add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99); add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99); دیوبند میں 11گھنٹوں تک بجلی سپلائی بند ، اندھیرے میں ڈوباپورا شہر – sachkiawaz.com
Connect with us

uttar pradesh

دیوبند میں 11گھنٹوں تک بجلی سپلائی بند ، اندھیرے میں ڈوباپورا شہر

Published

on

دیوبند:دیوبند میں بجلی سپلائی ایک مرتبہ پھر سوالوں کو گھیرے میں ہے ۔سنیچر کے روز تین بجے کے بعد بجلی سپلائی بند ہونے کے بعد رات تین بجے تک شہر کے لوگ بجلی سپلائی کا انتظار کرتے رہے ۔تقریباً 11؍ گھنٹوں تک بجلی سپلائی بحال نہ ہونے سے شہر کے لوگوں کا گرمی کی وجہ سے برا حال ہوگیا ۔رات ہونے کے ساتھ ہی شہر کی سڑکوں ،گلیوں اور محلوں میں اندھیرا چھاگیا ۔گھنٹوں تک بجلی سپلائی بحال نہ ہونے کی وجہ سے گھروں میں رکھے انورٹر بھی ناکارہ ہوگئے جس کی وجہ سے لوگوں کو جاگ کر رات گزارنے پر مجبور ہونا پڑا ۔
چھوٹے چھوٹے بچے اور بزرگ افراد گرمی کی وجہ سے بہت زیادہ پریشان رہے ۔اس صورت حال سے لوگوں میں شدید ناراضگی اور بجلی محکمہ کے لئے غم وغصہ ہے ان کا کہنا ہے کہ بجلی سپلائی کی یہ صورت حال کوئی ایک دن کا مسئلہ نہیں ہے ؛بلکہ گزشتہ تقریباً تین مہینوں سے بجلی سپلائی کا نظام پوری طرح درھم برہم ہے کیونکہ کبھی بجلی کٹوتی کے نام پر اور کبھی فالٹ ہوجانے کا بہانہ بنا کر بجلی سپلائی کو گھنٹوں تک بند رکھا جاتا ہے ۔بجلی صارفین میں اس بات پر بھی شدید ناراضگی کہ بجلی محکمہ کے ذمہ داران کو صورت حال معلوم کرنے کے لئے جب فون کیا جاتا ہے تو ان کے فون بند ملتے ہیں ۔ایک صارف کا کہنا ہے کہ اس نے تقریباً 20سے 25مرتبہ پاور کارپوریشن کے افسران کو فون کیا لیکن دوسری جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ۔دیوبند کی ٹیچر کالونی ،بالاجی ویہار ،کیلاش پور اور پنجالی کالونی سمیت شہر کے دیگر علاقوں میں بجلی سپلائی بند رہنے کی وجہ سے شدید گرمی کے باعث عوام رات کے آخری حصہ تک شدید طور پر پریشان رہے ۔
خواتین کا کہنا ہے کہ بجلی نہ ہونے سے بچوںکی حالت خراب ہوجاتی ہے ،گرمی کی وجہ سے چھوٹے بچے سو نہیں پاتے ،انورٹر بند ہوجانے کی وجہ سے گھروں کے پنکھے اور کولر بھی بند ہوجاتے ہیں ۔خواتین کا کہنا کہ ایسی صورت میں ان کے سامنے افسران سے جواب طلب کرنے اور بجلی دفتروں کا گھیرا ئو کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا ہے ۔شہر میں مسلسل بجلی سپلائی کی خراب صورت حال سے پریشان عوام نے اب بجلی محکمہ کے خلاف آندولن کرنے کا اعلان کیا ہے ۔صارفین کا کہنا ہے کہ اگر بجلی کی سپلائی میں فوری طورپر سدھار نہیں کیا گیا تو وہ بجلی دفتر پر دھرنا دینے اور احتجاج کرنے کے لئے مجبور ہوجائیں گے ۔
وہیں صارفین نے بجلی افسران پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی سپلائی بند ہونے کی سوشل میڈیا اور مختلف ذرائع خبر عام ہونے کے گھنٹوں بعد تک بجلی انجینئر اور افسران اس مسئلہ کے حل کو سنجیدہ نہیں ہوتے ۔اور کئی کئی گھنٹوں کے بعد مسائل کے حل کرنے کی طرف توجہ دیتے ہیں بجلی سپلائی بند ہونے اور اندھیرے کی باعث لوگوں نے رات کے وقت پولیس گشت کو لے کر بھی سوالات اٹھائے ۔ان کا کہنا ہے کہ بجلی بند ہونے کی صورت میں حفاظتی نقطۂ نظر سے ان کی فکر مندی میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔بجلی صارفین اب بجلی افسران کے رد عمل کا انتظار کررہے ہیں کیونکہ گزشتہ تین مہینوں سے جاری بجلی سپلائی کی خراب صورت حال نے صارفین کے صبر کا پیمانہ لبریز کردیا ہے ۔

uttar pradesh

خطرے میں ہے ملک کا آئین،ایودھیا پہنچے ابو عاصم اعظمی ، 2027 کے اسمبلی انتخابات کے لیے سپا کے پوری طرح سے تیارہونے کاکیا دعوی

