Connect with us

uttar pradesh

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مسلمانوں کی سماجی اور قومی ذمہ داریاں,مسلمانوں کو ایک فعال، مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنے کی ترغیب دیتا ہے اسلام : فیض الرحمن

Published

on

(پی این این)
دیوبند:اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو نہ صرف فرد کے ذاتی کردار کی تعمیر کرتا ہے بلکہ اجتماعی زندگی کے اصول بھی طے کرتا ہے۔ انہی بنیادی اصولوں میں ایک انتہائی اہم تصور الولاء والبراء ہے۔ یہ دراصل ایمان کی روح اور اسلامی شناخت کی بنیاد ہے، جو ایک مسلمان کو صحیح اور غلط، حق اور باطل، اور خیر و شر کے درمیان واضح فرق کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔
ان خیالات کا اظہار مسلم راشٹریہ منچ میرٹھ کے کنوینرفیض الرحمن نے پریس کو جاری اپنے ایک بیان میں کیا ۔انہوں نے کہا کہ ”الولاء” کے معنی ہیں محبت، وفاداری، تعلق اور حمایت، جبکہ ”البراء” کے معنی ہیں بیزاری، دوری، عدم اتفاق اور دستبرداری۔
اسلامی اصطلاح میں اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مسلمان کو اللہ اس کے رسولؐ اور ایمان والوں سے محبت اور وفاداری رکھنی چاہیے، اور ظلم، فتنے اور برائی سے نفرت اور دوری اختیار کرنی چاہیے۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں اس اصول کا بار بار ذکر کیا گیا ہے تاکہ مسلمان اپنی فکری اور عملی زندگی میں اعتدال اور راست بازی کو برقرار رکھ سکیں۔
انہوں نے کہا کہ لیکن بدقسمتی سے کچھ لوگ اس تصور کو غلط طریقے سے پیش کرتے ہیں اور اسے انتہا پسندی، نفرت یا سماجی دوری کا ذریعہ بنا لیتے ہیں، حالانکہ اسلام کا اصل پیغام اعتدال، انصاف اور انسانی فلاح و بہبود ہے۔ الولاء والبراء کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنے ایمان کی بنیاد پر حق کا ساتھ دے اور باطل سے دور رہے، لیکن ساتھ ہی انسانی ہمدردی، انصاف اور سماجی بھلائی کے اصولوں کو بھی ملحوظِ خاطر رکھے۔
فیض الرحمن نے کہا کہ اسلام مسلمانوں کو ایک فعال، مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ ایک سچا مسلمان صرف اپنی ذات کی اصلاح تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اپنے معاشرے اور ملک کی ترقی میں بھی اہم (تعاون) دیتا ہے۔ قرآن میں بار بار زمین پر فساد نہ پھیلانے اور اصلاح کی کوششیں کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

