دلی این سی آر
بی جے پی نے دہلی کو بنادیاہے جرائم کی راجدھانی
(پی این این)
نئی دہلی:عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اور سابق وزیراعلیٰ اروند کجریوال نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو دہلی میں بگڑتے امن و امان کے معاملے پر ایک خط لکھ کر اس مسئلے پر بات کرنے کے لیے ان سے ملاقات کا وقت مانگا ہے۔ انہوں نے خط میں کہا ہے کہ دہلی میں بھتہ خور گروہ سرگرم ہیں۔ ہوائی اڈوں اور اسکولوں کو دھمکیاں مل رہی ہیں۔ منشیات سے متعلق جرائم میں 350فیصد اضافہ ہوا ہے۔ بھارت کے 19میٹرو شہروں میں دہلی خواتین کے خلاف جرائم اور قتل کے معاملات میں پہلے نمبر پر ہے۔ اس لیے میں لوگوں کی حفاظت کے لیے پریشان ہوں۔ دہلی اب ہندوستان اور بیرون ملک جرائم کی راجدھانی کے طور پر پہچانا جا رہا ہے۔ چونکہ دہلی کا امن و امان کا نظام مرکز کے ماتحت ہے۔ اس لیے اس پر آپ کی طرف سے مناسب اقدام اور تعاون بہت ضروری ہے۔اروند کجریوال نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ میں آپ کو یہ خط اس لیے لکھ رہا ہوں کیونکہ ملک کے وزیر داخلہ ہونے کے ناطے آپ دہلی کے لائ اینڈ آرڈر کے ذمہ دار ہیں۔ لیکن یہ کہنا بہت افسوسناک ہے کہ دہلی کو اب ملک اور بیرون ملک جرائم کی راجدھانی کے طور پر پہچانا جا رہا ہے۔
اروند کجریوال نے خط میں کہا ہے کہ جہاں دہلی میں خواتین کے خلاف جرائم تیزی سے بڑھ رہے ہیں وہیں ہر گلی میں بھتہ خوری اور بدمعاش سرگرم ہو گئے ہیں۔ ڈرگ مافیا نے پوری دہلی میں اپنے بازو پھیلا رکھے ہیں۔ موبائل اور چین اسنیچنگ سے پوری دہلی پریشان ہے۔ آج مجرموں کی ہمت اتنی زیادہ ہوچکی ہے کہ دہلی کی سڑکوں پر دن دیہاڑے فائرنگ، قتل، اغوا اور چھرا گھونپنے جیسے واقعات ہو رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ 6مہینوں میں دہلی کے 300سے زائد اسکولوں، کالجوں، 100سے زائد اسپتالوں، ایئرپورٹس اور مالز کو مسلسل بم دھماکوں کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ روز جھوٹی دھمکیاں دینے والے یہ لوگ پکڑے کیوں نہیں جاتے؟کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ایک بچہ پر کیا گزرتی ہوگی، اس کے والدین پر کیا گزرتی ہے جب بم کی دھمکی کی وجہ سے اسکول خالی کر دیا جاتا ہے اور بچوں کو گھر بھیج دیا جاتا ہے؟آج دہلی کا ہر ماں باپ اور ہر بچہ بم کے خوف میں جی رہا ہے۔ کتنی شرم کی بات ہے کہ آپ کی نگرانی میں ہمارا شاندار سرمایہ امن و امان کی ناکامی کی وجہ سے اب ‘ریپ کیپٹل’، ‘ڈرگ کیپٹل’ اور ‘گینگسٹر کیپٹل’ کے نام سے جانا جانے لگا ہے۔
خط میںکجریوال نے امت شاہ کی توجہ دہلی کے امن و امان کی صورتحال سے متعلق کچھ تشویشناک اعدادوشمار کی طرف بھی مبذول کرائی ہے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ بھارت کے 19میٹرو شہروں میں دہلی خواتین کے خلاف جرائم میں پہلے نمبر پر ہے اور قتل کے معاملات میں بھی دہلی پہلے نمبر پر ہے۔دہلی میں 2019سے منشیات سے متعلق جرائم میں 350فیصد اضافہ ہوا ہے۔ روزانہ اوسطاً 3خواتین زیادتی کا نشانہ بنتی ہیں۔ ہر دوسرے دن ہمارے ایک تاجر بھائی کو تاوان کی کال آتی ہے۔ یہ اعداد و شمار امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ امت شاہ جی، میں مسلسل دہلی کے لوگوں کا دورہ کر رہا ہوں اور راجدھانی میں بڑھتے ہوئے جرائم کو لے کر عوام میں گہری تشویش دیکھ رہا ہوں۔
