دلی این سی آر
بی جے پی نے دہلی کو بنادیاہے جرائم کی راجدھانی
(پی این این)
نئی دہلی:عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اور سابق وزیراعلیٰ اروند کجریوال نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو دہلی میں بگڑتے امن و امان کے معاملے پر ایک خط لکھ کر اس مسئلے پر بات کرنے کے لیے ان سے ملاقات کا وقت مانگا ہے۔ انہوں نے خط میں کہا ہے کہ دہلی میں بھتہ خور گروہ سرگرم ہیں۔ ہوائی اڈوں اور اسکولوں کو دھمکیاں مل رہی ہیں۔ منشیات سے متعلق جرائم میں 350فیصد اضافہ ہوا ہے۔ بھارت کے 19میٹرو شہروں میں دہلی خواتین کے خلاف جرائم اور قتل کے معاملات میں پہلے نمبر پر ہے۔ اس لیے میں لوگوں کی حفاظت کے لیے پریشان ہوں۔ دہلی اب ہندوستان اور بیرون ملک جرائم کی راجدھانی کے طور پر پہچانا جا رہا ہے۔ چونکہ دہلی کا امن و امان کا نظام مرکز کے ماتحت ہے۔ اس لیے اس پر آپ کی طرف سے مناسب اقدام اور تعاون بہت ضروری ہے۔اروند کجریوال نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ میں آپ کو یہ خط اس لیے لکھ رہا ہوں کیونکہ ملک کے وزیر داخلہ ہونے کے ناطے آپ دہلی کے لائ اینڈ آرڈر کے ذمہ دار ہیں۔ لیکن یہ کہنا بہت افسوسناک ہے کہ دہلی کو اب ملک اور بیرون ملک جرائم کی راجدھانی کے طور پر پہچانا جا رہا ہے۔
اروند کجریوال نے خط میں کہا ہے کہ جہاں دہلی میں خواتین کے خلاف جرائم تیزی سے بڑھ رہے ہیں وہیں ہر گلی میں بھتہ خوری اور بدمعاش سرگرم ہو گئے ہیں۔ ڈرگ مافیا نے پوری دہلی میں اپنے بازو پھیلا رکھے ہیں۔ موبائل اور چین اسنیچنگ سے پوری دہلی پریشان ہے۔ آج مجرموں کی ہمت اتنی زیادہ ہوچکی ہے کہ دہلی کی سڑکوں پر دن دیہاڑے فائرنگ، قتل، اغوا اور چھرا گھونپنے جیسے واقعات ہو رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ 6مہینوں میں دہلی کے 300سے زائد اسکولوں، کالجوں، 100سے زائد اسپتالوں، ایئرپورٹس اور مالز کو مسلسل بم دھماکوں کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ روز جھوٹی دھمکیاں دینے والے یہ لوگ پکڑے کیوں نہیں جاتے؟کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ایک بچہ پر کیا گزرتی ہوگی، اس کے والدین پر کیا گزرتی ہے جب بم کی دھمکی کی وجہ سے اسکول خالی کر دیا جاتا ہے اور بچوں کو گھر بھیج دیا جاتا ہے؟آج دہلی کا ہر ماں باپ اور ہر بچہ بم کے خوف میں جی رہا ہے۔ کتنی شرم کی بات ہے کہ آپ کی نگرانی میں ہمارا شاندار سرمایہ امن و امان کی ناکامی کی وجہ سے اب ‘ریپ کیپٹل’، ‘ڈرگ کیپٹل’ اور ‘گینگسٹر کیپٹل’ کے نام سے جانا جانے لگا ہے۔
خط میںکجریوال نے امت شاہ کی توجہ دہلی کے امن و امان کی صورتحال سے متعلق کچھ تشویشناک اعدادوشمار کی طرف بھی مبذول کرائی ہے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ بھارت کے 19میٹرو شہروں میں دہلی خواتین کے خلاف جرائم میں پہلے نمبر پر ہے اور قتل کے معاملات میں بھی دہلی پہلے نمبر پر ہے۔دہلی میں 2019سے منشیات سے متعلق جرائم میں 350فیصد اضافہ ہوا ہے۔ روزانہ اوسطاً 3خواتین زیادتی کا نشانہ بنتی ہیں۔ ہر دوسرے دن ہمارے ایک تاجر بھائی کو تاوان کی کال آتی ہے۔ یہ اعداد و شمار امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ امت شاہ جی، میں مسلسل دہلی کے لوگوں کا دورہ کر رہا ہوں اور راجدھانی میں بڑھتے ہوئے جرائم کو لے کر عوام میں گہری تشویش دیکھ رہا ہوں۔