اسی طرح، نبی کریم ﷺ نے سب سے بہتر انسان اسے قرار دیا ہے جو لوگوں کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند ہو۔اس تناظر میں اگر الولاء والبراء کو سمجھا جائے تو یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم اپنی وفاداری کو حق، انصاف، ایمانداری اور انسانیت کے ساتھ جوڑیں۔ ایک مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے معاشرے میں امن، رواداری، بھائی چارے اور انصاف کو فروغ دے۔ وہ تعلیم، صحت، معیشت اور اخلاقیات کے شعبوں میں مثبت کردار ادا کرے اور ہر اس عمل سے بچے جو معاشرے میں انتشار اور بگاڑ پیدا کرے۔انہوںنے کہا کہ اسلام نے شہری حقوق اور فرائض پر بھی خصوصی زور دیا ہے۔ ایک مسلمان جس ملک میں رہتا ہے، وہاں کے قوانین کا احترام کرنا، اس کی سالمیت کی حفاظت کرنا اور اس کی ترقی میں حصہ لینا اس کا مذہبی فریضہ ہے، بشرطیکہ یہ سب شریعت کے بنیادی اصولوں کے خلاف نہ ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ میں ایک مثالی ریاست کی بنیاد رکھی، جہاں مختلف مذاہب اور قبائل کے لوگ امن اور انصاف کے ساتھ رہتے تھے۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسلام دوسروں کے ساتھ پرامن بقائے باہمی (Peaceful Co-existence) کی تعلیم دیتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مسلمان اپنے کردار اور رویے سے دوسروں کے لیے ایک مثال بنے، نہ کہ سختی یا نفرت کے ذریعے انہیں دور کرے۔آج کے دور میں، جب دنیا متعدد چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، مسلمانوں کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ وہ اپنے دین کی صحیح تصویر پیش کریں۔ انہیں تعلیم، تحقیق، ٹیکنالوجی، سماجی خدمت اور قومی ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔ دراصل یہی ”الولاء” کا عملی تقاضا ہے کہ ہم اپنے دین اور اقدار کے وفادار رہیں اور انہیں دنیا کے سامنے مثبت شکل میں پیش کریں۔

 

