دلی این سی آر
ادبی چوپال فاؤنڈیشن، دہلی کے زیرِ اہتمام کل ہند مشاعرہ و تقریبِ اعزاز کا کامیاب انعقاد
نئی دہلی: ادبی چوپال فاؤنڈیشن، دہلی کے زیرِ اہتمام 4 جولائی 2026، بروز ہفتہ، ایوانِ غالب نئی دہلی میں ایک شاندار کل ہند مشاعرہ و تقریبِ اعزاز کا انعقاد عمل میں آیا۔ اس باوقار ادبی تقریب میں ملک بھر سے تشریف لائے ممتاز شعراء، شاعرات، ادباء، دانشوران کے علاوہ محبانِ اُردو اور ادب نواز سامعین نے بڑی تعداد میں شرکت کرکے محفل کو یادگار بنایا۔اس عظیم الشان پروگرام کا اہتمام ادبی چوپال فاؤنڈیشن کے بانی و صدر، معروف و استاد شاعر خمار دہلوی اور ان کے شاگرد و فاؤنڈیشن کے جنرل سیکریٹری پنڈت پریم بریلوی نے کیا۔مشاعرے کے کنوینر کسی وجہ سے شریک نہ ہو سکے! اس موقع پر محبِ اُردو ڈاکٹر ظاہر خان، عبدالحق ، وارث صدیقی ، جاوید خان، استاد صاحب قوال اور ڈاکٹر سید اصدر علی خصوصی طور پر موجود رہے۔ تقریب کے مہمانانِ خصوصی میں قاضی نجم الاسلام نجم اور احترام صدیقی شامل تھے جبکہ معزز مہمانان میں ایڈمرل خرم نور، چاند خان چاند اور قاضی ظاہر بجنوری نے شرکت فرما کر تقریب کی رونق میں اضافہ کیا۔تقریب کا آغاز نہایت پروقار انداز میں ہوا۔ ادبی چوپال فاؤنڈیشن کے بانی و صدر خمار دہلوی، مشاعرے کے صدر ڈاکٹر سجاد سید اور دیگر معزز مہمانان و شعرائے کرام نے شمع روشن کرکے پروگرام کا باضابطہ افتتاح کیا۔ شمع روشن ہوتے ہی ایوانِ غالب کی فضا ادب، تہذیب اور شعری روایت کی خوشبو سے معطر ہو گئی۔اس کے بعد تقریبِ اعزاز منعقد ہوئی، جس میں اُردو ادب اور شاعری کی خدمات انجام دینے والی ممتاز شخصیات کو مختلف اعزازات سے نوازا گیا۔
استاد شمیم سردھنوی کو استاد داغ دہلوی ایوارڈ2026، او۔ پی۔ اگروال (سراج دہلوی) کو پنڈت گلزار دہلوی ایوارڈ2026،
اعجاز انصاری کو انور جلال پوری ایوارڈ2026، پیکر پانی پتی کو الطاف حسین حالی ایوارڈ2026، معید رہبر لکھنوی کو منور رانا ایوارڈ2026، تابش رامپوری کو ثاقب عظیم آبادی ایوارڈ2026 اور سلیم دریاپوری کو قیصرالجعفری ایوارڈ2026 سے سرفراز کیا گیا۔
تمام اعزاز یافتگان کی یکِ بعد دیگرے گل پوشی کر کے شال سے نوازہ گیا مزید یہ کہ توصیفی اسناد اور یادگاری مومنٹو پیش کر کے اُن کی ادبی خدمات کا اعتراف کیا گیا۔ اعزاز یافتہ شعراء و ادباء نے ادبی چوپال فاؤنڈیشن کی اس کاوش کو نہایت قابلِ ستائش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے پروگرام نئی نسل کو ادب سے جوڑنے اور شعر و ادب کی روایت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
تقریب کے دوران ایک خوشگوار اور جذباتی لمحہ اُس وقت آیا جب اسلم بیتاب، ایڈمرل خرم نور اور ہُما دہلوی نے استاد شاعر خمار دہلوی کو شال اوڑھاکر اور پھول مالا پہناکر کر اُن کی گراں قدر ادبی خدمات کا اعتراف کیا۔ حاضرین نے پُرزور تالیوں کے ساتھ اس منظر کا خیرمقدم کیا۔
