دیش
احمد آباد میں 450 سے زائد بزرگ نے اپنے بچوں کے خلاف کفالت کیلئے دائر کیا کیس
(حبیب شیخ/پی این این)
احمد آباد:جب کسی بوڑھے کی لاٹھی اس کا ساتھ دینے کے بجائے اسے پیٹتی ہے… جب ایک بوڑھے کو دو وقت کے کھانے کے لیے اپنے ہی بچوں پر ہاتھ پھیلانا پڑتا ہے تو کچھ بوڑھے والدین کو بالآخر عدالتوں اور دفاتر کے دروازے کھٹکھٹانے پڑتے ہیں۔ پچھلے پانچ سالوں میں احمد آباد شہر کے 452 بزرگوں نے شہر کے ڈپٹی کلکٹر کو درخواست دی ہے اور اپنے بچوں کو ہونے والے جسمانی اور ذہنی اذیت سے نجات دلانے اور ان کی دیکھ بھال کے لیے مدد مانگی ہے۔
والدین اور بزرگ شہریوں کی دیکھ بھال اور بہبود کا ایکٹ، 2007 متعارف کرایا گیا ہے تاکہ بزرگوں کو ان کے بچوں یا خاندان کے افراد کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں سے بچایا جا سکے۔ گزشتہ چند سالوں میں بزرگوں کو نظر انداز کرنے میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ جیسے کہ 2023-22، 2024-42، 2025-85 کیس مختلف عدالتوں میں دیکھے گئے۔
ایک ایکٹ کے تحت، بزرگ سب ڈویژنل مجسٹریٹ کے سامنے شکایات درج کر سکتے ہیں۔ کچھ سالوں سے ایسی شکایات کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی۔ لیکن پچھلے پانچ سالوں میں اس میں بڑی چھلانگ آئی ہے۔ اس سلسلے میں دستیاب معلومات کے مطابق سال 2021 میں مغربی احمد آباد میں 23 والدین نے اپنے بچوں کے خلاف درخواستیں دائر کیں۔ سال 2025 میں یہ تعداد بڑھ کر 85 ہو گئی ہے جو کہ چار گنا ہے۔
مشرقی احمد آباد میں رہتے ہوئے سال 2021 میں 33 شکایات درج کی گئیں۔ ڈیڑھ گنا اضافہ ہوا۔ سال 2025 میں پانچ۔ مشترکہ خاندانوں کی بجائے منقسم خاندانوں کا اصرار اور سماجی اور | خیال کیا جاتا ہے کہ خاندانی اقدار اس کے لیے ذمہ دار ہیں۔ والدین کی عرضی سننے کے بعد ایس ڈی ایم نے بچوں کو اپنے والدین کا خیال رکھنے کا حکم دیا۔ پانچ سے دس ہزار ماہانہ مینٹیننس ادا کریں۔ ایسے معاملات بھی ہیں جہاں ایک لاکھ روپے ماہانہ کمانے کے باوجود والدین کو کھانا نہیں دیا جاتا۔
شکایات دور کرنے میں دو سے تین ماہ لگ جاتے ہیں۔ اس عمل میں شامل ذرائع کے مطابق والدین کی جانب سے ہراساں کرنے کے واقعات شہری علاقوں میں زیادہ عام ہیں۔ والدین نے ساری زندگی محنت کرکے اپنے بچوں کو تعلیم دلائی اور پھر بیرون ملک بھیج دیا۔ کچھ بچے اپنے والدین سے رابطہ کھو دیتے ہیں۔ دوسری جانب ایسے کیسز بھی ہیں کہ والدین کو ماہانہ ایک لاکھ روپے کمانے کے باوجود کھانا نہیں دیا جاتا۔ زیادہ تر ایسے حالات میں جہاں دو تین بچے ہوں، والدین کا خیال کون رکھے گا؟ اس مسئلہ میں اختلاف ہے۔
دیش
دہلی این سی آر سے لیکر جموں وکشمیر تک زلزلے کے تیز جھٹکے
نئی دہلی:ملک میں دہلی این سی آر سے لیکر جموں وکشمیر تک زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کئے گئے۔ لوگ گھروں اور دفتروں سے باہر نکل آئے۔ سڑکوں پر افراتفری مچ گئی۔ حالانکہ اب تک کسی جان مال کی خبر نہیں ہے۔