uttar pradesh

ملا رونق لکھنوی کے شاگرد تھےجسٹس آنند نرائن : رضوان احمد فاروقی

Published

on

لکھنؤ:رنج وغم کی کیفیت ایک فطری اور شدید انسانی ردعمل ہے۔ جو کسی بڑے نقصان، صدمے یا عزیزواقارب کی جدائی پر ہر کسی ہوتاہے۔ اس کیفیت حساس دل انسان شدید اداسی، ذہنی کش مکش، تناؤ اور دلی تکلیف محسوس کرتا ہے۔ لکھنؤ کے حساس دل شعراء نے ” رنج وغم” کو بطور ردیف برتا، تو رنج وغم کی تاریخی حقیقت بشکل اشعار سامنے آئی ۔ خوب خوب اشعار سننے میں آئے۔
موقع تھا ” مسرور ایجوکیشنل سوسائٹی کے ماہانہ مشاعرے کا، جو ہمیشہ کی طرح سینٹ روز پبلک اسکول گڑھی پیر خاں، میں ہوا۔ نظامت رضوان احمد فاروقی نے کی بحثیت صدر ممتاز صحافی وافسانہ نگار احمد ابراہیم علوی نے شرکت فرمائی اور اپنے پرجوش خطاب میں کہا۔ نوجوان شاعری کے ذریعے اردو میں دلچسپی لے رہے ہیں ۔ اچھے اشعار کہہ رہے ہیں ۔ انھیں دوسری زبانوں کے مطالعے کے ساتھ دنیا کے حالات کا بعینہ مشاہدہ کرنا چاہئے۔ بطور سرپرست محمد فاروق جاذب لکھنوی شریک مشاعرہ رہے۔ مہمانان خصوصی کی حیثیت سے مرزا شارق لاہر پوری اور محسن قدوائی نے شرکت کی اور مہمان اعزازی کے طور پر نجمی لکھنوی مشاعرے کا حصہ رہے ۔ جسٹس آنند نرائن کے استاد لکشمی نرائن رونق لکھنوی کے شعری مجموعے کا رسم اجراء بدست احمد ابراہیم علوی ہوا۔
واضح رہے کتاب کے مرتب بزرگ شاعر نجمی لکھنوی ہیں، جنھیں سبھی نے مبارک باد پیش کی۔ ڈاکٹر منصور حسن خاں نے ان کے جذبے کو سراہا۔ رضوان احمد فاروقی نے کہا۔ 99 برس عمر پانے والے تعلیم یافتہ شاعر کا شعری اثاثہ شائع کرنے والا شخص بجا طور پر لائق تحسین و ستائش ہے۔
انھوں نے مزید کہا۔ لکشمی نرائن رونق لکھنوی جیسے بے لوث خادمین ادب پر تحقیقی مقالات لکھے جانے چاہئے۔
مشاعرے میں پڑھا گیا منتخب کلام درج ذیل ہے :
پیار جب اس کا اس سے سنبھلتا نہیں
کیسے دیکھے گی بیٹے کی ماں رنج وغم
جاذب لکھنوی
دوستوں کی محفل میں جب بھی مسکراتا ہوں
مجھ پہ ٹوٹ پڑتا ہے آسمان رنج وغم
مرزا شارق لاہر پوری
ہر حقیقت کے ہیں ترجماں رنج وغم
یوں ہی جاتے نہیں رائیگاں رنج وغم
نجمی لکھنوی
تونے چاہا بہت زیر کرلے ہمیں
سر نہ ہونے دیا ہم نے خم رنج وغم
محسن قدوائی
اٹھ گیا ہے زمانے سے میرا بھرم
رنج وغم رنج وغم رنج وغم رنج وغم
شیدا صدیقی
مسرور اس خیال سے مغموم ہے بہت
لائے کہاں سے ڈھونڈکے اشعار رنج وغم
مسرور شاہ جہاں پوری
جب سے ہوا ہے باعث عرفان رنج وغم
میرے لئے ہے عیش کا سامان رنج وغم
اشعر علیگ
ایک دل سیکڑوں ہیں الم، رنج وغم
تیری زلفوں کے ہیں پیچ سخن، رنج وغم
حیدر علوی
روپڑیں جو بیاں کردیں ہم
رنج وغم، رنج وغم، رنج وغم
رضوان احمد فاروقی
ہمارے حوصلوں کو یہ نئی پرواز دیتے ہیں
سبق دیتے ہیں ہم کو اک نیا ہربار رنج وغم
ناظم بریلوی
مولا کبھی تو بھیج مسرت کی بارشیں
بڑھتے ہی جارہے ہیں غریبوں کے رنج وغم
ڈاکٹر اقبال حسین
لے جاتے ہیں یہ اوج ثریا سے بھی پرے
فکر بشر کو دیتے ہیں رفتار رنج وغم
کاوش شوکتی
دشمنوں نے سازشیں ایسی بنی ہیں ہر طرف
زندگانی ہوگئی ہے کربلائے رنج وغم
ڈاکٹر منصور حسن خاں
سرخی چشم فلک یہ کہہ رہی ہے بار بار
سن رہے ہیں عرش والے بھی صدائے رنج وغم
ضیا تقوی
حساب رکھیں گے کب تک فضول باتوں کا
یہ زندگی ہے ملیں گے تمام رنج وغم
سریواستوا باہم
مذکورہ شعراء کے علاوہ ڈاکٹر عتیق فاروقی، نیلو فر، اعظم قریشی، ڈاکٹر عرش لکھنوی، فیضان خان وغیرہ مشاعرے کا کردار رہے۔ نجمی لکھنوی نے ڈاکٹر منصور حسن خاں کاشکریہ ادا کیا اور منصور خاں نے جملہ شعراء کا۔ نیز آئندہ ردیف ” مسرت” کا اعلان کیا ۔ یہ مشاعرہ اگست کے تیسرے ہفتے ہوگا۔ ان شااللہ