تقریبِ اعزاز کے بعد کل ہند مشاعرے کا آغاز معروف ناظم و شاعر وسیم جھنجھانوی نے نعتِ پاک سے کیا۔ اُن کی پُرسوز آواز اور عقیدت سے بھرپور کلام نے سامعین کے دلوں کو منور کر دیا۔اس کے بعد رات گئے تک جاری رہنے والے اس مشاعرے میں ملک کے نامور شعراء نے اپنے بہترین کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ مشاعرے میں استاد شمیم سردھنوی، خمار دہلوی، ڈاکٹر سجاد سید، اعجاز انصاری، پیکر پانی پتی، تابش رامپوری، معید رہبر لکھنوی، سلیم دریاپوری، چاند خان چاند، سہیل فاروقی، خرم نور، پنڈت پریم بریلوی، اسلم بیتاب، جاوید عباسی، شکیل خان ساگر، قاضی ظاہر بجنوری، علامہ کمال حفیظی، حامد علی اختر، نعیم بدایونی، قاضی نجم الاسلام نجم، کامل راز دہلوی، سنجے گھائلِ اویس رائن سیہور، وسیم جھنجھانوی، احترام صدیقی، سریندر صفر، گولڈی غضب، اختر گورکھپوریِ عرشمان انصاری عرش، عاصم فراز انصاری، ہُما دہلوی اور طوبیٰ فراز انصاری سمیت متعدد شعرائے کرام نے اپنا منتخب کلام پیش کیا۔
محبت، انسانیت، قومی یکجہتی، سماجی اقدار، بھائی چارے اور انسانی احساسات پر مبنی اشعار نے سامعین سے خوب داد وصول کی۔ جگہ جگہ “واہ واہ”، “مکرر ارشاد” اور تالیوں کی گونج سے ایوانِ غالب کی فضا بار بار معطر ہوتی رہی۔
مشاعرے میں شریک تمام شعرائے کرام و شاعرات کی خدمت میں بھی پھول مالا، سپاس نامہ اور شال پیش کرکے سبھی کو اعزاز سے نوازا گیا۔
یہ تقریب شام 6 بجے شروع ہوئی اور مسلسل رات 10 بجے تک جاری رہی۔ پروگرام کی صدارت ڈاکٹر سجاد سید نے فرمائی، جبکہ معروف شاعر و ناظم اسلم بیتاب نے نہایت شائستگی، خوش اسلوبی اور برجستگی کے ساتھ نظامت کے فرائض انجام دئے، جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔
اختتامی کلمات میں خمار دہلوی نے کہا کہ اردو اور ہندی ہماری مشترکہ تہذیبی وراثت کی دو خوبصورت زبانیں ہیں جو ادب محبت، اخوت اور انسانیت کا سب سے مؤثر ذریعہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ادبی چوپال فاؤنڈیشن آئندہ بھی ایسے معیاری ادبی پروگرام منعقد کرتی رہے گی تاکہ نئی نسل کو ادب سے جوڑا جا سکے اور اردو و ہندی کی مشترکہ ادبی روایت کو مزید فروغ ملے۔
یہ کل ہند مشاعرہ و تقریبِ اعزازات ہر لحاظ سے کامیاب اور یادگار ثابت ہوئی۔ ایوانِ غالب میں منعقد ہونے والی اس ادبی محفل کی خوشگوار یادیں حاضرین کے دلوں میں دیر تک محفوظ رہینگی اور ادب دوست حلقوں میں اسے ایک اہم اور تاریخی ادبی تقریب کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
مشاعرہ میں پیش کردہ اشعار:-
بُغض و نفرت ہی جن کا شیوہ ہے
وہ کبھی نہیں ملتے، ہم نشیں محبت سے۔
— استاد شمیم سر دھنوی
تیرگی حکمراں ہوئی جب سے
روشنی منہ چھپائے بیٹھی ہے!
— خمار دہلوی
تمہارے ہاتھ کا پتھر کوئی نیا تو نہیں
جبیں سے سنگ کا رشتہ بہت پرانا ہے!
— ڈاکٹر سجاد سید
دشمن کی صف میں بھائی تھا تلوار پھینک دی
لیکن یہ جنگ ہار کے ہارا نہیں ہوں میں!
