Connect with us

Bihar

ٹی آر ای-4روسٹر میں فارسی، عربی، میتھلی، پالی اور دیگر روایتی زبانوں کو نظر انداز کرنا افسوسناک

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:آل انڈیا بہار اسٹوڈنٹس یونین (AIBSU) کے صدر شکیل الرحمن خان نے بہار میں TRE-4 اساتذہ تقرری کے لیے جاری کردہ مضمون وار روسٹر پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت بہار سے مطالبہ کیا ہے کہ روسٹر پر فوری نظر ثانی کی جائے اور فارسی، عربی، میتھلی، پالی، بھوجپوری اور دیگر روایتی زبانوں کے لیے مناسب تعداد میں تدریسی اسامیاں مختص کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ صرف روزگار کا نہیں بلکہ ہندوستان کی لسانی تنوع، ثقافتی ورثے، علمی روایت اور قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے مقاصد سے بھی وابستہ ہے۔ ان کے مطابق روایتی زبانوں کے ہزاروں STET-2025 کامیاب امیدوار گزشتہ تقریباً دو برس سے تقرری کے منتظر ہیں، لیکن جاری کردہ روسٹر میں ان زبانوں کو مناسب نمائندگی نہیں دی گئی۔
شکیل الرحمن خان نے کہا کہ سال 2023 میں حکومت بہار نے ثانوی اور اعلیٰ ثانوی سطح پر فارسی کے 605 اور عربی کے تقریباً 400 منظور شدہ تدریسی عہدوں کی موجودگی کا اشارہ دیا تھا، لیکن TRE-4 روسٹر میں ان مضامین کے لیے نہایت محدود یا تقریباً کوئی تقرری کا موقع فراہم نہیں کیا گیا، جبکہ متعدد اسامیاں اب بھی خالی ہیں۔انہوں نے اساتذہ تبادلہ پالیسی پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ فارسی اور عربی کے اساتذہ کو سرپلس ٹیچر کے زمرے میں رکھا گیا، جبکہ دیگر مضامین کے اساتذہ کو اپنی پسند کے اسکول منتخب کرنے کی سہولت دی گئی۔ ان کے مطابق تمام مضامین کے اساتذہ کے ساتھ یکساں اور منصفانہ سلوک کیا جانا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ حال ہی میں بہار میں 211 نئے کالجوں کے قیام کے فیصلے میں بھی فارسی اور عربی کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔ ان دونوں زبانوں کے لیے ایک بھی تدریسی عہدہ منظور نہ کیے جانے سے طلبہ اور اساتذہ میں شدید مایوسی پائی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پالی، میتھلی، فارسی اور عربی ہندوستان کی تاریخی، علمی اور تہذیبی وراثت کی اہم زبانیں ہیں اور انہیں اسکولی و اعلیٰ تعلیمی نظام میں مناسب مقام دیا جانا چاہیے تاکہ ملک کی علمی اور ثقافتی شناخت محفوظ رہ سکے۔
AIBSU نے حکومت بہار سے مطالبہ کیا کہ TRE-4 کے مضمون وار روسٹر پر فوری نظر ثانی کی جائے، روایتی زبانوں کے لیے مناسب تعداد میں اسامیاں مختص کی جائیں، منظور شدہ اور خالی تدریسی عہدوں کی صحیح تعداد عوام کے سامنے پیش کی جائے، سرپلس ٹیچر پالیسی کا شفاف جائزہ لیا جائے اور STET-2025 کے اہل امیدواروں کی بروقت، شفاف اور منصفانہ تقرری کو یقینی بنایا جائے۔
آخر میں شکیل الرحمن خان نے فارسی، عربی، میتھلی، پالی، بھوجپوری اور دیگر روایتی زبانوں کے اساتذہ، ماہرین تعلیم، طلبہ اور سماجی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ اس مسئلے پر متحد ہو کر حکومت کے سامنے اپنی آواز بلند کریں اور روایتی زبانوں کے تحفظ اور فروغ کے لیے مشترکہ کوشش کریں۔ انہوں نے کہا کہ روایتی زبانوں کا تحفظ صرف چند امیدواروں کا مطالبہ نہیں بلکہ ایک قومی ذمہ داری ہے، اس لیے حکومت کو اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے مؤثر اقدامات کرنے چاہییں۔