خط کے آخر میں انہوں نے کہا کہ دہلی پولیس اور لائ اینڈ آرڈر مرکزی حکومت کے ماتحت ہیں، اس لیے اس سنگین معاملے میں آپ کی طرف سے مناسب کارروائی اور تعاون کی بہت ضرورت ہے۔ امت شاہ جی، حالات بہت خراب ہیں۔ ہمیں سیاست سے اوپر اٹھ کر دہلی میں امن و امان کی صورتحال کو فوری طور پر بہتر کرنا ہوگا۔ میری آپ سے گزارش ہے کہ جلد از جلد اپنا قیمتی وقت نکالیں تاکہ میں آپ کو اس موضوع کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کر سکوں۔ میں آپ کے جواب کا انتظار کروں گا۔
دلی این سی آر
مشاعرہ اردو تہذیب و ثقافت کی زندہ روایت
(پی این این)
نئی دہلی:مشاعرہ اردو تہذیب و ثقافت کی ایک اہم اور زندہ روایت ہے جو صدیوں سے زبان و ادب کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کرتی آ رہی ہے۔
یہ محض شعری کلام سنانے کی محفل نہیں بلکہ ادب، فکر، تخلیق اور اظہارِ احساسات کا ایک خوبصورت سنگم ہے۔ مشاعرے کے ذریعے شعراء اپنے خیالات، جذبات اور مشاہدات کو سامعین تک پہنچاتے ہیں، جبکہ سامعین کو مختلف ادبی و فکری جہات سے روشناس ہونے کا موقع ملتا ہے۔اردو اکادمی، دہلی اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے وقتاً فوقتاً مختلف النوع ادبی و ثقافتی پروگراموں کا انعقاد کرتی رہتی ہے۔ اسی سلسلے کی ایک منفرد اور خوش آئند پیش رفت کے طور پر اردو اکادمی، دہلی نے اس بار ایک بالکل نئے اور اچھوتے موضوع ’’صحافیوں کی ایک شام: شاعری کے نام‘‘ کا انتخاب کیا۔ دہلی حکومت کے محکمۂ فن، ثقافت و السنہ کے تحت اردو اکادمی، دہلی کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی یہ خصوصی ادبی و شعری نشست قمر رئیس سلور جبلی آڈیٹوریم، اردو اکادمی، دہلی میں منعقد ہوئی، جس میں صحافیوں، ادیبوں، شاعروں، طلبا اور اردو زبان و ادب کے شائقین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔اس مشاعرے کی صدارت روزنامہ انقلاب کے سابق مدیر اور ممتاز صحافی جناب شکیل حسن شمسی نے فرمائی۔
جبکہ نظامت کے فرائض معروف شاعر جناب معین شاداب نے اپنے منفرد اور دلنشیں انداز میں انجام دیے۔ انھوں نے پوری نشست کو ابتدا سے انتہا تک نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ مربوط اور پُراثر بنائے رکھا۔پروگرام کا آغاز نہایت پُروقار انداز میں ہوا۔ صدرِ مشاعرہ، ناظمِ مشاعرہ اور تمام شعرائے کرام نے مشترکہ طور پر شمع روشن کرکے محفل کا باضابطہ افتتاح کیا۔ اس کے بعد اردو اکادمی کے سینئر کارکنان محمد ہارون اور عزیر حسن قدوسی نے صدرِ مشاعرہ کو پودا پیش کرکے ان کا خیرمقدم کیا۔
تقریب کے آغاز میں اردو کے نامور شاعر جناب بشیر بدر کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور ان کی گراں قدر ادبی خدمات کو ان کی منتخب شاعری کے حوالے سے یاد کیا گیا۔