— اعجاز انصاری
پھر اسی محفل میں لیکر آئی ہے قسمت مجھے
کل جہاں “پیکر” ہوئی تھی اپنی رسوائی بہت
پیکر پانی پتی
پروازِ تخیل ہے اگر اوجِ فلک پر
گہرے ہیں سمندر سے خیالات ہمارے۔
— تابش رامپوری
میری منزل کہاں ہے یہ نہیں معلوم ہے لیکن
میں ان سے ہٹ کے چلتا ہوں، جو رستے عام رہتے ہیں۔
— معید رہبر لکھنوی
جھوٹوں نے اقتدار کا گلشن بنا لیا
قبضہ کیا زمین پہ، آنگن ہتھا لیا!
سلیم دریابادی
ایسے ایسے بھی شبِ ہجر کے مارے دیکھے
رات آنکھوں میں کٹی، دن میں ستارے دیکھے۔
چاند خاں چاند
آج کے سامنے آتا نہیں کل کا چہرہ
بدلا بدلا نظر آتا ہے غزل کا چہرہ۔
— سہیل فاروقی
دوستی، پیار، تعلیم اور شاعری
یہ روایت رہی خاندانی میری۔
— ایڈمرل خرم نور
کاریگری کمال ہے تیری میرے خدا
ظاہر ہوئے بغیر ہی کیا کیا بنا دیا۔
— پنڈت پریم بریلوی
مجھ کو منزل نہیں ملی ‘اسلم’
میں نے کانٹوں پہ چل کے دیکھ لیا۔
— اسلم بیتاب
آپ کے گلشن میں دلکشی ہی نہیں
کیسے کہہ دوں بہار آئی ہے۔
— جاوید عباسی
کچھ رشتے اس بہانے ابھی بے قرار ہیں
کبھی شادیوں میں، آ گئے کبھی انتقال میں!
— قاضی ظاہر بجنوری
ہر آدمی سے سخن کی نہ پوچھئے باتیں
ہر ایک شہر میں حضرتِ کمال تھوڑی ہے!
علامہ کمال حفیظی
جب دعاؤں کے لیے ہاتھ اٹھائے ہم نے
نقش تیرے ہی تصور میں سجائے ہم نے!
حامد علی اختر
آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے اچھا نہیں کیا
دل لے گئے نکال کے اچھا نہیں کیا!
— نعیم بدایونی
دامنِ شب سے جو خوابوں کے پرندے نکلے
اڑ گئے صبح کو جینے کے معنی دے کر۔
— قاضی نجم اسلام نجم
خود ہی برباد ہوا بیٹھا ہوں دل کے ہاتھوں
میں کسی اور پہ الزام لگاؤں کیسے۔
محمد کامل راز دہلوی
اے اردو زباں تجھ پہ بہت ناز ہے مجھ کو
باریکیءِ تہذیب کا انداز ہے مجھ کو!
سنجے گھائل
احسان دشمنوں پہ ہمارا ہے دوستو
ہم نے تو دوستوں کو بھی مارا ہے دوستو۔
— احترام صدیقی
شکوہ گلہ نہ کوئی شکایت کیا کرو
چھوٹی سی زندگی ہے محبت کیا کرو۔
— وسیم جھنجھانوی
گاؤں خالی ہو رہے ہیں شہر کے چکر میں
راہ بھولیں کشتیاں لہر کے چکر میں!
— سریندر سُفر
سفر میں ساتھ چلنے کا ارادہ چھوڑ دیتے ہیں
ہم ایسے راہگیروں سے ہی ناطہ چھوڑ دیتے ہیں۔
— گولڈی غضب
امیر لوگ ہیں دل سے کہاں لگاتے ہیں
غریب پیار کی میت اٹھائے پھرتا ہے!
— اختر گورکھپوری
سورج، چاند، ستارے ہیں، جیون کا اجیارا ہے
‘عرش ترنگے کا سمان ہم کو جان سے پیارا ہے!
عرشمان انصاری عرش
ہم بچے کس کام کے ہیں، موبائل کے نام کے ہیں
مسجد سے اسکول تلک، چرچے میرے نام کے ہیں۔
عاصم فراز انصاری
یہ محبت بھی کیا مصیبت ہے
لمحہ لمحہ عجب اذیّت ہے!