Bihar

وندے ماترم کا قانون سیکولر اقدار کے منافی : امیر شریعت

Published

on

(پی این این)
پھلوا ری شریف:وندے ماترم پر بنےپالیمانی قانون پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امیر شریعت بہار ،اڈیشہ ،جھارکھنڈ ومغربی بنگال حضرت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی نےکہا کہ یہ گیت سیکولر اقدار کےقطعی منافی ہےکیونکہ یہاں ہر مذہب کے مانے والوں کو اپنے مذہبی اصول وعقائد پر زندگی گذارنے اور اس پر عمل کرنے کا دستوری حق حاصل ہے اور وندے ماترم مسلمانوں کے عقیدہ توحید سے براہ راست متصادم ہے ،چونکہ اس کے اکثر اشعار شرکیہ کلمات پر مشتمل ہیں ،ہمارا ملک ہمارے لئے محبوب ضرور ہے لیکن معبود تو صرف اللہ کی ذات ہے اور اس گیت میں زمین کو معبود تصور کیا گیا ہے جو کہ ہمارے مذہبی فکر ومزاج سے میل نہیں کھاتاہے۔
امارت شرعیہ بہار،اڈیشہ ،جھارکھنڈ ومغربی بنگال کے ناظم مولانا مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی نے کہا کہ ایمان مومن کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے اور اس گیت کے پڑھنے سے مسلمانوں کا عقیدہ مجروح ہوتا ہے ،اس لئے ہم مرکزی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس قانون پر نظر ثانی کرے اور ملک کے آئینی اقدار کی حفاظت کی خاطر اسکو کالعدم قرار دے ماضی میں بھی ملک کی ملی تنظیموںاور امن پسند شہریوں نے اس گیت کی لازمیت پر سوال اٹھایا تھا کہ اس کو ہر گز نافذ نہ کیا جائے، مگر افسوس ہے کہ مرکزی حکومت نے اس کو جلد بازی میں منظور کرکے مذہبی حقوق کے بنیادی دفعات پر ضرب لگائی ہے لہذا اس کو فوراً واپس لیاجائے ۔

Continue Reading

Bihar

حاجی پور:وزیر سنجے سنگھ کے عوامی دربار میں لوگوں کا ہجوم، مختلف محکموں کے اسٹالوں کے ذریعے سرکاری اسکیموں کی تفصیلی معلومات کی گئیںفراہم

Published

on

(پی این این)
حاجی پور:بہار حکومت کے محکمۂ صحت عامہ و انجینئرنگ (PHED) کے وزیر اور مہوا کے رکنِ اسمبلی سنجے سنگھ کی جانب سے مہوا بلاک دفتر کے احاطے میں عوامی دربار کا انعقاد کیا گیا۔ عوامی دربار میں علاقے کے بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی اور اپنی شکایات، مسائل اور تجاویز وزیر کے سامنے پیش کیں۔
وزیر سنجے سنگھ نے تمام درخواست گزاروں کے مسائل کو سنجیدگی سے سنا اور متعلقہ محکموں کے افسران کو فوری اور مؤثر کارروائی کرنے کی ہدایت دی۔ اس موقع پر عوام کی سہولت اور سرکاری فلاحی اسکیموں سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے مقصد سے مختلف سرکاری محکموں اور سیلف ہیلپ گروپس (SHGs) کی جانب سے آگاہی اور نمائشی اسٹال قائم کیے گئے۔ ان میں دودھ کی پیداوار اور ڈیری، محکمۂ تعلیم، زراعت اور سبزیوں کی کاشت، خواتین کو بااختیار بنانے، صحت، جیویکا، خود روزگار، سرکاری فلاحی اسکیموں اور دیگر شعبوں سے متعلق اسٹال شامل تھے۔ ان اسٹالوں کے ذریعے لوگوں کو مختلف اسکیموں کی تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں اور ان سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری طریقۂ کار بھی سمجھایا گیا۔
وزیر سنجے سنگھ نے کہا کہ حکومت کی تمام فلاحی اسکیموں کا فائدہ معاشرے کے آخری فرد تک پہنچانا ان کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی دربار کا مقصد صرف شکایات کا ازالہ کرنا نہیں، بلکہ لوگوں کو سرکاری اسکیموں سے جوڑ کر انہیں خود کفیل اور بااختیار بنانا بھی ہے۔عوامی دربار کے دوران موجود افسران نے کئی معاملات کا موقع پر ہی تصفیہ کر دیا، جبکہ دیگر معاملات کو مقررہ مدت کے اندر نمٹانے کی یقین دہانی کرائی گئی۔
اس موقع پر مقامی عوامی نمائندے، مختلف محکموں کے افسران، ملازمین اور علاقے کے بڑی تعداد میں شہری موجود تھے۔ عوام نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے پروگراموں سے عام لوگوں کو اپنی مشکلات براہِ راست عوامی نمائندوں اور سرکاری افسران کے سامنے رکھنے کا موقع ملتا ہے، ساتھ ہی حکومت کی مختلف فلاحی اسکیموں کے بارے میں درست اور مکمل معلومات بھی حاصل ہوتی ہیں۔