Continue Reading

uttar pradesh

بڈھانہ علاقہ میں مکان منہدم ہونے سے چار بچوں سمیت 5کی موت

Published

on

دیوبند:مظفرنگر ضلع کے بڈھانہ علاقے کے گاؤں حبیب پور سیکری میں مسلسل بارش کے باعث ایک مکان منہدم ہونے سے ایک ہی خاندان کے پانچ افراد جاں بحق ہونے کے المناک واقعہ پر جمعیۃ علماء ہند بڈھانہ نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
جمعیۃ علماء ہند بڈھانہ کے ذمہ داران نے سینئر ضلع نائب صدر محمد آصف قریشی بڑھانوی کے ہمراہ گاؤں حبیب پور سیکری پہنچ کر جائے حادثہ کا معائنہ کیا اور مرحومین کے اہل خانہ سے ملاقات کرکے تعزیت و ہمدردی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ یہ حادثہ نہایت دردناک اور دل دہلا دینے والا ہے۔ مکان کے مالک اسلام الدین اور ان کے چار معصوم بچوں کی المناک وفات سے پورا علاقہ سوگوار ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کے ذمہ داران نے مرحومین کی مغفرت، درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔
جمعیۃ علماء ہند بڈھانہ نے حادثے میں زخمی بچوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کرتے ہوئے ضلع انتظامیہ، پولیس اور محکمہ صحت کی جانب سے فوری راحت و بچاؤ کے کام شروع کرنے اور زخمیوں کو بروقت اسپتال منتقل کرکے علاج فراہم کرنے کے اقدامات کو سراہا۔ ساتھ ہی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ زخمیوں کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے اور انہیں بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔وفد نے حکومت اور ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ خاندان کو حکومت کی جانب سے مقررہ مالی امداد، رہائشی سہولت اور دیگر تمام ضروری امدادی وسائل بلا تاخیر فراہم کیے جائیں۔اس موقع پر حافظ عبدالغفار، حافظ تحسین، مولانا عمر، شاہد قریشی، قاری قطب الدین سمیت دیگر ذمہ داران بھی موجود رہے۔

Continue Reading

uttar pradesh

ٹریکٹر ٹرالی کی زد میں آکر بائک سوار صفائی ملازم کی دردناک موت

Published

on

دیوبند:دیوبند تحصیل کے تحت آنے والے گائوں مرگ پور ۔دودھلی کے ایک بے قابو تیز رفتار ٹریکٹر ٹرالی کی زد میں آکر ایک صفائی ملازم کی موقع پر ہی دردناک موت ہوگئی جبکہ اس کا دوسرا ساتھی شدید طور پرزخمی ہوگیا ۔
فوت ہوجانے والا صفائی ملازم پیر کے روز صبح کے وقت اپنے ساتھی کے ساتھ کانوڑ گزرنے والی سڑکوں کی صفائی کرنے کے لئے جارہا تھا ۔تفصیل کے مطابق مظفر نگر کے گائوں ریتا نگلی کا باشندہ 37سالہ سنجیو کمار تیگھری گائوں میں بطور صفائی ملازم تعینات تھا ۔پیر کی صبح سنجیو کمار کانوڑ گزرنے والے راستوں کی صفائی کرنے کے لئے اپنے ساتھی وریرندر کے ساتھ بذریعہ بائک مرگ پور دودھلی روڑ سے ہوتے ہوئے جارہا تھا ۔
اسی دوران جب وہ راجباہے کے قریب پہنچا تو سامنے سے آنے والی ایک تیز رفتار اور بے قابو ٹریکٹر ٹرالی نے اس کی بائک کو اپنی زد میں لے لیا اس حادثہ میں سنجیو کمار کی موقع پر ہی دردناک موت ہوگئی جبکہ اس کا ساتھی وریرند شدید طور پر زخمی ہوگیا ۔حادثہ کی اطلاع ملتے ہی گائوں کے باشندہ موقع پر جمع ہوگئے انہوں نے سنجیو کمار اور وریرندر کو دیوبند کے سرکاری اسپتال پہنچایا ۔جہاں ڈاکٹر وں نے سنجیو کمار کو مردہ قرار دیدیا ۔
اس کے اہل خانہ کے آنے کے بعد پولیس نے لاش کا پنچنامہ کرنے کے بعد پوسٹ مارٹم کے لئے بھیجدیا ۔اس دوران اسپتال میں اے ڈی او پنچایت سمیت علاقائی ترقیاتی بلاک آفس کے دیگر افسران اور ملازمین موجود رہے ۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network