خط کے آخر میں انہوں نے کہا کہ دہلی پولیس اور لائ اینڈ آرڈر مرکزی حکومت کے ماتحت ہیں، اس لیے اس سنگین معاملے میں آپ کی طرف سے مناسب کارروائی اور تعاون کی بہت ضرورت ہے۔ امت شاہ جی، حالات بہت خراب ہیں۔ ہمیں سیاست سے اوپر اٹھ کر دہلی میں امن و امان کی صورتحال کو فوری طور پر بہتر کرنا ہوگا۔ میری آپ سے گزارش ہے کہ جلد از جلد اپنا قیمتی وقت نکالیں تاکہ میں آپ کو اس موضوع کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کر سکوں۔ میں آپ کے جواب کا انتظار کروں گا۔
دلی این سی آر
’اردو زبان میں طبی تاریخ نویسی اور تذکرہ نگاری کی روایت‘کے عنوان سے سمینار
(پی این این)
نئی دہلی: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی بہ اشتراک اصلاحی ہیلتھ کیئر فاؤنڈیشن’اردو زبان میں طبی تاریخ نویسی اور تذکرہ نگاری کی روایت‘ کے موضوع پر نہرو گیسٹ ہاؤس، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کمیٹی روم میں ایک روزہ سمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سمینار میں طبی تاریخ نویسی اور تذکرہ نگاری کی روایت، اس کے تاریخی و تہذیبی پس منظر اور اردو زبان و ادب سے اس کے گہرے رشتے کے حوالے سے پرمغز خطبات اور مقالات پیش کیے گئے۔
سمینار کے افتتاحی اجلاس کے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر نورظہیر احمد(ڈائرکٹر جنرل، سینٹرل کونسل فار ریسرچ اِن یونانی میڈیسن) نے قومی اردو کونسل اور اصلاحی ہیلتھ کیئر فاؤنڈیشن کو اس اہم اور منفرد موضوع پر سمینار کے انعقاد پر مبارک باد پیش کی۔ اپنے خطاب میں انھوں نے بین العلومی تناظر میں اردو زبان میں طبی تاریخ نویسی اور تذکرہ نگاری کی روایت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ طبی تاریخ محض امراض، علاج اور اطبّا کے احوال کا بیان نہیں، بلکہ یہ ہمارے تہذیبی، علمی اور سماجی ارتقا کی ایک اہم دستاویز بھی ہے۔ اردو میں طبی تاریخ نویسی اور تذکرہ نگاری کی ایک گراں قدر روایت موجود ہے، جسے محفوظ کرنا اور نئی نسل تک منتقل کرنا ہماری علمی ذمہ داری ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ موجودہ ڈیجیٹل عہد میں ہمارے لیے یہ ناگزیر ہے کہ ہم اپنے طبی، ادبی اور علمی ورثے کو جدید ذرائع کے ذریعے محفوظ کریں اور اسے عالمی سطح پر متعارف کرائیں، تاکہ ہمارے اسلاف کی علمی کاوشیں محض ماضی کا حصہ بن کر نہ رہ جائیں، بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے تحقیق و جستجو کا سرچشمہ بن سکیں۔
اس سے قبل استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر شمع کوثر یزدانی (اسسٹنٹ ڈائرکٹر ،اکیڈمک)، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی، نے قومی اردو کونسل کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے اس موضوع سے متعلق کونسل کی جانب سے شائع ہونے والی اہم کتابوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کونسل نے علمی، ادبی اور تحقیقی کتابوں کی اشاعت کے علاوہ طبی، سائنسی اور سماجی علوم کے میدان میں بھی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ کونسل کی جانب سے جدید اور قدیم اطبا اور طب سے متعلق 50 سے زائد کتابوں کی ترتیب و تدوین بھی کی گئی ہے۔
