث بن سکتی ہے۔ دہلی کے وزیر آبی پرویش ورما نے کہا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی، لیکن ہر کسی کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے گا۔دہلی کے وزیر پانی پرویش ورما نے کہا کہ حکومت نے افراد، ہاؤسنگ یونٹس، اداروں اور صنعتوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اس سال کے شروع میں DJB انفراسٹرکچر چارجز کو کم اور آسان کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہماری ابتدائی داخلی تفتیش سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کئی بڑی گروپ ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں عمارتیں انفراسٹرکچر چارجز ادا کیے بغیر تعمیر کی گئیں۔ اس سے بلڈرز اور ڈی جے بی حکام کے درمیان ملی بھگت کا پتہ چلتا ہے۔ ہم آئی ایف سی چارجز ادا کرنے میں ناکام رہنے والوں پر نہ صرف جرمانے عائد کریں گے بلکہ عمارتوں کو سیل بھی کریں گے۔وزیر پانی نے کہا کہ ہم نے ایم سی ڈی سے پچھلے پانچ سالوں میں منظور شدہ تمام عمارتی منصوبوں کے ڈیٹا کی درخواست کی ہے۔ ہم اس ڈیٹا کو جل بورڈ کو ادا کیے جانے والے انفراسٹرکچر چارجز کے اپنے ڈیٹا سے ملائیں گے۔ جہاں کہیں بھی ہمیں کوئی تضاد پایا جائے گا، اصل رقم کے علاوہ جرمانہ عائد کیا جائے گا۔اندرونی اندازوں کے مطابق، دارالحکومت میں 3000 مربع میٹر اور اس سے اوپر کی تقریباً 300 جائیدادیں ہیں جن کے لیے کوئی IFC چارجز ادا نہیں کیے گئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں دہلی جل بورڈ کو تقریباً 2,000 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ پرویش ورما نے کہا کہ حکومت نے اب سسٹم کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے اور IFC کے عمل کو آسان، شفاف اور منصفانہ بنا دیا ہے۔وزیر پانی نے کہا کہ 200 مربع میٹر تک کے پلاٹوں پر کوئی چارج نہیں لیا جائے گا اور غیر ضروری پیمائش یا افسران کی طرف سے ہراساں کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔ بہت سے معاملات میں، جہاں پہلے لوگوں کو پرانے نظام کے تحت 15-16 لاکھ روپے تک ادا کرنا پڑتا تھا، اب یہ رقم کم ہو کر تقریباً 2-3 لاکھ روپے رہ گئی ہے۔دہلی جل بورڈ دارالحکومت میں 200 مربع میٹر سے بڑے پلاٹوں پر نئی یا اضافی تعمیرات پر IFC چارجز لگاتا ہے۔ پانی اور سیوریج کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر شروع ہونے سے پہلے یہ چارج جمع کرنا ضروری ہے۔وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے حال ہی میں آئی ایف سی چارج پالیسی میں تبدیلیوں اور آسانیاں کی منظوری دی۔ فیکٹریوں اور صنعتی اکائیوں نے DJB کے نظرثانی شدہ انفراسٹرکچر چارج سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا ہے، جس سے ابتدائی تعمیراتی لاگت میں نمایاں کمی آئی ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network