Continue Reading

Bihar

اوپیندر کشواہا کے بیٹے دیپک کی وزارت خطرے میں؟، آخر وہ کس بنیاد پر وزیر بنے ہوئے ہیں وزیر؟سپریم کورٹ نے سمراٹ حکومت سے طلب کیا جواب

Published

on

پٹنہ؍نئی دہلی:(پی این این)سمراٹ چودھری کابینہ کے وزیر اور نیشنل لوک مورچہ کے سربراہ، سابق وزیر اوپیندر کشواہا کے بیٹے دیپک پرکاش کی وزارت قانونی پیچیدگی میں پھنس گئی ہے۔ ان کی بطور وزیر تقرری کو چیلنج کرنے والی عرضی پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے بہار حکومت سے سوال کیا کہ آخر دیپک پرکاش اب تک کس بنیاد پر وزیر کے عہدے پر برقرار ہیں، جبکہ حلف لینے کے چھ ماہ گزر جانے کے باوجود وہ نہ تو بہار اسمبلی کے رکن بن سکے ہیں اور نہ ہی قانون ساز کونسل کے۔سپریم کورٹ کے اس سخت موقف کے بعد دیپک پرکاش کی وزارت پر خطرے کے بادل منڈلاتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس عرضی کی سماعت چیف جسٹس سوریا کانت کی سربراہی والی بنچ نے کی۔چیف جسٹس جسٹس سوریا کانت نے ریمارکس دیے کہ یہ مکمل طور پر قانون کا معاملہ ہے۔ ریاستی حکومت کو عدالت کو یہ بتانا ہوگا کہ آخر کوئی شخص منتخب ہوئے بغیر چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک وزیر کے عہدے پر کیسے برقرار رہ سکتا ہے۔اس پر ریاستی حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے کی آئندہ سماعت 27 اگست کو مقرر ہے۔
عدالت جو بھی حکم صادر کرے گی، ریاستی حکومت اس پر مکمل طور پر عمل کرے گی۔2025 کے اسمبلی انتخابات کے بعد نتیش کمار کی کابینہ میں دیپک پرکاش کو پہلی مرتبہ پنچایتی راج محکمہ کا وزیر بنایا گیا تھا۔ اس وقت وہ بہار مقننہ کے کسی بھی ایوان کے رکن نہیں تھے اور نہ ہی انہوں نے اسمبلی کا انتخاب لڑا تھا۔اگرچہ نیشنل لوک مورچہ (رالومو) کے چار ارکانِ اسمبلی موجود تھے، اس کے باوجود اوپیندر کشواہا نے وزارت کیلئے اپنے بیٹے دیپک پرکاش کا نام آگے بڑھایا۔ بعد میں جب سمراٹ چودھری وزیرِ اعلیٰ بنے تو انہیں دوبارہ اسی محکمے کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔دو مرتبہ وزیر کے عہدے کا حلف لینے کے باوجود دیپک پرکاش اب تک بہار مقننہ کے کسی بھی ایوان کے رکن نہیں بن سکے ہیں۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network