اس زلزلے کا مرکز شمال مشرق افغانستان کے پاس تھا، زلزلے کی گہرائی 215 کلو میٹر تھی۔ افغانستان میں 6.5 سے زیادہ شدت کا زلزلہ آیا تھا۔ آٹھ ملکوں پر اس زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوئے ہیں۔ دریں اثنا کشمیر میں بھی زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کئے گئے۔ ریکٹر پر زلزلے کی شدت 6.2 ریکارڈ کی گئی۔ شام وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے، جس سے لوگوں میں کچھ دیر کے لیے خوف و ہراس پھیل گیا۔ لوگ جان بچانے کے لیے گھروں، دفاتر اور دکانوں سے باہر نکلے۔موصولہ اطلاعات کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 6.2 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کے جھٹکے شام 7 بج کر 04 منٹ (آئی ایس ٹی) پر سرینگر سمیت وادی کے مختلف اضلاع میں محسوس کیے گئے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق زلزلے کا مرکز افغانستان میں 36.442 شمالی عرض بلد اور 70.67 مشرقی طول بلد پر واقع تھا، جبکہ اس کی گہرائی 215 کلومیٹر بتائی جا رہی ہے۔
زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوتے ہی کئی علاقوں میں لوگ احتیاطاً گھروں سے باہر نکل آئے۔ تاہم خبر فائل کیے جانے تک جموں و کشمیر کے کسی بھی علاقے سے کسی جانی نقصان یا املاک کو نقصان پہنچنے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ساؤتھ امریکی ملک وینزویلا میں 24 جون کی شام کو آئے زلزلوں کے تباہ کن جھٹکوں کے باعث اب تک ایک ہزار کے قریب شہری ہلاک اور چار ہزار کے قریب زخمی ہو چکے ہیں۔ زلزلوں کے خوفناک جھٹکوں کی وجہ سے کئی عمارتیں بھی زمین بوس ہوئین جبکہ ملبے تلے سینکڑوں افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جس کے پیش نظر ایک بڑے پیمانے پر ایک ریسکیو آپریشن جاری ہے اور ہلاکتوں میں مزید اضافے کا بھی امکان ہے۔
دیش
نیٹ کے بعد ٹی ای ٹی کا پرچہ لیک،امتحان منسوخ
ممبئی:مہاراشٹر کے تھانے میں ٹی ای ٹی امتحان کا پیپرلیک ہونے سے ہنگامہ مچ گیا، جس کا امتحان منسوخ کر دیا گیا ہے۔بھیونڈی اور پونے میں کئی مقامات پر چھاپہ ماری چل رہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چار سے زائد افراد گرفتار ہوچکے ہیں۔ سرکار نے مقدمہ بھی قائم کردیا ہے۔
24 گھنٹے قبل پیپرلیک ہونے سے امیدواروں میں کافی مایوسی ہے۔ دراصل، ٹی ای ٹی کا امتحان اصل میں کل ہونا تھا، لیکن رپورٹس نے تصدیق کی ہے کہ پپر لیک ہوگیا تھا۔ مہاراشٹر اسٹیٹ ایگزامینیشن بورڈ (ایم ایس سی ای) نے کہا ہے کہ 28 جون 2026 کوہونے والے ٹی ای ٹی امتحان کو مکمل تحقیقات تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔نیٹ کے بعد اب مہاراشٹر میں ٹی ای ٹی کا پیپر امتحان سے 24 گھنٹے پہلے لیک ہوگیا ہے۔مہاراشٹرکے تھانے میں نیٹ (NEET) کے لیک ہونے والے ٹیچرایلیجیبلٹی ٹسٹ (TET) امتحان کا پیپرلیک ہونے سے ہنگامہ مچ گیا ہے۔ جس کے بعد امتحان منسوخ کردیا گیا ہے۔ ٹی ای ٹی کا امتحان اصل میں کل یعنی 28 جون، 2026 کومنعقد ہونا تھا، لیکن خبروں سے پیپرلیک ہونے کی تصدیق ہوگئی۔