مہمانِ اعزازی پروفیسر کوثر مظہری(صدرِ شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ) نے اپنی گفتگو میں طبی اصطلاحات اور اردو زبان کے باہمی رشتے پر نہایت جامع انداز میں روشنی ڈالی۔ انھوں نے اردو شاعری کے الفاظ، تراکیب اور قوافی میں مستعمل بعض ایسے الفاظ کی نشان دہی کی جو طبی اصطلاحات سے مماثلت رکھتے ہیں۔
اس ضمن میں انھوں نے مختلف اہم ادویہ اور امراض کے ناموں کا حوالہ دیتے ہوئے اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ اردو زبان و ادب کا طب، بالخصوص یونانی طب کی تہذیبی و علمی روایت سے ایک گہرا، قدیم اور معنویت سے بھرپور رشتہ رہا ہے۔ یہ مماثلتیں اس بات کی غماز ہیں کہ اردو زبان و ادب اور طب کی روایت نے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ہماری تہذیبی اور علمی تاریخ کو ثروت مند بنایا ہے۔ پروفیسر کوثر مظہری نے مزید کہا کہ یونانی طب محض علاج معالجے کا ایک نظام نہیں، بلکہ یہ ایک وسیع تہذیبی اور علمی ورثہ ہے، جس کے اثرات ہماری زبان، ادب اور روزمرہ زندگی تک پھیلے ہوئے ہیں۔
سیشن کے دوسرے مہمانِ اعزازی ڈاکٹر یونس افتخار منشی (ڈپٹی ڈائرکٹر جنرل، سینٹرل کونسل فار ریسرچ اِن یونانی میڈیسن) نے اپنے خطاب میں طب کی مخصوص زبان اور اس کے لسانی ارتقا پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ طب کی اپنی ایک مخصوص زبان ہوتی ہے اور جس معاشرے میں اس علم کی آبیاری ہوتی ہے، وہاں کی زبان بھی طبی اصطلاحات کی تشکیل، ترویج اور فروغ کا اہم ذریعہ بنتی ہے۔ طبی زبان کسی ایک زبان تک محدود نہیں رہتی، بلکہ مختلف تہذیبوں اور علمی روایتوں کے باہمی تعامل سے تشکیل پاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ طبی اصطلاحات میں فارسی اور عربی کے علاوہ دیگر زبانوں کے الفاظ بھی شامل ہوئے ہیں، جو صدیوں پر محیط علمی و تہذیبی میل جول کی عکاسی کرتے ہیں۔ انھوں نے مختلف ادویہ اور امراض کے ناموں کی مثالیں پیش کرتے ہوئے ان کے ماخذ اور لسانی پس منظر پر روشنی ڈالی۔
ڈاکٹر یونس افتخار منشی نے مزید کہا کہ برصغیر ہند و پاک میں یونانی طب کے زندہ اور متحرک رہنے اور اس کی علمی روایت کو نسل در نسل منتقل کرنے میں اردو زبان نے نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔ اردو نے نہ صرف طبی علوم کے ابلاغ کو آسان بنایا بلکہ یونانی طب کے علمی سرمائے کو محفوظ رکھنے اور عام کرنے میں بھی ایک مؤثر وسیلے کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری ادا کی ہے۔
کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے حکیم وسیم احمد اعظمی (سابق ڈپٹی ڈائرکٹر، سینٹرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف یونانی میڈیسن) نے اردو تذکرہ نگاری کی روایت، اس کے ارتقا اور طبی تذکرہ نگاری کے مختلف پہلوؤں پر تفصیل سے گفتگو کی۔ انھوں نے اردو تذکرہ نگاری کے حوالے سے فورٹ ولیم کالج کی علمی سرگرمیوں، مرزا علی لطف کے ’گلشنِ ہند‘، حیدر بخش حیدری، میر تقی میر کے ’نکات الشعرا‘ اور محمد حسین آزاد کے ’آبِ حیات‘ جیسے اہم متون کا ذکر کیا اور تذکرہ نگاری کی روایت میں ان کی اہمیت کو واضح کیا۔ انھوں نے طبی تذکرہ نگاری کے ضمن میں ’تذکرۃ الاطباء‘، ’طبقات الاطباء‘ اور دیگر تذکرۂ اطباء و حکما کی روایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ طبی تذکرے محض اطبا، حکما اور ان کی تصانیف کا تعارف نہیں کراتے بلکہ اپنے عہد کی طبی فکر، علمی ماحول، تہذیبی صورتِ حال اور طب کے ارتقا کے اہم شواہد بھی فراہم کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ایک اچھے تذکرے میں اختصار کے ساتھ جامعیت، تحقیق پسندی، غیر جانب داری اور مستند معلومات کا ہونا ضروری ہے۔ تذکرہ نگاری کا اسلوب غیر انشائیہ، متوازن اور غیر جانب دار ہونا چاہیے، تاکہ شخصیت اور اس کے علمی و فنی کارناموں کا حقیقت پسندانہ جائزہ پیش کیا جا سکے۔ انھوں نے کہا کہ یہ خصوصیات تذکرہ نگاری کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔
تعارفی کلمات میں سید منیر عظمت (سکریٹری، اصلاحی ہیلتھ کیئر فاؤنڈیشن) نے یونانی طب اور صحت کے حوالے سے اس موضوع کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے اردو زبان، طب اور برصغیر کی تاریخی و تہذیبی روایت کے باہمی تعلق پر گفتگو کرتے ہوئے اصلاحی ہیلتھ کیئر فاؤنڈیشن کے اغراض و مقاصد، تعلیمی سرگرمیوں، سماجی شعور بیدار کرنے اور سماجی خدمات کے حوالے سے بھی اظہارِ خیال کیا۔
افتتاحی اجلاس کی نظامت ڈاکٹر عمیر منظر(ایسوسی ایٹ پروفیسر، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، لکھنؤ کیمپس، لکھنؤ)نے کی، جبکہ کلماتِ تشکر ڈاکٹر نازش احتشام اعظمی (جنرل سکریٹری، اصلاحی ہیلتھ کیئر فاؤنڈیشن) نے ادا کیے۔
افتتاحی اجلاس کے بعد دو تکنیکی اجلاس منعقد کیے گئے، پہلے اجلاس کی صدارت پروفیسر ادریس احمد، پروفیسر احمد محفوظ،پروفیسر ندیم احمد اور جناب عارف زیدی (سابق ڈین، جامعہ ہمدرد، دہلی)نے کی۔اس میں ڈاکٹر خورشید احمد شفقت اعظمی(دہلی)، ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی، پروفیسر عبداللہ عزیز(لکھنؤ)، پروفیسر حکیم اشہر قدیر(علی گڑھ)،حکیم امان اللہ(دہلی)، ڈاکٹر فیض الرحمن اقدس(دہلی) اور ڈاکٹر عبدالحلیم (لکھنؤ) نے اپنے مقالات پیش کیے۔اجلاس کی نظامت ڈاکٹر محمد فیصل نے کی۔
دوسرے تکنیکی اجلاس کی صدارت ڈاکٹر خورشید احمد شفقت اعظمی، پروفیسر شاہ عالم اور پروفیسر علاء الدین خاں نے کی۔اس اجلاس میں پروفیسر خان محمد قیصر(ممبئی)، ڈاکٹر عمیر منظر(لکھنؤ)، ڈاکٹر اسعد فیصل فاروقی(علی گڑھ)، ڈاکٹر محمد مقیم(دہلی) اور ڈاکٹر شاہنواز فیاض(دہلی) نے اپنے مقالات پیش کیے۔اس اجلاس کی نظامت ڈاکٹر ثاقب عمران نے کی۔
سامعین میں شامل اہم افراد میں جناب سہیل انجم، پروفیسر نجمی، حکیم اجمل خان، ڈاکٹر محمد فیصل، قومی اردو کونسل سے ڈاکٹر شمع کوثر یزدانی( اسسٹنٹ ڈائرکٹر،اکیڈمک)، ڈاکٹر مسرت ( ریسرچ آفیسر)، محترمہ نہاں رُباب ( اسسٹنٹ ایڈیٹر) اور محترمہ ذیشان فاطمہ( ریسرچ اسسٹنٹ) شامل رہیں۔
دلی این سی آر
جامعہ کوملارسرچ اینڈ ٹریننگ کیلئے موقر ڈی ایچ آر گرانٹ
(پی این این)
نئی دہلی:جامعہ ملیہ اسلامیہ کو حکومتِ ہند کی وزارتِ صحت و بہبودِ خاندان کے زیر اہتمام محکمہ صحت تحقیق کی انسانی وسائل کی ترقی اسکیم کے جزواداروں اور سائنسی پیشہ ور افراد؍اداروں؍انجمنوں کی معاونت کے تحت ایک موقر گرانٹ منظور کی گئی ہے۔