مشاعرے کی افتتاحی گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر شفیع ایوب نے اردو اور ہندی صحافت و ادب کی مشترکہ اور تابناک روایت پر سیر حاصل اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے دونوں زبانوں کی ادبی صحافت کے اس حسین امتزاج کو ایک ایسے طلوع ہوتے سورج سے تشبیہ دی جس کی روشنی میں سچائی کو زیادہ واضح انداز میں دیکھا اور پرکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اردو اکادمی، دہلی کی علمی، ادبی اور تعلیمی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اکادمی کی یہ کاوشیں نہ صرف قابلِ ستائش ہیں بلکہ ملک کی دیگر ادبی و ثقافتی اکادمیوں کے لیے بھی مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔
ناظمِ مشاعرہ معین شاداب نے اپنے خطاب میں صحافت اور شاعری کے باہمی تعلق پر روشنی ڈالتے ہوئے صحافت کو ’’عجلت میں لکھا ہوا ادب‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ صحافت اور ادب کا رشتہ ہمیشہ سے مضبوط اور ناگزیر رہا ہے۔ بالخصوص اردو صحافت کی روایت میں صحافی اپنے اخبار یا ادارے کے نظریے اور موقف کو مؤثر انداز میں پیش کرنے کے لیے شاعری سے بھرپور استفادہ کرتا رہا ہے، جس کے باعث صحافت اور شاعری ایک دوسرے کی معاون اور ہم سفر بن گئی ہیں۔
اس موقع پر دہلی کے ممتاز صحافی شعراء نے اپنے منتخب کلام کے ذریعے سامعین کو محظوظ کیا۔ مشاعرے میں شکیل حسن شمسی، سلیم شیرازی، تحسین منور، معین شاداب، ڈاکٹر شفیع ایوب، خصال مہدی، ارشد ندیم، ضمیر ہاشمی، امیر امروہوی، ڈاکٹر فرمان چودھری، نعیم ہندوستانی، ڈاکٹر شعیب رضا فاطمی، رامش رؤف،،ڈاکٹر منورحسن کمال، انجم جعفری اور مبارک قاسمی وغیرہ نے شرکت کی اور اپنے کلام میں عصری مسائل، انسانی اقدار، سماجی رویّوں اور صحافتی تجربات کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا، جسے حاضرین نے بھرپور داد و تحسین سے نوازا۔
پروگرام کے اختتام پر اردو اکادمی، دہلی کے اسسٹنٹ پبلی کیشن آفیسر محمد ہارون نے اظہارِ تشکر پیش کرتے ہوئے دہلی حکومت کی وزیرِ اعلیٰ محترمہ ریکھا گپتا اور وزیر برائے فن، ثقافت و السنہ جناب کپل مشرا کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی سرپرستی، تعاون اور اردو زبان و ادب سے وابستگی کے نتیجے میں ایسے معیاری ادبی پروگراموں کا انعقاد ممکن ہو پا رہا ہے۔ انہوں نے مشاعرے میں شریک تمام مہمانانِ گرامی، شعرائے کرام، دانشوروں، طلبا اور سامعین کا بھی تہہ دل سے شکریہ ادا کیا، جن کی بھرپور شرکت نے اس ادبی نشست کو یادگار اور کامیاب بنا دیا۔
دلی این سی آر
کارپوریشن کے دفتر میں بم کی دھمکی نےپھیلایا خوف و ہراس
گروگرام:دہلی سے متصل سائبر سٹی گروگرام کے سیکٹر 34 میں واقع میونسپل کارپوریشن کے مرکزی دفتر کو بم کی دھمکی ملی ہے۔ یہ دھمکی آمیز پیغام ای میل کے ذریعے بھیجا گیا جس سے میونسپل انتظامیہ اور محکمہ پولیس میں خوف و ہراس پھیل گیا۔اطلاعات کے مطابق جیسے ہی میونسپل کارپوریشن کے سینئر افسران کو اس دھمکی آمیز ای میل کا علم ہوا، دفتر کے احاطے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ سیکورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے پوری کثیرالمنزلہ عمارت کو فوری طور پر خالی کرالیا گیا۔ دفتر میں موجود تمام افسران، ملازمین اور عام شہریوں کو فوری طور پر باہر نکال لیا گیا۔صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے گروگرام پولیس کی ایک بڑی فورس بشمول بم ڈسپوزل اسکواڈ (BDDS) اور ڈاگ اسکواڈ جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ہے۔ میونسپل کارپوریشن کے پورے دفتر کو سیل کر دیا گیا ہے اور مکمل تلاشی لی جا رہی ہے۔پولیس اور انٹیلی جنس اداروں نے اس ای میل کی اصلیت اور اصلیت کے بارے میں تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابتدائی طور پر، یہ ایک مذاق کا شبہ تھا، لیکن پولیس کوئی کارروائی نہیں کر رہی ہے. اس وقت سرچ آپریشن جاری ہے اور آس پاس کے علاقے میں سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے۔
دلی این سی آر
دہلی کے ہوٹل میں جلنے والوں کے لیے معاوضے کا اعلان، سی ایم ریکھا گپتا نےاسپتال جاکر زخمیوں سےکی ملاقات
نئی دہلی:دہلی حکومت نے مالویہ نگر کے ہوٹل میں آگ لگنے سے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے لیے معاوضے کا اعلان کیا ہے۔ قبل ازیں وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے ساکیت کے میکس اسپتال کا دورہ کیا اور المناک آتشزدگی میں زخمی ہونے والوں سے ملاقات کی۔ انہوں نے زخمیوں اور ان کے اہل خانہ سے بات کی اور ڈاکٹروں سے زخمیوں کے علاج کے بارے میں دریافت کیا۔ انہوں نے حکام کو تمام ضروری مدد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ زخمیوں کے علاج معالجے کے انتظامات ہسپتال حکام کے ساتھ مل کر کیے جائیں گے تاکہ ہر مریض کو بہترین ممکنہ نگہداشت کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہر مرنے والے کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے کی ایکس گریشیا رقم اور شدید زخمیوں کو 5 لاکھ روپے کی امداد دی جائے گی۔ جاں بحق افراد کی میتیں ان کے آبائی گھروں تک پہنچانے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دہلی حکومت ہر متاثرہ خاندان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔ ہم اس مشکل وقت میں زخمیوں کی جلد صحت یابی اور سوگوار خاندانوں کے لیے طاقت کے لیے دعا گو ہیں۔
وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے ہوٹل میں آتشزدگی میں کئی لوگوں کی موت پر سخت موقف اپنایا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ دہلی میں بغیر اجازت کام کرنے والے تمام غیر قانونی ہوٹلوں، گیسٹ ہاؤسز اور جائیدادوں کے ساتھ ساتھ فائر سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خصوصی مہم کے ذریعے سیل کر دیا جائے گا۔ انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں وزیر اعلیٰ گپتا نے کہا کہ اس حادثے کے پیچھے تمام کوتاہیوں اور لاپرواہی کی سنجیدگی سے تحقیقات کی جائیں گی۔ ذمہ داروں کو کسی صورت بخشا نہیں جائے گا۔ حادثے کے فوری بعد مجسٹریل انکوائری کا حکم دے دیا گیا۔ ہوٹل مالک کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
بہار6 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
دلی این سی آر9 months agoاردو اکادمی دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے میں کثیر تعداد میں اسکولی بچوں نےلیا حصہ
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