یہ پیپرلیک امتحان سے تقریباً 24 گھنٹے پہلے ہوا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ تقریباً 4 لاکھ امیدوار امتحان میں شامل ہونے والے تھے، لیکن اسے منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں امتحان کی نئی تاریخ کا اعلان کردیا جائے گا۔مہاراشٹراسٹیٹ کونسل آف ایگزامینیشن (ایم ایس سی ای)، پونے نے ٹیچراہلیت ٹیسٹ (ٹی ای ٹی) 2026 کا امتحان، جو28 جون، 2026 کوشیڈول تھا، اگلے نوٹس تک ملتوی کردیا ہے۔ کونسل نے ایک پریس ریلیزمیں کہا کہ ٹی ای ٹی امتحان ریاست بھرمیں 1,028 مراکزپرمنعقد ہونا تھا۔ نیٹ 2026 امتحان کے دوران مبینہ پیپرلیک ہونے کی روشنی میں تمام ضروری انتظامات کئے گئے تھے۔حالانکہ اس درمیان ایک اطلاع ملنے پربھیونڈی پولیس نے ہفتہ کی روزصبح صبح چھاپہ ماری کی۔ جانچ کے دوران کچھ لوگوں کے پاس ٹی ای ٹی 2026 کے پیپرسے ملتے جلتے سوال پائے گئے۔ اس کے بعد مہاراشٹراسٹیٹ کونسل آف ایگزامینیشن (ایم ایس سی ای) کے افسران نے فوراً جانچ کی اورتصدیق کی کہ کچھ سوال اصلی امتحان پیپرکے ہیں۔ اس معاملے میں بھیونڈی پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آردرج کی گئی ہے۔ کونسل نے کہا ہے کہ امتحان کوپوری طرح شفاف اورمنصفانہ طریقے سے منعقد کرنا اس کی اولین ترجیح ہے۔ اس لئے معاملے کی گہری جانچ ہونے تک 28 جون 2026 کو ہونے والے ٹی ای ٹی امتحان کوملتوی کردیا گیا ہے۔اب امتحان کی نئی تاریخ اوردیگراپڈیٹ مہاراشٹراسٹیٹ کونسل آف ایگزامینیشن (ایم ایس سی ای) کی آفیشیل ویب سائٹ پراعلان کئے جائیں گے۔ فی الحال تھانے میں ضبط کئے گئے لیک ہوئے پیپرکی جانچ کے بعد کل ہونے والے امتحان کومنسوخ کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔ کہا جا رہا ہے کہ پولیس اب پیپرلیک کرنے والوں کی تلاش مین مصروف ہوگئی ہے۔ جلد ہی اس معاملے میں بڑی کارروائی ہوسکتی ہے۔
دیش
ممتا بنرجی کے حلقہ انتخاب کے ای وی ایم محفوظ رکھنے کا حکم
(پی این این)
کولکاتہ:کلکتہ ہائی کورٹ نے مغربی بنگال کے بھوانی پور اسمبلی سیٹ کی ووٹوں گنتی سے جڑے ثبوت کو محفوظ رکھنے کا حکم دیا ہے ، عدالت نے ریزلٹ میں گڑ بڑی کے الزامات پر سماعت کرتے ہوئے ای وی ایم، وی وی پی ، سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر ریکارڈ کو محفوظ رکھنے کا حکم دیا۔ جسٹس گارانگ کانت نے ووٹنگ سینٹر بنے شیکھاوٹی میموریل اسکول کے اندر اور باہر لگے تمام سی سی ٹی وی کیمروں کو محفوظ رکھنے کا حکم دیا ، کورٹ نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر ان تمام ثبوتوں کی جانچ ہوگی۔ عدالت کے حکم کے بغیر انھیں نہ تو مٹایا جائے گا ، نہ ہی بدلا جائے گا، اور نہ ہی کسی طرح کی چھیڑ چھاڑ کی جائے گی۔عدالت نے اس معاملے میں تمام متعلقہ فریقوں کو شامل کئے جانے کے حکم دئے ہیں جس کے تحت شوبھیندو ادھیکاری، ان کے صلاح کار سبرت گپتا اور سنیل اگروال کو فریق بنایا جائے گا۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
بہار7 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
دلی این سی آر10 months agoاردو اکادمی دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے میں کثیر تعداد میں اسکولی بچوں نےلیا حصہ