Published

on

(پی این این)
ایودھیا:سماج وادی پارٹی مہاراشٹر کے ریاستی صدر اور ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی کا ایودھیا پہنچنے پر پارٹی کارکنوں نے شاندار استقبال کیا۔ نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے اعظمی نے کہا کہ سماج وادی پارٹی ان کا اپنا خاندان ہے اور وہ اپنے خاندان سے ملنے ایودھیا آئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی کارکن آئندہ اسمبلی انتخابات کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور تنظیم کو مضبوط کرنے کے لیے سب کو متحد کریں گے۔
اعظمی نے کہا کہ ملک کے نوجوان جدوجہد آزادی کے دوران پیدا نہیں ہوئے تھے، لیکن اب یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ آئین کی حفاظت کے لیے چوکس رہیں۔اس مقصد کے لیے وہ نوجوانوں سے مسلسل رابطہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا آئین خطرے میں ہے اور معاشرے سے نشے کی لت کو مکمل طور پر ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ ایودھیا کے بعد وہ خلیل آباد جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سماج وادی پارٹی 2027 کے اسمبلی انتخابات کے لئے پوری طرح سے تیار ہے۔ ان کے مطابق جب چائے کی دکانوں، بس اسٹیشنوں، رکشہ چلانے والوں اور عام لوگوں میں حکومت کے خلاف عدم اطمینان کی چرچا ہورہی ہے تو سیاسی تبدیلی یقینی ہوتی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اتر پردیش میں مذہب کے نام پر سیاست کھیلی جارہی ہے اور بغیر کسی جرم کے لوگوں کے گھروں کو گرانا غلط ہے۔ اعظمی نے ایودھیا میں معین خان کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ایک کیس میں گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اور ان کے گھر کو بھی مسمار کر دیا گیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ وہ بے قصور ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی تعمیرات غیر قانونی قرار دی جائیں تو قانون کے مطابق اور یکساں طور پر کارروائی کی جائے۔ بابری مسجد-رام جنم بھومی تنازعہ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ مذہبی مقامات سے متعلق تمام فریقین کے عقیدے کا احترام کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مندر اور مسجد دونوں محفوظ رہیں اور کسی کے مذہبی عقائد کو ٹھیس پہنچانا درست نہیں ہے۔

Continue Reading

uttar pradesh

’’میرے خوابوں کا بھارت‘‘ مہم کے تحت پوسٹر سازی مقابلہ

Published

on

(پی این این)
دیوبند: ’’میرے خوابوں کا بھارت‘‘ مہم کے تحت پریشد کے اسکولوں میں جاری دو روزہ مصوری و پوسٹر سازی مقابلے کا آج اختتام ہوگیا۔ آخری روز بلاک کے مختلف پرائمری اور اعلیٰ پرائمری اسکولوں، سلطان پور، سانپلا کھتری، گنارسہ، ساکھن کلاں، بی بی پور، ساکھن خورد، رن کھنڈی، کھڑنجہ احمد پور، پھلاس اکبرپور، سانپلا بقال، امرپور نین، امبیہٹہ شیخاں، مقبرہ، راستَم، باستَم اور دیوال ہیڑی کے طلبہ و طالبات نے مختلف موضوعات پر دلکش پوسٹر تیار کرکے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔
طلبہ نے پوسٹروں کے ذریعے ترقی یافتہ بھارت، عالمی امن، ’’چلو ویدوں کی طرف‘‘، سائنس کے کرشمے اور ماحولیات کے تحفظ جیسے موضوعات پر مؤثر پیغامات پیش کیے۔اس موقع پر اعلیٰ پرائمری اسکول سلطان پور میں گرام پردھان انیل کمار نے طلبہ کے تیار کردہ پوسٹروں کا معائنہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی سطح پر منعقد ہونے والا یہ پروگرام بچوں کو حب الوطنی، ترقی، فن، ادب، سائنس، ماحولیات اور ثقافت سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔مقابلے کے دوران پرومود کمار، خورشید احمد صدیقی اور رِچا شرما سمیت دیگر افراد موجود رہے۔

 