— ہما دہلوی
دہلی والوں کے دل کو بھاتا کیا
نام اس کا لبوں پر آتا کیا
طوبیٰ فراز انصاری
سفِ سامعین میں بیٹھ کر جن دوستو نے محفل کے معیارو تمدن میں اضافہ کیا ان کے اسماءِ گرامی:-
ڈاکٹر ظاہر خان، عبدالحق، وارث صدیقی، جاوید خاں، حاجی زبیر احمد، محمد افسر رائین سیہور، استاد قوال، ممتاز احمد (آر.این.آئی)، نیل سنیل، شاعر حالاتی، اکرام الدین انصاری، محمد سرفراز، محمد شہباز، حافظ انعام الحق، حاجی اسرار قریشی، محمد آہل انصاری، سمرین جہاں، شاکرہ خاتون، رفعت انجم انصاری، ثنا انجم انصاری، اریزہ انصاری اور ان کے علاوہ بھی کثیر تعداد میں سامعین نے تقریب کی رونق بڑھائی۔
دلی این سی آر
جامعہ ملیہ اسلامیہ میںمنایا گیاعالمی فیزیو تھیراپی ڈے
(پی این این)
نئی دہلی : سینٹر فار فزیوتھیرپی اینڈ ری ہیبیلی ٹیشن سائنسز ( سی پی آر ایس)جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ’عالمی یومِ فزیوتھیرپی ‘ دوہزار چھبیس‘ کے موقع پر مختلف سرگرمیوں کا اہتمام کیا۔ ان سرگرمیوں کا مرکزی موضوع’’قلبی امراض اور فالج کی روک تھام، انتظام اور بحالی میں فزیوتھیراپی اور جسمانی سرگرمی کا کردار تھا‘‘۔
ان تقریبات کے سلسلے میں، سی پی آر ایس نے ’ابوالفضل آر ڈبلیو اے کے اشتراک سے پانچ ستمبر دوہزارچھبیس کو اوکھلا، نئی دہلی کے جامعہ نگر (ڈی-بلاک) میں واقع آرڈبلیو اے کے دفتر میں کمیونٹی کی سطح پر ایک مفت فزیوتھیراپی کیمپ منعقد کیا۔ اس کیمپ کا مقصد کمیونٹی کے اراکین میںدل کی صحت، فالج سے بچاؤ، جسمانی سرگرمی اور صحت و عملی خود مختاری کو برقرار رکھنے میں فزیوتھیرپی کے کردار کے بارے میں بیداری پیدا کرنا تھا۔ واضح ہو کہ یہ کیمپ ڈاکٹر معظم حسین خان کی نگرانی میں منعقد کیا گیا تھا۔تقریبات میں سات ستمبر دوہزار چھبیس کو کھیلوں کی سرگرمیاں بھی شامل تھیں، جن کا مقصد شرکا میں جسمانی سرگرمی اور دل کی صحت کو فروغ دینا تھا۔ جسمانی طور پر فعال رہنے کے لیے شرکا کو تحریک دی گئی جس کے لیے ان سے کہا گیا کہ وہ صحت مندانہ مقابلوں میں حصہ لیں۔
اس سلسلے میں بیڈمنٹن، والی بال، ریلے ریس، رسہ کشی، کھو-کھو اور بازو کی کشتی (آرم ریسلنگ) جیسی سرگرمیاں منعقد کی گئیں، جن سے شرکا کو اپنی جسمانی تندرستی وصحت، باہمی ہم آہنگی، قوتِ برداشت اور ٹیم ورک کو بہتر بنانے کے مواقع ملے۔ پروفیسر سورج کمار اور ڈاکٹر محمد شاہد رضا نے کھیلوں کاپروگرام کوآرڈی نیٹ کیا تھا۔ پروگرام کا اختتام آٹھ ستمبر دوہزار چھبیس کو یونیورسٹی پولی ٹیکنک آڈیٹوریم ،جامعہ ملیہ اسلامیہ میں منعقدہ ایک سیمینار کے ساتھ ہوا، جس میں قلبی امراض اور فالج کی روک تھام، انتظام اور بحالی میں فزیوتھیرپی اور جسمانی سرگرمی کے کردار پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس لیکچر پروگرام میں طب اور فزیوتھیرپی کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے ممتاز ماہرین نے شرکت کی۔