اس اسکیم کے تحت، ڈی ایچ آر منتخب ملکی اداروں کو مخصوص ترجیحی شعبوں میں مصروف کار امیدواروں کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام منعقد کرنے میں معاونت فراہم کرتا ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کو اس کے تجویز کردہ پروجیکٹ بعنوان “اینٹی مائکروبیل ریزسٹنس میں مالیکیولر اور ملٹی اومکس طریقہ کار: تشخیص سے علاج تک کے لیے پانچ سال کی مدت کے واسطے چھیاسٹھ اعشاریہ تیئس لاکھ روپے کی خطیر گرانٹ منظور کی گئی ہے۔
یونیورسٹی کے لیے یہ گرانٹ ایک نمایاں کامیابی ہے اور یہ اینٹی مائکروبیل ریزسٹنس جیسے اہم شعبے میں بائیو میڈیکل تحقیق، سائنسی تربیت اور صلاحیت سازی کو مضبوط بنانے میں نمایاں کردار ادا کرے گی۔ یہ پروگرام مالیکیولر اور ملٹی اومکس طریقہ کار میں خصوصی تربیت فراہم کرے گا، جس میں اے ایم آر کی تشخیص، ملٹی اومکس طریقہ کار اور علاج کی حکمت عملیوں کی تیاری جیسے شعبے شامل ہوں گے۔ یہ اقدام بائیو میڈیکل سائنس کے ایک اہم اور تیزی سے ارتقا پذیر شعبے میں ہنر مند افرادی قوت تیار کر کے حکومتِ ہند کے ‘اسکل انڈیا پروگرام کے مقاصد کے حصول میں بھی معاون ثابت ہوگا۔
اس پروجیکٹ کی پرنسپل انویسٹی گیٹر، ڈاکٹر شمع پروین، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کے ‘سینٹر فار انٹرڈسپلنری ریسرچ اِن بیسک سائنسز میں پروفیسر ہیں۔ پروفیسر پروین کا تحقیقی دائرہ کار مالیکیولر بائیولوجی، وائرولوجی، متعدی امراض اور ٹرانسلیشنل بائیو میڈیکل ریسرچ پر محیط ہے۔ انھوں نے متعدد مالی معاونت فراہم کرنے والے اداروں، بشمول ڈی بی ٹی، سی ایس آئی آر، یو جی سی اور سی سی آر یو ایم۔آیوش کے تحت تحقیقی منصوبے مکمل کیے ہیں۔ پروفیسر پروین نے تحقیقی تربیت، رہنمائی اور تعلیمی اقدامات، کانفرنسوں اور ورکشاپ کے انعقاد میں بھی نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ منظور شدہ تجویز کے شریک محققین میں سی آئی آربی ایس سی،جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر امتیاز حسن، پروفیسر عاصم الاسلام، پروفیسر ایس این کاظم اور پروفیسر راجن پٹیل شامل ہیں۔
ان کی مشترکہ مہارت اس پروگرام کی بین علومی نوعیت کو مزید مستحکم کرے گی اور مالیکیولر بائیولوجی، کمپیوٹیشنل طریقہ کار اور ادویات کی دریافت وغیرہ پر محیط اے ایم آر(اینٹی مائکروبیل ریزسٹنس) تحقیق میں جدید تربیت کے لیے راہیں ہموار کرے گی۔
توقع ہے کہ اس اقدام سے اے ایم آر(اینٹی مائکروبیل ریزسٹنس) پر تحقیق میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کا کردار مزید مستحکم ہوگا اور بین شعبہ جاتی سائنسی تربیت کو فروغ ملے گا، جس کے نتیجے میں ایسے ماہر محققین اور پیشہ ور افراد تیار ہوں گے جو اینٹی مائکروبیل ریزسٹنس کے بڑھتے ہوئے عالمی چیلنج سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی،مسجل،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے پروفیسر شمع پروین اور ان کی ٹیم کو اس اہم کامیابی پر مبارکباد پیش کی۔ انھوں نے اینٹی مائکروبیل ریزسٹنس کے شعبے میں تحقیق کو پروان چڑھانے اور صلاحیت سازی میں ان کی خدمات کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ یہ اقدام جامعہ ملیہ اسلامیہ کی تحقیقی ساکھ اور بائیو میڈیکل سائنسز میں ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے میں اس کے کردار کو مزید بہتر بنائے گا۔ یونیورسٹی،ڈی ایچ آر کی اس باوقار گرانٹ کو جدید ترین بائیو میڈیکل تحقیق کو آگے بڑھانے، بین علومی تعاون کو مضبوط بنانے اور اینٹی مائکروبیل ریزسٹنس کے شعبے میں تحقیق و تربیت کے ایک مستحکم نظام کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم پیش رفت تسلیم کرتی ہے۔