Continue Reading

uttar pradesh

ماحولیات ہماری زندگی کے لیے نہایت ضروری:پروفیسر پی کے شرما،شعبہ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی پروفیسر ارتضیٰ کریم کی نئی کتاب”ماحولیاتی ادبی تنقید“ کی رسم اجراہ و مذاکرہ

Published

on

میرٹھ:کسی بھی کتاب کا اجراء کتاب کی اہمیت میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔”ماحولیاتی ادبی تنقید“بہت اہم کتاب ہے۔ بغیر انوائیر مینٹ کے ہم زندہ نہیں رہ سکتے۔ یہ مو ضوع بہت ہی عمدہ اور افادیت سے بھر پور ہے اور اس موضوع پر تفصیلی گفتگو ہونا چاہئے۔ماحولیات ہماری زندگی کے لیے نہایت ضروری ہے۔آج ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ کتاب کا ترجمہ کرنا بھی بہت آسان ہے۔ارتضیٰ کریم صاحب سے میری درخواست ہے کہ اس کا دیگر زبانوں میں بھی ترجمہ کرائیں تاکہ یہ دیگر زبانوں کے طالب علموں اور ریسرچ اسکالرز تک پہنچے۔یہ الفاظ تھے سابق شیخ الجامعہ سہیل دیو یونیورسٹی، اعظم گڑھ پروفیسر پی کے شرما کے جومہمان خصوصی کی حیثیت سے شعبہئ اردو میں منعقدپروفیسر ارتضیٰ کریم کی کتاب”ماحولیاتی ادبی تنقید“ کی رسم اجراء و مذکراہ کے دوران اپنی تقریرکے دوران ادا کررہے تھے۔
اس سے قبل پروگرام کا آ غاز محمد عیسیٰ رانا نے تلا وت کلامِ پاک سے کیا۔ ہدیہئ نعت ایم اے اردو کی طالبہ مہوش نے پیش کیا۔ پروگرام کی صدارت کے فرائض معروف ادیب و ناقد پروفیسر اسلم جمشید پوری نے انجام دیے۔ مہمان خصوصی کے بطور سابق شیخ الجامعہ سہیل دیو یونیورسٹی، اعظم گڑھ پروفیسر پی کے شر ما نے شر کت فر مائی۔ مہمانانِ اعزازی کے بطور معروف فکشن نگار و منفرد شاعر پروفیسر شفق سو پوری، پروفیسر اے۔کے۔ چوبے]سابق صدر شعبہ زو لوجی[اور پروفیسر کویتا تیاگی]سابق صدر شعبہئ ہندی،میرٹھ کالج[ نے شر کت کی۔استقبالیہ کلمات ڈاکٹر شاداب علیم، نظامت کے فرائض ڈاکٹر آصف علی اور شکریے کی رسم ڈاکٹر الکا وششٹھ نے ادا کی۔
اس موقع پراظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر ارشاد سیانوی نے کہا کہ نئی صدی میں نئے مو ضوع پر لکھی گئی نئی کتاب کا نام”ماحولیاتی ادبی تنقید“ہے۔ جس کو بڑی جانفشانی کے ساتھ پروفیسر ارتضی کریم نے ترتیب دی ہے۔ نئی صدی میں ماحولیات ایک اہم اور نیا مو ضوع جس سے اردو والے ذرا کم ہی واقفیت رکھتے ہیں۔اردو ادب میں ما حولیات ہمارے ادبا و شعرا سے اچھوتا نہیں رہا ہے۔جب بھی ہم اردو ادب میں ماحولیاتی ادبی تنقید کی بات کرتے ہیں تو یہاں ماحولیاتی تنقید پر زیادہ سر مایہ نظر نہیں آتا۔ابھی ماحولیاتی ادبی تنقید پر اردو میں کوئی مستند اور معتبر کتاب منظر عام پر نہیں آئی تھی۔ یہ سعادت باری تعالیٰ نے پروفیسر ارتضیٰ کریم کو بخشی، جنہوں نے ما حولیات کو براہِ راست ادبی تنقید کا مو ضوع بنایا۔
پروفیسر کویتا تیا گی نے کہا کہ یہ موضو ع آج ہندوستان کے لیے بہت ضروری ہے۔ جب کو ئی مصنف لکھتا ہے تو وہ کتاب اس کی پرچھائی ہوتی ہے۔کتاب کی افادیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اردو اور ہندی میں بھی ترجمہ ہونا چاہئے تا کہ ان زبانوں کے قارئین تک بھی اس کتاب کا میسیج پہنچے۔روایت سے ہٹ کر آج کے مصنفین ایسے موضوعات کو برت رہے ہیں جن کی آج سماج کو بہت زیادہ ضرورت ہے۔پروفیسر اے۔کے چوبے نے کہا کہ ما حولیات کے تعلق سے جو چیزیں سامنے آ رہی ہیں ان پر بات کرنا بہت ضروری ہے۔ہمیں اپنے اپنی حفاظت کرتے ہوئے ترقی کی جانب بھی گامزن ہونا ہے۔ اس لیے ہمیں ضرورت ہے کہ ہم اپنے ما حول کو سمجھیں اور اس کے مطابق کام کریں۔آج جو نیچرکے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہورہی ہے اس پر بہت زیادہ توجہ کی ضرورت ہے ہمیں اس کی حفاظت کرنی چاہئے۔بہترین کتاب کے لیے ارتضیٰ کریم صا حب کو مبارک باد!