سر گنگا رام اسپتال کے سینئر کنسلٹنٹ فزیشن اور صدرِ ہند کے سابق معالج، ڈاکٹر محسن ولی (پدم شری) نے شرکا سے خطاب کیا۔ آئی ایس آئی سی ملٹی اسپیشلٹی اسپتال کی اسسٹنٹ پروفیسر اور آپریشنز ہیڈ ڈاکٹر رمشہ صدیقی، اور اپولو نالج کی کارڈیو ریسپائریٹری فزیوتھراپسٹ اور اسسٹنٹ ڈین ڈاکٹر برنالی بھٹاچاریہ نے بھی قلبی صحت، جسمانی سرگرمی اور بحالی سے متعلق اپنے گراں قدر خیالات کا اظہار کیا۔ اس پروگرام کا انعقاد ڈاکٹر اقصی مجددی،اسسٹنٹ پروفیسر ، سی پی آر ایس،جامعہ ملیہ اسلامیہ اور پروگرام انچارچ کی رہنمائی میں کیا گیا۔عالمی یومِ فزیوتھیرپی کی تقریبات کا انعقاد جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سی پی آر ایس کے ڈائریکٹر، پروفیسر مجومی ایم نوہو کی رہنمائی میں ہوا۔ان اقدامات کے ذریعے ، سی پی آر ایس،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے قلبی امراض کی روک تھام، فالج کے خطرے کو کم کرنے اور صحت یابی و بحالی میں معاونت کے لیے باقاعدہ جسمانی سرگرمی اور عوامی آگاہی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
دلی این سی آر
برکس سمٹ: 35 سڑکیںٹریفک سے رہیں گی متاثر
نئی دہلی :دہلی والوں کے لیے یہ بہت اہم خبر ہے۔ 11 سے 13 ستمبر تک بھارت منڈپم میں منعقد ہونے والی برکس سمٹ کے لیے ٹریفک ایڈوائزری جاری کی گئی ہے۔ اس مدت کے دوران، بہت سی سڑکیں بند رہیں گی اور ڈائیورشن اپنی جگہ پر ہوں گے۔ ٹریفک پولیس نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے سفر پر جانے سے پہلے ایڈوائزری کو چیک کریں۔دہلی میں منعقد ہونے والی برکس سمٹ کے لیے ٹریفک ایڈوائزری جاری کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ چوٹی کانفرنس 11 سے 13 ستمبر تک بھارت منڈپم میں ہونے والی ہے۔ تاہم غیر ملکی وفود اور خصوصی مہمانوں کی نقل و حرکت کے باعث 10 ستمبر سے 14 ستمبر تک ٹریفک کی پابندیاں جاری رہنے کی توقع ہے۔ سمٹ کے دوران 35 سے زیادہ سڑکوں کے متاثر ہونے کی توقع ہے۔ تقریباً 4,800 اہلکار ٹریفک کنٹرول کے لیے تعینات کیے گئے ہیں۔متاثر ہونے والی بڑی سڑکوں میں سردار پٹیل مارگ، مدر ٹریسا کریسنٹ، تین مورتی مارگ، اکبر روڈ، تیس جنوری مارگ، راجیش پائلٹ مارگ، سبرامنیم بھارتی مارگ، متھرا روڈ، موتی لال نہرو مارگ، ڈاکٹر ذاکر حسین مارگ، جن پتھ، اشوکا روڈ، براکھمبا روڈ، ٹالسٹائی مارگ، نتھل مارگ، نتھل مارگ، اے۔ مارگ، اے پی جے عبدالکلام روڈ، پریس انکلیو روڈ، لال بہادر شاستری مارگ، جوزف بروز ٹیٹو مارگ، اور لالہ لاجپت رائے مارگ۔نوئیڈا-مشرقی دہلی پر اثر: نوئیڈا اور مشرقی دہلی سے پرگتی میدان، وسطی دہلی اور شہر کے دیگر حصوں تک سفر کرنے والے لوگوں کو اہم رابطہ سڑکوں پر پابندیوں کی وجہ سے تاخیر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوارکا-دھولا کوان روٹ: دوارکا اور مغربی دہلی سے دھولا کوان، ہوائی اڈے اور وسطی دہلی جانے والے لوگوں کو وی وی آئی پی موومنٹ کے دوران ٹریفک جام اور موڑ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔جنوبی دہلی تشویش: مصری وفد کی ساکیت اور وسطی دہلی میں واقع اس کے ہوٹل کے درمیان نقل و حرکت جنوبی دہلی کے پہلے سے بھیڑ والے علاقوں پر اضافی دباؤ ڈال سکتی ہے، خاص طور پر مصروف اوقات کے دوران۔ ٹریفک پولیس نے پہلے ہی یہ مسئلہ اٹھایا تھا اور وفد کی رہائش وسطی دہلی میں تبدیل کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ریئل ٹائم نیویگیشن: ٹریفک پولیس نے آن لائن میپ سروسز کو تعینات کیا ہے۔