دلی این سی آر
AAP کونسلر کشتیوں کے ساتھ MCD میٹنگ میں پہنچے
(پی این این)
نئی دہلی :عام آدمی پارٹی کے کونسلروں نے بھاری بارش کی وجہ سے دہلی میں پانی جمع ہونے پر بی جے پی حکومت پر حملہ کیا۔ انہوں نے شہر کے کچرے کے مسئلے کو بھی نشانہ بنایا۔ اے اے پی کونسلر کچرا اور کشتیاں لے کر ایم سی ڈی ہاؤس میٹنگ میں پہنچے، جہاں انہوں نے زبردست ہنگامہ کیا۔
دہلی میں بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ دارالحکومت کی سڑکیں کئی مقامات پر پانی سے بھری ہوئی ہیں جس سے عوام کو کافی مشکلات کا سامنا ہے۔ ایسے میں عام آدمی پارٹی کے کونسلروں نے احتجاج کا انوکھا طریقہ نکالا۔ انہوں نے نہ صرف دہلی میں شدید بارش کی وجہ سے پانی جمع ہونے پر بی جے پی حکومت پر حملہ کیا بلکہ شہر کے کچرے کے مسئلہ کو بھی نشانہ بنایا۔ اے اے پی کونسلر کچرا اور کشتیاں لے کر ایم سی ڈی ہاؤس میٹنگ میں پہنچے، جہاں انہوں نے زبردست ہنگامہ کیا۔عام آدمی پارٹی کے تمام کونسلر آج 24 اگست کو کشتیوں کے ساتھ سوک سینٹر پہنچے۔ اس نے ایوان میں موجود سب کو حیران کر دیا۔ پورا ایوان ہنگامہ سے گونج اٹھا۔ آپ کے کونسلروں نے پہلے ایوان میں کشتی کی سواری کی، پھر کشتی اور کچرا ایوان کے باہر رکھ کر بی جے پی حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ اے اے پی کونسلروں نے بی جے پی کے زیر اقتدار ایم سی ڈی کے ناقص صفائی کے نظام اور دہلی بھر میں پانی جمع ہونے کے خلاف سخت احتجاج کیا۔اے اے پی کے کونسلروں نے نعرے لگائے، شرم کرو، شرم کرو، استعفی دو، استعفیٰ دو۔” انہوں نے نعرے لگائے، “کچرے کا جواب دو، پانی بھرنے کا جواب دو، پانی بھرنے کا جواب دو۔” انہوں نے اپنے نعروں سے حکومت پر دباؤ ڈالا۔ AAP کونسلروں کا کہنا ہے کہ بارش کے دوران دہلی کی سڑکوں پر کچرے کے ڈھیر اور پانی جمع ہونے سے راجدھانی کی حالت زار کھل کر سامنے آئی ہے، لیکن بی جے پی کی چار انجن والی حکومت عوام کے مسائل سے غافل ہے۔قومی راجدھانی میں پیر کو ہونے والی موسلا دھار بارش سے کئی علاقوں میں سڑکیں زیر آب ہوگئیں۔
آ گئیں، جس سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور عام زندگی ٹھپ ہو گئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق شہر کے جنک پوری علاقے میں سب سے زیادہ 67 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ لٹینس دہلی، متھرا روڈ، کناٹ پلیس، بھیرن مارگ، آئی ٹی او اور زکھیرا انڈر پاس سمیت کئی اہم علاقوں میں پانی بھر جانے سے ٹریفک جام ہوگیا۔سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیوز میں کم از کم ایک درجن طلباء کو سنگم وہار میں کمر کے گہرے پانی سے گزرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ پرانی دہلی کے علاقے میں بارش کا پانی جمع ہونے کی وجہ سے صدر بازار کے مکینوں کو کمر گہرے پانی سے گزرنا پڑا۔ چند ہفتے قبل علاقے کے مکینوں کو بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
بہار9 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