پروفیسر شفق سو پوری نے کہا کہ ابھی تک بہت سے اسکالرز ما حولیاتی تنقید کو پورے طور پر نہیں سمجھ پائے۔ سب سے پہلے ماحولیاتی ادب کی شناخت ضروری ہے۔ماحولیاتی تنقید کا مفہوم میرے خیال سے دوسری جنگ عظیم کے بعد سے آ یا ہے اور اردو میں یہ نیا تنقیدی رجحان”ماحولیاتی ادبی تنقید“ کی صورت میں سا منے آ یا ہے اور اس کا سہرا پروفیسر ارتضیٰ کریم کے سر جاتا ہے۔ ان کے لٹریچر کو پڑھ کر سمجھنا چاہئے۔ ارتضیٰ کریم کی تنقید میں اوچھا پن نہیں ملتا، ان کی تنقید کا ایک معیار ہے’۔ ”ماحولیاتی ادبی تنقید“ اردو میں انقلاب لائے گی۔میں اس شعبے میں آنے کا بڑا خواہش مند تھا۔ سوشل میڈیا پر میں نے شعبے کی ایکٹویٹیز دیکھی ہیں،نہایت ہی فعال شعبہ ہے۔ میں شعبے کے تمام اراکین کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہا کہ کتاب بھی بچے کی مانند ہوتی ہے۔ایک دن میں جوان نہیں ہو سکتی، اس کے لیے وقت در کار ہوتا ہے۔ اے آئی سے ہمارا ماحول متاثر ہورہا ہے اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ماحولیاتی تنقید صرف ما حولیات کی ہی تنقید نہیں ہے ہمیں اس کی گہرا ئی کو سمجھنا ہے۔NEP میں جن مقامی زبانوں کو اپنانے کا ذکر کیا گیا ہے، مقامی بولیوں اور زبانوں کو نصاب میں شامل کیا ہے اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ ان مقامی بولیوں اور زبانوں کی حفاظت کی جاسکے۔یہ بھی ما حولیاتی تنقید کا حصہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میری یہ کتاب عن قریب ہندی میں بھی شائع ہو گی تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک یہ کتاب پہنچ سکے۔
آخر میں اپنی صدارتی تقریر کے دوران پروفیسر اسلم جمشید پوری نے کہا کہ شعبہئ اردو میں بہت سی کتابوں کا اجراء ہو تا رہا ہے لیکن اس کتاب کا اجراء بہت اہم ہے۔ کیو نکہ آج ایک نیا تنقیدی دبستان”ماحولیاتی ادبی تنقید“ کا آغاز ہوا ہے۔کتاب کسی بھی موضوع پر ترتیب دی جائے بس شرط یہ ہے کہ اس کا موضوع اچھا ہو،منفرد ہو تو ایسی کتاب تخلیقی کتاب سے بھی زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ یہ کتاب ہمیں کس کس طرف متوجہ کرتی ہے۔ ہمارے آس پاس کی چیزیں ہمارے ادب کو بھی متاثر کرتی ہیں،یہ بھی ماحولیاتی ادبی تنقید کا حصہ ہے۔ اس کتاب کی یہ بھی اہمیت ہے کہ ماحولیات کی سبھی زبانوں میں بات کی جاتی ہے۔میں ارتضیٰ کریم کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ارتضیٰ کریم نے ایک نیا موضوع ہمیں دیا اور ایک نئی تنقید سے ہمیں رو شناس کرایا۔اس موقع پر ڈاکٹر عفت ذکیہ، انل شر ما، ہینت گویل، جتیندر سی راج،آفاق احمد خاں، سراج الدین احمد، عابد سیفی،محمد ندیم، اریبہ سر فراز،طاہرہ پروین، نایاب، نمرہ،عائقہ صدیقہ، سیدہ مریم الٰہی،شاکر مطلوب اور طلبہ و طالبات موجود رہے۔

 

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network