دلی این سی آر
ستیہ نکیتن حادثہ : قرول باغ اور چاندنی چوک سمیت 10 علاقوں میںچلے گا بلڈوزر
نئی دہلی :دہلی کے ستیہ نکیتن علاقے میں ایک پی جی عمارت گرنے سے پانچ طلباء سمیت سات افراد کی موت ہو گئی۔ اس واقعہ سے سبق لیتے ہوئے، دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) کی ٹیم خطرناک عمارتوں، غیر مجاز تعمیرات اور عمارت کے ضوابط کی خلاف ورزیوں کے خلاف اپنی بلڈوزر کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایم سی ڈی ٹیم کی بلڈوزر کارروائی قرول باغ اور چاندنی چوک سمیت 10 علاقوں میں جاری رہنے کی امید ہے۔ایم سی ڈی نے دہلی کے تمام 12 زونوں میں مسماری اور نفاذ کی کارروائیاں جاری رکھیں۔ یہ کارروائی ستیہ نکیتن میں ایک عمارت کے منہدم ہونے کے چند دن بعد ہوئی ہے، جس میں طلباء کے لیے ادائیگی کرنے والے مہمان (PG) کی رہائش تھی۔ سات افراد ہلاک اور کم از کم پانچ زخمی ہوئے۔لکشمی نگر، جگت پوری، اور پانڈو نگر جیسے علاقوں سے آنے والے مناظر میں ایم سی ڈی کی ٹیموں کو عمارت کے ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے والے ڈھانچوں کے خلاف مسماری اور نفاذ کی کارروائیاں کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
پچھلے دو تین دنوں کے دوران، ایم سی ڈی کی ٹیموں نے وشواس نگر، مکھرجی نگر، جامعہ نگر، شاہین باغ، تلک نگر، کرم پورہ، قرول باغ، رمیش نگر، مانسروور گارڈن، چاندنی چوک، اور نہرو وہار میں بھی کارروائیاں کیں۔ ان علاقوں میں آپریشن جاری رہنے کی توقع ہے۔دریں اثنا، ایم سی ڈی نے 6 ستمبر کو ستیہ نکیتن میں منہدم ہونے والی عمارت سے ملحقہ عمارت کو کنٹرول شدہ انہدام کا کام دوبارہ شروع کر دیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ انہدام کا عمل مرحلہ وار اور کنٹرولڈ انداز میں کیا جا رہا ہے۔
یہ آپریشن دہلی بھر میں غیر مجاز تعمیرات، جائیدادوں کے غیر قانونی استعمال اور ساختی طور پر غیر محفوظ عمارتوں کے خلاف وسیع کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔ ستیہ نکیتن کی عمارت گرنے کے بعد اس مہم کو تیز کر دیا گیا ہے۔اس واقعے کے بعد شروع کی گئی حفاظتی تشخیصی مہم کے ایک حصے کے طور پر، MCD نے 7 سے 9 ستمبر کے درمیان 1,252 ادائیگی کرنے والی مہمان عمارتوں کا سروے کیا۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق، 1 جون سے 9 ستمبر کے درمیان، شہری ادارے نے 1,053 مسماری کی کارروائیاں کیں، 491 جائیدادوں کو سیل کیا، اور 2,316 کو شوکاز نوٹس جاری کیا اور شہر بھر میں 7 سے 9 کو مسمار کرنے کے نوٹسز جاری کیے۔
-
بہار10 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
